ایران کھل گیا ہے


wusatullah khan(وسعت اللہ خان)

عالمی برادری میں ایران کی ایک بار پھر باضابطہ شمولیت کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ایران پچھلے سینتیس برس میں کسی نہ کسی قسم کی عالمی پابندیوں کی زد میں رہا ہے۔جب نومبر انیس سو نواسی میں ساٹھ امریکی سفارت کاروں اور شہریوں کو چار سو چوالیس دن کے لیے امریکی سفارتخانے میں یرغمال بنایا گیا تو امریکی بینکوں میں پڑے ایران کے اربوں ڈالر اثاثے اور منقولہ و غیر منقولہ املاک منجمد کر دی گئیں۔ستمبر انیس سو اسی میں شروع ہونے والی آٹھ سالہ عراق ایران جنگ کے دوران عراق کو تو خلیجی ممالک کی براہِ راست اور فرانس اور امریکا وغیرہ  کی بلاواسطہ مدد و تائید حاصل رہی مگر ایران کو اپنا جنگی بوجھ عسکری و غیرعسکری پابندیوں کے ساتھ خود اٹھانا پڑا اور معیشت کی کمر تقریباً ٹوٹ گئی۔تیل کی برآمد کہ جس پر اسی فیصد آمدنی کا دارو مدار تھا ٹھپ ہو گئی۔

بعد از جنگ امریکا نے ایران کو دہشت گردی برآمد  کرنے والے ممالک کی فہرست میں ڈالے رکھا اور نوے کی دہائی میں جزوی اقتصادی پابندیاں بدستور رہیں۔دو ہزار چار میں ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کا شاخسانہ شروع ہوگیا اور دو برس بعد مرحلہ وار پابندیوں کا نیا دور شروع ہوا جس نے بڑھتے بڑھتے اگلے چھ برس کے دوران عالمی اقتصادی ناکہ بندی کی شکل اختیار کر لی۔ عالمی بینکاری سے ایران کے رابطے کٹ گئے۔ بیرونی سرمایہ کاری کا تو خیر سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔

ایرانی ریال ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر ساٹھ فیصد تک کھو بیٹھا۔کساد بازاری پینتیس فیصد تک جا پہنچی۔گو ایران تیل کے عالمی ذخائر کے اعتبار سے چوتھا بڑا ملک ( ایک سو اٹھاون بلین بیرل ) ہے اور دو ہزار بارہ کی پابندیوں سے قبل تیل کی پیداوار کے لحاظ سے (ساڑھے چھ ملین بیرل روزانہ ) ساتواں بڑا ملک تھا مگر پابندیوں کے نتیجے میں تیل کی پیداوار اور برآمد پچاس فیصد گھٹ گئی۔

قدرتی گیس کے ذخائر کے اعتبار سے اگرچہ روس کے بعد ایران دنیا کا دوسرا بڑا ملک ( چونتیس ٹریلین کیوبک میٹر ) ہے اور پابندیوں سے پہلے گیس کی پیداوار کے لحاظ سے تیسرا بڑا ملک ( ایک سو باسٹھ بلین کیوبک میٹر سالانہ ) تھا۔مگر اقتصادی ناکہ بندی کے سبب گیس فیلڈزمیں غیرملکی سرمایہ کاری منجمد ہو گئی۔جب کہ تیل اور گیس کی پیداوار کے لیے درکار آلات و مشینری بھی نہیں منگوائی جا سکتی تھی۔

نتیجہ یہ نکلا کہ پندرہ سے پچیس برس تک کی نوجوان آبادی میں بے روزگاری کی شرح انتیس فیصد تک جا پہنچی۔ایران ایسے ملک کے لیے یہ بری خبر تھی جہاں خواندگی کا تناسب نوے فیصد سے زائدہے۔دوہزار بارہ میں قومی معیشت کا حجم چھ اعشاریہ چھ فیصد اور دو ہزار تیرہ میں لگ بھگ دو فیصد سکڑ گیا۔

تاہم دو ہزار تیرہ میں صدر حسن روحانی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد معاشی اصلاحات کے نتیجے میں قومی آمدنی میں ٹیکسوں کا تناسب چودہ فیصد تک بڑھایا گیا اور قومی بچت کی شرح بتیس فیصد تک پہنچائی گئی۔چین و بھارت وغیرہ سے باہمی تجارت میں بڑہوتری کے سبب بھی معاشی گراوٹ کا عمل قدرے تھما اور دو ہزار چودہ میں معاشی ترقی کی شرح میں کئی برس بعد چار اعشاریہ تین فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا۔جب کہ افراطِ زر پنتیس فیصد سے کم کر کے پندرہ فیصد تک لایا گیا۔

مگر ایران کو اقتصادی گرداب سے نکالنے اور بین الاقوامی پابندیوں کا منحوس چکر ختم کرنے کے لیے ضروری تھا کہ جوہری بحران کو ترجیحی بنیاد پر حل کیا جائے اور سابق صدر احمدی نژاد کی سخت گیر محاذ آرا پالیسیوں کو مصلحت و مصالحت سے بدلا جائے۔کیونکہ اندرونِ ملک اقتصادی گھٹن کے ایک بھرپور سیاسی بے چینی میں بدلنے کے تمام اجزائے ترکیبی کسی بھی وقت سماجی ٹائم بم میں بدل سکتے تھے۔

چنانچہ قدامت پسند ایرانی قیادت کو چار و ناچار صدر حسن روحانی کی اعتدال پسند قیادت کو جوہری پروگرام محدود کرنے کا مینڈیٹ دینا پڑا۔اگرچہ صدر روحانی کی آدھی مدتِ صدارت یعنی ڈھائی برس انھی کوششوں میں صرف ہوگئے۔مگر ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے کا پھل عالمی اقتصادی پابندیاں اٹھائے جانے کی صورت میں برآمد ہوا۔

اقتصادی پابندیوں کے خاتمے سے صرف ایران ہی کو نہیں مغرب کو بھی اچھے خاصے فائدوں کی امید ہے۔اس وقت ایرانی معیشت کا حجم چار سو سولہ بلین ڈالر اور زرمبادلہ کے زخائر چھیانوے بلین ڈالر ہیں۔مختلف عالمی بینکوں میں منجمد ایک سو بلین ڈالر ان کے علاوہ ہیں۔منجمد اثاثوں میں سے تیس بلین ڈالر تک ایران کی رسائی فوری طور پر ہو جائے گی۔توقع ہے کہ نئے مالی سال کے دوران ایرانی معیشت کے حجم میں چھ فیصد تک اضافہ ہوگا۔

ایران کو اگلے دس برس میں شہری ہوابازی کا بیڑہ مکمل طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔چنانچہ پابندیاں اٹھنے کے چند گھنٹے کے اندر ہی ایران نے یورپی طیارہ ساز ادارے ایئر بس سے بیس بلین ڈالر کا سودا طے کرنے کا عندیہ دیا۔یعنی ایران اگلے پانچ برس میں ایئر بس سے ایک سو چودہ مسافر بردار طیارے خریدے گا۔

دو ہزار دس تک یورپی یونین اور ایران کی باہمی تجارت کا حجم  بتیس بلین ڈالر کے لگ بھگ تھا۔اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں یہ تجارت سکڑ کر نو بلین ڈالر تک رہ گئی۔لیکن اب تیل اور گیس کے ذخائر کو ترقی دینے کے لیے فرانسیسی ، جرمن اور اطالوی کمپنیوں نے بھاری سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے۔

جب کہ یوکرین کے معاملے پر روس کے ساتھ کشیدگی کے نتیجے میں یورپی یونین روسی گیس پر اپنے ایک تہائی دارومدار کو کم کرنے کے لیے ایران سے جنوبی یورپ تک سادرن گیس کاریڈور کے منصوبے پر تیزی سے کام کرنے کی خواہش مند ہے۔یہ مجوزہ گیس پائپ لائن براستہ ترکی یونان جائے گی۔

اس وقت  ایران کی مجموعی تجارت کا دس فیصد ترکی کے ساتھ ہے۔ترکی کی ساٹھ فیصد گیس ضروریات روس پوری کرتا ہے۔لیکن روس اور ترکی کے درمیان شام کی خانہ جنگی کے تناظر میں بڑھتے ہوئے عناد کے سبب اب ترکی بھی ایرانی گیس کا بڑا خریدار بننا چاہتا ہے۔

چین کے صدر زی پنگ دو روز بعد تہران پہنچنے والے ہیں۔اس وقت چین اور ایران کی تجارت کا حجم اکتالیس ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔چین کی بڑھتی ہوئی صنعتی ضروریات کا تقاضا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان چپقلش اس حد تک نہ پہنچ جائے کہ اس کی تپش دنیا کے بیس فیصد تیل کی آبی گذرگاہ آبنائے ہرمز محسوس کرنے لگے۔چنانچہ جس وقت آپ یہ سطریں پڑھ رہے ہوں گے صدر زی پنگ ریاض میں شاہ سلمان سے مل رہے ہوں گے۔بعد ازاں وہ تہران پہنچیں گے اور ایران  کو روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے میں شمولیت کی دعوت دیں گے جس کا پاکستان پہلے ہی حصہ بن چکا ہے۔

بھارت کو ایرانی تیل کی چین سے بھی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ بھارت میں نئی گاڑیوں کے سڑک پر آنے کا سالانہ تناسب چین سے دس فیصد زیادہ ہے اور بھارت آنے والے برسوں میں معاشی ترقی کی نمود ساڑھے سات فیصد سالانہ سے نیچے نہیں گرانا چاہتا ورنہ مودی سرکار کا اچھے دن لانے کا وعدہ خود مودی سرکار کے برے دن لا سکتا ہے۔آنے والے دنوں میں بھارت کو ایرانی تیل کی فراہمی دو لاکھ بیرل روزانہ سے بڑھ کرڈھائی لاکھ بیرل ہونے والی ہے۔بھارت کا ریلائنس گروپ ایرانی تیل و گیس کی صنعت میں سرمایہ کاری کے لیے سخت بے چین ہے۔

یہ تاریخ کا عجیب موڑ ہے جہاں پہلی بار عالمی منڈی میں تیل کا اسٹاک عالمی طلب سے سترہ فیصد زائد ہے۔چین اور امریکا سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کے پاس ہنگامی زخائر کی گنجائش تہتر ملین بیرل ہے اور اس وقت ان ذخائر میں چونسٹھ ملین بیرل تیل بھرا ہوا ہے۔خریدار کم اور پیداوار اضافی ہونے کے نتیجے میں پچھلے دو برس کے دوران تیل کی قیمت میں ستر فیصد تک کمی ہوئی اور اس وقت تیل کی عالمی قیمت اٹھائیس ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے جو پچھلے تیرہ برس میں سب سے  کم قیمت ہے۔

اگلے چند دنوں میں ایران کا کم ازکم پانچ لاکھ بیرل اضافی تیل بھی مارکیٹ میں پہنچنے والا ہے۔ اندازہ ہے کہ دسمبر تک عالمی منڈی میں ایرانی تیل کی رسد موجودہ ساڑھے تین ملین بیرل سے بڑھ کے سات ملین بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔اس کے نتیجے میں تیل کی قیمت بیس ڈالر سے بھی نیچے جانے کا قوی امکان ہے۔

چونکہ سعودی عرب اور ایران میں جاری چپقلش ختم ہونے کا بظاہر فوری امکان نہیں لہذا دونوں ممالک تیل کی پیداوار میں کمی کر کے قیمتوں کو مستحکم کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو پیداوار کی مار ماریں گے اور اس پیداواری جنگ کے نتیجے میں یہ بھی ممکن ہے کہ تیل کی قیمت دس ڈالر فی بیرل تک گر جائے۔اس جنگ سے ایران اور سعودی عرب فتح مند نکلیں نہ نکلیں مگر تیل پیدا کرنے والے دیگر ممالک کی معیشت ضرور لڑکھڑا سکتی ہے جس کے مثبت و منفی اثرات باقی دنیا پر بھی لامحالہ پڑیں گے۔

کیا ایران پر عالمی پابندیوں کے خاتمے سے پاکستان کو بھی فائدہ پہنچے گا۔اگر مجوزہ گیس پائپ لائن کو بیچ میں سے نکال دیا جائے تو اس وقت دونوں ممالک کی تجارت کا حجم محض دو سو سولہ ملین ڈالر ہے۔ اس میں بھی پاکستان کا درآمدی حصہ باون ملین ڈالر اور ایران کاحصہ ایک سو چونسٹھ ملین ڈالر ہے۔ لہذا اس تجارت کا ہونا نہ ہونا کم ازکم ایران کے لیے برابر ہیِ۔ روابط کا عالم یہ ہے کہ ایران کے لیے  پی آئی اے اور ایران ائیر کی پاکستان کے لیے ہفتے میں ایک ایک پرواز ہے۔ان حالات میں پاک ایران تجارتی روابط کی گنجی کیا نہائے کیا نچوڑے؟


Comments

FB Login Required - comments