نواز شریف یا عمران خان: انتخابات کون جیتے گا؟


الیکشن کون جیتے گا؟ یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے تاہم ایسی صورتحال بھی نہیں ہے کہ کچھ کہنا ہی مشکل ہوجائے۔ مختلف تجزیہ کار اور کالم نگار حضرات جو کہ اندر کی خبریں نکالنے میں ماہر ہیں بھی اس حوالے سے مختلف الخیال ہیں۔ طرح طرح کے تجزیے تبصرے اور آراء کو دیکھتے ہوئے بہرحال کہا جاسکتا ہے کہ 2018ء کے الیکشن اپ سیٹ کے حوالے سے تاریخی ثابت ہوں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ اپ سیٹ کیا ہوسکتا ہے۔ اس سوال کا جواب تین بڑی سیاسی جماعتوں کی موجودہ مقبولیت کو سامنے رکھ کر دیا جاسکتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ پچھلے سال تک مرکز اور پنجاب میں حکمرانی کرنے والی مسلم لیگ (ن) کے لئے ایک نہیں کئی مشکلات پیدا ہوچکی ہیں۔ ایک طرف اس قیادت کو مقدمات کا سامنا ہے تو دوسری طرف اس کی صفوں سے بڑی تعداد میں الیکٹیبلز بھی اڑ چکے ہیں۔ زیادہ تر جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ان ہیوی ویٹ امیدواروں کے بارے میں ابھی سے کہا جارہا ہے کہ وہ کسی صورت ہار نہیں سکتے اور ان کا مسلم لیگ سے جانا گویا انتخابات میں اس جماعت کی شکست پر مہر تصدیق ثبت کرنا ہے تاہم یہاں لودھراں کا وہ ضمنی الیکشن بھلا دیا جاتا ہے جس میں ایک عام سے کارکن نے تحریک انصاف کے امیر ترین امیدوار کے صاحبزادے کی پہلی پرواز ناکام بنا دی تھی۔ مسلم لیگ (ن)کی یہ فتح خالصتاً جماعتی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت تھی آج کئی مہینے گزرنے کے بعد بھی مسلم لیگ (ن)مقبولیت کے اسی مقام پر کھڑی ہے اور اس کا ثبوت وقفے وقفے سے ہونے والے سروے ہیں جن میں ووٹر کی رائے لی گئی ہے۔ تحریک انصاف مسلم لیگ سے بارہ سے پندرہ فیصد پیچھے جارہی ہے ایسے میں پنجاب کیسے فتح ہوگا یہ اب بھی ایک ایسا سوال ہے جو تحریک انصاف کو ڈراؤنا منظر دکھا رہا ہے۔

شکست کے خوف کو کم کرنے کے لئے ہی الیکٹیبلز کو پارٹی میں شامل کرلیا گیا ہے تاہم یہ شمولیت ایک طرح سے تحریک انصاف کی کمزوری کو بھی واضح کرگئی۔ اس کے چیئرمین اپنی مقبولیت کے زغم سے دستبردار ہو کر الیکٹیبلز کے محتاج نظر آرہے ہیں۔ مطلب یہ کہ آنے والا الیکشن تحریک انصاف نظریے یا اپنے چیئرمین کی مقبولیت پر نہیں اپنے ہیوی ویٹ امیدواروں کے بل بوتے پر لڑے گی۔ یہ 2013 سے بالکل مختلف صورتحال ہے جب تحریک انصاف کے امیدواروں کا صرف اور صرف عمران خان کی مقبولیت پر انحصار تھا اور اسی مقبولیت نے اسے خیبر پختونخوا میں کامیابی دلائی ہے۔ افسوسناک امر یہ بھی ہے کہ یہ پارٹی خیبر پختونخوا میں اپنی کارکردگی سے بھی دستبردار نظر آرہی ہے۔

