ماں برائے فروخت!


جی ہاں! ماں برائے فروخت۔ یہ کسی اور دنیا کی بات نہیں اسی دنیا کا ذکر ہے جس میں ہم تم رہتے ہیں۔ یہ دنیا جہاں اپنی خوشی کے لیے دوسروں کو دکھ دیا جاتا ہے یا دوسروں کے دکھوں سے اپنی خوشی کشید کی جاتی ہے۔ سروگیسی Surrogacy کا نام آپ نے سنا ہوگا۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں ایک خاتون باہمی رضامندی سے کسی اور جوڑے کے طے شدہ حمل کو اپنا رحم مستعار دیتی ہے۔ وہ خواتین جو کچھ پیچیدگیوں کی وجہ سے اپنے رحم میں اپنے بچے کی نمو یابی سے قاصر ہوتی ہیں انہیں ایک ایسا رحم کرائے پر درکار ہوتا ہے جس میں اُس جوڑے کا ابتدائی نمویافتہ بچہ پرورش پاسکے۔

دنیا میں دوقسم کی سروگیسی وقوع پذیر ہورہی ہیں۔ ایک انسانی بنیادوں پر جس میں کوئی عورت ایسے جوڑے کے لیے اپنا رحم پیش کرتی ہے جن کے ہاں بچے کی پیدائش پیچیدگیوں کے تحت ممکن نہیں ہوتی، اس مد میں دوسری خاتون کسی قسم کا کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتی۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی رشتہ دار اپنے کسی عزیز کوبلا معاوضہ اپنا کوئی عضو عطیہ کرے یا کوئی اجنبی اپنا خون کسی دوسرے اجنبی کو دے۔

دوسری قسم کی سروگیسی جس میں باقاعدہ ایک معاہدہ کے تحت خواتین اپنا رحم فروخت کرتی ہیں جس کے عوض انہیں( ترقی یافتہ ممالک میں بھاری اور غریب ممالک میں معمولی) معاوضہ دیا جاتا ہے جسے کمرشل سروگیسی کہا جاتا ہے۔ دنیا کے وہ ممالک جہاں قانونی اور اخلاقی طور پر سروگیسی پر پابندی ہے وہاں کے لوگ ایسے ممالک میں جاتے ہیں جہاں سروگیسی کی ممانعت نہیں یا کم ازکم رحم کی فروخت مہنگی نہیں۔ ایسے دوروں کے لیے فرٹیلیٹی ٹورازم کی اصطلاح اختراع کی گئی ہے۔

تکنیکی اعتبار سے سروگیسی کی دو اقسام ہیں؛ٹریڈیشنل سروگیسی اور گیسٹیشنل سروگیسی۔ اول الذکر سروگیسی میں سروگیٹ ماں کے رحم میں فطری یا مصنوعی طریقہ سے مادہ منویہ پہنچایا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے پیدا ہونے والا بچہ جینیاتی طور پر سروگیٹ ماں اور باپ کے نزدیک ہوتا ہے۔ اس عمل کا زیادہ تر اطلاق جانوروں کی افزائش نسل کے لیے ہوتا ہے جس میں مصنوعی تخم کاری کی جاتی ہے۔

دوسری قسم کی سروگیسی یعنی گیسٹیشنل سروگیسی کو مکمل یا میزبان سروگیسی کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں ایک مرد اور خاتون کے مادوں سے مصنوعی طریقے سے ایمبریو حاصل کرکے ایک اور رحم میں نشوونما کے لیے رکھ دیا جاتا ہے۔ اس کی مختلف صورتیں ہیں تاہم اس عمل سے خاصل ہونے والے بچے کو حقیقی مرد اور عورت کے جینیاتی نظام کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

