قومی وقار کے منافی رویہ


 editوزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ اگر امریکہ معاہدے کے مطابق پاکستان کو آٹھ ایف 16 طیارے فراہم نہیں کرے گا تو پاکستان دوسرے ذرائع سے انہیں حاصل کرلے گا یا ان کی جگہ پاکستان میں بننے والے جے ایف 17تھنڈر جیٹ طیاروں سے کام چلا لے گا۔ حیرت ہے کہ پاکستان کی طرف سے دھمکی نما یہ بیان ’خیرات‘ میں اسلحہ حاصل کرنے کے لئے دیا گیا ہے۔ قومی وقار اور بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی دفاعی ضرورتوں کا تقاضہ تو یہ ہے کہ اس سودے کو خطرے میں ڈالنے کی بجائے کسی بھی طرح قومی وسائل سے ان کی قیمت کا بند و بست کیا جائے۔

امریکی حکومت پاکستان کو یہ طیارے فراہم کرنا چاہتی ہے اور معاہدے کے مطابق پاکستان نے اس مد میں 270 ملین ڈالر ادا کرنے تھے جبکہ باقی 430 ملین ڈالر غیر ملکوں کی فوجی امداد کے فنڈ FMF میں سے ادا ہونے تھے۔ اب امریکی کانگرس نے کہا ہے کہ وہ اس خریداری کے لئے اس فنڈ سے پاکستان کو رقم فراہم کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ اس صورت میں امریکی حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ پاکستان سے کہے کہ طیارے خریدنے کے لئے پاکستان اپنے وسائل سے پوری قیمت ادا کرے۔ یہ صورت حال پاکستان کے لئے مالی لحاظ سے مشکل ضرور ہے لیکن حکومت کو ملک کے دفاع کی ضرورتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ ایف سولہ طیارے دنیا کے جدید طیاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ پاکستان ساختہ جے ایف 17 تھنڈر کسی طرح بھی صلاحیت اور کارکردگی کے لحاظ سے امریکی ساخت کے ان طیاروں کا مقابلہ نہیں کرتے۔ اگرچہ پاکستان کا یہ کہنا ہے کہ اسے یہ جدید طیارے قبائیلی علاقوں میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لئے درکار ہیں لیکن دراصل پاکستان ان طیاروں کو بھارت کی بڑھتی ہوئی فضائی قوت کا مقابلہ کرنے کے لئے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لئے قومی بچت کے ذریعے اور بعض غیر ضروری منصوبوں کو معطل کرکے طیاروں کی قیمت ادا کرنا بہتر ہے۔ کیوں کہ پاکستان کی عسکری صلاحیت زیادہ تر امریکی اسلحہ کی مرہون منت رہی ہے۔ اگرچہ گزشتہ چند برسوں میں چین کی مدد سے کچھ اسلحہ حاصل کیا گیا ہے لیکن پاکستانی فوج امریکی اسلحہ کو بہتر اور مؤثر سمجھتی ہے۔

یوں تو ایک بڑی طاقت کی امداد کی بنیاد پر ملک کی فوجی قوت کو تعمیر کرنا ایک غلط پالیسی ہے جسے گزشتہ دہائی میں امریکہ کے ساتھ پاکستان کے بگڑتے ہوئے تعلقات کی روشنی میں تبدیل کرنا چاہئے تھا۔ لیکن ابھی تک اس حکمت عملی میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ امریکہ سے ایف 16 کا حصول مروجہ امریکی پالیسیوں کے تناظر میں ایک بڑی کامیابی ہے، اسے محض اس خریداری کی قیمت پر جھگڑے کی وجہ سے ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ سرتاج عزیز کا یہ دعویٰ بھی مضحکہ خیز ہے کہ اگر امریکہ نے قیمت ادا نہ کی تو پاکستان دوسرے ذرائع سے یہ طیارے حاصل کرلے گا۔ ایف 16 امریکی کمپنی لاک ہیڈ تیار کرتی ہے لیکن کسی بھی ملک کو ان کی فروخت کی اجازت امریکی کانگرس سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس طرح سرتاج عزیز کا یہ بیان گمراہ کن یا سادہ لوحی پر مبنی ہے کہ پاکستان، امریکہ کے ساتھ معاہدہ ختم کر کے کسی دوسرے ملک سے یہ طیارے حاصل کرلے گا۔ اس صورت میں اس قسم کے پرانے طیارے ترکی یا کسی دوسرے دوست ملک سے حاصل کرنے کی کوشش ضرور کی جا سکتی ہے لیکن امریکہ طیارے فروخت کرتے وقت بعض شرائط عائد کرتا ہے۔ کوئی ملک امریکی مرضی کے بغیر ایف سولہ طیارے پاکستان کو فروخت نہیں کرے گا۔ نہ ہی پرانے طیارے نئے ایف سولہ کی طرح جدید اور مؤثر ہوں گے۔ اس کے علاوہ ان کے سپئیر پارٹس بہر صورت امریکہ سے حاصل کئے جائیں گے۔ یہ پرزے نہ ملنے کی صورت میں طیارے بیکار ہوں گے۔ پھر کوئی بھی ملک اتنے مہنگے طیارے مفت فراہم کرنے پر آمادہ نہیں ہو گا۔ تو انہیں قیمت دے کر امریکہ سے خریدنے میں کیا ہرج ہے۔

امداد کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ پاکستان کا اصل جھگڑا اسامہ بن لادن کیس میں قید ڈاکٹر شکیل آفریدی کے حوالے سے ہے۔امریکی کانگرس اس شخص کو رہا نہ کرنے پر پاکستان کی امداد روکنا چاہتی ہے۔ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ شکیل آفریدی ہمارا مجرم ہے، اس پر سودے بازی نہیں ہو سکتی۔ یہ بات اس صورت میں درست ہوتی اگر پاکستان نے ایبٹ آباد حملہ میں کوتاہی ، غفلت اور کمزوری کا مظاہرہ کرنے والے بعض دوسرے افراد کو بھی سزا دی ہوتی۔ یا ان الزاما ت کا شواہد کے ساتھ جواب فراہم کیا جاتا کہ پاکستان کی فوج اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اس امریکی حملہ میں معاون نہیں تھی۔ موجودہ صورت میں صرف ایک شخص کی گرفتاری کو قومی وقار کی علامت بنا کر قوم و ملک کا نقصان کرنا کسی صورت اچھی سفارت کاری نہیں ہو سکتی۔

ایف سولہ کی خریداری کے لئے 430 ملین ڈالر چالیس پینتالیس ارب روپے کے مساوی ہیں۔ پاکستانی حکومت کے اخراجات یا مختلف مواقع پر دولت کے ضیاع کو دیکھا جائے تو یہ رقم بہت زیادہ نہیں ہے۔ متنازع میٹرو یا اورنج لائین جیسے منصوبوں پر اس سے کئی گنا زیادہ رقم صرف کی جا رہی ہے۔ قومی اخراجات میں قومی مفادات کو پیش نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ایف سولہ کی خریداری کے حوالے سے بے بنیاد بیان جاری کرنے کی بجائے، حکومت، فوج اور فضائیہ کے ماہرین کو مل کر ٹھوس حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

 


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 416 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali