سیاسی لوٹوں کے نئے وکیل عمران خان “نیا پاکستان” نہیں، “اپنی باری” مانگتے ہیں


بنی گالہ میں اپنی رہائش گاہ کے باہر دھرنا نما احتجاج کرنے والے پارٹی کارکنوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے واضح کیا ہے کہ اقتدار میں آئے بغیر ’نیا پاکستان‘ تعمیر نہیں ہو سکتا اور انتخابات میں کامیاب ہونے اور اکثریت حاصل کرنے کے لئے الیکٹ ایبلز یعنی سیاسی لوٹوں کی بے حد ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف نے اکثر حلقوں میں ان لوگوں کو پارٹی ٹکٹ سے نوازا ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک مسلم لیگ (ن) یا کسی دوسری پارٹی میں متحرک تھے یا ماضی میں ہر جیتنے والی پارٹی کے ساتھ شامل رہے تھے۔ عمران خان نے چند برس پہلے اصول کی بجائے اقتدار کی سیاست کا آغاز کیا تو انہیں یہ بات سمجھ میں آنا شروع ہو گئی تھی کہ پاکستانی سیاست میں خاندانوں اور گروہوں کا اس قدر اثر و رسوخ ہے کہ بعض لوگوں کو ان کے حلقوں سے ہرانا ممکن نہیں ہو تا۔ اس لئے کامیابی حاصل کرنے کی خواہش مند پارٹیاں ایسے امید واروں اور یہ امید وار ان ’ضرورت مند‘ پارٹیوں کو تلاش کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔

اب پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کے موقع پر پارٹی میں ان کے اہم ترین ساتھی جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی اپنے اپنے دھڑے کو زیادہ سے زیادہ پارٹی ٹکٹ دلوانے کے لئے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں لیکن عمران خان حقیقت حال کو سمجھنے کی بجائے اپنے فیصلوں اور طرز عمل کا پرزوردفاع کر رہے ہیں۔ یہ رویہ واضح کرتا ہے کہ وہ دعوؤں اور اعلانات کے باوجود جدید پارلیمانی جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ اسی لئے وہ جمہوریت کی کامیابی کی علامت تو نہیں بن سکے بلکہ ان آزمودہ اور بد اخلاق سیاسی عناصر کے وکیل بن گئے ہیں جن کے طرز عمل اور کردار کی وجہ سے اس ملک میں ایک طرف سیاست میں بد عنوانی کا چلن ہؤا اور دوسری طرف کبھی بھی جمہوریت کا تصور نکھر کر سامنے نہیں آسکا۔

عمران خان نے اپنی طویل سیاسی جد و جہد کے دوران معاشرے میں تبدیلی لانے کی بات کرتے ہوئے ہمیشہ مغربی جمہوریت کی مثالیں دی ہیں۔ وہ برسر اقتدار لوگوں کے طرز زندگی، پروٹوکول اور غیر جمہوری مزاج پر نکتہ چینی کرتے ہوئے اس ملک کے نوجوانوں کو بتاتے رہے ہیں کہ جمہوری ملکوں کے سیاست دانوں کا رویہ کیا ہوتا ہے اور وہ کس طرح جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لئے کام کرتے ہیں۔ لیکن ’بڑا ‘ لیڈر بننے کے ساتھ ہی عمران خان خود اس پروٹوکول اور ناز و نعم کے عادی ہو چکے ہیں جسے وہ جمہوریت کے لئے زہر قاتل قرار دیتے رہے ہیں۔ حال ہی میں شاہانہ طریقے سے عمرہ کی ادائیگی اور اس موقع پر اپنے ایک ہم سفر کا نام ای سی ایل میں ہونے کا عذر سامنے آنے کے بعد ڈیوٹی پر موجود افسروں کے حق فیصلہ کو تسلیم کرنے کی بجائے، وہ فوری طور پر متعلقہ حکام سے براہ راست رابطہ کرکے اپنے قریبی دوست کو ساتھ لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔ بعد میں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے یہ وضاحت کی گئی ہے کہ عمران خان نے رابطہ نہیں کیا تھا بلکہ متعلقہ دوست کے اپنے مراسم کی وجہ سے یہ معاملہ ایک آدھ گھنٹے میں حل ہو گیا تھا۔ لیکن سوال یہ نہیں کہ کسی شخص کا نام ای سی ایل میں غلط طریقے سے موجود تھا یا نہیں۔ یا یہ کہ اس فیصلہ کو کیسے اور کس نے تبدیل کروایا ۔

سوال صرف یہ ہے کہ ملک کا وزیر اعظم بن کر ایک ’نیا پاکستان‘ تعمیر کرنے کے دعوے دار عمران خان جب خصوصی چارٹر طیارے سے عمرہ پر روانگی کے لئے پہنچے تو ڈیوٹی افسروں نے ان کے ایک ساتھی کو سفر کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ عمران خان اور ان کے ساتھی کی طرف سے ڈیوٹی پر موجود افسر کے اس استحقاق کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ اور اس محکمہ کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کرکے اس افسر کے فیصلہ کو تبدیل کروایا گیا۔ مغربی جمہوری اخلاقیات اور انتظام کی مثالیں دینے والے عمران خان کو تو صرف اس بات کا جواب دینا ہے کہ کیا کسی بھی مغربی جمہوری ملک میں اس قسم کا رویہ اختیار کرنے یا ڈیوٹی پر موجود افسر کے فیصلہ کو تبدیل کروانے کی کوشش کو قبول کیا جائے گا۔ اور کیا ایسی کوشش کرنے والا شخص سیاست میں آگے بڑھنے کی امید کرسکے گا۔ وزیر اعظم بننے سے پہلے اعلیٰ ترین حاکم کا پروٹوکول اور استحقاق مانگنے والے عمران خان کیوں کر ان وعدوں کو پورا کرسکیں گے جو ملک کا نظام تبدیل کرکے ہر شہری کو مساوی موقع وعزت فراہم کرنے کے بارے میں کئے گئے ہیں۔

اس لئے یہ بات باعث استعجاب نہیں ہونی چاہئے عمران خان ان سیاسی لیڈروں کے سب سے مؤثر وکیل بن کر سامنے آئے ہیں جنہوں نے ماضی میں ہر چڑھتے سیاسی سورج کا ساتھ دیا ہے، فوجی آمریتوں کے ہاتھ مضبوط کئے ہیں اور جمہوریت کو اپنے ذاتی مفاد اور اقتدار کے لئے استعمال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے بارے میں کنگز پارٹی کا تاثر مستحکم ہؤا ہے اور بعض گمنام ٹیلی فون نمبروں سے متاثر کن گفتگو کرنے والے کرداروں نے بھی ہواؤں کا رخ دیکھنے والے ان سیاسی پرندوں کو تحریک انصاف کی طرف پرواز پر مائل کیا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران اس تبدیل ہوتی صورت حال کی وجہ سے عمران خان کو اندازہ ہؤا کہ وفادار کارکنوں کی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا کافی نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لئے ان لوگوں کو پارٹی میں شامل کرنا بھی ضروری ہے جو ایک خاص مدت یا سیاسی موسم کے لئے پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتے ہیں۔

باقی اداریہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 954 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali