شکیل آفریدی کے معاملے پر امریکی دباﺅ قبول نہیں کیا جائے گا: سرتاج عزیز


Sartajوزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکا کا کوئی دباو¿ قبول نہیں کیا جائے گا جب کہ شکیل آفریدی امریکا کے لئے ہیرو ہو سکتا ہے لیکن ہمارا ملزم ہے۔
مشیرخارجہ امورسرتاج عزیزنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرشکیل آفریدی کی سزا کا فیصلہ عدالتی ہے اور یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اس لئے اس پر امریکا کا کوئی دباو¿ قبول نہیں کیا جائے گا جب کہ شکیل آفریدی امریکا کے لئے تو ہیرو ہوسکتا ہے لیکن پاکستان کی نظر میں وہ ایک ملزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایف 16 پاکستان کو بیچنے کی منظوری دے چکا ہے مسئلہ صرف فنانسنگ کا آ رہا ہے، کولیشن سپورٹ فنڈ کی رقم کے حوالے سے کچھ تکنیکی مسائل ہیں، اس رقم سے ایف 16 نہیں خرید سکتے، متبادل رقم کا انتظام کرنا پڑے گا جب کہ ایف 16 طیارہ خریدنے کا متبادل انتظام نہ ہوا تو کہیں اورسے خرید سکتے ہیں، پاکستان اگراسلحہ نہ خریدے تو خطے میں عدم توازن شروع ہوسکتا ہے، انسداد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایف 16 طیاروں کی ضرورت ہے۔
سرتاج عزیزنے بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کہا کہ بھارت سے مذاکرات کا عمل بحال ہونے کے خواہش مند ہیں، آئندہ چند ہفتوں میں پاک بھارت مذاکرات کا امکان ہے، بھارت کی طرف سے جوہری آبدوز کا حصول اوراسلحہ کی خریداری خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے، خطے میں اسلحہ کی دوڑ نہیں چاہتے لیکن بھارت کی وجہ سے مجبوری میں جواب دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا بھارت سول جوہری معاہدے پر تشویش ہے، پاکستان جنوبی اشیائ کو نیوکلیئر فری کرنے کے حق میں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر سے طالبان کے وفد کی پاکستان آمد کی تصدیق کرتے ہیں جووضاحتی رابطہ ہے جب کہ افغانستان نے پاکستان کو کسی قسم کی دھمکی نہیں دی بلکہ مایوسی کا اظہار کیا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “شکیل آفریدی کے معاملے پر امریکی دباﺅ قبول نہیں کیا جائے گا: سرتاج عزیز

  • 04-05-2016 at 6:34 am
    Permalink

    پاکستانی حکومت اور پاکستانی فوج پاکستان کے بننے سے آج تک یہ ڈرامہ کرتی ہی آئی ہے کہ امریکہ سے پیسے لیں‌ اور عوام کو کہیں‌ کہ امریکہ کو لعنت دو۔ ٹھیک ہے آپ امریکہ کو جتنی چاہے لعنتیں‌ دیتے رہیں لیکن ایک عام انسان کو دھکے لاتیں‌ دے کر آپ کیا حاصل کریں‌ گے؟ اس نے بھی وہی کیا جو آپ خود بھی کرتے رہے ہیں۔ پیسے لو اور امریکہ کے لئیے کام کرو۔ میں‌ خود یہ ہی کررہی ہوں۔ ظاہر ہے کہ اپنا گھر چلانا ہے اور بچے پالنے ہیں۔ اس کو کافی سزا مل گئی اب جانے دیں۔ “امریکہ کے دباؤ میں‌ نہیں‌ آئیں‌ گے” وہ کہنا اس وقت جچتا ہے جب وہ موت یا قید اور آپ زندگی اور آزادی کا سوال کررہے ہوں۔ اس سوال میں‌ آپ کے جواب غلط ہیں ہر لحاظ سے۔ آپ کو اپنے شہریوں‌ کی زندگی، ان کی خوشی، ان کے خواب، ان کے خاندانوں کے مسائل سمجھنے ہوں‌ گے۔ ان کو بھی اسی ترازو میں‌ تولنا ہوگا جس میں‌ آپ خود کو تولتے ہیں۔

Comments are closed.