روس میں فٹ بال ورلڈ کپ اور وطن میں عام انتخابات


یہاں موسم خوش گوار ہے، یعنی سائے میں رہ کے یا گھر میں ہلکی رفتار میں پنکھا چلا کے گرمی نہیں لگتی۔ جیسمین (چنبیلی کے پودے پھولوں سے پھرنے لگے ہیں، کیوں کہ جیسمین فی الواقع گرمی میں کھلتی ہے، اور روس میں کھلنے والے آخری پھولوں میں شمار ہوتی ہے۔ فٹ بال ورلڈ کپ کی گہما گہمی میں یہاں ملک ملک کے لوگ اپنے اپنے ملکوں کی ٹیموں کی کِٹ والی ٹی شرٹس پہنے شہر کے مرکز میں اپنی بہار دکھا رہے ہیں۔

کچھ پاکستانی بھی آئے ہوئے ہیں جن میں سے ہمارے ایک دوست یہاں پنجابی ہونے پر فخر کرنے کا بینر اٹھائے دیکھے گئے۔ حیرت اس بات پر تھی کہ بینر شاہ مکھی اور گورمکھی میں لکھا تھا۔ پاکستانی اور ہندوستانی پنجابیوں کے علاوہ کون پڑھ سکے گا۔ اگر پڑھوانا ہی تھا تو روسی یا کم از کم انگریزی میں ہی لکھوا لیتے۔ ویسے بین الاقوامی ہم آہنگی کے میلے میں قوم پرستی کا پرچار کرنا خاصا بے جوڑ ہے۔ اچھا ہوا کہ کوئی پڑھ نہ سکا تاہم مجھے یقین ہے کہ وہ یہاں کی خفیہ ایجنسی کی نگاہ میں ضرور آ گئے ہوں گے اور ان پر ہلکی پھلکی نگاہ رکھی جائے گی۔ خیر اتنی بڑی یا اتنی بری بات بھی نہیں مگر مناسب بہر طور نہیں تھی۔

روس میں لوگ فٹ بال ہی میں دل چسپی لے رہے ہیں۔ منہگائی کے سبب غیر ملک کم جا رہے ہیں اور اپنے داچوں (کنٹری ہاؤسز) میں گرمیاں زیادہ منا رہے ہیں۔ یہاں جو ہلکی پھلکی گرمی ہوتی ہے اس میں لطف لینے کے راستے ڈھونڈے جاتے ہیں۔ قدرتی مناظر دیکھنے نکل گئے۔ پیراکی کرنے کسی چھوٹے دریا یا تالاب پر پہنچ گئے۔ کسی جنگل میں جا کر شاشلک بنا لیے۔ 26 ڈگری سنٹی گریڈ سے زیادہ گرمی ہو تو وہ یہاں بہت لگتی ہے۔ ایسے میں گھروں میں بیٹھ کر ٹی وی پر میچ دیکھنے ہی میں عافیت ہوتی ہے۔ ویسے بھی اسٹیڈیم میں کتنے لوگ میچ دیکھنے جاتے ہیں۔ ماسکو کے سب سے بڑے لوژنکی اسٹیڈیم میں اسی ہزار افراد کی گنجایش ہے۔ اگر ساٹھ فی صد بھی مقامی لوگ لگائے جائیں تو دو کروڑ افراد میں اڑتالیس ہزار کچھ زیادہ نہیں۔ پھر اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے یا تو فین یعنی فینیٹک مطلب فٹ بال کے جنون میں مبتلا شخص جائے گا یا نسبتا خوش حال شخص؛ کیوں کہ سب سے سستا ٹکٹ 105 ڈالر کا ہے؛ یعنی تقریبا ساڑھے بارہ ہزار پاکستانی روپوں کا اور سب سے منہگا 1460 ڈالر یعنی تقریبا پونے دو لاکھ روپے کا۔ چناں چہ میں نے یہی غنیمت جانا کہ فٹ بال کے کھیل سے انتہائی رغبت رکھنے کے باوجود میچ بیڈ پر لیٹ کر اپنے ساڑھے چھے ضرب ساڑے تین فٹ کے ٹی وی پر ہی دیکھے جائیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ گول پر ”گوووول“ کا شور مچانا کچھ جچے گا نہیں۔

دوسری جانب پاکستان ہے جہاں شدید گرمی ہے۔ لوڈ شیڈنگ ہے۔ گھر گھر مسائل ہیں، معاشی، نفسیاتی، سماجی، معاشرتی مگر ماحول گرم ہے؛ کیوں کہ ”سیاست ہو رہی ہے“۔ ملک میں شادی شدہ لوگوں کی تفریح، جس سے آبادی میں روز افزوں اضافہ ہوتا رہتا ہے، کے بعد یہ ”سیاست ہونا“ ایک واحد تفریح ہے۔ بقول نصرت جاوید حد سے بڑھی ہوئی محبت اور نفرت کے اظہار کا بہترین موقع۔

کوئی اٹھا کے ایسی وڈیو سوشل میڈیا پر لگا دیتا ہے، جس میں زخمی عمران خان کو لوگ اٹھا کر لے جا رہے ہیں اور اوپر لکھ دیا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاجی کارکنوں نے بنی گالہ میں زبردستی عمران کی اقامت گاہ میں گھس کر عمران خان کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ میرا جیسا شخص دیکھ کے ہی بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ ”اوہ یہ کیا ہوا“؟ بعد میں کمنٹس میں پڑھتا ہے کہ یہ وڈیو کرین سے گرنے کی ہے تو جان میں جان آتی ہے کیوں کہ دل نہیں چاہتا کہ جس طرح محترمہ بی بی کے قتل سے انتخاب موخر ہوئے تھے اس بار بھی ہوں۔

کوئی دوسرا شخص وڈیو لگا دیتا ہے کہ اس نے 79 ہارلے اسٹریٹ کلینک میں باجی کلثوم نواز کی لاش دیکھی ہے۔ جب کہ پی ٹی آئی کے حامی ہمارے دوست اور بی بی سی کے محترم صحافی ثقلین امام صاحب بتاتے ہیں کہ ہارلے کلینک کی عمارت کا نمبر 79 نہیں 34 ہے اور اس وڈیو میں جو فون نمبر دیا گیا ہے، وہ آن تو ہے مگر جواب کوئی نہیں دیتا۔

پاکستان میں دو سرائیکی بلوچ سردار جو شاید خود کو پنجابی بلوچ سردار سمجھتے ہیں، سوشل میڈیا پر اپنی وڈیو ڈال کر بار بار صفائیاں دے رہے ہیں کہ ”انھوں“ نے لوگوں کو بہت کچھ دیا ہے۔ جس کے نیچے اسی فی صد کمنٹس میں لوگ ان کی نفی کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی جس وڈیو کی وہ صفائی دے رہے ہیں اس میں سردار صاحب نے ایک لڑکے سے کہا تھا، ”چپ کر جمہوریت، جمہوریت ۔۔۔۔ ہمیں پتا ہے جمہوریت کیا ہوتی ہے“۔ جس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں کہ جمہوریت جمہوریت کہنا بند کرو ہم جانتے ہیں کہ جمہوریت کچھ نہیں ہوتی، دوسرا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ تم جو جمہوریت جمہوریت کہہ رہے ہو تمھیں کیا معلوم جمہوریت کیا ہے۔ جمہوریت ہمیں معلوم ہے جس کے سارے فوائد ہم لیتے ہیں اور تمھیں یہ تک کہہ سکتے ہیں کہ 45 کلومیٹر کی یہ سڑک ”میں نے“ تم لوگوں کو دی ہے۔

رہی ان کی جانب سے لوگوں کو شعور اور آزادی دیے جانے کی بات تو میرا یار خادم حسین خادم جتوئی بلوچ، جو ان سرداروں کے علاقوں میں پولیس افسر رہا تھا، بفضل تعالٰی حیات ہے اور اپنی کہی بات جھٹلائے گا بھی نہیں؛ کیوں کہ بلوچ ہے، نے جب وڈیو والے لغاری سرداروں کے ایک بزرگ، جو پاکستان کے صدر بھی رہے تھے، کی دین داری کی بات ہو رہی تھی، بتایا تھا کہ انھوں نے تو ایک کمھار کو بھی جس نے ان کے کھیت سے مٹی اٹھائی تھی، مٹی چوری کرنے کے الزام میں حولات بند کروا دیا تھا۔

فٹ بال دیکھتا ہوں، تو جسم میں ایڈرینالین اوپر تلے ہوتی ہے؛ کبھی مایوسی ہوتی ہے تو کبھی سرخوشی مگر جب پاکستان میں ہونے والی سیاست سامنے آتی ہے، تو وہی ایڈرینالین طیش یا یاسیت کی شکل میں ابھرتی بیٹھتی ہے۔ میں روس کا شہری جس کا وطن پاکستان ہے پندرہ جولائی کو فٹ بال ورلڈ کپ کا فائنل میچ ہونے تک یونہی فٹ بال اور وطن کی سیاست بیچ اٹکا رہوں گا۔ 25 جولائی کو انتخابات ہوتے ہیں یا نہیں یقین جانیں اس بارے میں کوئی یقین نہیں ہے۔ بہت کم لوگوں کو ہونے والے سرطان کی ایک قسم میں مبتلا حساس ہندوستانی اداکار عرفان خان کی تازہ تحریر میں کہا یہ فقرہ ہی سچ لگتا ہے، کہ واحد یقینی بات بے یقینی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں