حلب کے بے گناہوں کا خون


adnan-khan-kakar-mukalima-3

پانچ مارچ 2011 کو شام میں بھڑکنے والی خانہ جنگی کی آگ شام کے سب سے بڑے شہر حلب تک 19 جولائی 2012 میں پہنچی۔ حلب شام کا سب سے بڑا شہر ہے اور اس کی آبادی تقریباً پچیس لاکھ کے لگ بھگ تھی۔

انیس جولائی 2012 کو باغیوں نے حلب کے نواحی دیہات سے حلب پر حملہ کر دیا اور اسے صدر بشار الاسد کی فوج سے چھیننے کی کوشش کی لیکن جزوی کامیابی ہی حاصل کر پائے۔ اس وقت سے حلب مستقل جنگ کا شکار ہے۔ اس وقت شہر کا بڑا حصہ اور نواحی علاقہ صدر اسد کی فوج کے قبضے میں ہے۔ کچھ علاقہ کردوں کے کنٹرول میں ہے۔ اور کچھ باغیوں کے پاس ہے جن میں فری سیرین آرمی اور شامی القاعدہ النصرہ فرنٹ شامل ہیں۔ داعش بھی حلب کے گرد و نواح میں جنگ لڑ رہی ہے۔

حلب کی یہ جنگ گزشتہ تین سال اور نو ماہ سے شہر کے اندر لڑی جا رہی ہے۔ لامحالہ شہری آبادیاں دونوں طرف کے حملوں کا نشانہ بنتی ہیں اور جانی نقصان اٹھاتی ہیں۔ اسے شام کی جنگ میں ام الحرب، یعنی تمام جنگوں کی ماں کہا جاتا ہے۔ شامی حکومت شہر کے ایک بڑے حصے پر اپنا قبضہ قائم رکھنے میں کامیاب رہی ہے اور اسے شام کا لینن گراڈ قرار دیتی ہے۔

صدر اسد کی فوجوں نے باغیوں کے زیر قبضہ حلب پر بے رحمی سے بمباری اور گولہ باری کی ہے۔ اسد کا ایک نہایت جان لیوا ہتھیار بیرل بم ہے۔ ڈرم میں مختلف دھماکہ خیز اشیا اور دھاتی کے چھوٹے ٹکڑے ڈالے جاتے ہیں اور اسے ہیلی کاپٹر کی مدد سے دشمنوں کے علاقے پر پھینک دیا جاتا ہے۔ اسے ہوائی آئی ای ڈی کہا جاتا ہے، یعنی گھریلو ساختہ بم، جیسا کہ طالبان اور القاعدہ وغیرہ شام اور باقی دنیا میں استعمال کرتے رہتے ہیں۔ ایک ہزار کلو تک دھماکہ خیز مواد رکھنے اور نشانے سے دور گرنے کا نقص ہونے کی وجہ سے یہ غیر متحارب شہری آبادی کو بہت زیادہ جانی نقصان پہنچانے کا باعث بنتا ہے۔ ہزاروں عام شہری اس کا نشانہ بن کر مارے جا چکے ہیں۔ روسی فضائیہ کی سپورٹ ملنے کے بعد سے اب شامی فوج کی جانب سے بے دریغ فضائی بمباری میں بھی بے پناہ شدت آ چکی ہے جس میں شہری نشانہ بن رہے ہیں۔

Rif_Aleppo2
سرخ علاقے شامی حکومت کے کنٹرول میں ہیں، سبز باغیوں کے، پیلے کردوں کے، اور سرمئی داعش کے قبضے میں ہیں

دوسری طرف القاعدہ اور دوسرے باغی گروہ بھی کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ باغیوں کے پاس ہیلی کاپٹر نہیں ہیں اس لیے وہ بڑے بیرل بم استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ لیکن بے رحمی ان کا بھی وصف ہے۔ وہ اس کی بجائے چھوٹے گیس سیلنڈروں کو بم بنا کر شامی حکومت کے زیرقبضہ شہری علاقوں پر پھینک رہے ہیں۔ شہر کے اندر خودکش کار بم دھماکے بھی وہ کرتے رہے ہیں۔ پرانے تاریخی حلب کا ایک بڑا حصہ ان کی مہربانی سے زمین بوس ہو چکا ہے۔ پرانا حلب اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی تاریخ کا ورثہ قرار دیا جا چکا تھا اور اسے تہذیب انسانی کے اہم ترین آثار قدیمہ میں گنا جاتا تھا۔

حلب کی جنگ نے کئی موڑ لیے ہیں۔ شروع میں جب باغی شہر میں داخل ہوئے تو ان کا ایک بڑا ہدف گھروں میں لوٹ مار کرنا ہوتا تھا۔ جس فریق کی طرف سے ان کو لوٹ مار میں زیادہ حصہ ملنے کا امکان نظر آتا تھا، یہ اس کے ساتھ مل جاتے تھے۔ اس سے ان کے خلاف نفرت پیدا ہوئی۔ دوسری طرف صدر اسد کی بے دریغ بمباری سے صدر کے خلاف بھی جذبات جاگے۔ لاکھوں لوگ شہر سے کوچ کر گئے۔

