پاک امریکہ تعلقات میں دراڑ


mujahid ali

امریکہ پاکستان میں قید ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کے لئے مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے۔ ڈاکٹر آفریدی کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے میں امریکہ کی مدد کرنے کے الزام میں قید کرکے غیر متعلقہ دفعات اور مشکوک عدالتی طریقہ کار کے تحت 23 برس قید کی سزا دی گئی ہے۔ پاکستان میں اسے قومی غدار قرار دیا جاتا ہے جبکہ امریکہ اسے دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد کو پکڑوانے والا ہیرو سمجھتا ہے۔

حال ہی میں امریکی کانگرس نے پاکستان کو فروخت کئے جانے والے آٹھ ایف 16 طیاروں کی خریداری کے لئے امداد فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ یہ طیارے 700 ملین ڈالر مالیت کے ہیں لیکن اس میں سے 430 ملین ڈالر امریکہ نے فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ تاہم سینیٹ امور خارجہ کمیٹی کے سربراہ کی ہدایت پر یہ فیصلہ تبدیل کرلیا گیا ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ امریکی کانگر س میں ڈاکٹر آفریدی کی رہائی کے بارے میں سخت رائے پائی جاتی ہے اور امریکی قانون ساز سمجھتے ہیں کہ پاکستان ایک ایسے شخص کو قید میں رکھ کر امریکی مفادات کے خلاف کام کررہا ہے جو امریکہ میں دہشت گردی کروانے والے اسامہ بن لادن کی ہلاکت میں مددگار ثابت ہوا تھا۔ امریکہ آفریدی اور ان کے خاندان کو پاکستان سے امریکہ لانا چاہتا ہے جہاں انہیں قومی ہیرو کا اعزاز دئے جانے کا امکان ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس معاملہ پر بات کرنے سے گریز کیا جاتا ہے لیکن آفریدی کو طالبان کی مدد کرنے اور دہشت گردی کے الزامات میں قبائیلی علاقوں کی انتظامی عدالت سے طویل قید کی سزا دلوائی گئی ہے۔ امریکی کانگرس میں پاکستان کو دی جانے والی ہر امداد کے موقع پر ڈاکٹر آفریدی کی رہائی کا معاملہ زیر بحث آتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ اسے فراموش کرنے کی بجائے، پاکستان پر ڈاکٹر آفریدی کی رہائی کے لئے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔

3 مئی 2011 کو ایبٹ آباد کے ایک کمپاؤنڈ میں حملہ کرکے امریکی کمانڈوز نے اسامہ اور اس کے بعض اہل خاندان کو ہلاک کردیا تھا اور اسامہ کی لاش ساتھ لے گئے تھے۔ بعد میں سامنے آنے والی خبروں کے مطابق امریکی سی آئی اے CIA نے ڈاکٹر آفریدی کے ذریعے اس علاقے میں پولیومہم کا بہانہ کرکے اسامہ بن لادن کے خاندان کے بلڈ سیمپل لئے تھے، جن کے ڈی این اے ٹیسٹ سے یہ یقین کیا گیا تھاکہ اسامہ اسی کمپاؤنڈ میں مقیم ہے۔ حملہ کے بعد پاکستان نے ڈاکٹر آفریدی کو گرفتار کرلیا تھا۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے ذمہ دار کسی شخص یا ادارے کو پاکستانی علاقے پر امریکی حملہ کا سراغ لگانے یا اسے روکنے میں ناکامی کے الزام میں سزا نہیں دی گئی اور نہ ہی میڈیا میں اس بارے میں ذیادہ سوال اٹھانے کی ضرورت محسوس کی گئی ۔بلکہ تنقید کی توپوں کا رخ ذیادہ تر امریکہ کی طرف سے ایک حلیف ملک کی سرحدوں کی خلاف ورزی کے معاملہ کی طرف رکھا گیا۔

اس دوران امریکہ کے انعام یافتہ اور انتہائی معتبر صحافی سیمور ہرش SEYMOUR HERSHنے 2013 سے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ایبٹ آباد میں حملہ کے بارے میں امریکی حکومت اور میڈیا گمراہ کن اور غلط معلومات فراہم کررہا ہے۔ گزشتہ برس مئی میں لندن ریویو آف بکس میں ہرش کا دس ہزار الفاظ پر مشتمل ایک طویل مضمون ’اسامہ کی ہلاکت‘ The Killing of Osama bin Laden شائع ہوا۔ اس مضمون میں انہوں نے اپنے ذرائع سے یہ رپورٹ کیا تھا کہ اسامہ کو پاکستانی حکومت کی ملی بھگت سے مارا گیا تھا۔ اس حوالے سے انہوں نے بعض رابطوں کے نام بھی ظاہر کئے تھے۔ امریکی حکومت نے اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کردیا تھا ۔لیکن پاکستان میں ایک بار پھر اس معاملہ پر بات کرنے سے گریز کیا گیا تھا۔ ہرش اس وقت سے اپنے مؤقف اور اپنے ذرائع کی صداقت پر قائم رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ انہوں نے اسی موضوع پر اسی عنوان ’اسامہ کی ہلاکت‘ کے نام سے ایک کتاب شائع کی ہے اور اسامہ کی پاکستان میں موجودگی اور ہلاکت کے مشن میں پاکستان کے تعاون کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔ ہرش کا کہنا ہے کہ اب انہیں اس بات کا ذیادہ یقین ہے کہ اسامہ کو پاکستانی حکام کے تعاون سے مارا گیا تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ پاکستان نے اسامہ بن لادن کو پانچ برس سے نگرانی میں رکھا ہوا تھا اور اس بارے میں اسے سعودی عرب کا تعاون بھی حاصل تھا۔ کیوں کہ سعودی حکومت یہ نہیں چاہتی تھی کہ اسامہ زندہ امریکیوں کے ہاتھ لگے اور وہ اس سے پوچھ گچھ کرسکیں۔ تاہم ایک پاکستانی کرنل نے سی آئی ا ے کے سامنے اس راز کو افشا کردیا جس کے بعد اسامہ کو مارنے کا منصوبہ بنایا گیا۔

اس پس منظر میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کی بجائے پاکستانی حکومت اپنی نام نہاد ’قومی توہین ‘ کا انتقام ایک فرد سے لینے کی کوشش کررہی ہے۔ امریکی کانگرس اب ڈاکٹر آفریدی کی رہائی کے لئے دباؤ بڑھانا چاہتی ہے۔ خبر ہے کہ آئندہ مالی سال کے لئے اوباما ایڈمنسٹریشن نے پاکستان کو 743 ملین ڈالر کی سول امداد اور 265 ملین ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرنے کی تجویز کانگرس کو بھیجی ہے۔ لیکن کانگرس کے موڈ کی روشنی میں ان تجاویز کا منظور ہونا ممکن نہیں ہے۔ پاکستان کو 2002 کے بعد سے 33 ارب ڈالر کی امداد فراہم کی گئی ہے ،جس میں تقریباً چار ارب ڈالر کی فوجی امداد شامل ہے۔ تاہم اب ایک شخص کی وجہ سے امداد کا یہ سلسلہ بند ہو سکتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 452 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “پاک امریکہ تعلقات میں دراڑ

  • 03-05-2016 at 3:32 am
    Permalink

    حسین حقانی کی کتاب “میگنفسنٹ ڈلیوژن” کےمطابق ہمارا ملک پاکستان وجود میں‌ آتے ہی اور آج تک امریکہ سے کافی پیسے وصول کر رہا ہے۔ وہاں‌ریکارڈ رکھا گیا ہو یا نہیں یہاں سب ریکارڈ ہے۔ پاکستان نے روس سے لڑنے کے بہانے ہتھیار بھی اکھٹے کئیے اور اس سے انڈیا میں‌ اور کشمیر میں‌ حالات خراب کئیے۔ جتنا پیسہ پاکستان نے ہتھیاروں‌میں‌برباد کیا وہ تعلیم میں‌لگا دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا۔
    یہ ایک آدمی بیچارہ انفرادی حیثیت میں‌ بک گیا جیسے ہماری حکومت اور فوج بھی ہیں‌اور اس نے ایک دہشت گرد کو پکڑوا بھی دیا تو اب اس کو سزا مل چکی ہے۔ آپ لوگ اس کو جانے دیں۔ جب بڑے مجرم آپ چھوڑ رہے ہیں تو اس کو بھی چھوڑ دیں۔

Comments are closed.