سروگیسی کے حوالے سے بھارت اس وقت کی ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ جہاں بہت سے سروگیسی سینٹرز یہ ” خدمات‘‘ سرانجام دیتے ہیں۔ اس ضمن میں جب میں کچھ تحقیق کررہا تھا تو بہت سی اداروں کی ویب سائٹس نظر سے گزریں جہاں متوقع جوڑوں کو لبھانے کے لیے بڑے دل چسپ مگر دکھ دینے والے اشتہارات تھے۔ ایک ایسا ہی اشتہار میری نظر سے گزرا، جو کچھ یوں تھا :” ایک منفرد سروگیسی مرکز: ہمارے ہاں 25 سے 35 برس کی چنیدہ مائیں دستیاب ہیں۔ جن کا کم از کم ایک صحت مند بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کاتصدیق شدہ ریکارڈ موجود ہے۔ ایسی مائیں جو ہر قسم کی بیماری اور انفکشن سے محفوظ ہیں۔ مزید یہ کہ ہمارے ہاں دستیاب مائیں جسمانی طور پر تن درست ہونے کے ساتھ ساتھ نفسیاتی طور پر بھی صحت مند ہیں۔ اس بات کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ سروگیسی کے عمل سے ماؤں کو مکمل طور پر آگاہی دی گئی ہے اور ممکنہ پیچیدگیوں سے بھی وہ آگاہ ہیں لہٰذا کسی بھی قسم کا کوئی عمومی اورقانونی مسئلہ آپ کو درپیش نہیں ہوگا۔ ایسی ماؤں کو ہسپتال سے ملحقہ رہائش گاہوں میں رکھا جاتا ہے جہاں ان کو بہترین خوراک دی جاتی ہے تاکہ دورانِ حمل وہ غذائی قلت کا شکار نہ ہوں۔ یقین رکھیے کہ آپ کا بچہ ایک بہترین صحت افزا اور خوش گوار ماحول میں پرورش پائے گا۔ ان ماؤں کی باقاعدہ دیکھ بھال کی جاتی ہے اور گاہے بگاہے ان خواتین کو اپنے حقیقی شوہروں اور بچوں سے بھی ملوایا جاتا ہے، تاہم انہیں گھر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ بچے کی پیدائش تک انہیں ہسپتال سے ملحقہ رہائش گاہوں میں ہی رہنا ہوتا ہے۔ بہترین نتائج کے لیے تین مختلف سروگیٹ تیار کیے جاتے ہیں۔ ہمارے ”نرخ‘‘ نہایت مناسب ہیں اور کوئی پوشیدہ چارجز بھی نہیں۔ خواہش مند جوڑے ایسی ماؤں سے مل سکتے ہیں ان کے ساتھ کھانا کھا سکتے ہیں اور قریب میں رہائش بھی رکھ سکتے ہیں ‘‘۔ اور اس اشتہار کے نیچے ان سروگیٹ ماؤں کی تصاویر تھیں جن کے چہروں پر بظاہر خوش گوار مسکراہٹ تھی۔

بھارت میں اس معاملے کے حق اور مخالفت میں بہت سی آوازیں اٹھیں۔ بھارت میں ایسی سروگیٹ ماؤں کو 80000 بھارتی روپوں سے 120000 بھارتی روپے دیے جاتے ہیں۔ جب کہ امریکہ میں سروگیسی ڈیڑھ لاکھ امریکی ڈالرز میں ممکن ہوتی ہے۔ اسی لیے اولاد کے خواہش مند جوڑے غریب ممالک خاص کر تھائی لینڈ اور بھارت کا رخ کرتے ہیں۔ بھارت میں حقوقِ نسواں کی تنظیمیں اسے استحصال سمجھتی ہیں اور ایسے مراکز کو بے بی فیکٹریز کا نام دیتی ہیں۔

ایک سروگیٹ ماں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ مجھے سروگیسی کے لیے خواتین کو تیار کرنے (پھانسنے) کے لیے فی خاتون پانچ ہزار ملتے تھے پھر میں نے خود سروگیٹ ماں بننے کے لیے رضامندی ظاہر کی۔ میں نے اپنے بچوں اور گھر والے سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ غربت کی وجہ سے گردہ بیچنے سے کہیں بہتر ہے کہ ” رحم‘‘ کرائے پر دے دیا جائے۔

اس تمام عمل کے دوران جو پہلو سب سے زیادہ نظر انداز ہورہا ہے وہ یہ کہ ایسی ماں اپنے رحم میں پلنے والے بچے کو پیسوں کی نظر سے دیکھتی ہوگی یا ممتا کی نظر سے، اور پیدا ہونے والا بچہ احساسات کے کس زینے پہ کھڑا ہوکر اپنے طبعی ماں باپ اور جنم دینے والی ماں کو دیکھے گا۔ نجانے اس کے وجودی احساس کے کتنے حصے ہزاروں میل کی دوری پر ایک نامعلوم ماں کے جسم میں رہ گئے ہوں گے اورنجانے کرائے پر اپنا رحم بیچنے والی ماں اپنے حصے کی ممتا کتنے بچوں کے سینوں کی دھڑکن میں چھوڑ کر نئی منزلوں کی طرف کوچ کرچکی ہوگی۔ المیہ! ایک انسانی المیہ!

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں