آئینہ بے ریا مبصّر ہے


editپاکستان کی عدالتی تاریخ میں دیانتداری، قانونی ژرف نگاہی اور دردمندی جیسی خصوصیات کی بنا پہ جسٹس رستم کیانی کا نام بہت اوپر آتا ہے۔جنرل ایوب خان نے پاکستان پر پہلا مارشل لا مسلط کیا تو جسٹس رستم مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ جسٹس کیانی کسی ملک میں باجواز حکمرانی کے خاتمے اور آئین کی تنسیخ کے خوفناک نتائج سے آگاہ تھے۔ اس ملک میں کم ہی لوگ جمہوریت او رقانون کی بالادستی کے لیے آواز اٹھانے کی ہمت رکھتے تھے۔ جسٹس کیانی گویا ان کے سالار کارواں بن گئے۔ ان کی تقاریر میں فوجی حکومت پر دو ٹوک تنقید سے برخود غلط جنرل بھنا اٹھے۔ جنرل ایوب درشت زباں تھا لیکن کسی تقریب میں رکھ رکھاؤ سے کام لیتے ہوئے اس نے جسٹس کیانی کو قدرے نرم لفظوں میں بتایا کہ ان کی تنقید میں “پورا سچ “نہیں تھا۔ لفظ تو کیانی کی انگلیوں پر ناچتے تھے۔انھوں نے اپنی تقاریر کا مجموعہ “نیم سچائی” کے نام ہی سے شائع کیا ۔ اس میں اشارہ یہ تھا کہ پوری سچائی تو مستقبل میں کسی وقت پر سامنے آسکے گی۔

مارچ 1953ءمیں جوزف سٹالن کا انتقال ہوا۔ اُس نے 30برس تک آہنی ہاتھ سے سوویت روس پر حکومت کی تھی۔ اس عرصہ میں اُس نے نظریاتی اصابت کے نام پر چھ کروڑ ساٹھ لاکھ روسی شہری ہلاک کیے۔ انسانی تاریخ میں چنگیز خان اور ہٹلر سمیت کسی حکمران نے اتنی بڑی تعداد میں اپنے ہم وطن قتل نہیں کیے۔ اس میں دوسری عالمی جنگ میں مرنے والے روسی شہری شامل نہیں ہیں۔ مرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ 1927ءسے 1937ءتک روس میں آبادی کے اعدادوشمار میں کوئی اضافہ نہ ہو سکا ۔ ماہرین کے مطابق اگر سٹالن قتل و غارت نہ کرتا تو آج روسی فیڈریشن کی آبادی 15کروڑ کی بجائے 30کروڑ ہوتی۔ اس کی موت کے بعد پورا روس سکتے میں تھا۔ ہر شخص دو نسلوں پر محیط اس عظیم انسانی المیہ سے آگاہ تھا لیکن ریاستی دہشت کے باعث بات کرنے سے خوفزدہ تھا۔ بالآخر 1956ءمیں روسی کیمونسٹ پارٹی کی 20ویں کانگرس کے موقع پر پارٹی کے سیکریٹری خروشچیف نے ایک طویل تقریر میں سٹالن کے مظالم پر سے محتاط اندازمیں پردہ اٹھایا ۔ رجائیت پسند مبصرین کا خیال تھا کہ شاید زبان بندی اور جبر کا عہد ختم ہوگیا۔ لیکن سوویت یونین میں یک جماعتی آمریت اور خفیہ اداروں کا عہد مزید 36برس تک جاری رہا۔ یہ مکمل سچائی اور نیم سچائی کا درمیانی وقفہ تھا۔

آج پاکستان کے باشندے نیم سچائی اور مکمل سچائی کے اسی دھندلکے سے گزر رہے ہیں۔ یہ سمجھنا سادہ لوحی ہے کہ پاکستان کی حکومت نے 11ستمبرکے بعد اچانک اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کی۔ واقعہ یہ ہے کہ 1988ءکے بعد قائم ہونے والی تمام حکومتیں مسلسل ان تحدیدات اور مشکلات سے دوچار رہی تھیں جو 80کی دہائی کی رجعت پسند پالیسیوں کا لازمی نتیجہ تھیں۔ پیوستہ مفادات اور طویل عرصے تک گمراہ رکھے جانے والی رائے عامہ کے مشترکہ دباﺅ کے باعث کاروبار ریاست کو مؤثر طریقے سے چلانا روز بروز مشکل ہورہا تھا۔ بین الاقوامی سطح پر ان پالیسیوں کے فکری مفروضات اور عملی نتائج کا دفاع کرنا دشوار تھا۔ بیرونی سرمایہ کاری کا راستہ مسدودتھا۔ اندرون ملک ان تباہ کن پالیسیوں کی بدولت سیاسی عمل اور سماجی ارتقا پر مکمل جمود طاری ہو چکا تھا۔ ان دونوں عوامل کی عدم موجودگی میں معاشی ترقی کا امکان ختم ہوجاتا ہے۔ ریاست اور معاشرہ مٹھی بھر گروہ کے ہاتھوں میں یرغمالی بن چکے تھے۔ مختلف مواقع پر اس غلاظت کو صاف کرنے کی نیم دلانہ کوشش کی گئی تاہم دیدہ اور نادیدہ قوتوں کا مؤثر گٹھ جوڑ ایسی ہر کوشش کے راستے میں ناقابل عبور رکاوٹ بن جاتا تھا۔ گیارہ ستمبر 2001کے واقعات دراصل اُس سنگ میل کا استعارہ تھے جس کے بعد ان تبدیلیوں کو حیلے بہانے سے التوا میں رکھنا ممکن نہیں رہا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم پورے سچ کی روشنی میں ہیں یا نیم سچائی کے ملگجے اندھیرے میں ۔

ہر قوم کے خدوخال ریاست اور معاشرے کے تعامل اور مکالمے سے تشکیل پاتے ہیں۔ اس کے چار بنیادی اشارےے ہیں۔ جمہوری سیاسی عمل، قوانین، تعلیم اور ذرائع ابلاغ۔ پاکستان کی صورتِ حال ان چاروںاشاریوں کے تناظر میں غیر اطمینان بخش ہے۔ پاکستان میں امتیازی اور ناقابل عمل قوانین موجود ہیں۔ تعلیمی نظام تنقیدی شعور پیدا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ ذرائع ابلاغ نفرت انگیز اور رجعت پسند تصورات کا گہوارہ ہیں۔ اور ریاست کے مقتدر گروہ کی واحد سنجیدہ دلچسپی یہ معلوم ہوتی ہے کہ جمہوری سیاسی عمل کی راہ کس طور کھوٹی کی جائے۔ یہ اُمید افزا اشارے نہیں ہیں۔ تبدیلی کا واحد اشارہ خارجہ پالیسی کی لغت میں تبدیلی ہے ۔ اندرون ملک بامعنی تبدیلیوں کی عدم موجودگی میں خارجہ پالیسی کی تبدیلی بے جڑ کا درخت ہے ۔ سچائی کی لڑائی اخفا کے اندھیروں میں نہیں لڑی جاتی۔ ایسا کرنے سے عوام دشمن قوتوں کو اپنا گھناﺅ نا کھیل جاری رکھنے کا موقع ملتا ہے۔ دوسری طرف امن، انصاف اور ترقی کی جدوجہد کرنے والوں میں مایوسی پھیلتی ہے۔ اپنے خدوخال میں تناسب نہ ہو تو محض آئینہ صیقل کرنے سے صورتِ زیبا نظر نہیں آتی۔ پاکستان میں رہنے والوں کو انصاف کی ضرورت ہے۔ جب اہل پاکستان جمہوری ، قانونی، معاشی اور سماجی انصاف سے بہرہ ور ہوں گے تو قوم کے داخلی احساس اور ملک کے بیرونی تاثر میں خودبخود تبدیلی آجائے گی۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “آئینہ بے ریا مبصّر ہے

  • 03-05-2016 at 9:36 pm
    Permalink

    آپکی تحریربحت طاقتورھےآپ نے ملکی مسائل کا بھرپورتجزیۂ کیا ھے میرے خیال میں ان مسائل کا حل تعلیم یافتہ معاشرھ ۔ھے لوگ تعلیم یافتۂ ھونگے تومسائل کا حل ڈھونڈنے میں آسانی ھوگی آپکی علم و ذھانت کےھم بھت قائل ھیں اور آپکا تعلق بھی تعلیمی شعبۂ سے ھے آگر کبھی وقت ملےتوتعلیم کی اھمیت پرروشنی ڈالیں

  • 04-05-2016 at 11:22 pm
    Permalink

    Aap ki Tehreeron ki aik eham khoobi indaz-e-bayan ka asaan aur aam feham hona hai. I would love to follow this style of writing.

  • 05-05-2016 at 1:01 am
    Permalink

    “اندرون ملک بامعنی تبدیلیوں کی عدم موجودگی میں خارجہ پالیسی کی تبدیلی بے جڑ کا درخت ہے ۔ سچائی کی لڑائی اخفا کے اندھیروں میں نہیں لڑی جاتی” وجاہت مسعود
    خاکسار کی رائے میں اس فقرے کو قول زریں کہا جاسکتا ہے۔ اسکو کالم سے زیادہ ایک جامع مضمون کہنا چاہیے،دلائل ایسے ہیں کہ جن کے سامنے ٹکنا مشکل ہے،اگر اسکو مزید بڑھایا جاتا تو کیا بات تھی لیکن تھورے میں بھی بہت کچھ بیان کردیا گیا ہے۔

Comments are closed.