ایک سب پہ بھاری خط


wisi 2 babaسنائیں مولانا صاحب کیسے ہیں۔ آج کل تو آپ کی مشاورت کا دائرہ پانامہ تک پھیلا ہوا ہے۔  آپ میاں صاحب کو بچا رہے ہیں ۔مولانا صاحب آپ کی ہمارے رقیبوں سے یہ قربتیں اچھی نہیں لگتیں ہمیں۔ کبھی ہم میں تم میں بھی پیار تھا۔ آپ کو یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔ مولانا صاحب آپ کی ترقی و کامیابی دیکھ دیکھ کر ہم پھر بھی خوش ہوتے ہیں۔ خیال آتا ہے تو بس یہی کہ آپ کا مقام اس سے کہیں بلند ہے۔

مشرف دور میں ہی آپ کو وزیراعظم بنا ہی دیا تھا میں نے۔ بس نصیبوں کے کھیل ہیں۔ ہم سمجھاتے ہی رہ گئے لیکن ان گوروں کو سمجھ نہیں آتی۔ آپ کی داڑھی سے ڈر گئے۔ مولانا بھی تو لگا ہوا ہے آپ کے نام کے ساتھ ۔ جو کام ہم تب نہ کر سکے آئندہ کر دکھائیں گے ۔ سنائیں بال بچے ٹھیک ہیں۔ چھوٹے بھائی کو افغان کمشنر بن کے مزہ تو آ ہی رہا ہو گا۔ یہ آپ نے اچھا کام کیا اسے وہاں فٹ کروا کر۔ افغانوں کی نبض پر بھی آپ کا ہاتھ رہے گا۔ پانامہ پیپر کی مشاورت کا اتنا تو حق بنتا ہی تھا آپ کا۔

مولانا صاحب آپ سے اپنی کچھ غلطیوں کا اعتراف کرنا تھا۔ یوسف رضا کو وزیر اعظم بنا کر غلطی ہی کی تھی میں نے۔ ویسے تو وہ پی پی کے وائیس چئیرمین تھے۔ پارٹی کے لئے میرے بعد سب سے زیادہ جیل بھی انہوں نے ہی کاٹی تھی۔ لیکن وزیر اعظم بن کر انہوں نے تو آنکھیں ہی ماتھے پر رکھ لی تھیں۔ بڑی مشکل سے انہیں نااہل کروا کر گھر بھجوانا پڑا۔ ان کا پھیلایا ہوا کام سمیٹنا بیچارے راجے پرویز اشرف کے بس کی بات ہی نہیں تھی۔ پارٹی کا ہی دم نکال دیا ان دونوں نے رل مل کر۔

میں نے اب پکا فیصلہ کر لیا ہے۔ پی پی اگلا الیکشن جیتے گی تو ہمارے وزیراعظم بس پھر آپ ہی ہوں گے۔ آپ تب تک اچھی طرح کار سرکار کا مزید تجربہ حاصل کرلیں ۔ اپنے لوگوں کو ٹرین کروائیں۔ پھر بھی اتنی ہماری بھی مانیں، بھلا آپ کو کوئی ضرورت ہے، میاں صاحب کی اتنی زیادہ حمایت کرنے کی۔ جہاں وہ پھنس رہے ہوں۔ انہیں ہلکا پھلکا دھکا مزید دے دیا کریں۔ ہم دعا کریں گے۔ آپ تا قیامت ہر حکمت کا حصہ ہی رہیں۔

مولانا صاحب آپ سے ایک گزارش کرنا تھی۔ بلاول کی سیاسی تربیت کا کچھ کریں۔ براہراست کچھ نہیں ہو سکتا تو کوئی اور طریقہ استعمال کریں۔ اپنے کسی کن ٹٹے مولوی سے ہی کہیں بلاول کے پیچھے پڑ جائے۔ اس کو روز دھویا کرے اخبارات میں بلکہ اگر آپ کو مناسب لگے تو ٹی وی پر بھی ٹکا کر بیان دے اس کے خلاف۔ بلاول کو سمجھایا تو ہے کہ آپ سے ملاقات کرے۔ آپ سے اختلاف کرے، آپ کے ساتھ کوئی محاذ آرائی شروع کرے۔ آخر کبھی تو اسے بھی سیکھنا ہی ہے۔ آپ سے ایک لڑائی محفوظ بھی رہے گی اور فائدہ مند بھی ۔

مولانا صاحب آپ نے تو کپتان سے دور ہی رہنا ہے۔ آپ کی قسمت اچھی ہے کہ آپ کو کپتان کی ضرورت ہی نہیں ۔ ہمیں کپتان کی ضرورت پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ میاں صاحب کو گھیرنے کے لئے کپتان بڑے ہی کام کا بندہ ہے۔ اسے سیاست کا پتہ ہوتا تو ہمارے ساتھ کب کی یاری لگا چکا ہوتا۔ آپس کی بات ہے کپتان کے پاس سیاسی  سوچ تو چھوڑیں ، سوچنے والا دماغ ہی نہیں ہے ۔ آپ سے اب کیا چھپانا بڑی مشکل سے کپتان کو گھیر گھار کر رابطے میں لیا تھا۔

پروگرام شروگرام کا شوق رکھنے والے جتنے جیالے تھے سب کو لگا رکھا تھا۔ سب سے بولا تھا کہ مجھے شکل اب تب ہی دکھانا جب کپتان کے نزدیکی دوستوں وغیرہ کو قابو کر لو۔ لطیف کھوسے کو پیدل بھیجا تھا کراچی سے لاہور۔ بولا تھا کہ راستے میں جس پر شک پڑے اس سے بات کرے۔ کسی بھی طرح کپتان کا کوئی دوست تلاش کرے جس سے وہ مشورہ کرتا ہو۔ جس کی وہ بات مانتا ہو۔ کھوسے نے بڑی محنت کی ہے۔ زندگی میں دو ہی کام اچھے کئے ہیں ۔ ایک ایان علی کی ضمانت کرائی ہے اس نے۔ دوسرا کپتان کے تین دوست ڈھونڈ لایا ہے کہیں سے۔

کھوسہ کپتان کے دوست ڈھونڈنے بڑی دور تک گیا۔ کھوسے نے اپنی واقف اور ہم عمر ساری مائیوں سے  بھی پتہ کرایا۔ تب کہیں جا کر اسے سراغ ملا کپتان کے مشیروں کا۔ اب  سو سو سال کے تین دانے بڈھے سے برگر ڈھونڈ کر لایا ہے کھوسہ۔ قسمیں کھائی ہیں اس نے کہ یہ کپتان کے ہم جماعت ہیں۔ وہ انہیں کی سنتا ہے۔

کپتان کے مشیر دیکھ کر تو مجھے کپتان خود ہی سائینسدان لگا ہے۔ ایسے مشیر اتنے بزرگ قسم کے برگر ۔ اتنے بڑے بیہودہ ڈھڈ لے کر، کچھے پہنے ٹانگیں چلاتے آ گئے ہیں۔ اوپر سے فخر بھی کر رہے تھے۔ بات کرنے کی بھی تمیز نہیں۔ مجھ سے بولے۔ زرداری ہمیں پتہ تھا کہ تمھیں ہماری ضرورت پڑے گی۔ جتنا ہم نے کپتان کی گڈی اڑائی ہے تمھارا بھی دل کرے گا۔ پتہ نہیں اب یہ کپتان کی گڈی کون ہے ۔ پتنگ کا نہ بول رہے ہوں منحوس مارے۔ ان مشیروں کو دیکھ کر دل کیا کہ تینوں کو گن گن کر ہزار ہزار جوتے لگاؤں۔ کپتان کی سیاست ساری سونامی میں ہی بہا دی ہے ان مشیروں نے۔

جو کام دس کروڑ جیالوں سے نہ ہو سکا۔ وہ کام بلاول کے ایک فون سے ہو گیا۔ بلاول نے کپتان کو سیٹ کر لیا ہے۔ سوچ سمجھ بھی تو دونوں کی ایک سی ہی ہے۔ پتہ نہیں کیا بات کی ہے آپس میں۔ اب دونوں ہی میاں صاحب کا استعفی مانگ رہے ہیں۔ بلاول سے پوچھا تھا کہ کیا طے ہوا ہے۔ بلاول نے بتایا کہ طے یہ ہوا ہے کہ کرپشن کے خلاف مہم چلانی ہے۔ کپتان سندھ میں ڈیڈی آپ کے ( یعنی میرے ) خلاف سونامی لائے گا۔ میں پنجاب میں میاں صاحبان کو للکارے ماروں گا۔

کپتان تو چل بھی پڑا تھا سندھ کی طرف، اس کو کوئی کام کرنے میں کونسا دیر لگتی ہے۔ سونامی اپنا بوتل میں ڈالا۔ اعلان بھی کر دیا تھا۔ شاہ محمود نے رابطے وغئیرہ بھی شروع کر دئیے تھے۔ بڑی مشکل سے لوگ درمیان میں ڈال کر کپتان کا دورہ رکوایا ہے۔ پرانے تعلق واسطے دئیے قریشی، ترین اور چوھدری سرور کو تب انہوں  نے آپس میں کوئی جھوٹی لڑائیاں لڑی ہیں۔ تو کپتان کو بریک لگی ہے سندھ میں کرپشن کے خلاف تحریک سے رکا ہے۔ ہمارا تو بولو رام ہونے لگا تھا۔

کپتان نے بلاول کو بولا ہے کہ دیکھ بچے جب تک تمھارا ابا بیٹھا ہے کچھ نہیں ہو سکتا۔ بلاول نے بھی کہہ دیا کہ ماموں آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ دونوں اب مجھے ہٹانے کے لئے مہم شروع کرنے پر تل گئے ہیں۔ کپتان کی تو چلو مت پرانی ہی وجی ہوئی ہے۔ بلاول کو بھی سمجھ نہیں کہ اپنے ہی ابے کے خلاف تحریک نہیں چلایا کرتے۔ مولانا صاحب میں تو کسی طرح بچ ہی جاؤں گا ان دونوں کے اتحاد سے بھی اور تحریک سے بھی۔ ان کی سیاستوں نے میاں صاحب کو چھ باریاں اور دلوا دینی ہیں۔ آپ کا وزیر اعظم بننے کا پروگرام بھی درمیان میں ہی کہیں رہ جانا ہے۔ میرا نہیں تو اپنی وزارت عظمی کا ہی خیال کریں اور کچھ کریں۔

مولانا صاحب کہنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن فائیدہ ۔ آپ کو تو خود ایک سے ایک اچھا طریقہ آتا ہے۔ میں اب باہر بیٹھا ہوں تو بلاول پر نظر رکھنا آپ ہی کی ذمہ داری ہے۔ کوئی گرینڈ الائنس بنائیں۔ کپتان کو بھی اس میں ڈٓلیں بلاول کو بھی اس میں مصروف رکھیں۔ اسے کسی طرح مشہور بھی کرائیں اپنے مولوی پیچھے لگا کر۔ اگلے الیکشن میں وزیر اعظم تو آپ کو ہی بنانا ہے۔ یہ تو ہمارا آپس میں طے ہو گیا۔ ایسا کرنے کے لئے پی پی میں بھی تو کچھ جان ڈالنی پڑے گی۔ اس کا بھی کچھ کریں۔ میں تو اب یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ کے پی کی وزارت اعلی کا بھی ہم کیا کریں گے۔ آپ اپنے آدھی درجن بھائیوں بچوں میں سے کسی کو دے دینا۔ جب آپ ہمارے لئے اتنا کریں گے تو آپ کا بھی تو کچھ حق بنتا ہے۔

میں بس اب چلتا ہوں ڈٓاکٹرنیوں سے ٹائیم لے رکھا ہے۔ آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔


Comments

FB Login Required - comments