جتنی جھنڈیاں اتنے درخت


گزشتہ اگست سے ایک پوسٹ گردش کر رہی ہے۔
”جھنڈیوں کی جگہ درخت لگائیں“۔
سوال یہ ہے کہ ”جھنڈیوں کی جگہ ہی کیوں“؟

گزرے 14 اگست مکلی ٹھٹھہ میں یوم آزادی پاکستان کی تقریب میں بہت سالوں بعد شرکت کی۔ بچوں اور بچیوں کی تیاریاں اور ملبوسات دیدنی تھے۔ اتنی ورائٹی دیکھ کر حیرانی بھی ہوئی اور خوشی بھی۔ سر سے پاوں تک استعمال ہونے والی چیزوں میں ہرے اور سفید رنگ کی آمیزش۔ ڈزائنر شرٹس پر سبز ہلالی پرچم، مینار پاکستان، مزار قائد وغیرہ۔ اپنے اسکول کا زمانہ یاد آیا جب سفید شرٹ پر ہرا دوپٹا مل جائے تو عید یا باجی آپا سے جھنڈا کڑھوا لیا۔ نئی شرٹ بنی بھی تو کسی سادہ کپڑے کی اور اب یہ ہیئر کلپ، کیچر، بینڈ، پنیں، بالیاں کیا تو چوڑیاں، شرٹس، اسکارف دوپٹے حتی کہ میک اپ بھی۔

اگست بھی ایک انڈسٹری بن گیا ہے۔ ہمارے چھوٹے شہر میں اتنی رنگینی شہر قائد اس دن کیسا ہوگا۔ بس یہی خیالات دل میں تھے کہ یہ جھنڈیوں کی جگہ درخت لگانے والی بات یاد آگئی اور اپنے آپ سے سوال پوچھا جھنڈیاں کیوں، یا پھر جھنڈیاں ہی کیوں؟ کیا ہم جھنڈیاں اور درخت ایک ساتھ نہیں لگا سکتے۔ قربانی ان کی کیوں؟ کچھ لوگ اس کو موٹیویشن کا نام دیتے ہیں تو وہ تو ایسے بھی ہو سکتی ہے کہ اس سال جتنی جھنڈیاں لگائیں اتنے ہی درخت بھی اگائیں۔ پھر غور کیا تو جانا کہ ہم کسی اچھے کام کرنے کے لیے پہلے والے اچھے کام کی قربانی ہی مانگتے ہیں۔ پھر بہت سی مثالیں یاد آئیں۔

”حج پر جانے سے بہتر کسی غریب کی شادی کروادیں“۔
”عید میلاد النبی پر دکھاوے کے لیے بتیاں لگانے کے بجائے کسی ضرورت مند کی مدد کردیں“۔
”آپ دوسرا تیسرا عمرہ کرنے جارہے ہیں کسی کے گھر کا چولھا نہیں جلا“۔
اب آپ کو کیا پتا کہ یہ سارے کام کرنے والے نے وہ سارے کام بھی کر لیے ہوں، جن کا آپ انھیں احساس دلا رہے ہیں۔

آپ گھر بیٹھے دوسروں کو کیسے جج کر سکتے ہیں۔ وہ ایک ہاتھ دے اور دوسرے کو پتا نہ چلے، پر عمل پیرا ہوں۔ وہ ایک کیا تین غریب بچیوں کی شادیاں کروا چکے ہوں۔ الغرض اس طرح کی نیک پوسٹ لگانے والے نہ جانے کہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔

شب برات و معراج بدعت ٹھہریں اور پٹاخے جاری رہے، ہولی اور دیوالی پر۔ تہواروں کی قلت کا شکوہ کرنے والوں نے اغیار کے تہوار اور مصنوعی خوشیاں اپنا لیں۔
یہ نیک عمل کی راہ میں رکاوٹ ہمارے قومی اور دینی معاملات ہی کیوں ٹھہرے؟ مشہور برانڈ کی لان کی نمایش کراچی کے سب سے منہگے ہوٹل میں منعقد ہوئی تین دن کی نمایش میں دوسرے دن اسٹاک ختم ہوگیا۔ جس مال پہ جائیں پیر رکھنے کی جگہ نہیں۔ ریسٹورنٹ بھرے ہوئے۔ پلے لینڈ واٹر پارکس فل۔ لیکن کبھی ایسی پوسٹ نہیں دیکھیں۔

”ایک کلاسک اور دو لالہ کلاسک کے سوٹ لے لیں تو کسی غریب کے پوری گرمی کے کپڑے آجائیں گے“۔
”اس سال ڈزائنر نہ پہنیں کسی غریب کی شادی کروا دیں“۔
”برانڈڈ اگست کے لوازمات کے بجائے درخت لگائیں“۔
”ریسٹورنٹ میں کھانا ہر ہفتے کے بجائے دو ہفتوں میں کھائیں کسی کے گھر کا چولھا جلائیں“۔

بات تو پھر بھی یہ رہے گی کہ ہمیں کیا پتا یہ سارے کام ان لوگوں نے بھی کر رکھے ہوں۔
لیکن آپ کو ایسی پوسٹ نہیں ملیں گی۔ شامت آئے گی تو یوم آزادی کی، حج کی، میلاد کی، عمرہ کی، مسجدوں کو سجانے پہ اخراجات کا رونا رونے والوں کو شادی ہال نظر نہیں آتے۔ ہیلووین کے کوسٹیومز نظر نہیں آتے۔

تو بات تو اتنی سی تھی کہ درخت لگائیں کیونکہ یہ بہت ضروری ہیں، لیکن اس کے لیے اپنی قومی تہوار کو بیچ میں نہ لائیں۔ یہ ننھی منی جھنڈیاں پیسوں کے حساب سے اتنی قیمتی نہیں لیکن ان سے ہماری محبت جھلکتی ہے اور یہ ہمارے جذبات کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ یہ نہ لگیں تو اگست اگست نہیں لگے گا۔ درختوں کے لیے اپنے غیر ضروری اخراجات اور اسراف کی کٹوتی کریں، جھنڈیوں کی نہیں اور اس اگست یہ نعرہ لگائیں۔
”جتنی جھنڈیاں لگائیں اتنے ہی درخت اگائیں“۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں