ایک سیاستدان کی کہانی (ماخوذ)


husnain jamal (3)بہت ہی چھوٹی عمر سے اسے سیاست دان بننے اور اپنا نام ہر جگہ چھپے دیکھنے کا شوق تھا۔ جب دوسرے بچے سکول سے آ کر کھیل کود میں لگ جاتے، اس وقت وہ بہت سے بڑے بڑے کاغذ نکالتا، موٹا لکھنے والے دو تین رنگ کے مارکر اس کے ہاتھ میں ہوتے اور وہ ان کاغذوں پر اپنا نام بڑا بڑا کر کے لکھتا جاتا تھا۔ کامل بشر۔ کامل بشر۔ کامل بشر۔ وہ ان کاغذوں کو دیوار پر چپکا دیتا اور انہیں دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا۔ اسے اپنے کانوں میں نعرے گونجتے سنائی دے رہے ہوتے، کامل بشر، آوے ہی آوے، کامل ساڈا، شیر اے، پوری قوم کا ایک ہی دل، کامل کامل کامل کامل، اور وہ ان کی دھن میں ایسا کھو جاتا کہ کھانا تک بھول جاتا۔

وہ تھوڑا بڑا ہوا تو آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر تقریر کرنے کی مشق کیا کرتا۔ اسے اس کام میں بہت مزا آتا تھا، دن میں کئی بار وہ خود کو مخاطب کر کے تقریر کرتا۔ آخر اسے اب لطف کا احساس کم ہونا شروع ہو گیا۔ اسے اپنا نام لوگوں تک پہنچانا تھا، تاکہ وہ مستقبل کے لیڈر کو جان سکیں، کیوں کہ ابھی تک وہ صرف آئینوں کا لیڈر تھا۔ اس نے اپنی وہی تقریریں لکھ لکھ کر اخبار والوں کو بھیجنا شروع کر دیں لیکن کوئی اخبار والا اسے نہیں چھاپتا تھا۔ ہر تقریر کے نیچے بڑے بڑے الفاظ میں لکھا ہوتا، کامل بشر، مستقبل کا سب سے بڑا وزیر۔ اخبار والے اسے سنکی سمجھتے اور اس کی ہر تقریر ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیتے۔

اس نے فیصلہ کر لیا کہ جب وہ بڑا ہو گا تو وہ اپنا اخبار نکالے گا۔ اس اخبار میں اس کا نام بڑا بڑا لکھا ہوا شائع ہو گا۔ پھر وہ بڑا ہو بھی گیا۔ گھر والے اس پر زور دیتے کہ تم کب تک سیاست دان بننے کی دھن میں لگے رہو گے، کوئی کام وام کرو، وہ ہمیشہ ان کو انکار کر دیتا۔ اس دوران اس کا تعارف فیس بک سے ہوا تو اخبار کی سنک چھوڑ کر اس نے اپنے نام سے پانچ فین پیج بنا لیے۔ وہ ان پر اپنی تقریریں ریکارڈ کر کے ڈالتا جاتا، اس کا خیال تھا کہ اس کی باتیں سن کر لوگ اس کے دیوانے ہو جائیں گے لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ کوئی ہلچل نہ مچی وہ کچھ بھی نہ بدل سکا۔ اس کو چاہنے والے بہت کم تعداد میں تھے۔

آخر وقت گزرتا گیا اور اس نے گھر والوں کے اصرار پر شادی بھی کر لی۔ اس دوران سوشل میڈیا پر وہ کچھ مشہور ہو گیا۔ لیکن کچھ خاص ایسا بدلاؤ نہ ہوا تھا کہ جس سے اس کا مقصد پورا ہوتا اور وہ مشہور ہو جاتا، اس کا نام ہر جگہ لکھا نظر آتا۔

ایک دن، ایک چیز آخر بدل گئی۔ اس کی بیٹی نے ابھی حروف پڑھنا شروع ہی کیے تھے، ایک دن وہ کمپیوٹر پر بیٹھی ہاتھ مار رہی تھی کہ کسی طرح اپنے باپ کے میڈیا پیج پر چلی گئی۔ اونچی اونچی آواز میں اس نے ایک ایک حرف جوڑ کر پڑھنا شروع کیا۔ ک،ا،م،ل، کامل، ب،ش،ر، بشر، کامل بشر۔ وہ حیرت اور خوشی کے جذبے سے باپ کو آواز دے کر بولی، پپا آپ کا نام کمپیوٹر پر بھی موجود ہے، کیا اسے اور لوگ بھی دیکھتے ہوں گے، اس نے فخریہ انداز میں گردن ہلائی اور اسے باقی چار فین پیج نکال کر دکھائے۔ بچی یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئی مگر وہ مطمئن نہیں تھی۔ اس نے پوچھا کہ یہ صرف پانچ فین پیج کیوں ہیں، آپ کے تو ہزاروں لاکھوں فینز ہونے چاہئیں، وہ یہاں کیوں نہیں ہیں، کیا وہ آپ کا نام نہیں جانتے؟

کامل کی آنکھوں میں ایک روشنی سی جاگ گئی۔ بیٹی کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا، بیٹا، تم جیسے جیسے بڑی ہو گی، میرا نام اور بھی مشہور ہوتے دیکھو گی۔ ہر اخبار میں میری خبریں ہوں گی، فیس بک پر میرے ہزار ہا فین پیج ہوں گے، بس وقت گزرنے دو۔ بیٹی کمپیوٹر (لیپ ٹاپ) ہاتھ میں اٹھائے باہر بھاگ گئی کہ ماں کو اور دوسرے لوگوں کو بھی اپنی خوشی کی وجہ بتائے۔

اگلے ہفتے آخر کار وہ اپنی پارٹی کی بنیاد رکھ چکا تھا۔ اس کی پارٹی کا نام پاکیزہ پارٹی تھا۔ پندرہ روز بعد انتخابات تھے اور اس کی پارٹی کے چند لوگ اس کے ساتھ کھڑے تھے۔ انتخابات بلدیاتی سطح کے تھے، اخباروں میں اس کی تقریریں کبھی کبھار چھپنا شروع ہو چکی تھیں، کمپیوٹر پر اس کے چاہنے والے دن دوگنی رات چوگنی رفتار سے بڑھ رہے تھے۔ وہ چشم تصور سے ہر گلی محلے میں اپنے پوسٹر لگے دیکھتا تھا، جیت کے جلوس میں بجنے والے ڈھول کی خیالی تھاپ پر رقص کرتا اور اکیلے میں بھی مسکراتا رہتا۔ وہ دیکھتا کہ انتخاب جیتنے کے بعد اس کے ڈرائنگ روم میں کیسے لوگ مبارک باد دینے آتے، اور اس کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالتے اور وہ ان کے بوجھ تلے دب سا جاتا۔

آج سنیچر تھا، انتخابی نتائج آنے تھے۔ وہ صبح سے اپنے کمرے میں ٹی وی اور کمپیوٹر کے آگے بیٹھا اپنے انتخابی حلقوں کے نتائج کا انتظار کر رہا تھا۔ لیکن آج اس کی بیٹی کی بھی چھٹی تھی۔ معصوم بچی کو کہیں سے کوئلے کا ایک ٹکڑا مل گیا تھا اور وہ سامنے آنے والی ہر دیوار پر موٹے موٹے حروف میں اپنا نام لکھے جا رہی تھی۔ اتفاق یہ تھا کہ وہ ڈرائنگ روم میں تھی اور چاروں دیواریں جہاں تک اس کا ہاتھ جاتا تھا، سیاہ کر چکی تھی۔ خوشی کامل، خوشی کامل، خوشی کامل، ہر دیوار پر اس کا نام لکھا تھا، ٹیڑھے میڑھے حروف میں، آڑھی ترچھی لکیروں میں، ہر جگہ خوشی کامل لکھا نظر آ رہا تھا۔

کامل بشر اضطرار کم کرنے کے لیے ٹی وی کے آگے سے ہٹا اور باہر جانے لگا کہ اس کی نظر بیٹی پر پڑی جو ڈرائنگ روم میں تھی۔ خوشی، میری شہزادی کیا کر رہی ہے، اور اس کے ساتھ ہی وہ ڈرائنگ روم میں تھا۔ اس کی نظریں چاروں طرف گھومیں اور وہ پوری قوت سے دھاڑا، خوشی، تمہیں عقل نہیں ہے، بے وقوف، ستیاناس کر دیا سب، مہمان کہاں بیٹھیں گے، احمق! یہ لڑکی کبھی کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کرے گی، نہ پڑھنا، نہ لکھنا، ہر وقت ہڑونگا پن! ۔۔۔ چاچا، چاچا، اس نے ملازم کو آواز لگائی۔ ملازم کے آنے تک وہ خوشی کے ہاتھ سے کوئلہ چھین کر پھینک چکا تھا۔ چاچا، یہ ڈرائنگ روم کی دیواریں شام تک صاف ہونی چاہئیں۔ خوشی برے طریقے سے رو رہی تھی، ایسا لگتا تھا کہ وہ اگلے دس سال بھی ایسے ہی گلا پھاڑ کر روتی رہے گی۔

چاچا نے جلدی جلدی دیواریں صاف کیں۔ چونے والوں کو فون کر کے شام تک وائٹ واش کا بندوبست کیا۔ خوشی کا رونا کم نہیں ہوا تھا۔ چاچا نے خوشی کو پچکارا، پیاری بیٹی کیا ہوا۔

خوشی روتے ہوئے بولی۔ “میرا نام”

اتنی دیر میں خوشی کی ماں بھی یہ تمام چیخ پکار سن کر کمرے میں آچکی تھیں، انہوں نے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے پیار سے پوچھا، بیٹی، خوشی، کیا ہوا ماما کی جان؟

خوشی کی آواز گلے میں پھنس کر آئی، ماما، “میرا نام”

چاچا نے اسے نئی ٹرائی سائیکل پکڑائی، آو خوشی باغ کی سیر کو جائیں۔

خوشی نے سائیکل پرے پھینک دی اور چیختے ہوئے بولی، “میرا نام”

ماما نے خوشی کا پسندیدہ بھالو آگے کیا، خوشی، دیکھو بھالو بابا بھی رو پڑے گا،

خوشی نے بھالو زمین پر پھینک دیا اور ہچکیاں لے کر رونے لگی، ہر ہچکی کے ساتھ کہتی تھی، “میرا نام”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات ہو گئی۔ کامل بشر کے حلقے سے لوگ آنے شروع ہو گئے تھے۔ سب کے چہرے اترے ہوئے تھے۔ وہ ہر ایک سے امید بھرے لہجے میں پوچھتا، کیا ہوا، سب یہی کہتے، ہم ہار رہے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کیا مسئلہ ہے، ہم ہر جگہ سے ہار رہے ہیں۔ آخر دس بجے کے قریب آخری نتائج آ گئے، اس کی پارٹی وائٹ واش ہو چکی تھی۔

وہ اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا، مخاطب سبھی تھے۔ میں اپنا نام ملک کے ہر کونے میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں مستقبل کا سب سے بڑا وزیر بن کے رہوں گا، چاہے اس کے لیے مجھے اپنی پوری پارٹی بدلنی پڑے، میں تم سب لوگوں کو چھوڑ دوں گا، میں اپنا تمام سرمایہ لگا دوں گا، چاہے میرے جسم پر ایک کپڑا بھی نا رہے، چاہے میں چیتھڑوں میں ملبوس سڑک پر آ جاؤں، میں اس ہار کو کبھی نہیں مانوں گا، میں جیت کر دکھاؤں گا۔ ایک دن میرا نام اس ملک کے ہر اخبار، ہر ٹی وی چینل اور ہر چوک پر مبارک باد اور سب سے بڑے عہدے کے ساتھ لکھا ہو گا۔ اس کی آنکھوں سے شرارے ابل رہے تھے۔

اس کے دوستوں نے اسے حوصلہ دینے کے لیے فلم دکھانے لے جانا چاہا، اس نے انکار کر دیا، میرا موڈ نہیں ہے!

اس کی بیوی نے منت کی، کھانا کھا لیجیے، اس نے انکار کر دیا، مجھے بالکل بھوک نہیں ہے، بہت تھکا ہوا ہوں۔

اس کی بیٹی اس کے پاس آئی، ڈبڈبائی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہنا لگی، پپا، پپا، میرا نام مجھے چاہئیے، میرا نام۔

اس نے غصے سے اس کی طرف دیکھا اور ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا۔

(ماخوذ)


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 148 posts and counting.See all posts by husnain