پہلے عقل اور پھر یقین ۔۔۔


lubns mirza 1یہ جون  2014 تھا ۔ ہفتے کے دن جب میری چھٹی تھی تو میں اپنی ساس کو بینک لے کر گئی ۔ وہاں تین خواتین کام کررہی تھیں، ایک اسسٹنٹ مینیجر اور دو ٹیلرز تھیں۔ میں نے اسسٹنٹ مینیجر کو انکل کی بنیک کی اسٹیٹمنٹ اور ان کا پاکستان سے بھیجا ہوا ڈیتھ سرٹیفکٹ دیا اور اس سے کہا کہ یہ ان صاحب کی بیوہ ہیں، آپ اکاؤنٹ بند کر کے ان کو پیسے دے دیں۔ اس نے ضروری فارم بھرے کچھ کاغذوں پر آنٹی کے سائن کروائے اور پیسے نکال کر ایک لفافے میں ہمارے سامنے گن کر سکے تک گن کر اس میں ڈال کر آنٹی کو دے دئیے۔ اس سارے کام میں صرف 30 منٹ لگے۔

اس نے اپنے ریکارڈ کے لئیے ڈیتھ سرٹیفکٹ کی فوٹو کاپی بنائی تو بولی کہ اس کاغذ میں کسی آدمی کی تصویر ہے۔ میں نے روشنی کے سامنے کرکے دیکھا تو جناح کا امیج تھا ۔ میں نے اس سے کہا کہ ہاں یہ ینگ جناح کا امیج ہے وہ فادر آف دی نیشن تھے۔ پھر اس نے تاریخ دوبارہ پوچھی اور میں نے فارم میں دیکھا تو 8-5-14 لکھی ہوئی تھی حالانکہ ہمیں معلوم ہے کہ انکل کا انتقال پہلی مئی کو ہوا۔ اس نے کہا کہ ابھی تو اگست آیا بھی نہیں ہےتو میں نے اس کو بتایا کہ امریکہ میں تاریخ مہینہ ،دن اور سال کی فارمیٹ میں لکھی جاتی ہے اور یہاں سے باہر ملکوں میں دن، مہینہ اور سال کرکے لکھی جاتی ہے۔ یہ مئی کی آٹھ تاریخ ہے ، اگست کی پانچ نہیں۔ پھر میں نے یہ نوٹ کیا کہ اس فارم میں لکھا ہے کہ وجہء موت طبعی تھی حالانکہ ہمیں سب کو معلوم ہے کہ انکل کو ہیپاٹائٹس بی تھا اس سے جگر کا کینسر ہوا جس کی وجہ سے ان کی موت ہوئی۔

اب سوچنے کی بات ہے کہ صرف دو مہینہ پہلے ہوئے واقعے کو غلطیوں کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا ہے وہ بھی بہت ہی اصلی کاغذ پر۔ اور صرف دو مہینے کے عرصے میں ہی دنیا کے ایک کونے میں لکھی گئی دستاویز کو دنیا کے دوسرے سرے میں درست طریقے سے پڑھنا مشکل ہے۔ اب کوئی سوچے گا کہ انکل تو اب انتقال کرچکے ہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ایک کاغذ کے ٹکڑے پر کیا لکھا ہو اور کوئی اس کو کیا سمجھے۔ اس سے ان کو کچھ بھی فرق نہیں پڑتا وہ بالکل درست بات ہے، اب دنیا میں جو بھی ہوتا پھرے وہ اس سے بے نیاز ہوچکے ہیں۔ لیکن اگر کوئی محقق گورنمنٹ کے ریکارڈ جمع کرے اور یہ طے کرنے کی کوشش کرے کہ لاڑکانہ میں رہنےوالے لوگوں کی وجہ اموات کیا ہیں اور ان کو کم کرنے کے لئیے کیا اقدام کئے جائیں تو ان کی تحقیق نہ صرف غلط نتائج اخذ کرے گی بلکہ اس کے نتیجے میں وسائل کو بھی درستگی سے استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔ یعنی کہ ایک عمارت ہو گی جو ٹیڑھی بنیاد پر کھڑی کی جائے گی۔ اور اس سے جو لوگ جاچکے ہیں ان کو کچھ نہیں ہوگا لیکن جو آج موجود ہیں اور کل آئیں گے ان کی زندگی پر بہت اثر پڑے گا ۔ ابھی صرف دو مہینے گذرے ہیں، کل سال گذر جائیں گے، آج ہم زندہ ہیں کل کو ہم نہیں رہیں گے، بس یہ کاغذ رہ جائیں گے اور لوگوں کو غلط انفارمیشن دیتے رہیں گے جب تک کہ وہ اس بات کو سمجھ نہ لیں کہ انسان غلطی کرتے ہیں اور صبح خود دیکھنے کی زحمت کریں کہ سورج کہاں سے نکل رہا ہے۔ پہلے عقل اور پھر یقین !

 


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “پہلے عقل اور پھر یقین ۔۔۔

Comments are closed.