شریف وزیراعظم کا مفتی پرویز اور طلال جگا


editوزیراعظم نواز شریف ملک میں اٹھے ہوئے سیاسی طوفان کا ذکر یوں کرتے ہیں جیسے کوئی بزرگ بچوں کی شرارت پر مسکرا رہا ہو۔ اس طرح وہ اپنی گھبراہٹ، بے چینی اور پریشانی کو خفیف سی مہذب مسکراہٹ میں لپیٹ کر یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ معمول کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں کیونکہ انہیں تو کام کرنا اور ملک کو آگے لے کر جانا ہے جبکہ اپوزیشن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ اس کا واحد مقصد حکومت کو پریشان کرنا اور ملک میں ترقی کی رفتار کو روکنا ہے، جس کی وہ ہرگز اجازت نہیں دے سکتے۔ لیکن ہر تقریر میں اپوزیشن رہنماﺅں کا ذکر اور یہ یقین دہانی کہ حکومت موثر اور مضبوط ہے، ان کے ڈگمگاتے قدموں کی چغلی کھاتی ہے۔ کوئی بھی جمہوریت پسند، نواز شریف کی حکومت کو غیر قانونی طریقے سے گرانے کی حمایت نہیں کر سکتا۔ لیکن وزیراعظم نے اپنے بعض چہیتوں کو جس شرمناک لب و لہجہ میں بات کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، وہ بھی ملک میں پائیدار جمہوری روایت کے لئے اچھی خبر نہیں ہے۔

وزیر اطلاعات پرویز رشید ایک معقول اور نرم خو آدمی ہیں۔ طویل سیاسی جدوجہد کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کے علاوہ دیگر سیاسی حلقوں میں بھی انہیں عزت و احترام سے دیکھا جاتا ہے۔ لیکن پاناما پیپرز اسکینڈل سامنے آنے کے بعد سے ان کا لب و لہجہ تند و تیز، تلخ، جارحانہ، گھٹیا اور غیر مہذب ہو چکا ہے۔ یوں تو نواز شریف کی کابینہ میں بازاری بھانڈوں کی طرح فقرے بازی کرنے، مخالفین کی توہین کرنے اور بے وجہ بے بنیاد دھمکیاں دینے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ان میں دانیال عزیز اور طلال چوہدری بھی شامل ہیں جو اپنے غیر تکمیل شدہ خواب پورے کرنے کے لئے مخالفین پر حملے کرنے کی ہر حد سے گزرنے پر تیار رہتے ہیں۔ آج ہی اسلام آباد میں اپوزیشن قائدین کے اجلاس پر تبصرہ کرتے ہوئے طلال چوہدری نے اسے چوروں کی منڈلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی کمیشن کے ذریعے ان کی سب ناجائز دولت کا سراغ لگایا جائے گا۔ بقول ان کے اب اپوزیشن چیف جسٹس کی سرکردگی میں تحقیقاتی کمیشن کی تجویز سے گھبرا چکی ہے کیونکہ اس طرح ان کے اپنے کرتوتوں کا پول کھل جائے گا۔ انہوں نے عمران خان سے لے کر جہانگیر ترین تک پر کرپشن کا الزام عائد کیا۔ اور دعویٰ کیا کہ کمیشن کے قواعد میں قرضے معاف کروانے والوں کی تحقیقات کے حوالے سے ایسے ہی لوگوں کی گرفت کے لئے شق شامل کی گئی ہے۔ حالانکہ حکومت کے کار پردازوں سے زیادہ کون اس بات کو جانتا ہے کہ وزیراعظم نے کس مجبوری میں چیف جسٹس کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور وہ سیاستدانوں اور عوام کے علاوہ کس کے سامنے سرخرو ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی طرح طلال چوہدری کے علاوہ دروغ گوئی، الزام تراشی اور بدکلامی کرنے والے ایسے بہت سے وزیر موجود ہیں جو اپنے اپنے طور پر ایک ادارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ عابد شیر علی کا نام لیجئے جو مخالفین کے گھروں پر حملوں کی دھمکیاں دینے پر اتر آئے ہیں یا رانا ثناءاللہ کو یاد کیجئے کہ وہ ایک سماجی علت کا الزام سیاسی مخالفت کی بنیاد پر عمران خان اور تحریک انصاف کے لیڈروں پر عائد کر کے، انہیں گرفتار کرنے اور ان پر مقدمات چلانے کی بڑھکیں مار رہے ہیں۔ حالانکہ اگر پنجاب کی حکومت میں دم ہوتا تو وہ انتظامیہ کی اس ہدایت پر عمل کروانے کا حوصلہ کرتی کہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے مال روڈ پر جلسہ نہیں ہو سکتا۔ عمران خان نے کہا ” نہیں ہم یہیں جلسہ کریں گے“ اور رانا ثناءاللہ کی ساری ہیکٹری نکل گئی اور وہ دم دبا کر اس وقت تک اپنے گھر میں دبکے رہے جب تک تحریک انصاف والے ٹوٹی کرسیاں اور بدقماش لڑکوں کے ہاتھوں پریشان اور ہراساں ہونے والی لڑکیوں سمیت مال روڈ اور اس کے نواح سے خود ہی روانہ نہیں ہو گئے۔ اب شریف گھروں کی سیاسی شعور رکھنے والی لڑکیوں پر حملے کرنے والوں کا پتہ لگانے کی بجائے رانا صاحب عمران خان پر غرانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔

ملک کے سب سے بڑے صوبے کی پولیس اور سکیورٹی اداروں کے نگران کے طور پر یہ ذمہ داری رانا ثناءاللہ، صوبائی حکومت اور ان کے اہلکاروں پر عائد ہوتی ہے کہ ایک سیاسی جلسہ میں شرکت کے لئے آنے والی خواتین کے ساتھ بعض غیر مہذب غنڈہ عناصر نے بدتہذیبی کی۔ اگر صوبے کی انتظامیہ اور پولیس جلسہ گاہ میں آنے والی چند سو خواتین کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی تو وہ سکیورٹی کا انتظام کیا خاک کرے گی۔ ہر سانحہ اور حادثہ کے بعد فرسودہ دعوے اور وعدے دہرائے جاتے ہیں لیکن نہ پولیس کو مستعد کیا جاتا ہے اور نہ سیاسی قیادت صورتحال سے نمٹنے کے لئے اقدامات کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ کل مال روڈ پر آنے والی خواتین کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی ذمہ داری پنجاب حکومت اور رانا ثناءاللہ کو قبول کرنی چاہئے اور اس قانون شکنی میں ملوث لوگوں کو گرفتار کرنے کے لئے اقدام کرنا چاہئے۔ اس کی بجائے تحریک انصاف کی قیادت سے سیاسی حساب برابر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یا یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر عمران خان خواتین کی حفاظت نہیں کر سکتے تو انہیں اپنے جلسوں میں بلانا بند کر دیں۔ یہ شرمناک رویہ ہے۔ تحریک انصاف ان چند سیاسی پارٹیوں میں سے ایک ہے جس نے ہر صنف اور طبقہ کے نوجوانوں کو سیاست کی طرف مائل کیا ہے۔ عمران خان کا یہ کارنامہ جمہوریت کے فروغ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اب خواتین کی جلسوں میں شرکت کو طعنہ بنا کر ملک کی عورتوں کے بنیادی جمہوری حق سے انکار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

لیکن بدکلامی کے اس راﺅنڈ میں وزیر اطلاعات پرویز رشید یقیناً بازی لے گئے ہیں۔ انہوں نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں فرمایا ہے کہ وہ اس علاقے کا نام بھی نہیں لے سکتے جہاں پر قائم ایک یونیورسٹی میں عمران خان کے بیٹے تعلیم پاتے ہیں۔ کیونکہ وہ نام زبان سے ادا کرنے کے بعد وضو کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے عمران خان سے اس یونیورسٹی کا نام پوچھا جائے لیکن انہیں بھی یہ نام لینے کے بعد وضو کرنا پڑے گا بشرطیکہ وہ وضو پر ایمان رکھتے ہوں۔ پرویز رشید خود اگر اس بیان کو سنیں تو انہیں اندازہ ہو جائے گا کہ اس قسم کی سوقیانہ گفتگو کسی بھی انسان کو زیب نہیں دیتی کجا کہ وہ ملک کا وزیر اطلاعات بھی ہو۔ پرویز رشید لندن کے ایک نواحی علاقے مڈل سیکس کا ذکر کر رہے تھے جہاں کی یونیورسٹی میں شاید عمران خان کے صاحبزادے زیر تعلیم ہیں۔ سیاسی مخالفت کی بنیاد پر کسی لیڈر کے نوجوان بچوں پر اس قسم کی حرف زنی کرنا بجائے خود ایک قابل مذمت فعل ہے۔ لیکن وزیر اطلاعات پر لازم ہے کہ وہ یہ واضح کریں کہ مڈل سیکس کا نام لینے سے کون سے مذہبی حکم کے تحت وضو کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ کیا انہوں نے میاں نواز شریف کی وفاداری اور دلجوئی کے جوش میں، ہوش مکمل طور سے کھو دئیے ہیں یا ان کی ذہنی سطح اور علمی ادراک بس اسی حد تک ہے۔ پھر تو انہیں فوری طور پر اپنے عہدے کو چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ صرف برطانیہ ہی نہیں دنیا کے کئی ملکوں کے قصبوں اور جگہوں کے ناموں میں ’سیکس‘ ہی نہیں انسانی جسم کے ایسے اعضا کے نام بھی شامل ہیں کہ جن کو زبان سے ادا کرنے کے بعد ان پر شاید غسل ہی واجب ہو جائے۔

ایک طرف وفاقی کابینہ کے ذی شعور وزیر اس قسم کی اوچھی سیاسی شعبدہ بازی میں مصروف ہیں تو دوسری طرف وزیراعظم نواز شریف چہرے پر سادگی سجائے مہذب بننے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ آج ہی کوئٹہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپوزیشن کو احتجاج کی سیاست سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح سرمایہ کار ملک میں آنے سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مخالفین کو 2018 تک بلکہ اس کے بعد تک صبر کر لینا چاہئے۔ یعنی وہ یہ اشارہ دے رہے تھے کہ 2018 میں بھی ان کی ہی پارٹی انتخاب جیت کر حکومت بنائے گی۔ ہو سکتا ہے ان کا قیاس درست ہو لیکن اگر وہ خود شرافت کا لبادہ اوڑھ کر اپنے وزیروں، مشیروں کو سیاسی مخالفین اور ان کے اہل خاندان کے بارے میں ہر طرح کی غیر مہذب بات کہنے کی اجازت دیں گے تو کوئی غیر جانبدار شخص وزیراعظم کی شرافت کی ضمانت دینے پر آمادہ نہیں ہو گا۔ کوئی بھی شخص اپنے ساتھیوں اور مصاحبوں ہی سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر نواز شریف کے مصاحب پرویز رشید، طلال چوہدری اور عابد شیر علی جیسے لوگ ہیں تو وہ کس منہ سے دوسروں کو صبر کرنے کی تلقین کر سکتے ہیں۔ یا عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی بدکلامی کا گلہ کر سکتے ہیں۔

وزیراعظم کو اپنے صاحبزادوں کی آف شور کمپنیوں کے انکشاف پر الزامات کا سامنا ہے۔ اگر ان سارے الزامات کو غلط بھی مان لیا جائے تو بھی یہ بات تو نواز شریف قوم کے نام خطاب میں مان چکے ہیں کہ ان کے بیٹے اپنی محنت سے دولت کما رہے ہیں اور ترقی پا رہے ہیں۔ دنیا بھر کے سرمایہ داروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے والا وزیراعظم آخر اپنے بیٹوں سے یہ کیوں نہیں کہہ سکتا کہ وہ اپنی دولت پاکستان لے کر آئیں تا کہ ان کے ساتھ اس قوم کا بھی کچھ بھلا ہو۔ یا نواز شریف بھی ہاتھی کی طرح کھانے اور دکھانے کے علیحدہ علیحدہ دانت لے کر چلتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 414 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali