یوسفی کے پرستاروں کے نام۔۔۔۔


ہمارے شہرِ ٹورانٹو میں بہت سے ادیب‘ شاعر اور دانشور ایسے ہیں جو ایک دوسرے سے شدید نظریاتی اختلافات کے باوجود ایک قدرِ مشترک رکھتے ہیں۔ وہ سب مشتاق احمد یوسفی کے پرستار ہیں۔ وہ سب یوسفی کو اردو ادب کا آخری اوتار اور ان کی تخلیقات کو الہامی کتابوں کو درجہ دیتے ہیں۔ وہ احترامِ یوسفی میں اتنی شدت رکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی اور مزاح نگار کی تعریف کرنے لگے‘ چاہے وہ ابنِ انشا ہوں یا کنہیا لال کپور‘ عظیم بیگ چغتائی ہوں یا شوکت تھانوی‘ پطرس بخاری ہوں یا رشید احمد صدیقی‘ تو وہ سب اس شخص پر ایسے حملہ آور ہوتے ہیں جیسے اس شخص سے کوئی ادبی گناہِ کبیرہ سرزد ہو گیا ہو۔ پچھلے دنوں میں اپنی لائبریری میں چند کھوئی ہوئی تخلیقات تلاش کر رہا تھا کہ مجھے وہ چند صفحات مل گئے جو میں نے چند سال کیا، چند دہائیاں پیشتر یوسفی صاحب کے ساتھ چند نجی ملاقاتوں کے بارے میں لکھے تھے۔ وہ صفحات یوسفی صاحب کے پرستاروں کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں،

***  ***

میں نے جب یوسفی صاحب سے کہا ’میری آپ سے پہلی ملاقات لندن کے ایک ہسپتال میں ہوئی تھی جب افتخار عارف مجھے اور اشفاق حسین کو آپ سے ملوانے لے گئے تھے‘ تو وہ مسکرائے اور کہنے لگے ’بد سے آپ کی ملاقات بدتر حالت میں ہوئی‘ اور میں مسکرا دیا۔

ایک شام زاہد لودھی کے ہان اشفاق‘ ظفر‘ غزالہ اور چند اور یوسفی صاحب کے چاہنے والے جمع ہوئے۔ تھوڑی دیر کے بعد یوسفی صاحب اور ان کی بیگم صاحبہ تشریف لائے اور لان میں بچھائی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ گفتگو کا آغاز اشفاق نے کیا

اشفاق: ’ یوسفی صاحب ! کیا آپ نے سنا ہے کہ فراز پر کفر کا فتویٰ لگ گیا ہے اور اسے پاکستان کے مولویوں نے قابلِ گردن زدنی قرار دیا ہے‘

یوسفی صاحب : بھئی فراز نے آخر ایسی کیا بات کہہ دی؟

اشفاق: فراز نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ مردوں اور عورتوں کو آزادانہ تعلقات قائم کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ نمازیں  بھی دن میں دو ہونی چائییں۔ صبح اور شام۔ اور روزوں کا وقت بھی بدلنا چاہیے۔ نو بجے سحری چھ بجے افطاری۔ یہی مہذب لوگوں کا شیوہ ہے۔

یوسفی صاحب: جب فراز ٹورانٹو آئیں تو ان سے پوچھیں کہ ان کا حج کے بارے میں خیال ہے؟

ایک دوست: فراز کا فتوے کے بارے میں کیا ردِ عمل تھا؟

دوسرا دوست: فراز نے کہا کہ انہوں نے یہ باتیں کی ہی نہیں

پہلا دوست: پھر تو وہ بزدل نکلے۔اپنے بیان پر ثابت قدم نہیں رہے

خالد سہیل: فراز کے انکار کرنے پر مجھے وہ واقعہ یاد آیا جو سویڈن کی ایک کانفرنس میں مجھے عابد حسن منٹو نے سنایا۔ کہنے لگے جب فراز نے اپنی مشہور نظم ’پیشہ ور قاتلو‘ لکھی اور انہیں مقدمہ چلائے بغیر جیل میں ڈال دیا گیا تو منٹو صاحب نے ایک وکیل کی حیثیت سے فراز کا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے جج کو قائل کر لیا کہ فراز کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے جذبات‘ خیالات اور نظریات کا آزادانہ اظہار کرے۔ جج فراز کو رہا کرنے کے لیے تیار بھی ہو گیا لیکن منٹو صاحب کو دکھ اور جج کا حیرانی اس بات پر ہوئی کہ فراز نے عدالت میں کھڑے ہو کر کہا میں نے وہ نظم لکھی ہی نہیں۔

گفتگو کا رخ لندن اور لندن کے ادیبوں کی طرف مڑ گیا اور ساقی فاروقی کی باتیں ہونے لگیں۔

ایک دوست: آپ نے تو ساقی کے دیوان کا دیباچہ لکھا ہے

یوسفی صاحب: میں نے دراصل افتخار عارف کے بارے میں ایک تفصیلی مضمون لکھا تھا۔اس میں دو صفحات ساقی کے بارے میں بھی تھے۔ ساقی نے وہ دو صفحے نکال کر اپنی کتاب کے شروع میں لگا دیے اور ان کے اوپر لکھ دیا ’یہ دیباچہ نہیں ہے‘،

دوسرے دوست: ساقی تو اب اپنے خطوط اور مضامین کی وجہ سے بہت بدنام ہو گئے ہیں خاص طور پر وہ مضمون جو انہوں نے وزیر آغا کے بارے میں لکھا ہے۔ اس کا نام ’دولے شاہ کا چوہا‘ رکھا ہے

یوسفی صاحب : وہ مضامین کی وجہ سے ہی نہیں نظموں کی وجہ سے بھی بدنام ہیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے پاکستان کے کسی رسالے کے مدیر کو اپنی تازہ نظم۔۔۔حاجی بابا پانی والا۔۔۔ بھیجی جو hydrocoele  کے بارے میں ہے۔ مدیر نے از راہِ شرافت نظم نہیں چھاپی لیکن از راہِ خباثت اس کی فوٹو کاپی کر کے شہر کے ادیبوں میں بانٹ دی۔ اس پر وہ ہنگامہ ہوا کہ ساقی کا شہر میں داخلہ بند کر دیا گیا۔

تیسرے دوست: یوسفی صاحب ! ساقی سب سے لڑتے جھگڑتے ہیں لیکن آپ کی بہت عزت کرتے ہیں۔اس کی کیا وجہ ہے؟

یوسفی صاحب : کیونکہ ہم ان سے اختلاف نہیں کرتے۔

چوتھے دوست: ویسے پاکستان کی ادبی فضا بہت مذہبی ہوتی جا رہی ہے۔ رسالوں کے مدیر بھی مذہبی شدت پسندوں اور دہشت گردوں سے ڈرنے لگے ہیں۔

یوسفی ساحب: اشفاق صاحب ! کینیڈا کا کیا حال ہے؟

اشفاق: یہاں بھی مذہبی لوگوں اور ادیبوں کی کمی نہیں۔ مجھے ایک دلچسپ واقعہ یاد آ رہا ہے۔ چند سال پیشتر جمیل الدین عالی‘ علی سردار جعفری‘ پروین شاکر‘ امجد اسلام امجد‘ خالد سہیل اور میں کینیڈا کے مختلف شہروں میں مشاعرے پڑھنے گئے۔ ونی پیگ میں ہم مختلف گھروں میں رکے۔ پروین شاکر جس گھر میں رکیں وہاں سے ان کا صبح ہی صبح فون آیا کہ مجھے یہاں سے لے جائو۔ یہ بہت ہی مذہبی گھرانہ ہے۔

بعد میں انہوں نے بتایا ’میں ںے بچی سے پوچھا کہ آپ کے گھر میں کتنے لوگ رہتے ہیں؟ کہنے لگی ’پانچ‘ میں نے کہا ’مجھے تو چار ہی نظر آ رہے ہیں‘۔کہنے لگی ’پانچوں خدا ہے‘ پروین شاکر نے کہا ’ میں خدا کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی‘

خالد سہیل: ونی پیگ والوں نے تو میری اس شہر میں دوبارہ آنے پر بھی پابندی لگا دی تھی۔

یوسفی صاحب: وہ کیوں؟

خالد سہیل: جب انہوں نے مشاعرے میں میرا یہ قطعہ سنا

 سرسری بات کرنے آئی تھی ۔۔۔۔   اک قیامت عجیب ڈھا کے گئے

شام کی چائے پینے آئی تھی  ۔۔۔  صبح کا ناشتہ وہ کھا کے گئے

تو کہنے لگے خالد سہیل کی شاعری سے ہمارے نوجوانوں کا اخلاق خراب ہونے کا خطرہ ہے۔

یوسفی صاحب : میری کتابیں out of print ہیں۔ اب ان کے pirated edition چھپنے لگے ہیں۔ چند سال پیشتر لاہور کا ایک پبلشر میری کتاب کی دو ہزار جلدیں بنوا رہا تھا۔  پولیس نے چھاپا مارا اور وہ پکڑا گیا۔ ہم نے کہا سب کے سامنے جلا دی جائیں۔ وہ کہنے لگا آپ مفت لے لیں۔ ہم نے کہا نہیں۔ اصول کی بات ہے۔ اور وہ کتابیں اردو بازار کے چوک میں جلا دی گئیں۔ لیکن پھر بھی کسی نے سبق نہیں سیکھا‘۔

ایک دوست: یوسفی صاحب ! جب لوگ آپ سے ملتے ہیں تو کیا کہتے ہیں؟

یوسفی صاحب : لاہور میں ایک خاتون ملیں وہ ایم اے کی طالبہ تھیں کہنے لگیں یوسفی صاحب ! آپ بات چیت کرنے میں تو ٹھیک ہیں لیکن کتابوں میں لچے لگتے ہیں۔

دوسرا دوست : میڈیا کا آپ کی کتابوں کے بارے میں کیا ردِ عمل ہے؟

یوسفی صاحب : پاکستان ٹی وہ والے میری کتابوں پر ایک سیریل بنانا چاہتے تھے۔ میں نے کہا یہ کام ہمارے مرنے کے بعد کرنا۔

اشفاق کے ہاں دوست جمع ہوئے۔ یوسفی صاحب بہت اچھے موڈ میں تھے

نسرین : میری اور منیر پرویز کی شادی آپ کی کتاب کی وجہ سے ہوئی۔

یوسفی صاحب : وہ کس طرح؟

نسرین: ہماری پہلی ملاقات پر منیر نے مجھے ’خاکم بدہن‘ دی۔ وہ کتاب نئی نئی بازار میں آئی تھی۔

یوسفی صاحب: آپ بھی تو انہیں نئی نئی ملی تھیں

نسرین: اگر وہ کتاب نہ ہوتی تو بات آگے نہ بڑھتی

یوسفی صاحب: جس بات نے آگے بڑھنا تھا بڑھ جاتی چاہے وہ آپ کو ابو الاعلیٰ مودودی کی کتاب ہی کیوں نہ دیتے

ایک دوست: ہم نے بہت سے مردوں کو عورتوں کی کتابیں اٹھاتے دیکھا ہے

یوسفی صاحب: اور ہم نے بہت سے مردوں کو عورتیں اٹھاتے دیکھا ہے

پھر بات مشاعروں کی ہونے لگی

یوسفی صاحب: دس سال پیشتر مجھے ایک مشاعرے کی صدارت کے لیے بلایا گیا تھا۔ مشاعرے کے آخر میں تقریر کرتے ہوئے میں

نے کہا کہ جو شعر پانچ ہزار لوگوں کو بیک وقت سمجھ آ جائے وہ اور سب کچھ ہو سکتا ہے اچھا شعر نہیں ہو سکتا

اس مشاعرے کے بعد منتظمین نے پھر کبھی مجھے صدارت کے لیے نہیں بلایا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 137 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail