بے نظیر بھٹو۔ ہمت کا استعارہ


ایک ایسے فرد کے لیے کہ جس نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ وقت گزارا ہو، ان کی سالگرہ کا دن ایک ایسا موقع ہے کہ جب یادوں کا ایک سیل رواں اشک بن کر بہنے لگتا ہے۔ بے نظیر بھٹو کی زندگی درحقیقت ایک ایسی روشنی کی مانند تھی جو نہ صرف پاکستان بلکہ بدلتی دنیا کی بھی راہنمائی کرتی تھی۔ ہم جانتے ہیں کہ بہت ساری چیزوں کی طرح انہوں نے جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے طویل جدوجہد کی، وہ ہمارے خطے میں مکمل اور پائیدار امن چاہتی تھیں۔

لوگ اکثر مجھ سے ان کی شخصیت کی نمایاں ترین خصوصیات کے بارے میں دریافت کرتے ہیں خصوصا ان کی زندگی کے آخری سخت ترین برسوں کے حوالے سے سوال کیے جاتے ہیں۔ بظاہر وہ بہت سارے لوگوں کے لیے بہت کچھ تھیں مگر میرے لیے وہ انسانی شخصیت کی ایک ایسی بھرپور صورت تھیں، جس میں برسوں کی جدوجہد، محنت، مستقل مزاجی اور حالات کے آگے ڈٹ جانے کی وجہ سے ایک شان دار سادگی پیدا ہوگئی تھی۔

حالات کے آگے ڈٹ جانے کا مطلب ہمت کے معنوں میں اکثر ایسے بیان کیا جاتا ہے کہ مشکل وقت میں کھڑے رہنا تاہم دراصل یہ ہمت کی سب سے مشکل قسم ہے۔ جب آپ ماضی کی تہوں سے بے نظیر بھٹو کی شان دار شخصیت کی پرتوں کو کھولتے ہیں تو سب سے پہلے آپ کو نظر آتا ہے کہ ان کا ہر دن بہادری سے عبارت تھا۔

صرف معاملات میں ان کے انتخاب اور حالات کے جبر کو قبول کرنے سے انکار سے متعلق بے نظیر بھٹو کی بہادری نظر نہیں آتی تھی بلکہ انہوں نے شان کے ساتھ ان حالات کا بھی سامنا کیا جنہیں وہ تبدیل نہیں کر سکی تھیں۔

بے نظیر بھٹو نے اپنی 28ویں سالگرہ سکھر کی جیل میں گزاری تھی، یہ وہ زندگی نہیں تھی کہ جس کی انہوں نے توقع کی تھی مگر شہید ذوالفقار علی بھٹو کی گرفتاری اور عدالتی قتل کے سانحے کے بعد وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتی تھیں۔ طویل اور نہ ختم ہونے والی کھلی جنگ کی بھاری ذمہ داری سے بھاگنے کے بجائے بے نظیر بھٹو اس مارشل لا میں جدوجہد کرتی رہیں جو پاکستان پیپلزپارٹی کے خاتمے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۔

ہم میں سے اکثر لوگوں کو یا تو بے نظیر بھٹو کی طویل اور تن تنہا جدوجہد اور اس کی صعوبتوں کا علم نہیں ہے یا ہم اسے بھول چکے ہیں۔ میڈیابس سامنے ہونے والے عوامل کو بیان کرتا ہے، انسانی شخصیت کی خوبیوں کو مراعات وسہولیات کی پیداوار قرار دیتا ہے۔

وہ جس سطح سے تعلق رکھتی تھیں، بے نظیر بھٹو چاہتی تو دنیا ان کی مٹھی میں ہوتی مگر وہ اپنی زندگی کے قیمتی ترین ان سالوں میں جب انسانی شخصیت کی تشکیل ہوتی ہے، آزادی کے لیے مزاحمت کرنے والی مہم جو بن گئیں جو وہ درحقیقت تھیں بھی۔

سکھر جیل میں انہوں نے اپنی قید تنہائی کا رونا رونے کے بجائے اپنی بہن صنم بھٹو کی آمد پر اس دوران خوشی منائی کہ جب پولیس اہل کار ان کی باتیں سن کر لکھنے کے لیے چکر لگارہے تھے، بے نظیر بھٹونے اس موقع اپنی بہن کے ساتھ کینو کھا کر سالگرہ منائی۔ وہ ایک انتہائی سخت قسم کی قید تھی جس میں انہیں میڈیکل تک میسر نہیں تھا، اس قید کےدوران ان کا ایک کان بھی ہمیشہ کے لئے متاثر ہوا۔

کراچی سینٹرل جیل میں بے نظیر بھٹو کے اگلے چند ماہ اور بھی مشکل تھے، اس قید کے دوران انہیں اپنی سیاسی آزادی کے بدلے بہن کی شادی کے سلسلے میں والد کے گھر جانے کی اجازت ملی جہاں ان کی بیمار والدہ بھی تھیں اور وہ ان کی عیادت کےلیے تڑپ رہیں تھیں مگرانہوں نےاس آزادی سے انکار کردیا اور وہ اس نیم تر سیل میں چلی گئیں، جہاں فلش ٹوائلٹ تک نہیں تھا اور وہاں وہ لمبے کرب ناک سال کے آخر تک رہیں۔

اس کے بعد جنرل ضیا الحق نے انہیں اگلے دوسال کے لیے لاڑکانہ میں المرتضیٰ ہاوس میں قید کردیا، جہاں مخصوص ملاقاتی محدود وقت کی ملاقات کے لیے آسکتے تھے۔ بہت سال بعد جب میں لاہور میں لطیف کھوسہ کے گھر میں بے نظیر بھٹو کے ساتھ ہاوس اریسٹ تھی۔ وہ کہتی تھیں کہ ایک ہفتہ جو انہوں نے اس قید میں گزارا ہے، یہ بہ نسبت اس قید کے آرام دہ ہے، جو انہوں نے جنرل ضیا کے دور میں برداشت کی۔

