عمران خان صاحب۔۔۔ سیاسی ضد اور عزم کے پیرائے


mubashir akramسوچا کہ  عمران خان صاحب پر شغل میں بہت کچھ تحریر کرتا ہی رہتا ہوں، جو میرے انصافی یاروں کو ان کے بقول میرے پٹواری ہونے کی واحد دلیل محسوس ہوتا ہے، تو کیوں نہ اک نسبتا سنجیدہ خیال انکی ذات کے حوالے سے تحریر کر لیا جائے۔ خیال یہ بھی ہے کہ جس سیاسی رویے کی بنیاد سیاسی نفرت پر اٹھائی گئی ہو، اور اسے معاشرے میں موجود اک عمومی بےچینی کے ساتھ نتھی کر دیا جائے تو ایسے اذہان کے ساتھ دلیل اور منطق کے دھیمے سُر کام نہیں کرتے، مگر جہاں اتنے ڈھول باآواز بلند بج رہے ہوں، وہاں میرا اک  ہلکی تال پر کیا نقصان کرے گا؟ لہذا آج کا خیال ضد اور عزم میں فرق کے حوالے سے ہے۔

ضد اور عزم، میرے خیال میں اردو زبان کی نسبت انگریزی زبان میں بہتر  شرح رکھتے ہیں۔ ضد کا قریب ترین لفظ Stubbornness  ہے جبکہ عزم، Resolve  کے قریب تر آتا ہے۔ ضد، صاحبو، ردعمل میں اختیار کی جاتی ہے، اور اس میں اپنے سامنے کی منزل سے کہیں زیادہ، حال کی اس گھڑی میں، جب یہ اختیار کی جا رہی ہوتی ہے، اپنی ذات کی انا اور اپنی ناکامی کا نوحہ باآواز بلند پڑھنا، مگر سُر اور الفاظ کچھ بھی ہو سکتے ہیں، کہیں ضروری محسوس کیا جاتا ہے۔ ضد کے معاملے میں اپنی ذات کو  Externalize  کرتے ہوئے، دلیل اور منطق نہیں، بلکہ غصہ اور  جذباتیت والی کیفیات حاوی ہوتی ہیں۔ اور اس کے مشاہدات آپ کو اپنے آس پاس کئی مرتبہ ہوئے ہونگے، اور اس انسانی رویہ کا شکار، آپ اور میں اپنی زندگیوں میں بارہا ہوچکے ہوں گے کہ جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ مشق، لاحاصل ہے، مگر ہم اپنی زندگی کی Vision نہیں، بلکہ اپنی انا اور کسی بھی معاملہ میں ناکامی کی آکاس بیل کو مسلسل اپنے جذبات، منفیت اور وقت کا پانی دے رہے ہوتے ہیں۔

عزم، یعنی  Resolve ضد کا مکمل الٹ ہے۔ عزم اپنی انا اور ناکامی کے معاملات کو Externalize  نہیں، بلکہ Internalize  کرتا ہے ۔ ا س میں انسان، اپنے کسی بھی منصوبہ کی ناکامی میں طبیعت میں اک خاموش تجزیہ لے کر آتا ہے اور  اسی معاملہ پر دوبارہ سے کوشش کرتے ہوئے، اپنے  Vision  کو حاصل کرنے، یا کم از کم، اس کی جانب بڑھنے کی کوشش  کرتا ہے۔ ناکامی انسان کو، میرے مشاہدہ کے مطابق، تین آپشنز دیتی ہے: ضد، عزم اور  دستبرداری کا۔ دستبرداری کا آپشن بھی برا نہیں ہوتا، کہ اگر اک اپروچ سے کام نہیں ہو سکا تو کوئی دوسرا رستہ اختیار کرکے اپنی منزل کی جانب بڑھا جائے، اور بڑھا جا سکتا ہے۔ دست برداری بھی کئی مرتبہ عزم کا حصہ ہوتی ہے، مگر ضد میں اسی کیفیت کا نام، فرار کہلوا سکتا ہے۔ خیر، عزم کے معاملہ میں انسان کو سب سے زیادہ وزن اپنی ذات پر ہی سہنا پڑتا ہے، اور یہ آسان نہیں ہوتا۔ مگر جناب، کامیابی کبھی آسان بھی ہوتی ہے؟ کیا ہو بھی سکتی ہے؟ پُر عزم شخص، معاملات کو غیرجذباتی انداز میں دیکھتا ہے، اپنی کمزوریوں اور مضبوطیوں کا اک نہایت غیر جذباتی تجزیہ کرتے ہوئے، زمان ومکاں کے حقائق کے مطابق اپنے  اور دوسروں کے لیے ممکنات تراشتے ہوئے، آگے بڑھنے کے رستہ تلاش کرتا ہے۔ میں جو آج تک سمجھ پایا ہوں، وہ یہ ہے کہ ضد اور عزم میں سب سے بنیادی فرق غیرجذباتی تجزیہ اور اپنی انا کی آکاس بیل کو اپنے غصے کا پانی لگانے کا ہی ہے۔ فرق صرف یہ کہ پہلے والا رویہ، انسان، گروہ اور قوم کو آگے لے جاتا ہے، جب کہ  دوسری روش، ایمپائر کی انگلی  کی تلاش کا “انڈیانا جونز” بنا ڈالتا ہے، جو کبھی ملتی ہے، کبھی نہیں مل پاتی۔

تحریک انصاف، پاکستان کی اک سیاسی جماعت بن چکی ہے۔ اس کے کارکنان کو مسلم لیگ کی نفرت میں بنائے گئے اک سیاسی بیانیہ سے اوپر اٹھ کر اپنی اور دوسروں کی سیاست کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس نفرت نے نہ صرف طرفین کے کارکنان کے گفتار و بیان کا تیاپانچہ کیا ہے، بلکہ اس نے ان نوجوانوں کو  بھی مایوس کیا ہے کہ جنہوں نے عمران خان صاحب کی ٹوکری میں اپنی  سیاسی امیدوں کے جمہوری  انڈے ڈالے تھے ۔

آخر میں یہ کہ، عمران خان صاحب اور تحریک انصاف کو مکمل اور مسلسل سپورٹ کرنا اس کے کارکنان کا سیاسی، جمہوری اور سماجی حق ہے۔ مگر سیاسی اعتماد اور اک نابینا سیاسی تقلید میں فرق باقی رہے، تو بہتر ہے۔ ضد اور عزم کا فرق، پورے حسنِ طبیعت سے آپ کی نذر کیا۔ ممکن ہے کہ میرا مشاہدہ غلط ہو، تو اس صورت میں آپ تصحیح کر دیجیے، مگر اک مکالمہ کی فضا میں کہ شورش اور شوریدگی صرف جانوروں کو راس آتی ہے، اور میرے خیال میں کوئی جانور اردو نہیں پڑھ اور بول سکتا۔

آپ سب کو  سیاسی (اور مذہبی) غیرمقلد بن کر جینے کی دلی دعا ہے۔ اس آزادی میں، صاحبو، بڑا “سواد” ہے، واللہ!


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “عمران خان صاحب۔۔۔ سیاسی ضد اور عزم کے پیرائے

  • 03-05-2016 at 3:47 pm
    Permalink

    Mubashar Sb, nice analysis. I remember that in 2013, my cousin told me that PTI was adopting agitational politics of 1990, because it seemed the easiest way to grab the attention .

Comments are closed.