مجھے عورتوں کے حق میں کچھ نہیں کہنا۔۔۔


laiba zainabاکثر لوگوں سے میری تکرار چلتی رہتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ آپ عورت ہونے کی وجہ سے ان کا ساتھ دیتی ہیں ورنہ حقیقت میں ان پر اتنا بھی ظلم نہیں ہوتا جتنا آپ اپنی باتوں میں بیان کرتی ہیں۔ کبھی دل کھول کر بحث کرتی ہوں لیکن کبھی تھک جاتی ہوں، بہت تھک جاتی ہوں اس بحث سے۔ میں یہ کبھی بھی نہیں مانتی نا ہی مانوں گی کہ مردوں پر ظلم نہیں ہوتا مگر میں یہ منطق مکمل طور پر ماننے سے انکاری ہوں کہ “عورتوں پر ظلم کرنی والی عورتیں ہی ہوتی ہیں”۔ کچھ حد تک اس میں حقیقت ہے مگر کیا واقعی آپ سو فیصد اس بات پر یقین کر کے کہہ سکتے ہیں کہ مرد کبھی ظالم ہوتا ہی نہیں ہے یا ظلم کا کبھی بھی ساتھ نہیں دیتا۔

آپ کا جس بھی عقیدے پر یقین ہے (اگر نہیں بھی ہے تو میں آپ پر کوئی فتوی نہیں لگانے والی) اس نے کیا واقعی عورت کو ایک سر تاج کے لیئے ہی پیدا کیا اور اس کے علاوہ کوئی مقصد سامنے نہیں رکھا؟ میں نہیں مان سکتی اور نا ہی ساری زندگی کبھی اس بات کو مانوں گی۔ اسے میری ہٹ دھرمی کہیئے یا ڈھٹائی، مجھے فکر نہیں ہے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ اگر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیں گے تو بلی کہیں جانے والی نہیں ہے۔ شیر شکار کے لیئے بھاگتا ہے اور ہرن جان بچانے کے لئے مگر بھاگنا تو دونوں کو ہی پڑتا ہے۔ اگر کوئی زندگی کی دوڑ نہیں دوڑنا چاہتا تو اس کا اپنا ہی نقصان ہے کسی اور کا نہیں۔

بہن نے بھائی کو فروخت کر دیا، انکار پر چھریوں کے وار کر کے تڑپتا چھوڑ دیا اور خود موبائل میں مصروف رہی۔۔۔ سلنڈر پھٹنے سے کچن میں کام کرتا دو بچیوں کا باپ جان کی بازی ہار بیٹھا۔۔۔۔ شادی کی پہلی رات بدکاری کے شبے میں نئی نویلی دلہن نے شوہر کو ابدی نیند سُلا دیا۔۔۔۔ بازار میں شاپنگ کی غرض سے آئے نوجوان کو اوباش لڑکیوں نے جاتے جاتے ایسی جگہ ہاتھ مارے کہ وہ شرم سے ڈوب کر مر جانے کے مقام پر پہنچ گیا۔۔۔۔ یونیورسٹی میں آوارہ خواتین کی بدتمیزیوں کے باعث دس نوجوانوں کو تعلیمی زندگی کو خیرآباد کہنا پڑ گیا۔

سنی ہیں کہیں ایسی خبریں؟

نہیں؟

کمال کرتے ہیں آپ بھی

سنی ہوں گی کہیں نا کہیں

میں تو فضول بولتی ہوں کہ عورتیں بھی انسان ہیں اور انہیں انسان ہونے کے ناطے بنیادی حقوق ملنے چاہییں۔

بس بہت ہوا

اب عورتوں کے حق میں۔۔۔۔

مجھے کچھ نہیں کہنا


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “مجھے عورتوں کے حق میں کچھ نہیں کہنا۔۔۔

  • 03-05-2016 at 7:23 pm
    Permalink

    آپ نہیں‌ بولیں‌ گی تو پھر کون بولے گا؟ آپ بولتی رہئیے۔ اگر ہم غلط رویوں‌ کے خلاف آواز نہیں‌ اٹھائیں‌گے تو پھر ہم کیسے توقع کریں گے کہ مستقبل میں‌ کچھ بہتری آئے گی؟

  • 05-05-2016 at 12:34 am
    Permalink

    aap qadem barhao mein apk sath hon zainab, likhti raho, khush raho.

Comments are closed.