نام نہاد آزادی صحافت اور چند تلخ حقائق


razi uddin raziفضول سی بحث ہے آزادی صحافت کی۔ اس معاشرے میں جو کچھ ممکن ہی نہیں ہم اس کے خواب دیکھتے ہیں اور اس لئے دیکھتے ہیں کہ ابھی تک ہمارے خواب دیکھنے پر پابندی نہیں۔ لیکن یہ بھی تو بے معنی سی بات ہے۔ حقیقت بہت تلخ ہے ہم وہ بد قسمت ہیں کہ جن سے ان کے خواب بھی چھینے جا چکے ہیں۔ خواب نیند سے مشروط ہوتے ہیں خواب آور گولیوں سے نہیں۔ گالی اور گولی کے کھیل نے ہمیں خواب آور گولیوں کا اسیر کر دیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ ہم اپنے خوابوں سے محروم ہو گئے۔ اور ان خوابوں میں آزادی صحافت کا خواب بھی شامل ہے۔

آج کے دن ہمیں اور آپ کو بہت بلند بانگ دعوے سننے کو ملیں گے۔ بتایا جائے گا کہ جنرل ضیاءکے دور میں بہت پابندیاں تھیں لیکن ہم نے مسلسل جد وجہد کے ذریعے صحافت (جس کا نیا نام میڈیا ہے) کو آزاد کرا لیا۔ ایسی گفتگو کرنے والے اگرچہ خود بھی اپنی حیثیت سے آگاہ ہوتے ہیں لیکن جانے کیوں پھر بھی اس قسم کی بے سروپا گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ہمیں یہ زعم ہے کہ ہم نے جانوں کے نذرانے پیش کر کے آمریت سے نجات حاصل کی۔ قربانیوں سے ہمیں انکار نہیں۔ بلا شبہ جمہوریت پسندوں نے بہت سی قربانیاں دیں لیکن اس کے نتیجے میں آمریت کا خاتمہ ہو گیا یہ بے معنی اور فضول سا دعویٰ ہے۔ آزادیاں دینے والوں نے ہمیں اپنی حکمت عملی کے تحت آزادیاں دیں کسی قربانی کے نتیجے میں جمہوریت کا تاج سروں پر نہیں سجایا گیا۔ تین عشروں سے زیادہ کی صحافتی مشقت کے بعد کم از کم ہمیں تو ایسی کوئی خوش فہمی نہیں کہ صحافت ہمارے سینئرز کی قربانیوں کے نتیجے میں آزاد ہوگئی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران وہ ہیروز بھی نظروں سے گر گئے جنہیں ہم قید و بندکی صعوبتوں یا کوڑوں کی وجہ سے باعثِ تکریم سمجھتے تھے۔ گزشتہ برس ایسی ہی بعض محترم ہستیوں نے جب بول کا ڈھول گلے میں ڈال کر آزادی صحافت کا علم بلند کیا توگویا سب کچھ ریت کے گھروندے کی طرح مسمار ہو گیا۔ نتیجہ یہی نکلا کہ جب آپ کوڑے کھا رہے تھے اس وقت کچھ اور لوگ اُن کے لئے قابل قبول تھے جن کے لئے اب آپ قابلِ قبول ہو گئے ہیں۔ صحافت کی آزادی اس وقت بھی آپ کی منزل نہیں تھی اور آج بھی یہ محض ایک نعرہ ہے۔ کارکن صحافی بخوبی جانتے ہیں کہ ان کی آزادی ان کے مالکان کی پالیسیوں کے تابع ہوتی ہے۔ انہیں جابر حکمران نہیں جابر مالک سے پوچھ کر کلمہ حق ادا کرنا ہوتا ہے۔

حالات تو اب اس قدر ابتر ہو گئے کہ آزادی صحافت اشتہارات سے مشروط ہو گئی ہے۔ حکومت یا حساس ادارے تو دور کی بات اخبارات اور چینلز تو اب کسی مقامی اشتہاری پارٹی کے بارے میں بھی حقائق منظر عام پر نہیں لا سکتے۔ اپنے ہی شہر کی صرف ایک مثال پر اکتفا کروں گا تاکہ آپ کو معلوم ہو سکے کہ صحافت کس قد ر آزاد ہے۔ ملتان میں نشاط سکول اور کالج کے نام سے ایک ادارہ کئی برسوں سے کام کر رہا ہے اور اب شہر میں اس کی کئی شاخیں موجود ہیں۔ اسی سکول کے مالک کا بیٹا چند ماہ قبل سنگین اخلاقی جرم کی پاداش میں گرفتار ہوا تھا اور کسی اخبار کو اس کی خبر شائع کرنے کی جرات نہ ہوئی تھی۔ اب اسی سکول کو ای ڈی او تعلیم نے غیر قانونی فیسیں وصول کرنے کے الزام میں 25 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے اور اپریل 2014ء سے اب تک وصول کی گئی غیر قانونی اضافی فیسیں واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔ افسوس کہ اب تک یہ خبر بھی کسی اخبار میں شائع نہیں ہو سکی۔ اس کے باوجود ہم آزادی صحافت کا دن توبھر پور طریقے سے منائیں گے کہ یہ آزادی ہم نے بہت قربانیاں دے کر جو حاصل کی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “نام نہاد آزادی صحافت اور چند تلخ حقائق

  • 03-05-2016 at 12:45 pm
    Permalink

    رضی بھائی! اب آپ ہمیں آئینہ دکھانے پر تل ہی گئے ہیں تو لگے ہاتھوں یہ بھی بتا دیں کہ ہم نے کتنی قربانیوں کے بعد یہ ملک حاصل کیا ہے اور اس وقت ہم کتنے آزاد ہیں؟
    ویسے یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ کے حقیقت بتانیں کا کچھ فائدہ نہیں کیوں کہ ہم اسے ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔

  • 03-05-2016 at 1:59 pm
    Permalink

    مبشر صاحب ۔۔ آزادی کے حصول کے لئے دی گئی قربانیوں سے بھی کسی کو انکار نہیں ہم غلام کس قدر آزاد ہیں‌یہ بھی ہم اور آپ بخوبی جانتے ہیں ۔ اصل دکھ یہ ہے کہ جنہوں نے ہمیں غلام بنایا ہم انہیں ہی نجات دہندہ قرار دیتے ہیں

  • 04-05-2016 at 3:29 pm
    Permalink

    ایک تو مجھے اس سچ نے ہمیشہ ڈرائے رکھا جسے رضی نے گالی اور گولی کا کھیل کہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔اور اس طرح کی تیکھی بات جس کرب سے کہی جاتی ہے اس کا مقصد بے حس اربابِ اختیار کو غیرت دلانا ہے کہ اس عارضی زندگی کو مختلف جواز دے کر انسانوں پر تنگ نہ کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کالم میں بھی رضی کا اظہار یہی ہے کہ سچ ایسا پرزہ نہیں جسے ہر جگہ فٹ کر دیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں جھوٹ پر شرمندہ اور سچ پر فخر کرنا سکھانے کی کوشش کی ہے اور جس دن ہم نے یہ سیکھ لیا ہم انسان کہلانے کے حق دار ہو گے۔ جیو رضی

Comments are closed.