یاسمین حمید : دھیرج اور سہجتا سے گندھی شاعرہ


zahid hassanیاسمین حمید ، منفرد اسلوب کی حامل شاعرہ ہیں۔ ان معانی میں نہیں جن میں ہم اکثر شعرا و شاعرات کے بارے میں کہہ دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کی شاعری کا رنگ رس جداگانہ ہے۔ وہ دنیا بھر میں لکھے جانے والے بڑے ادب خاص طور پر فکشن کے مطالعہ سے خاص شغف رکھتی ہیں۔ یہ مطالعہ ان کی شاعری کے اسلوب اور موضوعات کو نکھارتا اور ایک جداگانہ حیثیت میں ہمارے سامنے لاتا ہے۔ یہی مطالعہ ان کے تراجم میں بھی نکھر کر سامنے آتا ہے۔ ادبی دنیا میں وہ 80 ءکی دہائی کے آخر میں سامنے آئیں۔ ظاہر ہے وہ پہلے سے شعر کہہ رہی تھیں۔ اپنے پہلے ہی شعری مجموعہ ”پس آئینہ“ (1988 ئ) سے انہوں نے اپنے پڑھنے والوں اور ناقدین کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ پچھلے ہی برسوں میں یعنی (2012 ئ) میں سامنے آنے والے ان کے پانچویں شعری مجموعہ ’بے ثمر پیڑوں کی خواہش“ کے ذریعے وہ ایک ایسی شاعرہ کے طور پر ہم سے ہم کلام ہوئی ہیں جس نے اپنا شعری اور تخلیقی سفر بتدریج آگے کی سمت کیا ہے۔ غزل میں بھی اور نظم میں بھی۔ جس سہجتا اور دھیرج کی حامل اس کی شاعری ہے اسی سہجتا اور دھیرج کے ساتھ وہ نقد و نظر کا تقاضا کرتی ہے یہ کہ اس شاعری کو ٹک کر پڑھنے اور اس پر لکھنے کی ضرورت ہے۔ درحقیقت جس کی حق دار یہ شاعری ہے۔ شعر کی پہچان رکھنے والوں کو کسی تہہ خانے سے گہری گونج سمان سنائی دیتی ہے۔ تہہ خانہ جہاں ہم داخل ہوتے بھی ہیں تو کچھ غور و فکر کرنے کے لیے اور کبھی کبھار روحانی سکون کے حصول کی خاطر۔ ان کی شاعری بھی اپنے احساس اور رویے میں کہیں تصوف سے گہرا علاقہ رکھتی ہے۔ یہ رنگ ڈھنگ اس کی ذات کا اس خطے کی زرخیزی سے اپنا خمیر اٹھانے اور صوفیانہ شعری سرمائے سے محبت کے سبب ہے۔ پر ہے ضرور۔ کہ ان کے ایک شعری مجموعے کا عنوان ’حصار بے درودیوار‘ اس امر کی غمازی کرتا ہے۔ یہ عجیب قید ہے یعنی حصار ’بے درودیوار‘ کی قید۔اگرچہ ان کے اپنے کہنے کے مطابق۔
یہ سب راہے دوراہے خود بنا رکھے ہیں ہم نے
کہ ہم خود چاہتے ہیں زندگی دشوار بھی ہو
ان کے اب تک کے شعری سرمائے کی تفصیل یوں ہے۔
’پس آئینہ 1988 ء، حصار بے درودیوار 1991 ء، آدھا دن اور آدھی رات 1996 ئ، فنا بھی yasmeen hameedایک سراب 2001 ء، بے ثمر پیڑوں کی خواہش 2012 ۔
ان کے پہلے چار شعری مجموعوں پر محیط شعری کلیات ”دوسری زندگی“ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔
ان کی شاعری کا مطالعہ کرنے سے کھلتا ہے کہ شاعری میں چھپے بھید بھاﺅ آپ پر دھیرے دھیرے بہتے پانیوں کے سمان کھلتے ہیں۔ پانی جو آپ کے پاﺅں کو چھوتے ہوئے وجود سے روح تک کا سفر طے کرتے ہیں۔ اپنے پائیدار اور ابدی احساس کے نقوش چھوڑتے۔
آئیے! اپنے اسی احساس کو دوام دینے کے لیے ان کی شاعری کے ایک انتخاب کا مطالعہ کرتے ہیں اور پتہ لگاتے ہیں معاصر آشوب کو یاسمین حمید کیسے دیکھتی ہیں۔
نہ سطح آب پر ہے اور نہ تہہ میں اس کے ہیں آثار کوئی
بتا اے بحر غم! کاغذ کی کشتی کو اتارا کس جگہ ہے؟

کہو یہ بارشوں سے اب پلٹ کے دیکھتی تو جائیں
کہ دل بھی صاف ہو گیا ہے راہ بھی چمک گئی

”چراغوں والی!
رات سے ڈر
تو جانتی ہے تیرا کوئی خدا بھی ہے
یہ بانس کا جنگل ہے
اس میں تنکا، تنکے کو سجھائی نہیں دیتا
آنکھیں بنانے والے سے منکر نہ ہو
اندھے کی بددعا نہ لے
چراغوں والی !
شہر سے ڈر
تو جانتی ہے تیرا کوئی والی بھی ہے“

اوروں سے دل کہتا ہے سچی باتیں
خود سے جھوٹے وعدے کرتا رہتا ہے
لوگ سنورتے، سجتے بنتے رہتے ہیں
اور زمانہ ان پہ ہنستا رہتا ہے
میں انسانوں کے انبوہ کا حصہ ہوں
اور انسان تو جیتا مرتا رہتا ہے

موت سے ماورا کوئی باب طلسم اس میں تھا
ورنہ تو اس زمین پر شے کوئی دائمی نہ تھی

ضابطے میں نے سفر کے نہیں توڑے تھے کبھی
یہی اس سے بھی کئی بار کہا تھا میں نے
مجھ کو بھی آنا تھا اک روز اسی کی زد میں
واقعہ اوروں کی نسبت تو سنا تھا میں نے

اک دیوار اٹھائی تھی بڑی عجلت میں
وہی دیوار گرانے میں بہت دیر لگی

زندگی تو مرے دل سے نہ الجھ
مری آواز میں آواز ملا
اور یہی آواز میں آواز ملانے کا جو عزم ہے۔ شاعری میں انہیں ایک نیا راستہ دیتا نظر آتا ہے۔ یہ نیا راستہ ان کی نظم میں بھی موجود ہے۔ جو کچھ یوں ہے:
’مجھے بولنا جب پڑے گا
تو میں اچھے لفظوں میں
گمنام لوگوں کی باتیں کروں گی

مجھے ہارنا جب پڑے گا
تو میں رائیگانی کا نقشہ
بناﺅں گی تلوﺅں پہ
اور جانے دوں گی اسے
جس کو جانے کی جلدی ہوئی‘
یونہی کل شام میں نے یاسمین حمید کی ایک غزل پڑھی تو سوچا، اتنی اچھی شاعرہ کی شاعری کے حوالے سے بات کی جائے اور یہ بھی کہ آپ کو بھی اس لطف سخن کے عمل میں شریک کیا جائے۔ اگرچہ ان گنے چنے اشعار میں شراکت کوئی بڑی شراکت تو نہیں ہوتی لیکن آپ خود سے یاسمین حمید، کے شعری ورثے تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور کسی وقت مجھے بھی اس میں شریک ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں۔ بنیادی مقصد یہ ہے۔


Comments

FB Login Required - comments