تیر مگر کمان سے نکل چکا ہے


Nusrat-Javed(نصرت جاوید)
ایک پاکستانی ہوتے ہوئے میری خواہش ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان مخاصمت اس مقام تک نہ پہنچے جہاں میرا اپنا ملک بھی بظاہر ان دو ممالک میں سے کسی ایک کی حمایت کے بہانے مسلکی جھگڑوں میں اُلجھ جائے۔ اپنی اس خواہش کے باوجودبھی میں پوری دیانت داری کے ساتھ یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ پاکستان کو اعلیٰ ترین ریاستی سطح پر ان دو ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش سے فی الحال بازرہنا چاہیے تھا۔ تیر اب کمان سے مگر نکل چکا ہے۔ بس دُعا ہی کی جاسکتی ہے کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف باہم مل کر دونوں ملکوں کی قیادت کو صلح پر آمادہ کرسکیں۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان مخاصمت کی بنیاد بہت تاریخی ہے۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد سعودی مملکت کے قیام اور بتدریج تیل کی دولت سے مالامال ہوتی اسلامی راستوں میں کوئی ”عالمی کردار“ ادا کرنے کی خواہش نے اس مخاصمت کو مزید گہرا کردیا۔

70ءکی دہائی میں شدید سے شدید تر ہوتی اس مخاصمت کے ابتدائی ایام میں شاہ ایران کا پلہ بھاری نظر آتا تھا۔ امریکہ نے اسے مشرقِ وسطیٰ کا تھانے دار تسلیم کرلیا اور اسرائیل کا وہ تقریباََ دفاعی اثاثہ بھی شمار ہوتا تھا۔ فروری 1979ءکے اسلامی انقلاب نے مگر سب کچھ بدل کررکھ دیا۔ امریکہ ایران کی نظر میں ”شیطانِ بزرگ“ ہوگیا اور خمینی کی ولولہ انگیز قیادت تلے متحرک ہوئے ایران کے انقلابیوں کو دیگر اسلامی ممالک میں آمریت کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ”مستضعفین“ نے اپنے حامیوں کے طورپر دیکھنا شروع کردیا۔ بہت ممکن تھا کہ ایران بھی ایک زمانے کے سوویت یونین کی طرح پوری دُنیا نہ سہی کم از کم اسلامی ممالک میں انقلابی تحریکوں کا حتمی قائد اور سرپرست بن کر ہمارے سامنے آجاتا۔

عراق کے صدام حسین نے مگر یہ سب ہونے نہ دیا۔ بغیر کسی معقول وجہ کے ایران پر حملہ کردیا۔ اپنے اہداف مگر حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ عراق-ایران جنگ آٹھ سالوں تک چلتی رہی۔ اس کی طوالت اور شدت نے تیل کی دولت سے مالا مال ان دو ممالک کے لئے ترقی اور خوش حالی کے تمام تر امکانات کو ملیامیٹ کردیا۔ عرب ممالک کی اکثریت نے ایران کی پھیلائی انقلابی سوچ سے خائف ہوکر صدام حسین کی بھرپورحمایت کی۔ اس حمایت کا بنیادی مقصد مگر صدام کو ایران کے ساتھ جنگ میں الجھاکر خود کواس کی ”انقلابی“ سوچ سے محفوظ رکھنا بھی تھا۔

عرب ممالک کی حمایت کی وجہ سے ایران-عراق جنگ مگر دو ریاستوں کے درمیان نہیں بلکہ عرب اور عجم کے درمیان تاریخی چپقلش ایک اور جنگ کی صورت اختیار کرگئی۔ اس جنگ میں نسلی سے کہیں زیادہ اہمیت مسلکی تفریق ہی رہی ہے اور اس فرق کے اثرات پاکستان جیسے مسلم ممالک میں بھی بہت شدت کے ساتھ نمایاں ہوکر ہمارے سامنے آئے۔

”افغان جہاد“ اور کئی ٹھوس وجوہات کی بنا پر پاکستان میں ہوئی فرقہ وارانہ تقسیم ایران کے لئے زیادہ نقصان دہ رہی۔ پاکستان کا ہمسایہ ہوتے ہوئے بھی ایران نے جواباََ خود کو Strategicحوالوں سے ہماری ریاست کے طے شدہ اہداف اور ترجیحات کے مخالفین کی صفوں میں کھڑا کرلیا۔ مجھے خدشہ ہے کہ اس مخصوص تناظر میں ایرانی سوچ اب بھی فیصلہ کن حد تک تبدیل نہیں ہوئی ہے۔ تہران، ریاض کے ساتھ اپنے جھگڑوں کو طے کرنے کے لئے ہماری کوششوں کو بلکہ شک کی نگاہ سے دیکھے گا۔ ہمارا نیک نیتی پر مبنی مصالحانہ کردار مزید بدگمانیاں پیدا کرنے کا باعث بھی ہوسکتا ہے۔نواز شریف اور راحیل شریف کے پاس حقائق جاننے کے وسائل لیکن مجھ سے کہیںزیادہ موجود ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نون کے پاس دفاعی اور خارجہ امور پر غوروخوض کے لئے کوئی مو¿ثر تھنک ٹینک ہرگز موجود نہیں۔ لے دے کر قومی اسمبلی اور سینٹ کی اسٹیڈنگ کمیٹیاں ہیں جہاں موجود چند ہی افراد پر مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں کتابیں پڑھنے اور وہاں کے معاملات پر ٹھنڈے اور دوربین انداز میں غوروفکر کرنے کا الزام لگایا جاسکتا ہے۔

جنرل راحیل شریف کے پاس البتہ ایسے معاملات پر باقاعدہ سوچ بچار کے لئے مختلف ادارے موجود ہیں۔ ہوسکتا ہے ان اداروں نے کوئی ایسا Leverageڈھونڈ نکالا ہو جس کے ذریعے پاکستان سعودی عرب اور ایران کو اپنے رویے تبدیل کرنے پر آمادہ کرسکتا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سعودی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع نے پاکستان کے حالیہ دوروں کے دوران ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کو ایران کے ساتھ ”ثالثی“ کا کردار ادا کرنے کی موثر انداز میں استدعا بھی کی ہو۔ سعودی عرب میں ریاستی فیصلہ سازی کے نظام کا مجھے خاص علم نہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ کی وساطت سے ملی اطلاعات اگرچہ اس ملک میں معاشی اور سیاسی بحران کی نشاندہی ضرور کرتی ہیں۔ ان سب کے تناظر میں وہاں مسلکی اختلافات بھی شدید تر ہوتے نظر
آرہے ہیں۔
ایران کے معاملات کو عالمی ذرائع ابلاغ کی بدولت ملی اطلاعات کی وجہ سے زیادہ بہترانداز میں سمجھا جاسکتا ہے۔ ”شیطانِ بزرگ“ کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام کے بارے میں اب ایک معاہدہ کرلیا ہے۔ اس معاہدے پر عمل درآمد ہوجانے کے فوری بعد امریکی صدر نے اتوار کی صبح اپنے لوگوں کو امریکی سفارت کاری کی ”فتح“ پر مبارک باد دی۔ ایران کے عوام اور اس کے نوجوانوں کو خاص طورپر مخاطب کرتے ہوئے بہتر مستقبل کی نوید سنائی۔ اپنے پیغام کو مزید مو¿ثر بنانے کے لئے اس نے یہ اعلان بھی کیا کہ امریکہ ایران کو فوری طورپر ایک ارب 70کروڑ ڈالر ادا کررہا ہے۔

اس رقم کے حصول کے لئے ایران گزشتہ 35سالوں سے بین الاقوامی عدالت میں ایک مقدمہ دائر کئے ہوئے تھا۔ شاہ ایران کے زمانے میں جنگی ہتھیاروں کے حصول کے لئے 400ملین ڈالر کی پیشگی رقم ادا کی گئی تھی۔ 1981ءکے بعد امریکہ نے وہ اسلحہ فراہم کرنے سے مگر انکار کردیا۔ ”اسلامی ایران“ نے سودسمیت اصل زر کی واپسی کا دعویٰ کردیا اور اب یہ رقم حاصل کرلی۔ ایک ارب 70کروڑ ڈالر کی اس رقم سے کہیں زیادہ اہم 50سے 100ارب ڈالر تک پھیلی وہ ایرانی رقوم ہیں جو مختلف غیر ملکی بینکوںنے کئی برسوں سے Freezeکررکھی ہیں۔ ایران کو اپنی انتہائی تعلیم یافتہ آبادی، جس کا 70فیصد حصہ 30سال تک کے نوجوانوں پر مشتمل ہے، کو مطمئن رکھنے کے لئے ان رقوم کی اشد ضرورت ہے۔ بے پناہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے حصول کے بغیر وہ تیل اور گیس پر مشتمل اپنے بے پناہ ذخائر کو عالمی منڈی تک نہیں پہنچا سکتا۔ ایٹمی معاہدہ ہوجانے کے بعد تہران میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے نمائندگان اب ہجوم کی صورت آیا کریں گے۔ اقتصادی ترقی اور خوش حالی کے ایک بہت ہی متحرک عمل کا ایران میں گویا آغاز ہونے ہی والا ہے۔

دُنیا کی دیگر ریاستوں کی طرح ایران کی لیکن ایک Deep Stateبھی ہے۔ ایک منتخب صدر اورپارلیمان سے بالا یہ Deep Stateایران کے مذہبی بنیادوں پر طے شدہ ”رہبر“ سے رہ نمائی حاصل کرتی ہے اور اس کے خیالات کافی انتہاءپسندانہ ہیں۔ امریکہ کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے بارے میں یہ Stateکوئی زیادہ خوش نہیں۔ ایرانی صدر فی الوقت انہیں مزید بھڑکانا نہیں چاہیں گے۔ اگلے مہینے ایران کی قومی اسمبلی کے لئے انتخابات ہونا ہیں۔ وہ نہیں چاہیں گے کہ ایرانی اعتدال پسندوں کو ”غداری“ کے طعنے دیتے ہوئے انتہاءپسند ایران کی مجلسِ قانون سازی میں اکثریت حاصل کرکے ان کے لئے مشکلات کھڑی کرنا شروع کردیں۔ جبلی طورپر ان کی ترجیح یہی ہوگی کہ ایرانی Deep Stateوالے بحرین، شام، لبنان اور یمن میں اپنی ترجیحات کے حصول میں مصروف رہیں۔

سعودی عرب کے ساتھ گہری ہوتی مخاصمت کو بھی شاید وہ اسی وجہ سے فی الوقت کچھ کم ہوتا نہیں دیکھنا چاہیں گے۔ ایران کے موجودہ سیاسی حالات میں لہذا پاکستان جیسے ”ثالث“ کے پاس کوئی کردار ادا کرنے کے لئے مناسب فضا موجود نہیں۔ اگرچہ میری شدید خواہش ہے کہ میرے یہ اندازے قطعاََ غلط ثابت ہوں۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “تیر مگر کمان سے نکل چکا ہے

  • 19-01-2016 at 9:06 pm
    Permalink

    درست فرمایا
    ایران مگر ہماری ثالثی سے قدرے خوش نہ ہو.
    بالکل حقیقت ہے.

  • 20-01-2016 at 1:36 am
    Permalink

    لیکن ایک خبر یہ بھی گردش کر رہی ہے دونوں ملکوں کی طرف سے استدعا کی گئ ہے

Comments are closed.