ہمیں کیا پتہ تھا کہ ان کی زندگی کے اگلے کچھ ہفتے ان کو زندگی سے ہی الگ کردیں گےاور پوری مسلم دنیا سمیت پاکستان اپنی دومرتبہ کی منتخب وزیراعظم سے جدا ہوجائے گا۔ دنیا بھر میں ان کی شہادت پر سوگ منایا گیا اور ان کی جراتوں پر ان کی عظمت کو سراہا گیا کہ وہ کس طرح سخت گیر دہشت گردوں کےسامنے کھڑی ہوگئیں اور اس وقت جب پاکستان میں ایسی مزاحمت کی کسی کو ہمت نہ تھی۔

بےنظیر بھٹو کی زندگی کی آخری عوامی تقریر ایک ایسا شاہ کار تھی کہ جو ان کے ساتھ طویل جدوجہد کے سفر میں شریک رہنے والوں کی یاداشتوں میں نقش سی ہوکر رہ گئی ہے۔ انہو ں نے وادی سوات پر قبضہ جمانے والے دہشت گردوں کو مکا لہرا کر چیلنج دیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ وہاں وہ پاکستانی پرچم لہرائیں گی جسے دہشت گردوں نے ہٹایا تھا۔

وطن واپسی پر بے نظیر بھٹوکاشان دار استقبال ہواتھا، 18 اکتوبر کے خوف ناک حملے کے بعد یہ جانتے ہوئے کہ حالات کتنے خطرناک ہیں، انہوں نے جمہوریت کے چیلنج کو قبول کیا اور ملک کی اس اصولی جنگ کو ایک قدم اور آگے لے جانے کا فیصلہ کرلیا۔

میں اکتوبر کی 19 تاریخ کو بلاول ہاوس کراچی میں ہونے والے اجلاس کی اس چھوٹی سی ٹیم کا حصہ تھی، جس میں مستقبل میں درپیش دہشت گردی کے حملوں کے خطرے کے حوالے سے غور کیا گیا۔ جتنی سیکیورٹی ایک سیاسی لیڈر کو ملتی ہے، اس وقت بے نظیر بھٹو کے پاس اس کی آدھی بھی نہیں تھی جبکہ وہ سخت انتہاپسندی کے نرغے میں اپنی الیکشن کمپئن کررہی تھیں۔

جنرل پرویزمشرف نے اس امید کے ساتھ بے نظیر بھٹو کو سیکیورٹی دینے سے انکار کردیا کہ اب وہ الیکشن کمپئن نہیں کریں گی مگر وہ بی بی کو جانتا نہیں تھا۔ ایک مہینے کے کم عرصے میں جب ویک اینڈ پر وہ اپنی فیملی سے ملنے کے لیے دبئی گئیں تو پرویزمشرف نےایمرجنسی لگادی۔

بہت سوں کو لگا کہ اب وہ دبئی میں رہ کرآئندہ پیش آنے والے حالات کا جائزہ لیں گی اور وہیں قیام کریں گی اور اگر ایسا ہوتا تو یہ برابر کی لڑائی نہیں ہوتی۔ لیکن تمام اندازوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے وہ ایک بارپھر کراچی ائیرپورٹ اتریں، ہم چند لوگوں کو بتایا گیا کہ انہیں ائیرپورٹ سے جاکر لینا ہے۔ وہ اس بار پی سی او کے تحت ہونے والی بغاوت کے خلاف مزاحمت کرنے کا ارادہ رکھتی تھیں۔

یہ تو صرف ایک پہلو ہے ہماری زبردست بے نظیر بھٹوکی زندگی کا۔ آج اگر وہ حیات ہوتیں تو 65 سال کی ہوتیں اور اپنی لیڈرشپ کے عروج پر ہوتیں، ملک کے سیاسی حالات بھی بدل چکے ہوتے۔ میں امید کرتی ہوں کہ پاکستان ان کی زندگی سے امید، ہمت اور راہنمائی کرنے کے سبق سیکھے گا۔

ان کا بیٹا بلاول بھٹو زرداری بھی سیاست میں اسی طرح آیا ہے کہ جیسے وہ آئیں تھیں اور ابھی اس کے سامنے پورا سیاسی کیرئیر ہے۔ بلاول بھٹو کا پیغام بھی تغیر سے گزرنے والے اس خطے میں جبر کے خلاف ہے، پاکستان میں بلاول بھٹو کی واضح آواز ہے، وہ مختلف طبقات کے ایک ہونے کے لیے ملک میں برداشت اور مصالحت چاہتا ہے۔

نوٹ: شیری رحمان سینیٹ میں قائدحزب اختلاف اور پاکستان پیپلزپارٹی کی نائب صدر بھی ہیں، شیری رحمان امریکا میں پاکستانی سفیر اور ملک میں وفاقی وزیر کے طور پر بھی اپنی خدمات سرانجام دے چکی ہیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

شیری رحمان کی دیگر تحریریں
شیری رحمان کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

شیری رحمان

شیری رحمان سینیٹ میں قائدحزب اختلاف اور پاکستان پیپلزپارٹی کی نائب صدر بھی ہیں، شیری رحمان امریکا میں پاکستانی سفیر اور ملک میں وفاقی وزیر کے طور پر بھی اپنی خدمات سرانجام دے چکی ہیں

sherry-rehman has 1 posts and counting.See all posts by sherry-rehman