اس لئے بعض سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں اب تحریک انصاف الیکشن جیتنا یا ہارنا بے معنی ہے وہ قبل از انتخاب ہی شکست خوردہ اور بے بس نظر آرہی ہے۔ الیکشن جیتنے کی صورت میں بھی اس کے نظریاتی وجود کو بہرحال دفن کرنا پڑے گا اور ہارنے کی صورت میں تو لازماً اسے اپنے پاؤں پر کلہاڑی کے وار سہنے پڑیں گے۔ اس کے برعکس مسلم لیگ (ن) باوجود اس کے کہ اس کے قائد میاں نوازشریف احتساب عدالت میں پیشیاں بھگت رہے ہیں اپنے پاؤں پر کھڑی نظر آرہی ہے۔ اس کی مقبولیت بھی برقرار ہے اور میاں نواز شریف کی نا اہلیت کے بعد عوامی ہمدردی بھی اس جماعت کے لئے محسوس کی جارہی ہے۔ اس پر مستزاد سیاسی مشکلات سے دوچار میاں نواز شریف کی اہلیہ کی بیماری ہے جس نے ان کے حق میں مزید ہمدردی کی لہر پیدا کی ہے۔

بیگم کلثوم نواز شدید علیل ہیں۔ تحریک انصاف اور اس کی قیادت کو اچھی طرح علم ہے کہ ان متعدد وجوہات کے باعث سابق حکمران جماعت کی مقبولیت کا توڑ کرنے کے لئے ابھی تک اس نے کوئی حکمت عملی طے نہیں کی اور اب جبکہ صرف ایک مہینہ ہی پولنگ کے لئے باقی رہ گیا ہے اسے ایک ایسا چیلنج درپیش ہے جس کے مقابلے کے اہل الیکٹیبلز بھی ثابت نہیں ہورہے اوپر سے عدالت عظمی نے احتساب عدالت میں میاں نواز شریف ان کی دختر مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کے خلاف جاری مقدمے کو ایک ماہ میں نمٹانے کے احکامات دے کر تحریک انصاف کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ مقدمے کا فیصلہ قبل از انتخابات آیا اور ممکنہ طور پر بات بیٹی اور داماد کو سزا ہوئی تو پہلے سے موجود ہمدردی میں ایک نئی توانا لہر کا اضافہ ہوجائے گا اس صورت میں مسلم لیگ (ن) کو ہرانا تحریک انصاف کے لئے 2013ء سے بھی مشکل چیلنج ہوگا۔

اس چیلنج سے کپتان اور اس کی ٹیم نبرد آزما ہوں گے یا کوئی راہ فرار ڈھونڈیں گے؟ اس سوال کو سامنے رکھ کر ہی سیاسی تجزیہ کار اب بھی انتخابات کے انعقاد پر شکوک وشبہات کا اظہار کررہے ہیں جبکہ چند سیاسی رہنما ڈھکے چھپے الفاظ میں انتخابات کے التواء کی باتیں کررہے ہیں۔ خود تحریک انصاف کے چیئرمین بھی مہینہ بھر کے لئے انتخابات کے التواء کی خواہش ظاہر کرچکے ہیں جبکہ اب بھی تمام تر تیاریوں کے باوجود اس جماعت کو خدشہ ہے کہ احتساب عدالت کے ممکنہ فیصلے اور بیگم کلثوم نواز کی بیماری کے باعث ہمدردی کے لہر کے ہوتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے الیکٹیبلز بھی کام نہ آئے تو کیا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں تحریک انصاف وہمنوا انتخابات کے التواء کی خواہش مند ہیں وہیں میاں صاحب او ان کے متوالے کسی صورت اپنے حق میں بنی آئیڈیل سیاسی فضا سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔

میاں نواز شریف کا خیال ہے کہ انہیں اور ان کی بیٹی کو جیل کی سزا ہوئی تو ووٹر شیر کے نشان پر ہی مہر ثبت کریں گے اور مخالفین کی تمام تر تیاریوں کے باوجود انہیں مرکز وپنجاب میں حکومت بنانے کی پوزیشن حاصل ہو جائے گی۔ جس کے بعد پیپلز پارٹی اور ایم ایم اے کے ساتھ شراکت اقتدار کے لئے سمجھوتہ مشکل ثابت نہیں ہوگا۔ یہی سمجھوتہ آگے چل کر پارلیمنٹ کے ذریعے میاں نوازشریف کی سیاسی مشکلات (نا اہلی) کا حل ڈھونڈنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ گزشتہ پانچ سال کے سیاسی حالات پر نظر ڈالیں تو صاف نظر آتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے آصف زرداری کا میاں نوازشریف کے ساتھ چلنا اتنا مشکل فیصلہ نہیں ہوگا جتنا کپتان کے ساتھ مل کر شراکت اقتدار کے کسی سمجھوتے پر دستخط کرنا۔

پیپلز پارٹی نے کبھی بھی میاں نوازشریف کی وزارت عظمیٰ کے دوران جارحانہ رویہ نہیں اپنایا ایک نہیں درجنوں بار اسے فرینڈلی اپوزیشن قرار دیا گیا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ جماعت فرینڈلی اپوزیشن ہی رہی۔ خواجہ آصف نے حال ہی میں بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف زرداری کے پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالنے کا جو پس منظر بیان کیا ہے اسے سامنے رکھ کر کسی کو بھی پیپلز پارٹی کے فرینڈلی ہونے میں شک شبہ نہیں رہا۔ اس سے تحریک انصاف کے دونوں جماعتوں پر مک مکا کے الزامات کو بھی خاصی تقویت ملی۔

اب سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف پھر ہاتھ ملتے رہ گئی اور مسلم لیگ (ن)پھر اقتدار کی سنگھا سن پر نظر آئی تو اسٹیبلشمنٹ سے بگڑے معاملات کیسے طے ہوں گے۔ ایک نہیں تکرار سے درجنوں بار میاں نوازشریف اور مریم نواز اسٹیبلشمنٹ پر کڑی تنقید کرچکے ہیں ان کے بعض بیانات پر تو ردعمل بھی سخت آیا۔ وہ اپنی نا اہلی کو بھی اسٹیبلشمنٹ کی ناراضگی سے جوڑتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی جماعت کامیاب ہوگئی تو وزارت عظمی سے لے کر کابینہ وغیرہ کے لئے نامزدگیوں میں انہیں ایسے لوگوں کو سامنے لانا پڑیگا جن کا ماضی یا حال میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رویہ جارحانہ نہ رہا ہو۔ پرویز رشید، مشاہد اللہ کی بجائے میاں صاحب کو چوہدری نثار جیسے وزراء کی ضرورت ہوگی بصورت دیگر انہیں پارلیمنٹ سے اپنی نا اہلی ختم کرنے کی منصوبہ بندی میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

دوسری طرف وہ جارحانہ رویہ چھوڑ کر مصالحانہ موڈ میں نظر آئے تو انہیں موجودہ بیانیے سے دست بردار ہونا پڑے گا۔ مطلب یہ کہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ صرف انتخابات میں کامیابی کے لئے لگایا جاتا رہا ہے یہ کامیابی ہاتھ آگئی تو پھر نعرہ کو بھلانے میں ہی میاں صاحب کی بہتری ہوگی۔ کیا وہ اپنا بیانیہ ترک کردیں گے؟ اب آخری سوال یہ بنتا ہے کہ تمام اندازوں کے برعکس تحریک انصاف انتخابات میں کامیاب ہوگئی تو اس کے چیئرمین وزیراعظم ہوں گے یا نہیں۔ اس سوال کا جواب پانے کے لئے سیاسی حالات، تحریک انصاف میں آنے والے الیکٹیبلز کے ارادوں، اسٹیبلشمنٹ کی سوچ اور سیاسی تجزیوں کے نچوڑ پر روشنی ڈالتے ہوئے تجزیہ آئندہ ہفتے پیش کیا جائے گا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں