جمہوریت کو الزام نہ دو


umar farooq2008 میں جب دس سالہ آمریت کے بعد جمہوری حکومت نے اپنا سفر شروع کیا تو یہ امید بندھی تھی کہ اب یہ ملک عوام کی مرضی اور منشاء سے منتخب کردہ سیاسی قوتوں کے ذریعے ہی آگے بڑھے گا اور اس میں ماضی کی طرح غیر جمہوری قوتوں کی طرف سے مزید گند نہیں گھولا جائے گا لیکن ایسا نہ ہوا۔ جمہوری حکومت کو ٹھیک سے سنبھلنے بھی نہ دیا گیا تھا کہ اس کے لیے مسائل کھڑے کرنے شروع کر دیے گئے۔ ہر آنے والے دن کا سورج عوامی حکومت کے لیے ایک نیا امتحان لیے طلوع ہوتا اور وہ جمہوری حکومت کہ جس نے ملک و قوم کے لیے فلاح اور ترقی کے لیے اپنی طاقت، وسائل اور صلاحیتوں کوا ستعمال کرنا ہوتا، کی بجائے اس نئے امتحانی پرچے کو حل کرنے میں مجبوراً مگن ہو جاتی تاکہ اپنے اوپر لگے داغوں کو مٹا کر آگے بڑھا جائے۔ ایک سے بڑھ کر ایک مشکل مرحلے کو پار کرنے کے بعد یہ امید جاگتی کہ شاید اب راستہ کچھ صاف ہوا ہے اور اب ہم آگے چل نکلیں گے مگر ایسا ممکن نہ ہوا۔ امتحانوں میں گھری اس جمہوری حکومت نے مگر پھر بھی بہت سارے اہم کام کر دیے۔ لنگڑی لولی جمہوریت نے صوبوں کو خود مختار بنانے کے لیے اٹھارہویں آئینی ترمیم کا تحفہ دے دیا۔ نئے نئے الزامات (جو کہ کبھی ثابت نہیں ہو سکے) سے نبرد آزما جمہوریت نے عوام کی رائے سے منتخب کردہ پارلیمنٹ کی بالا دستی کو قائم کرنے کے لیے اقدامات کئے۔ مسائل کی دلدل میں پھنسی جمہوری حکومت نے دہشتگردوں کے خلاف پوری قوم کو ایک جگہ اکٹھا کر کے اس ناسور کے خاتمے کے لیے آپریشن کا آغاز کیا۔ این ایف سی ایوارڈ پر تمام صوبوں میں اتفاق پیدا کیا۔ اداروں کا احترام قائم رکھنے کے لیے ایک منتخب وزیر اعظم کو گھر بھیج دیا گیا ۔ لیکن اس سب کے باوجود سیاسی عمل اور جمہوریت اُن کی آنکھوں میں کھٹکتی رہی جن کو اس ملک میں تقدس کے لبادوں میں لپیٹ کر رکھا جاتا ہے۔

موجودہ حالات میں جب یہ ملک دہشتگردی اور انتہا پسندی کی آگ میں جل رہا ہے ایک بار پھر سیاست اور جمہوریت ان کے نشانے پر ہے۔ احتساب کے نام پر ایک بار پھر جمہوریت اور سیاست کو بدنام کر کے ان پر سے لوگوں کا یقین ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ سیاست کو ایک مکروہ اور ناپاک عمل ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کون کہتا ہے کہ یہاں کرپشن نہیں ہے؟ کرپشن ہے اور ہر جگہ ہے اور اس کرپشن کا خاتمہ ہونا چاہیے لیکن اگر اس کرپشن کرپشن کا ورد کر کے سیاسی عمل اور جمہوریت جو کہ اس ملک کی بقاء کی ضامن ہیں، سے لوگوں کو بدظن کرنے کی کوشش کی جائے تو ایسا کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دی جا سکتی۔ ماضی میں کھیلے جانے والے احتساب کے نام پر جمہوری حکومتوں کے خاتمے کا یہ کھیل اب کی بار نہیں کھیلا جانا چاہیے۔ ہم تو اب تک ان اقدامات کا خمیازہ بھگت رہے ہیں جو کہ ماضی میں میرے عزیز ہم وطنو کے نام سے اپنی تقریریں شروع کرنے والوں نے اس ملک اور اس میں بسنے والے لوگوں کو جمہوریت سے دور رکھنے کے لیے کیے۔ ٹریڈ یونین پر پابندی سیاستدانوں نے تو نہیں لگائی تھی، طلباء یونینز کو سیاستدانوں نے تو بین نہیں کیا تھا، عوامی مقامات پر سیاسی گفتگو سے پرہیز کے نوٹس سیاسی حکومتوں نے تو نہیں لگوائے تھے۔ یہ سب تو تقدس کے لبادے میں لپٹے انہی لوگوں نے کیا ہےجو کہ اپنے کیے پر خود کو احتساب کے لیے پیش کرنے کو تیار نہیں۔

سیاست سے لوگوں کو بدظن کیا گیا اور جمہوریت کو بار بار بوٹوں کی گرد میں دبا دیا گیا تو پھر یہاں سیاسی عمل کیونکر مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے؟ جمہوریت کیسے اپنے ثمرات دکھا سکتی ہے کہ جب اس کے ہاتھ پیر باندھ دیئے جاتے رہے ہیں اور اس کی آبیاری کرنے والے سلسلوں کو ہی بند کر دیا جاتا رہا ہے؟ عوامی حکومتوں کا احتساب کرنا اس عوام کا کام ہے جو ان حکومتوں کو اپنے ووٹوں سے قائم کرتے ہیں۔ عوام کی مرضی سے قائم شدہ جمہوری حکومتوں کو احتساب کے نام پر الٹ دینا تو از خود ایک غیر آئینی اقدام ہے اور آئین کی رو سے غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ میری ناقص عقل اور رائے کے مطابق تو ہم انہی غیر آئینی اقدامات کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں۔ لیکن ہماری بد قسمتی ہمیشہ یہی رہی ہے کہ ہم ان ذمہ داران کو کبھی ان کے ایسے اقدامات پر جوابدہ نہیں بنا سکے، انکا احتساب نہیں کر سکے اور ان کو قانون کے مطابق سزائیں نہیں دلوائی جا سکیں۔ سیاسی حکومتوں نے جب بھی کبھی ایسا کرنے کا سوچا تو دما دم مست قلندر ہو گیا۔

ہمارے رویے کچھ عجیب اس طرح بھی ہیں کہ ہم ملزم اور مجرم میں فرق نہیں کر سکتے یا کرنا نہیں چاہتے۔ الزام تو کسی پر بھی کوئی بھی لگا سکتا ہے اور جب کسی پر الزام لگتا ہے تو اس کو ملزم کہا جاتا ہے اور اس پر اس الزام کو قانونی طریقہ کار کے تحت ریاست کے نظام کے مطابق ایک طے شدہ عمل کے ذریعے جب ثابت کر دیا جاتا ہے تو تب وہ ملزم مجرم قرار پاتا ہے اور پھر اس کی سزا جزا کا فیصلہ ریاستی ادارے ملکی قوانین کے مطابق طے کرتے ہیں اور ایسا کرنے میں کسی فرد گروہ یا ادارے کی مرضی یا خواہشات کو مد نظر نہیں رکھا جاتا یا جا سکتا۔ ہم سب نے اپنے ایسے ہی رویوں “جو کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پروان چڑھائے گئے ہیں” کی وجہ سے اپنا بہت نقصان کیا ہے۔ موجوودہ حالات میں ایک بار پھر یہی کھیل دوبارہ کھیلا جا رہا ہے لیکن ہم سب کو اس سارے کھیل میں سمجھداری دکھانا ہو گی۔ الزام لگا کر کسی کے بارے میں سزا جزا کا فیصلہ کر دینے کے عمل کو ہمیں رد کرنا ہو گا۔ اور اس سارے عمل میں جمہوریت جو کہ اس ملک کی بقاء کی ضامن ہے، پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرنا ہوگا۔ کسی فرد یا خاندان پر لگنے والے الزامات جو کہ ابھی ثابت ہونا باقی ہیں، کو جمہوریت پر وار کرنے کے لیے استعمال ہر گز نہیں ہونے دیا جانا چاہیئے۔

 ہم تو یہ سبق بہت پہلے سے پڑھتے اور پڑھاتے آئے ہیں کہ جمہوریت میں اقتدار کے “مالک” عوام ہو ا کرتے ہیں اور ان کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی منتخب کردہ حکومتوں کا احتساب کریں اور منتخب حکومتیں بھی اس بات کی پابند ہوتی ہیں کہ وہ عوام کے سامنے جوابدہ ہوں۔ عوام کے پاس سیاست ہی وہ راستہ ہوتا ہے کہ جس کے ذریعے وہ اقتدار میں شامل ہو سکتے ہیں، اپنے حقوق کا دفاع کر سکتے ہیں، اپنی قسمتوں کی فیصلے کر سکتے ہیں یا ان پر اثر انداز ہو سکتے ہیں لہٰذا ہم کسی بھی ایسے عمل کو نہ سپورٹ کرتے ہیں اور نہ تسلیم کرتے ہیں جو کہ سیاست جیسے مقدس عمل کو بدنام کرے اور جمہوریت کواس ملک کے مسائل پر مورد الزام ٹھہرائے بلکہ ہمارا یہ ماننا ہے کہ اس ملک میں تمام مسائل کی وجہ غیر جمہوری ادوار ہیں، غیر جمہوری طریقوں سے اقتدار پر قبضہ کرنے والے لوگ ہیں اور ان کے غلط پالیسیاں اور فیصلے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ملک کی بقاء جمہوریت میں ہے اور مضبوط جمہوریت ہی ایک بہتر، پر امن اور خوشحال پاکستان کی ضامن ہے۔

 


Comments

FB Login Required - comments