راجہ جلیل حسن اختر: محبتیں بانٹنے والا مرتا نہیں


ہم لوگوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں، اپنے حق کی خاطر خاموش رہ کر بہت بڑا جرم کرتے ہیں، ہماری آواز ایسے موقع پر زیادہ گونج کے ساتھ بلند ہونی چاہیئے”۔ راجہ جلیل حسن اختر بڑے دبنگ اور صاف بات کرنے والے ایک بڑے شفیق اور محبت کرنے والے انسان، جنہوں نے صحافت میں بڑی باوقار انداز میں چار دہائیوں سے زائد عرصہ تک نہ صرف فرائض انجام دیئے بلکہ ایک استاد کی طرح ابلاغ سے وابستہ افراد کی درست سمت میں تربیت کرنے میں بھی کردار ادا کیا۔ وہ صحافیوں کے حقوق کیلئے جدوجہد میں ہمیشہ پہل کرتے اور یہ ممکن نہیں کہ وہ ایسی کسی سرگرمی کا حصہ نہ ہوتے۔

پنجاب یونین آف جرنلسٹس کی قیادت سنبھالی اور بڑے دبنگ انداز میں ورکرز کی آواز بنے۔ وہ صحیح معنوں میں راجہ تھے، اپنی بات سے کبھی پیچھے نہ ہٹتے۔

1998  میں روزنامہ جنگ اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی صحافی تحریک کی شکل اختیار کرگئی۔ پریس کلب میں بھوک ہڑتالی کیمپ لگا، مختلف اخبارات سے وابستہ کارکنوں نے بھی حصہ لیا، راجہ صاحب ایک موقع پر اتنے پرعزم لہجے میں بولے کہ جن مطالبات کے لئے ہم لوگ احتجاج کر رہے ہیں، اس پر اگر شکیل الرحمان نے بھی کوئی سودے بازی کر لی تو ہم ڈٹے رہیں گے۔ اور اس کا بھی محاسبہ کریں گے۔ اور یہ موقع بھی آیا جب ویج ایوارڈ پر عمل درآمد سے مالکان نے انکار کیا جیسا کہ ان کا وتیرہ ہے، راجہ صاحب نے احتجاجی کیمپوں میں اخبارات کے دفاتر کے باہر تقاریر کیں۔ اور وہ ہمیشہ مخالف کو چیلنج دیا کرتے۔

راجہ صاحب کا انسان دوستی اور پیار بانٹنے والا پہلو بہت زیادہ مقبول تھا۔ کسی انجان کو بھی اتنی محبت اور شفقت سے ملتے کہ وہ انہیں فراموش نہ کر پاتا۔ سب سے بڑھ کر پریس کلب میں ایک ہر دل عزیز شخصیت کے طور پر جانے جاتے، جو کسی بھی ملنے والے کو سب سے پہلے کھانے، چائے کی دعوت ضرور دیتے تھے اور انہیں ایسا کرکے بہت خوشی ہوتی تھی۔

راجہ صاحب کہتے “پیار کے چند الفاظ ہمیں ایک دوسرے جوڑتے ہیں، اس سے کچھ آتا ہی ہے، کچھ جاتا نہیں، ہمیں سماج کی مضبوطی کیلئے اس پیار اور محبت کے جذبے کو بڑھانا ہوگا۔ پھر ہم میں باہمی اعتبار اور اعتماد کا رشتہ بھی قائم ہوگا۔ اگر یہ پیار نہیں ہوگا تو ایک دوسرے سے ربط کا تعلق کمزور سے کمزور ہوتا جائے گا۔ ہم دوریاں بڑھاتے جائیں گے، فاصلے مزید بڑھیں گے۔ نفرت اور اختلاف کو جگہ ملے گی۔ ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا”۔

یہ باتیں ایک بزرگ، سماج کی بہتری چاہنے والا ہی کرسکتا ہے۔ راجہ صاحب بلاشبہ ایک اصلاح پسند اور روشن خیال انسان تھے۔ جنہوں نے مخالف کی بات کو ہمیشہ اہمیت دی اور دلائل سے قائل کیا۔ راجہ جلیل حسن اختر دو نسلوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہے تھے، ان کا نوجوانوں کے ساتھ بھی ایک دوست کا تعلق رہا، جنہیں بڑے پیار سے جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملات سمجھاتے اور کسی بھی مسئلہ میں ایک بڑے کی طرح رہنمائی کرتے۔ انہیں کسی کی تکلیف کا علم ہوتا تو فوراً کوئی راہ دکھاتے اور حل بتا دیتے۔ دوسروں کی مدد بڑی خاموشی سے کر دیتے۔

محبت کرنے والا دل ہی انسانیت کا درد جانتا ہے، یہ راجہ صاحب کی خاصیت تھی، شاید یہی وجہ ہے انہوں نے اپنے دل کو دوسروں کے دکھوں سے بھرلیا تھا۔ اور اپنا غم ہمیشہ چھپاتے رہے۔ باوصف اور وضع دار لوگ ایسے یہ ہوتے ہیں۔ راجہ جلیل حسن کی باتیں ذہنوں کے گوشوں میں اپنی جگہ بنا گئی ہیں۔ ان کی محبت اور شفقت کبھی دلوں سے باہر نہیں جاسکتی۔ راجہ صاحب کی شخصیت درحقیقت ناقابل فراموش ہے، یہ لوگ مرتے نہیں۔ اپنی یادوں کی شکل میں زندہ وجاوید ہوجاتے ہیں۔ راجہ صاحب کی محبتوں کا احسان نہیں چکا سکتے ہاں انہیں آگے بانٹ کر دلوں میں پل بنانے کا کام ضرور کرسکتے ہیں۔ اور شاید یہی راجہ صاحب کا مشن بھی تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ان دنوں دنیا ٹی وی میں سنیئر پروڈیوسر نیوز کے عہدے پر پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہے ہیں ۔

nauman-yawar has 38 posts and counting.See all posts by nauman-yawar