اپنے سے نیچے والوں کو دیکھیں


پچھلے دنوں ایک حساس خاتون نے ایک ویڈیو شئیر کی جس میں ایک خوب صورت صحت مند خاتون اپنی بچی کو گود میں لیے رو رو کر اپنی معاشی پریشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے مدد طلب کر رہی تھیں۔ بس میں ایک بھکاری رقت آمیز آواز میں کہہ رہا تھا کہ اس کی تین جوان بہنیں ہیں اور کمانے والا کوئی نہیں۔

ہمارے ایک دوست کے داماد کا نتقال ہوا، کچھ دن بعد بیٹی اپنا مکان بیچ کر ان کے گھر آکر بیٹھ گئی اور تین سال وہ آئے روز دوسروں کے آگے اپنی کسمپرسی کا رونا روتی کہ، بیوہ ہوں بچوں کے اسکول کی فیس تک کے پیسے نہیں۔ ( اس کے بچے اب تک مہنگے اسکول میں پڑھ رہے تھے )۔

اگر خود داری، زہانت اور اپنی صلاحیت، محنت، اور موجود ہ وسائل کو مدِ نظر رکھ کر آمدنی کے مطابق اخراجات کیے جائیں تو فطرت ضرور مدد کرتی ہے۔ خود ترسی اور حالات پر کڑھنے کے بجائے خود پر بھروسہ کیجیے۔ ایمان رکھیے کہ آپ کے علاوہ آپ کا کوئی نہیں۔ وقت پڑا ہے تو اس کی آنکھوں میں آنکھیں ملائیں۔

ہر شخص کے لیے اس کی حیثیت اور آمدنی کے حساب سے مہنگائی ہے ورنہ تو کھلونے مہنگے ہیں نہ پھل، نہ چاکلیٹ اورنہ کیک کی قیمت زیادہ ہے نہ لباس اور زیور کے دام چڑھے ہیں۔ بے لگام ہماری خواہشات، بے قابو ہماری طمع اور ہمارے خواب ہمیں جاگنے نہیں دیتے۔

کم آمدنی والوں کے لیے شادی اور پھر بچے کی پیدائش اس سے بڑی خوشی ہے۔ بچہ، ترقی کرنے اور حالات بدلنے کا جذبہ بیدا ر کرتا ہے اس کی پیدائش سے لے کر اس کے بڑے ہو نے تک ایک ایک لمحہ خوشی سے لبریز ہو تا ہے لیکن اس کی خواہش کے بغیر اس کی پہلی سالگرہ پرہی آپ اسے بسورتے دیکھ کر بھی نہیں سمجھتے کہ اسے اصل میں کیا چاہیے۔ اس ایک مثال سے ظاہر ہے کہ بچے کے بہانے سے آپ خوشی کے چند لمحات ہتھیانا چاہتے ہیں۔ لیکن پھر جب یہ لمحات ہر گزرتے دن آپ کو آپ کی اوقات یاد دلاتے ہیں تو آپ خود ترسی میں مبتلا ہو جا تے ہیں۔ اور منہگائی کو کوسنے لگتے ہیں۔ بچوں کو کچھ نہیں چاہیے۔ شیشے میں چابی والی کار دیکھ کر پھٹی چپلیں پہنے آگے بڑھ جا تے ہیں۔ ان کی معصوم خواہشات نئے کھلونے کی طرح ہوتی ہیں۔ دھیان جلد ہی دوسرے کھلونے کی جانب ہو جا تا ہے۔ وہ تو مٹی کے کھلونوں اور سوجی کے حلوے سے بھی بہل جا تے ہیں۔ سالگرہ، کسی کی شادی، یا عید پر نئے کپڑوں کا ہونا ایسا ضروری بھی نہیں۔ بچوں کے اندر حالات کی سنگینی کا احساس اجاگر ہونا اچھی بات ہے اس سے ان میں غربت سے نکلنے کا جذبہ اور ترقی کی لگن پیدا ہوتی ہے۔

عام طور پرایک پڑھے لکھے غریب اور خاص طور پر عورت کو سب سے زیادہ اس بات کی فکر ہو تی ہے کہ کوئی اسے غریب نہ کہہ دے شادی بیاہ ہو یا کوئی خوشی کا موقع، جب وہ ہر زبان سے یہ الفاظ سنتا ہے کہ بھئی بہت عمدہ انتظام کیا ہے، تو بڑے فخر سے وہ خود کو ان لوگوں کے ہم پلہ محسوس کرتاہے، جن کی شادی میں اس نے یہ ہی انتظام دیکھا تھا۔

آج سے کوئی پچاس سال پہلے جب نمود و نمائش کا اتنا دور دورہ نہیں تھا۔ ہر شخص اپنی جیب کے حساب سے خرچ کرتا تھا۔ اور ایسا نہیں ہے کہ روکھی سوکھی کھانے کے باوجود کبھی کبھی فاقے بھی کرنے پڑ جا تے ہوں گے۔ کسی کی دوا دارو کے لیے قرض بھی لینا پڑجا تا ہوگا، تو اس میں کیا مضائقہ ہے۔ اگر آپ کی خودادری، میانہ روی، حالات لوگوں کے سامنے ہوں تو لوگ ضرور مدد کرتے ہیں لیکن اگر ہاتھ پھیلانے کی عادت پڑ ہی جائے تب لوگ اپنا ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔ یاد رکھیے اپنی ڈوبتی نیا کو آپ کے علا وہ کو ئی پار نہیں لگا سکتا۔

ہمت اور محبت بھرا دل ہو تو آپ دنیا کے عظیم انسانوں میں سے ایک ہیں، حالات، لوگوں کے بدلے رویئے اور قسمت کو اپنی ناکامی کا قصوار مت ٹھہرائیے، آپ اپنے شوق کی تکمیل میں نا کام ہو گئے ہوں یا من پسند شعبے میں سلیکشن نہ ہو سکا ہو یا اعلیٰ نوکری ہاتھ میں آتے آتے رہ گئی۔ کہیں نہ کہیں ان سب باتوں کا تعلق معاش سے جڑا ہو تا ہے۔ یہ معاش کیا ہے، دو وقت کی روٹی۔ مگر زبان کو ذائقے لگ جائیں اور ذہن نما ئشی چیزوں کو ضرورت جان لے تو سمجھو عقل خبط ہو گئی ہے، ضرورت اور خواہش میں فرق بھول گیا ہے۔ اس لیے ہم اپنی خواہشات پوری کرنے کے لیے اپنی ضروریات کو بھول جا تے ہیں اور جب ضرورت پیٹ میں کلبلاتی ہے تو بچوں کے گلے میں برائے فروخت کا بورڈ لگا دیتے ہیں۔

پیسہ سب سے گھٹیا اور فضول چیز ہے پیسے سے کچھ خریداجا سکتا ہے، تو بھی اور، نہیں ہے تو بھی خوشی اور غم کاتعلق پیسے سے نہیں جڑا۔ ذہانت، خوبصورتی ذات پر اعتماد، دوستی، محبت اور خوشی کا تعلق جو لوگ پیسے سے جوڑتے ہیں، دانش ورتو کجا انہیں ان پڑھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ سچی خوشی، سکون اور محبت اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں کسی کا ساتھ دینے میں خوشیاں بانٹنے میں غلطیاں نظر انداز کرنے میں معافی مانگنے اور دوسروں کو اچھا مشورہ دینے میں پوشیدہ ہے۔

ہمارے والد اکثر ہمیں یہ نصیحت کرتے۔ بیٹا اپنے سے نیچے والوں کو دیکھو اور شکر کرو۔ ایک دن ہم جھلا گئے۔ واہ اوپر والے تو ہمیں دیکھیں اور ہم نیچے والوں کو دیکھیں، اس طرح توہم سمجھیں گے کہ ہم تو بہت بہتر ہیں اور پھر آگے بڑھنے کی کوشش ہی نہیں گے۔ والد ہماری اس بات سے خوش ہوئے اور کہا۔ بات ٹھیک ہے لیکن شکر گزاری کے احساسات سے صلاحیتیں بہتر ہوں گی تب تو ترقی کر سکو گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں