ملتان کا انتخابی ’’گھڑمس‘‘


یوں تو ٹکٹوں کی تقسیم پر پورے ملک میں ہی آپا دھاپی کی کیفیت ہے مگر ملتان میں جو گھمسان کا رن پڑچکا اس کی عکاسی کے لئے ’’گھڑمس ‘‘ کا لفظ ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ملتان میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 154میں تاحال نہ تو مسلم لیگ(ن) اپنے امیدوار کا اعلان کر سکی ہے اور نہ ہی پی ٹی آئی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ کس کو ٹکٹ دینا ہے۔

گومگو کی اس کیفیت کا کریڈٹ جاتا ہے سابق وفاقی وزیر الحاج سکندر بوسن کو جو ابھی تک خلا میں معلق ہیں اور یہ واضح نہیں کہ وہ کس انتخابی نشان پر الیکشن لڑیں گے ۔سابقہ انتخابات کے موقع پر بھی وہ پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ،اسٹیج پر بیٹھے دکھائی دیئے مگر عین وقت پر چکمہ دے گئے اور پتہ چلا کہ اب وہ شیر کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑ رہے ہیں مگر اسکے باوجود تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان انہیںپلیٹ میں رکھ کر ٹکٹ دینے کو بیتاب ہیں ۔

پیپلز پارٹی سے تحریک انصاف میں شامل ہونیوالے سابق رُکن صوبائی اسمبلی احمد حسن ڈیہڑ کے چاہنے والوں نے بنی گالا کے سامنے احتجاجی دھرنا دیکر رنگ میں بھنگ نہ ڈال دی ہوتی تو اب تک نیا پاکستان بنانے کے لئےحاجی سکندر بوسن کی خدمات حاصل کی جا چکی ہوتیں ۔دوسری طرف مسلم لیگ (ن) نے بھی تمام آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں ۔سکندر بوسن کے متبادل کے طور پر شہزاد مقبول بھٹہ کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا جو اسی حلقے سے مسلم لیگ(ن)کے ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہوئے تھے لیکن ہفتہ کی شام امیدواروں کی جو فہرست جاری کی گئی ہے اس میں این اے 154سے کسی کو ٹکٹ نہیں دیا گیا ۔

ممکن ہے مسلم لیگ (ن) اب بھی یہ سوچ رہی ہو کہ شاید ’’وہ لوٹے تو میرے پاس آئے ‘‘۔جمال لغاری کے بعد سکندر بوسن کی ویڈیو جس طرح سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اس سے لاہور اور اسلام آباد میں بیٹھے تجزیہ نگار یہ تاثر لے رہے ہیں کہ الیکٹیبلز کا زمانہ بیت چکا لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں اب بھی گیم الیکٹیبلز کے ہاتھ میں ہے ۔

الیکٹیبلز کے اس بے رحم کھیل کا نتیجہ دیکھیں کہ جاوید ہاشمی جو یہ توقع کر رہے تھے کہ پارٹی انہیں پلیٹ میں رکھ کر ٹکٹ پیش کریگی ،عین وقت پر وہ پلیٹ ہی اڑن چھو ہو گئی اور انہیں انتخابی سیاست سے باہر کر دیا گیا ہے۔جاوید ہاشمی نے قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے ،این اے 155اور این اے 158۔این اے155سے پی ٹی آئی کے عامر ڈوگر کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) نے شیخ طارق رشید کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ این اے 158شجاع آباد سے جاوید علی شاہ کو میدان میں اتار اگیا ہے ۔

جاویدہاشمی کو نظر انداز کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اب الیکٹیبل نہیں رہے ۔بدقسمتی سے وہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے مقامی کارکنوں میں یکساں طور پر غیر مقبول ہیں۔یہ وہ حلقہ ہے جو پہلے این اے 149کہلاتا تھا اور یہاں سے شیخ طارق رشید نے 2008ء میں لیاقت ڈوگر کو 13ہزار ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی ۔2013ء کے عام انتخابات میں طارق رشید جاوید ہاشمی کے خلاف 10ہزار ووٹوں کے فرق سے ہار گئے اور پھر جب ضمنی الیکشن ہوا تو عامر ڈوگر یہ نشست جیتنے میں کامیاب رہے ۔اب اس نشست پر بھرپور مقابلہ متوقع ہے ۔

ملتان میونسپل کارپوریشن کے علاقوں پر مشتمل دوسری نشست این اے 156ہے جہاں سے شاہ محمود قریشی کے مقابلے میں عامر سعید انصاری کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔یہ حلقہ جو پہلے این اے 150کہلاتا تھا ،ان 17حلقوں میں شامل ہے جہاں سے مسلم لیگ (ن) نے پرویز مشرف کے دور ِحکومت میں انتہائی زیر عتاب ہونے کے باوجود 2002ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی ۔2002ء اور پھر 2008ء کے انتخابات میں یہاں سے رانا محمود الحسن مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوتے رہے مگر 2013ء میں انہیں شاہ محمود قریشی نے شکست دی تو مسلم لیگ(ن) نے سینیٹر بنا دیا ۔

یہاں سے رانا محمود الحسن کے بھائی رانا شاہد الحسن کو ٹکٹ دینے کو عندیہ دیا گیا تھا مگر پارٹی کے دیگر دھڑوں کی شدید مخالفت کے بعد اس فیصلے پر نظر ثانی کرنا پڑی اور پارٹی قیادت کو وحید آرائیں گروپ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔اب ڈپٹی میئر اور سابق ایم پی اے سعید انصاری کے فرزند عامرسعید انصاری قومی اسمبلی کی نشست پر امیدوار ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی کی تین نشستوں پر احسان الدین قریشی ،آصف رفیق رجوانہ اور تسنیم کوثر صاحبہ کو ٹکٹ دیئے گئے ہیں ۔ آصف رفیق گورنر پنجاب رفیق رجوانہ کے فرزند ہیں جبکہ شاہ محمود قریشی کے مقابلے میں پی پی 217سے مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ ہولڈر تسنیم کوثر میئر نوید الحق آرائیں کی بھابھی یعنی وحید ارائیں کی اہلیہ ہیں ۔

اس حلقے میں شاہ محمود قریشی کی پوزیشن بہتر ہو سکتی تھی مگر ’’سجی دکھا کر کھبی مارنے ‘‘کے سبب انکا تشخص بہت خراب ہوا ہے اور پھر صوبائی اسمبلی کی نشست اپنے پاس رکھ کر گویا انہوں نے اپنے پیروں پر کلہاڑی مار لی ہے ۔

شاہ محمود قریشی کے بارے میں واقفان حال بتاتے ہیں کہ وہ انتخابی مہم پر ذاتی جیب سے خرچ کرنے کو اسر اف اور گناہ خیال کرتے ہیں اس لئے ہر وقت کوئی نہ کوئی فنانسر ان کی جیب میں ہوتا ہے۔گزشتہ کئی برس سے قریشی صاحب کی انتخابی مہم پر سرمایہ کاری کی ذمہ داری سلمان نعیم شیخ نے سنبھال رکھی تھی جو فوڈ آئٹمز کا کاروبار کرتے ہیں ۔انہیں یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ پی ٹی آئی کی طرف سے صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ آپ کو دیا جائے گا لیکن کروڑوں روپے لگانے کے باوجود یہ وعدہ وفا نہیں ہوا ۔

شاہ محمود نے یہ سوچ کر صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ اپنے پاس رکھ لیا کہ اگر ان کے وزیراعظم بننے کی کوئی صورت نہ نکل سکے اور وزیراعلیٰ پنجاب بننے کا موقع آئے تو وہ اس سے فائدہ اٹھاسکیں۔

این اے 158جو تحصیل شجاع آباد کے مختلف علاقوں پر مشتمل ہے یہاں سے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں۔تحریک انصاف نے ابراہیم خان کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ مسلم لیگ(ن) کے امیدوار جاوید علی شاہ ہیں ۔نواب لیاقت علی خان کا شمار بھی الیکٹیبلز میں ہوتا ہے جو 2008ء میں پیپلز پارٹی کی ٹرین میں سوار ہونے کے باعث ایم این اے بن گئے تھے مگر اب پی ٹی آئی کی بس نہ پکڑ سکے ۔

بظاہر یوں لگتا ہے کہ وہ یوسف رضا گیلانی کی حمایت کرینگے اور یہ افواہیں بھی اڑ رہی ہیں کہ جاوید علی شاہ نے پس پردہ اپنے قریبی عزیز یوسف رضا گیلانی کو یقین دہانی کروائی ہے کہ میں الیکشن تو لڑوں گا لیکن اس بار آپ کی باری ۔چونکہ ابراہیم خان کا تعلق جہانگیر ترین گروپ سے ہے اسلئے شاہ محمود قریشی بھی ان کی جڑیں کاٹ سکتے ہیں اسلئے ابراہیم خان ایک اچھے امیدوار ہونے کے باوجود شاید پھر سے ہار جائیں ۔یہاں سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 221سے رانا قاسم نون کے بھائی رانا سہیل نون اور رانا شوکت حیات نون کے بیٹے رانا اعجاز نون کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے ۔

این اے 159سے پی ٹی آئی نے رانا قاسم نون کو ٹکٹ دیا ہے جو سکندر بوسن کی طرح نہ صرف تمام پارٹیوں سے گھوم پھر کر واپس آئے ہیں اس سے قبل تحریک انصاف میں کو چکمہ دے چکے ہیں ۔انکے خلاف مسلم لیگ(ن) نے جلالپور پیروالا کے دیوان خاندان کے سپوت ذوالقرنین بخاری کو میدان میں اتارا ہے یہاں سے صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور سابق ارکان صوبائی اسمبلی مہدی عباس لنگاہ اور نغمہ مشتاق لنگاہ کو ہی ٹکٹ دیئے گئے ہیں جبکہ پی ٹی آئی نے پیپلز پارٹی سے شامل ہونیوالے اکرم کنہوں کو پی پی 223سے میدان میں اتارا ہے۔

یہاں تحریک انصاف کی حالت پتلی ہے اور مسلم لیگ(ن) کلین سویپ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ ملتان کے حلقہ پی پی 218سے مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے مظہر عباس راں داغ مفارقت دے گئے اور اب پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر امیدوار ہیں اور شاید جیت بھی جائیں مگر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 157پر اب بھی شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی کی پوزیشن بہت کمزور ہے اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار عبدالغفار ڈوگر جیتنے کی پوزیشن میں دکھائی دیتے ہیں ۔

بشکریہ جنگ

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں