میرے جیسا کون ہو سکتا ہے؟


zeeshan hashimہم چار بھائی ہیں اور ایک جان سے پیاری بہن ہے۔ ایک ہی گھر میں اور ایک ہی ماحول میں پلے بڑھے ہیں۔ جنیاتی وراثت اور تربیت کا ماحول ایک جیسا ہونے کے باوجود ہم میں ذہنی رجحان، صلاحیت، جذباتی رویوں،اور پسند و ناپسند کے معاملہ میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ کیا یہ معاملہ صرف ہمارے گھر تک محدود ہے یا ہم سب کے گھروں میں بھی تنوع کی یہی صورتحال پائی جاتی ہے؟ ہم میں سے بیشتر اس پر اتفاق کریں گے کہ یہ تنوع تقریباً ہر گھر میں پایا جاتا ہے۔

ہم میں سے ہر ایک لاثانی ہے، کوئی بھی حقیقتا کسی کی کاربن کاپی نہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کی ذہنی قابلیتیں و صلاحتیں منفرد ہیں، سوچنے و سمجھنے کا انداز جدا جدا ہے اور ہمارجذباتی رویوں میں تضاد پایا جاتا ہے۔ موسیقی، آرٹ اور ادب سمیت ان گنت چیزوں میں یہ خوبصورت اختلاف موجود ہے۔ ایک ہی گھر میں ایک بچہ اگر سائنس میں دلچسپی رکھتا ہے تو اس کا دوسرا بھائی کھیلوں کا شیدائی ہے تو عین ممکن ہے کہ تیسرا بھائی ایک اچھا آرٹسٹ ہو۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ یہ خصوصیات جامد بھی نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان میں تبدیلی اور ترقی آتی رہتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک پیدائشی طور پر منفرد ہے، اسی سبب سے ہم میں سے ہر ایک کو فرد کہا جاتا ہے۔ اگر ایک گھر میں دو بچوں میں سے کسی ایک کو خوراک میں بریانی پسند ہے اور دوسرے کو چکن کڑاہی تو یہ خامی نہیں بلکہ انفرادیت کا اظہار ہے۔ یہ فطری ہے۔ یہ پیدائشی خصوصیت ہے- نیچرل سائنس کے اساتذہ کہتے ہیں کہ ارتقاء کا سبب دراصل یہی تنوع ہی ہے، اور اسی بات کی سوشل سائنسز کے اساتذہ بھی اپنے اپنے شعبہ جات میں تصدیق کرتے ہیں۔ یونیورسٹی آف Illinois کے استاد جیری ہرش Jerry Hirsch  اپنی تحقیقات کے نتائج میں لکھتے ہیں کہ انسانی رویوں کی سائنس (Behavioral science ) کی رو سے یہ لازم ہے کہ دو مختلف نسلوں کے دانشور ایک دوسرے سے اپنی آراء میں اختلاف کریں گے، جس کے بہت سارے اسباب میں سے ایک اہم سبب انسان میں جنیاتی تفردات (inborn differences ) بھی ہیں۔

یونیورسٹی آف Illinois کے یہ استاد ایک اور دلچسپ تجرباتی و تجزیاتی مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ مختلف شعبہ جات کے مختلف دانشوران کی ایک لسٹ بناتے ہیں، اس میں صرف ان دانشوران کا انتخاب کیا جاتا ہے جنہیں نے اپنے بچوں کی تربیت میں دلچسپی لی، ان کی بالغ العمری تک ان کے ساتھ رہے۔ پھر ان کے دانشورانہ رجحان کا ان کے بچوں سے موازنہ کیا کہ آیا ان کے بچے بڑے ہو کر اگر داننشور بنتے ہیں تو کیا وہ اپنے والدین سے نظریاتی طور پر اختلاف کرتے ہیں یا اتفاق؟ حیران کن طور پر جو نتائج سامنے آتے ہیں ان کے مطابق تقریبا ستر فیصد دانشوروں کی دانشور اولاد ان سے نظریاتی طور پر اتنا اختلاف کرتی ہے کہ اپنے والد سے مختلف مکتب فکر سے رجوع کر لیتی ہے۔ کیا یہ حیران کن نہیں؟

فرد کی انفرادیت دو اسباب کی بنیاد پر ہے۔ ایک ہے اس کا حیاتیاتی وجود اور دوسرا اس کا ذہن ہے۔ ہم میں سے ہر ایک اپنا اپنا دل، معدہ، نظام دوران خون، اعضاء کا نظام، اعصابی نظام اور نظام تنفس رکھتا ہے۔اس میں اشتراک نہیں۔ اگر میری آنکھ کام کرنا بند کر دیتی ہے تو میں کسی دوسرے زندہ فرد کی آنکھ نہیں استعمال کر سکتا۔ میری آنکھ میری ہے، میرا دل میرا دل ہے، اور میری سانس میری اپنی ہے۔ میں کسی سے نہ مستعار لے سکتا ہوں اور نہ اس میں کسی کو شریک کر سکتا ہوں۔ میرا حیاتیاتی وجود مجھے ایک طرف اگر مکمل کر رہا ہے تو دوسری طرف مجھے دوسروں سے یکتا اور جدا کر رہا ہے۔ ہمارے حیاتیاتی وجود کی سائنس (بائیولوجی) کہتی ہے کہ تمام میملز میں جنیاتی طور پر اتنی انفرادیت پائی جاتی ہے کہ اس فیملی کے کسی بھی جاندار کی خصوصیات کے اسباب کو قطعی طور پر بیان کرنا بہت مشکل ہے اس کی وجہ ہر فعل کے سبب میں کثیر جنیاتی خصوصیت (Multiple gene characteristic) کا پایا جانا ہے۔ یاد رہے کہ انسان تمام میملز میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ نوع ہے۔

دوسرا بڑا سبب میرا ذہن ہے جس میں ہے ہی انفرادیت۔ ہم ذہنی طور پر ایک دوسرے سے منفرد ہیں۔ عموما یہ دیکھا گیا ہے جسے سماجی نفسیات کی سائنس ثابت کرتی ہے کہ ہمارے معاشروں میں اختلاف (diversity) کے بڑے اسباب جیسے خود پسندی (self interest ) اور تعلیم کے علاوہ سب سے اہم ہمارا ذہن ہے۔ ایک گروہ میں کسی ایک خاص موضوع کو اگر اٹھایا جائے تو یہ ناممکن ہے کہ سو فیصد اس سے اتفاق کریں اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ سو فیصد اس سے انکار کریں۔ اتفاق و اختلاف کا مادہ جہاں ایک طرف ہمارے ارتقاء میں مددگار ہے تو دوسری طرف آمریت کے لئے سب سے بڑا چلینج بھی یہی ہے۔ میں ہوں اور میں نہیں مانتا کی فطرت ہی دراصل آزادی پسندی کو بنیاد دیتی ہے۔ کسی طبعی وجود کو روٹی کے چند ٹکڑے کھلا کر اور اسے مکان و کپڑا کی ضمانت دے کر تو آپ مطمئن کر سکتے ہیں مگر ذہن کی وسعتیں تو بے کراں ہیں، آزادی تو اس کا جوہر ہے، اور تنہائی پسندی تو اس کی صفت ہے۔

انسانی ذہنی خصوصیات میں بھی موازنہ ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر ذہانت ایک فرد کی خوبی بھی ہے اور اس کی شخصی خصوصیت بھی۔ ہم جانتے ہیں کہ آئن سٹائن بھی ذہین تھا اور شیکسپیئر بھی۔ کیا یہ سوال ممکن ہے کہ ان دونوں میں سب سے زیادہ ذہین کون تھا؟ اس طرز کا موازنہ ناممکن ہے۔ شیکسپیئر کا تعلق زبان و ادب سے ہے جبکہ آئن سٹائن زبان سیکھنے کے معاملہ میں انتہائی سست تھا۔ اور ریاضی کے معاملہ میں تو بقول پروفیسر ولیم Phelps وہ کافی کمزور تھا۔ یہی معاملہ شیکسپیئر کے ساتھ ہے، پیچیدہ نظریاتی و عملی سائنسز میں اس کا رجحان کمزور ہے۔ دونوں ذہانت میں مشترک ہونے کے باوجود رجحانات میں مختلف ہیں، کیونکہ دونوں منفرد ہیں۔ رجحانات میں یکسانیت بھی دو افراد کے درمیان اپنے مظاہر میں مشترک نہیں ہو سکتی۔ آئن سٹائن اور نیوٹن کا اگر موازنہ کیا جائے تو دونوں کے درمیان سوچ و فکر اور ذہانت کے معیار میں کافی تفرد پایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ بھی شخصیت میں انفرادیت ہے۔

سقراط سچ کہتا ہے کہ اگر آپ اپنے اردگرد کی ہرچیز سے واقف ہو مگر خود سے نہیں تو یہ مضحکہ خیز ہے۔ خاکسار اسے ایک مختلف زاویہ سے بیان کرنے کی جسارت کرتا ہے۔ اگر آپ نیچرل و سوشل سائنسز کی بدولت اردگرد کی ہر چیز سے واقف ہیں مگر ایک فرد کی انفرادیت اور اس کے نفسیاتی مطالعہ سے بے خبر ہیں تو یقینا یہ مضحکہ خیز ہے۔ اگر آپ نہیں جانتے کہ اصل میں فرد کیا ہے، اس کی انفرادیت کے کون کون سے مظاہر ہیں، اس کے ان گنت رجحانات کے کون کون سے اسباب ممکن ہیں، مختلف ترغیبات و محرکات کا اس پر کیا اثر ہے، وہ چاہتا کیا ہے اور کس چیز کی تلاش میں ہے، تب تک نہ معیشت سمجھی جا سکتی ہے، نہ معاشرت، نہ سیاست، اور نہ ہی تاریخ و مذاہب۔ انسانی نفسیات کا مطالعہ انسانی زندگی اور انسانی دنیا کو سمجھنے کے لئے ازحد ضروری ہے –

اگر ہم اپنا فوکس سماج کی بجائے فرد پر مرتکز کرتے ہیں تو بہترین نتائج کا حصول آسان ہے۔ محض سماج کو براہ راست فوکس کرنے کا کوئی مطلب نہیں سوائے اس کے کہ آپ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار ہے ہیں۔ آئیے دو اہم مثالوں سے اسے سمجھتے ہیں۔

  1. ایک کمرہ جماعت میں تعلیم و تربیت کے دو اسلوب ہیں۔ پہلا اسلوب پوری جماعت کو بطور ایک کل کے فوکس کرتا ہے۔ دوسرا اسلوب ہر طالب علم کو ایک مکمل و منفرد اکائی سمجھتے ہوئے ہر ایک کے ذہنی رجحان کو اہمیت دیتا ہے۔ پہلے رجحان میں ساری کی ساری توجہ پوری کلاس کو ایک ہی نفسیات سے سمجھنے اور اس کی تربیت کرنے کا نام ہے جبکہ دوسرے رجحان میں ایک استاد ہر طالب علم کے ذہنی رجحان کو پہچانتے، ترقی دیتے، اور بہتر استعمال میں لانے کی جستجو میں ہوتا ہے۔ نتیجہ کیا ممکن ہے اور کس اسلوب کے نتائج بہتر ہوں گے۔ یقینا دوسرے اسلوب کے جس میں آزادی ہے، صلاحیتوں کی دریافت اور اس کی نشوونما ہے اور اسی میں ہی کامیابی ہے – ہر طالب علم ایک ستارہ ہے جو چمکنے کو بے تاب ہے۔

– دوسری مثال انتہائی اہم ہے۔ دیکھئے جرم کے اسباب میں علم سے دوری، نفرت و فساد کی ترغیب دینے والا لٹریچر، ذہنی بیماری، الکوحل کا زیادہ استعمال، ڈرگز کا استعمال، جسم میں مخصوص کیمیکلز کی مقدار میں تبدیلی، ذہنی و اعصابی نظام کی توڑ پھوڑ، بہت زیادہ تنہائی پسندی، انتقام، غربت، نسل پرستی سمیت ان گنت اسباب ہیں۔ اب جرائم کو سمجھنے اور اس کی بنیاد پر سماجی بندوبست قائم کرنے کے دو اسلوب ہیں۔ ایک ہے تمام مجرموں کو کسی ایک کل میں دیکھنا، جیسے تمام پختون دہشت گرد ہیں، بلوچ قوم ذہنی طور پر فرسودہ ہے، یہود و ہنود و نصاری ہمارے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں، سرمایہ دار لوٹ رہے ہیں، تمام مسلمان دہشت گرد ہیں اور پنجابی منافق ہیں وغیرہ وغیرہ۔ دوسرا اسلوب مجرم کو اس کی انفرادیت میں دیکھتا ہے۔ اس میں ان اسباب کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ آخر وہ کون کون سے اسباب ہیں جو ایک مخصوص مجرم کو جرم کی ترغیب دے رہے ہیں۔ کیا غربت و بے روزگاری کے سبب ایک شخص کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ کر تشدد پسند بن گئی ہے؟ کیا کسی معصوم طالب علم کو جو لٹریچر پڑھایا گیا وہاں سے اس نے شدت پسندی کی ترغیب حاصل کی۔ کیا ایک شخص ڈرگز کے زیادہ استعمال سے مجرم بنا ہے، کیا کوئی بلوچ انتقامی جذبے کے تحت شدت پسند بنا ہے وغیرہ وغیرہ۔

ان دو اسلوب کے نتائج حیران کن طور پر دلچسپ واقع ہوئے ہیں۔ پہلے اسلوب میں آپ ایک پوری نسل یا مذہب یا جغرافیائی شناخت کو ہی مجرم بنا لیتے ہیں یوں فساد کو بھی بڑھاوا ملتا ہے اور آپ سچائی کی دریافت سے بھی محروم رہتے ہیں۔ جیسے خاکسار نے اوپر کی کچھ مثالوں سے واضح کیا جبکہ دوسرے اسلوب میں آپ کا رجحان جرم کے اسباب کی دریافت اور اس کے خاتمہ پر ہوتا ہے۔ آپ ظلم کی ہر قسم کے خلاف پالیسی بناتے ہیں تاکہ اس سے انتقام کی نفسیات کو فروغ نہ ملے۔ آپ غربت کے اسباب کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ غربت کا بوجھ انسان سے اس کی تخلیقی صلاحتیں نہ چھین لے- اس اسلوب میں امن ہے، رواداری ہے، خوشحالی ہے اور انسانیت ہے۔

دیکھئے اگر ہم میں انفرادیت نہ ہوتی تو ہم سب ایک ہی قسم کا کھانا کھاتے، ایک ہی قسم کی فلمیں دیکھتے، ایک ہی جیسے اشعار پر واہ واہ کرتے اور ایک ہی قسم کی کتابیں پڑھتے۔ ایک ہی مذہب سے ہوتے۔ اور ایک ہی قسم کی بیماری سب کو ہوتی۔ ہم میں سے ہر ایک فرد ہے۔ یہی وہ صفت ہے جو ہمیں ہر قسم کی سیاسی مذہبی معاشی اور ثقافتی آمریت کے بالمقابل کھڑا کر دیتی ہے – ہمیں آزادی (لبرل ازم) اس لئے پسند ہے کہ اس میں انفرادیت پسندی ہے، تنوع پسندی ہے، اور ہمہ جہت صلاحیتوں، قابلیتوں، رجحانات،اور ترغیبات کو امن پسندی سے جستجو کرنے پر کوئی پابندی نہیں –

جب ہم انفرادیت پسندی کو سوشل سائنس میں لاگو کرتے ہیں تو اس سے کچھ مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں جنہیں حل کرنا آسان ہے اگر ان کی صحیح تفہیم بھی حاصل کی جائے۔ ان میں سے دو درج ذیل ہیں۔

– آزادی ذمہ داری ہے، انفرادیت پسندی فرد کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے اعمال کے نتائج کا خود ذمہ دار لے۔ جو شخص اس ذمہ داری کو اٹھانے سے قاصر رہتا ہے اس میں مایوسی اور اذیت پسندی پیدا ہو سکتی ہے۔ جیسے آپ کی جیب میں کرنسی نوٹ آپ کی قوت خرید تو بڑھا دیتے ہیں مگر کس چیز پر اور کتنا خرچ کرنا ہے یہ منصوبہ بندی آپ کی ذاتی ذمہ داری ہے اگر ایک ہی دن میں سب خرچ کر جائیں گے تو اس غلط منصوبہ بندی کے آپ خود ذمہ دار ہیں اسی طرح اگر ان پیسوں کو آپ صحیح منصوبہ بندی سے خرچ کریں گے تو اس کا بہترین پھل بھی آپ کھائیں گے۔ جس طرح ایک ووٹ آپ کو سیاسی آزادی دیتا ہے تو ساتھ میں صحیح انتخاب کی ذمہ داری بھی دیتا ہے اگر غلط نمائندے چنیں گے تو وہ آپ کی نمائندگی بھی غلط کریں گے۔ اس ذمہ داری کو صحیح طرح سے سرانجام دینے میں بہتر تعلیم آپ کی بہت مددگار ہے۔ تعلیم آپ میں حساسیت اور بہتر فیصلہ کرنے کا شعور پیدا کرتی ہے۔ دوسرے مذاہب یا مکاتب فکر سے واقفیت آپ میں برداشت اور رواداری پیدا کرتی ہے۔

-اگر ہر فرد کو اس کی انفرادیت میں دیکھا جائے تو نتائج کو جنرلائز کرنا مشکل ہو جاتا ہے جس کے سبب پالیسی سازی میں مشکل آ سکتی ہے۔ اس سلسلے میں جدید شماریات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال ہمارے لئے آسانی پیدا کر سکتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

2 thoughts on “میرے جیسا کون ہو سکتا ہے؟

  • 03-05-2016 at 12:13 am
    Permalink

    سادہ مگر جامع انداز میں فرد کا مقدمہ لڑا ہے. لیکن سماج کا مجموعی شعور بھی فرد کے شعور پر لازماً اثر انداز ہوتا ہے.

  • 03-05-2016 at 8:49 am
    Permalink

    نسیم کوثر نے جو کہا ہے کہ اجتماعی سوچ فرد پر اثر انداز ہوتی ہے ،جس مضمون کو آپ نے چھیڑا ہے یہ انتہائی سادہ اصولوں پر بھی ہے اگر نا سمجھا جائے تو انتہائی دقیق اور الجھا ہوا جس کو سلجھانا مشکل ہے بیس سال میں نے جدلیاتی سائنس کی حقیقت کو سمجھنے میں لگائے لیکن جب مجھے اس مضمون کی سمجھ آگئی تو کسی حقیقت کو جاننے کے لیے مشکلات ختم ہوگئی بین الاقوامی سماج جدلیاتی سائنس کے اصولوں پر سوچنے پر مجبور ہوگا تب بہترین سماج تشکیل پائے گا،جدلیاتی سائنس تمام عمرانی علوم کا احاطہ کرتی ہے قدرتی سماجی سائنس اور دوسری زمینی سائنس کو سمجھنے کے لیے جدلیاتی سائنس کے اصول سب سے اہم ہیں آپ ایک پروفیسر کی طرح خود بھی الجھے ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی الجھاتے ہیں آپ نے ایک مضمون میں عزیز و اقارب کے رویوں کی بات کی تھی میرا دل چاہا تھا کہ میں اس پر کچھ لکھوں کہ کیوں ایک سمجھ دار آدمی عزیز و اقارب کے رویوں کو نہیں سمجھ سکا جن معاشروں میں ریاست نے ہر فرد کو اڈاپٹ کرلیا ہے وہاں ایسے مسائل نہیں ہیں ۔

Comments are closed.