جنگ میں لوگوں کی مشکلات اس وقت زیادہ بڑھیں جب غیر ملکی لڑاکے اس جنگ میں شامل ہوئے۔ عراق، چیچنیا، افغانستان، پاکستان، لیبیا اور فرانس سے جہادی ایک نمایاں تعداد میں حلب کی جنگ میں شامل ہوئے۔ دوسری طرف صدر اسد کی حمایت میں لبنان، ایران اور پاکستان سے جنگجو پہنچے۔ ان دونوں فریقوں کو مقامی شہریوں سے کوئی ہمدردی نہیں تھی۔ وہ تو بس اپنے اپنے مسلک کی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے۔ اس سے آمریت کے خلاف شروع ہونے والی جنگ ایک مسلکی رخ اختیار کر گئی۔ اس میں اپنی بقا کی خاطر مقامی غیر مسلموں نے بھی اپنے اپنے مسلح گروہ بنائے اور عام طور پر حکومت کی سپورٹ کی کیونکہ جہادیوں کی جانب سے وہ خود کو لونڈی غلام بنا کر بیچا جانا ہی دیکھ رہے تھے۔

جنگ کے شروع میں صدر اسد کی حکومت کمزور رہی تھی۔ سعودی عرب، قطر اور ترکی وغیرہ مل کر شامی باغیوں، حتی کہ القاعدہ اور داعش کی مدد بھی کر رہے تھے۔ لیکن ایرانی امداد کے ذریعے صدر اسد جنگ لڑتا رہا اور خاص طور پر ساحلی علاقوں پر اپنا کنٹرول باقی رکھا۔ داعش کے مغرب پر حملوں کے بعد امریکہ نے شامی جنگ میں اپنا رول کم کر دیا اور سعودی عرب کی ناراضگی بھی مول لی۔ دوسری طرف امریکہ نے ایران سے جوہری معاہدے کیے اور تعلقات نارمل بنائے۔ داعش کا مقابلہ کرنے کو اسے ایران ہی نظر آ رہا تھا۔ لیکن صورت حال میں ڈرامائی تبدیلی اس وقت آئی جب روس نے کھل کر صدر اسد کی حمایت شروع کر دی اور اس کی بے دریغ بمباری کے بعد داعش کی فتوحات کا سلسلہ پہلے رکا اور پھر سمٹنا شروع ہو گیا اور صدر اسد کی فوجیں کامیابی حاصل کرنے لگیں۔ اس سے پہلے نیٹو کی وجہ سے شامی فوجیں کھل کر ہوائی طاقت استعمال نہیں کر سکتی تھیں۔ لیکن روسی طیاروں کو روکنے کی ہمت مغرب میں نہیں تھی۔ ترک سرحد کی خلاف ورزی کا بہانہ بنا کر ترکی نے روس کا ایک بمبار طیارہ گرایا، مگر اس کے بعد ترکی کے طیاروں نے روس کے خوف سے شام پر اپنی پروازیں بند کر دیں حالانکہ اس سے پہلے وہ کردوں پر روٹین میں بمباری کر رہا تھا۔

اس وقت شام میں بڑی طاقتوں کے زور دینے پر کافی گروہوں میں جنگ بندی ہو چکی ہے۔ لیکن حلب پر قابض باغی گروہ اس معاہدے میں شامل نہیں ہیں اور حلب کی جنگ جاری ہے۔ جنگ میں اس وقت صدر اسد کا پلہ بھاری نظر آ رہا ہے۔

لیکن شہری علاقوں میں جب جنگ جب ہوتی ہے، تو شہری ہی مرتے ہیں۔ اب صدر اسد کی فوجیں بھی شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں اور باغیوں کی بھی۔

اس میں ہمارے ان لوگوں کے لیے سبق ہے جو ہر مسئلے کا حل جنگ میں دیکھتے ہیں۔ جنگ سے ملک تباہ ہوتے ہیں، شہری مرتے ہیں، شہری اپنا وطن چھوڑ کر دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ تبدیلی کا بہتر راستہ عدم تشدد کی تحریک ہی ہے۔

اگر افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کی حالت کو دیکھ کر بھی ہم یہ نہیں سمجھ سکتے ہیں تو بس افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ہم پاکستان میں رلتے ہوئے افغان مہاجرین کو دیکھ کر عبرت نہ پکڑ پائے تو ان شامی مہاجرین اور مرنے والے بچوں کی لاشوں کی تصویروں کو دیکھ کر ہم نے کیا سیکھنا ہے؟

شام کے معاملے میں ہماری ایک دو رخی اور سامنے آ رہی ہے۔ عمومی رویہ یہی ہے کہ سنی حضرات صرف صدر اسد کو برا بھلا کہہ رہے ہیں، ان سنی باغیوں کو کچھ نہیں کہہ رہے ہیں جو کہ وہی مظالم کر رہے ہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر ظلم کر رہے ہیں جو کہ صدر اسد کے ہاتھوں سرزد ہو رہے ہیں۔ شیعہ حضرات کو صرف سنی باغیوں کی غارت گری ہی نظر آ رہی ہے، اور صدر اسد کے مظالم کو وہ دیکھنے سے خود کو قاصر پاتے ہیں۔

گزشتہ جمعے کو حلب میں صدر اسد اور باغیوں دونوں نے مساجد کو نشانہ بنایا تھا اور نمازی مارے تھے، مگر کتنے لوگ ہیں جو دونوں کو برا کہہ رہے ہیں؟

اگر ہم انسانی جان کو مسلک کے ترازو میں تولیں گے اور ترازو میں صرف اپنے مسلک کے مردے ڈالیں گے، تو ہمارا شمار بھی ظالموں میں ہے۔ پھر بہتر ہے کہ ہم مذمت نہ ہی کریں۔ مذمت کرنی ہے تو سب ظالموں کی کریں اور غیر ملکی لڑاکوں کو شام سے دور رکھنے کی بات کریں۔ شامیوں کو اپنا مسئلہ خود حل کرنے دیں گے تو پھر ہی امن ہو گا۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 328 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar