بیگم کلثوم نواز کے دونوں ڈاکٹروں سے ملاقات کے بعد شفیع نقی جامعی نے حقیقت بیان کر دی

شفیع نقی جامعی - بی بی سی اردو، لندن


کلثوم نواز

سابق وزیراعظم نواز شریف کی لندن میں زیرِ علاج اہلیہ بیگم کلثوم نواز کے ڈاکٹرز کے مطابق انھیں ادویات اور مصنوعی آکسیجن دینا کم کر رہے ہیں اور پیر یا منگل کو لائف سپورٹ مشین پر رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

سنیچر کو ہارلے سٹریٹ کلینک میں جانا ہوا تو محض یہ اتفاق تھا کہ جس وقت جس وقت کنسلٹنٹ ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس اور کنسلٹنٹ ڈاکٹر میتھو برنارڈ بیگم کلثوم نواز کے خاندان کو بریفنگ دے رہے تھے اور خاندان والوں( حسن نواز، مریم نواز اور نواز شریف) کے سوالوں کے جوابات دے رہے تھے تو اس میں بھی اس وزٹنگ روم نما کچن میں موجود تھا۔

کنسلٹنٹس کی اس بریفنگ کا خلاصہ یا پنچ یہ تھا کہ’ گڈ نیوز از دیٹ دیئر از نو بیڈ نیوز‘ یعنی اچھی خبر یہ ہے کہ کوئی بری خبر نہیں ہے۔

نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز

میاں نواز شریف کی تشویش تھی کہ ٹیوبز اور ماسک کب اور کتنی جلدی ہٹیں گی

ان کنسلٹنٹس کے بقول’اب ہم کلثوم نواز کی میڈیسن کو بتدریج کم کر رہے ہیں، رکھیں گے اب بھی ان کو لائف سپورٹ مشین پر، لیکن دوائیں اور مصنوعی طریقے سے آکسیجن دینی بھی کم کر رہے ہیں۔ پیر یا منگل تک دیکھیں گے کہ انھیں مشین سپورٹ پر رکھا جائے یا نہیں۔

کنسلٹنٹس نے مزید بتایا کہ دماغ کے سکین سے ظاہر ہوتا ہے کہ دماغ کو نقصان نہیں پہنچا جو کہ مثبت بات ہے۔

اس پر میاں نواز شریف کی تشویش تھی کہ جو ٹیوبز اور ماسک لگے ہوئے ہیں وہ کب اور کتنی جلدی ہٹیں گی۔ مریم نواز دماغ کے بارے میں جاننا چاہتی تھیں جبکہ حسین نواز کے سوالات بھی اسی نوعیت کے تھے۔

اس دوران میاں نواز شریف چھوٹی سبز رنگ کی تسبیح کے ساتھ ورد کر رہے تھے جبکہ مریم اور ان کی دوسری بیٹی بھی وقفہ سوالات میں ورد کرتی نظر آئیں۔

کنسلٹنٹس کے جوابات کا دوسرا خلاصہ یہ تھا کہ’سپورٹ مشین ہٹائے جانے کے بعد اسے دوبارہ لگانا ایک تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔ ہٹائے یا لگی رہنے کا فیصلہ پیر یا منگل کو کریں گے۔‘

انھوں نے بتایا کہ’کلثوم نواز محسوس کر سکتی ہیں اور سن بھی رہی ہوں گی جس کا وہ جواب دینے کی کوشش بھی کرتی ہیں لیکن ابھی وہ اس پر کنٹرول کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ہمیں اس کا اندازہ ان کی ہاٹ بیٹ اور بلڈ پریشر سے ہوتا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ ان کا رسپانس کتنا بہتر ہے لیکن گذشتہ جمعرات کے مقابلے میں جب وہ ختم ہو سکتی تھیں اب بہت بہتر ہیں۔ ابتدا کے 72 گھنٹے خطرناک تھے’ شی کُڈ بی ڈائڈ‘، لیکن اب تصویر دوسری ہے۔ ٹیوبز ہٹائے جانے یا بدلتے وقت انھیں قے یا الٹی نہیں ہونی چاہیے جس کے لیے ہم ادویات دے چکے ہیں اور بھی دیں گے۔

ڈاکٹرز

رخصت ہونے سے پہلے قصداً میں نے کہا کہ’میاں نواز شریف صاحب میں آپ سے آن ریکارڈ کب گفتگو کر سکتا ہوں؟

تو اس پر ان کا جواب تھا کہ’ میں اس وقت جس کیفیت سے گزر رہا ہوں اس کا میں یا خدا جانتا ہے۔ بیگم صاحبہ ہوش میں آ جائیں تو میں آپ کے سوالات کا جواب دینے کی پوزیشن میں ہوں گا۔ فی الوقت مجھے اپنے وطن عزیز اور آپ کی، اور سب خیر خواہوں کی دعائیں درکار ہیں۔‘

یاد رہے کہ 21مارچ کو نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اطلاع دی تھی کہ کلثوم نواز کو دل کا دورہ پڑا ہے اور وہ اس وقت انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں ہیں اور انھیں مصنوعی طریقے سے سانس دیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ بیگم کلثوم نواز کو چند ماہ قبل کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور وہ اس وقت برطانیہ میں زیر علاج ہیں۔ بیگم کلثوم نواز کے دونوں صاحبزادے حسن اور حسین مسلسل ان کے ساتھ ہیں لیکن ان کے شوہر اور ان کی بیٹی مریم نواز اسلام آباد کی احتساب عدالت سے اجازت ملنے کے بعد لندن پہنچے تھے۔

اس وقت ان کی بیٹی مریم نواز نے ٹوئٹر پر اپنی والدہ کی بگڑتی ہوئی صحت کے بارے میں لکھتے ہوئے کہا، ‘ہم جہاز میں تھے جب امی کو اچانک دل کا دورہ پڑا۔ اب وہ آئی سی یو میں وینٹیلیٹر پر ہیں۔ آپ سب سے التجا ہے کہ ان کے لیے دعا کریں۔’

کنسلٹنٹس کی بات چیت سے حاصل ہونے والی معلومات کی تفصیل اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ کر اور اپنے کانوں سے سب کچھ سن کر ہوبہو لکھی گئی ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4585 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp