ایردگان کی کامیابی، صالحین کی خوشیاں اور سیاسی اسلام


طیب ایردگان جیت گئے۔ یہ عوام کا فیصلہ ہے اور عوام نے یہ فیصلہ ناقابل یقن رفتار سے ہونے والی معاشی و اقتصادی ترقیوں کی بنیاد پر کیا ہے۔ پاکستان میں ایک بڑا طبقہ ایردگان کی جیت پر خوش ہے۔ اپنے اپنے دائرے میں سب کی خوشی سمجھ آرہی ہے، مگر صلحائے پاکستان کی خوشی اب تک میری سمجھ سے باہر ہے۔ یہ خوشی تب اور بھی سمجھ سے باہر ہوجاتی ہے جب صالحین کہتے ہیں کہ یہ پولیٹیکل اسلام کی کامیابی ہے۔ اور یہ کہ ایردگان کے مقابلے میں سیکولر ہار گئے ہیں۔ اسی تناظر میں بہت سادگی کے ساتھ نقشہ دیکھتے ہیں، کچھ سوالات اٹھاتے ہیں، پھر صلحائے پاکستان کی خوشیوں کا تجزیہ کیجیے!

طیب رجب ایردگان ماضی میں ترکی کی “جماعت اسلامی” یعنی سعادت پارٹی میں تھے۔اس جماعت کا پہلا نام نیشنل وائس پارٹی تھا جس کا منشور “غلبہ اسلام” تھا۔ یہ وہی غلبہ اسلام ہے جس کا تصور سید مودودی اور سید قطب نے دیا۔جماعت اسلامی نےسیدمودودی و حضرتِ اقبال کے تصور سے جنم لیا اوراخوان المسلمون نے امام حسن البنا و سید قطب کے تصورسے۔انہی تصورات پر ترکی میں ڈاکٹر نجم الدین اربکان نےنیشنل وائس پارٹی قائم کی ۔1971میں اس جماعت نے اڑتالیس نشستیں حاصل کیں۔1974 میں ڈاکٹرنجم الدین اربکان نائب وزیراعظم بن گئے۔

سیاسی رد وکد میں اس جماعت پر کئی بار پابندیاں عائد ہوئیں۔ بلاشبہ یہ پابندی ریاست کے استبدادی طرز عمل کا نتیجہ تھیں ۔ تب ترکی میں ریاست کا مطلب فوج اور فوج کا مطلب ریاست تھا۔اس جماعت کا احیا ہوا تو نام رفحا پارٹی پڑگیا۔ 1994 کے انتخابات میں رفحا پارٹی نے تقریبابائیس فیصد ووٹ حاصل کیے۔مخلوط حکومت قائم ہوئی اور رفحا پارٹی کے سربراہ نجم الدین اربکان وزیراعظم منتخب ہوئے۔ طیب ایردگان رفحا پارٹی کے ٹکٹ سے استنبول کے مئیر منتخب ہوگئے۔ بے مثال ترقیاتی کارکردگی کے نتیجے میں وہ دنیا کے بہترین میئرز میں سے ایک قرار پائے۔اٹھانوے میں فوج نے منتخب عوامی حکومت کا دھڑن تختہ کردیا۔ باقی قیادت کے ساتھ طیب ایردگان کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ننانوے میں ایردگان پردہشت اور خوف پھیلانے کا مقدمہ قائم ہوا جس کی بنیاد ایک نظم بنا۔ اس مقدمے میں ایردگان کو انتخابات کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا۔ جیل میں ایردگان کو اپنے سیاسی تجربے سے کچھ نتائج اخذ کرنے کا موقع ملا

• ہمارا رویہ دینی نہیں سیاسی ہونا چاہیئے
• ہمارا منشور مذہبی نہیں معاشی ہونا چاہیئے
• ووٹر کو نیک اور بد کی بنیاد پر نہیں دیکھنا چاہیئے
• ووٹ مذہب کے نام پر نہیں سیاسی کارکردگی کی بنیاد پر لینا چاہیئے

ایردگان نے اپنے ان خیالات کا اظہار کیا تو نجم الدین اربکان نے اتفاق نہیں کیا۔ڈاکٹراربکان کا موقف تھا کہ غلبہ اسلام ہمارا مقصد ہے اور یہ بات ہمارے منشور میں بغیر کسی سمجھوتے کےدرج ہونی چاہیئے۔ ایردگان نے اپنی راہ بدل لی اور جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی بنیاد رپڑ گئی۔ نہ صرف یہ کہ سعادت پارٹی (سابقہ رفحاپارٹی) کا زرخیز ذہن ایردگان کے ساتھ ہولیا بلکہ دیگر سیاسی دھڑوں سے بھی لوگ جوق درجوق جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی میں پہنچے۔ اب چونکہ ایردگان “غلبہ اسلام” کے روایتی خبط سے باہر نکل آئے تھے اس لیے تقریبا سبھی طبقات کو ایردگان پر اعتماد کرنے کا حوصلہ ہوا۔

یہ اعتماد حاصل کرنے کے لیے ایردگان نے ایک طرف اپنے منشور سے غلبہ اسلام کے ہر تاثر کو ختم کرکے معیشت کی بنیاد بنایا دوسری طرف انہوں نے ترک اخبارات میں ایک اشتہار شائع کروایا جس پر درج ہوتا تھا”اب میں وہ ایردگان نہیں ہوں”۔ یہ اشتہار استنبول یونیورسٹی کے سابق پروفیسراوراسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات عامہ کے سربراہ ڈاکٹر منصور کنڈی نے مجھے دکھایا۔

سوچنے والوں کو سوچنا ہوگا کہ “وہ” کون سا ایردگان تھا جس سے “یہ” والا ایردگان برات کا اعلان کررہا تھا؟ دونوں ایردگانوں میں فرق سیاسی اسلام اور جمہوری طرز سیاست کا تھا۔ یہ غلبہ اسلام کا تصور ہی ہے جسے سیاسی اسلام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔یار لوگ غلبہ اسلام کی تعبیر ایردگان کو ان بیانات کو سمجھ بیٹھے ہیں جو انہوں نے اسرائیل کے خلاف دیے۔ ان سہولیات سے وہ نظر پھیرلیتے ہیں جوترکی نے اسرائیل کوسب سے زیادہ ایردگان کے دور میں دیں۔ اور اسی بنیاد پر ترکی کے صالحین یعنی سعادت پارٹی کے رہنما وکارکنان ایردگان کو استعمار کا ایجنٹ کہتے ہیں۔


سیاسی اسلام اور جمہوری طرز سیاست میں فرق عقیدے اور موقف کا ہوتا ہے۔ سیاسی اسلام میں آپ کے سامنے عقیدہ رکھ کر کہہ دیا جاتا ہے یہ میراسیاسی نظریہ ہے۔جمہوری طرز حکومت میں آپ کو ایک سیاسی موقف سامنے رکھ کر بات کرنی ہوتی ہے۔ سیاسی اسلام میں فیصلے کے لیے جائز ناجائز اور حلال و حرام جیسی بنیادیں ہوتی ہیں۔ جمہوری طرز سیاست میں بات ٹھیک یاغلط اور جمہوری یاغیر جمہوری ہوتی ہے۔

سیاسی اسلام میں گناہ اور ثواب کی بنیاد پر قانون سازی ہوتی ہے۔ جمہوری طرز سیاست میں قانون سازی کی بنیاد منکرات اور جرائم ہوتے ہیں۔ یعنی سیاسی اسلام فرد کی زندگی میں مداخلت چاہتا ہے جبکہ جمہوری طرز سیاست محض اجتماعی امور کی نگہبانی اور انتظام کاری چاہتی ہے۔ یہی دوسری بنیاد ہے جس کی طرف ایردگان نے سفر کیا۔ یہی وہ سفر ہے جس کے لیےتیونس کی جماعت اسلامی یعنی “النہضہ پارٹی” نے دو برس قبل پہلا قدم اٹھایا۔

اس پارٹی کے سربرا ہ راشد الغنوشی ہیں جو عرب اسپرنگ کے بعد تیونس لوٹے ہیں۔ بیس برس سے زائد کا عرصہ ان کی جلاوطنی کا ہے۔جو بات ایردگان کو جیل کی تنہائی میں سمجھ آئی وہی بات جلاوطنی کی راتوں میں راشد الغنوشی کو بھی سمجھ آگئی ۔ کچھ برس قبل وہ اپنی جماعت کو لے کر بیٹھے ۔ النہضہ پارٹی کی تاریخ کایہ طویل ترین اجلاس تھا جو کئی دنوں پر مشتمل تھا۔ اجلاس کے اختتام پر جماعت کے نمائندے نے اعلان کیا “النہضہ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ آج کے بعد مسجد اور پارلیمنٹ کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہوگا”۔اس کا سادہ ترجمہ یہ بنتا ہے کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوگا۔

راشد الغنوشی نے عالمی میڈیا سے گفتگو میں کہا، میں خلافت پر یا حزب التحریر جیسی جماعتوں کے تصورِ غلبہ اسلام پر یقین نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی بھی غیرمسلم شہری کوکسی بھی ریاستی منصب سے دور رکھنے کو انسانی حقوق کے خلاف سمجھتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ 2011 کے عام انتخابات میں راشد الغنوشی نے نہ صرف یہ کہ یہودی آبادی کو اپنی جماعت میں شمولیت کا پیغام بھِجا بلکہ انہیں گرانقدر تحائف بھیجے۔

آسان الفاظ میں یوں کہیے کہ یہ تیونس کی اخوان المسلمون /جماعت اسلامی کا سیاسی اسلام سے جمہوری طرز سیاست کی طرف ہجرت تھی۔یہ ہجرت مصر کی اخوان المسلمون میں بھی جاری ہے جس کا مکالماتی اظہار شد ومد سے جاری ہے اور عملی طور پر سیاسی اظہارجلد یا بدیر ہوجائے گا۔ یہی فکری ہجرت پاکستان میں جماعت اسلامی سے دوسری جماعتوں طرف جاری ہے۔ پاکستان تحریک انصاف دراصل غلبہ اسلام کے اسی تصور سے غیر شعوری انکار ہے۔


پاکستان اور ترکی مختلف شعوری سطح رکھنے والے دو ممالک ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے دونوں ممالک کی دائیں بازو کی ان جماعتوں کا ایک موازنہ کرکے دیکھ لیں۔ پاکستان کی جماعت اسلامی کا ترکی کی کسی جماعت سے اگر تقابل کیا جاسکتا ہے تو وہ ترکی کی سعادت پارٹی ہے۔ کیونکہ دونوں جماعتیں سیاسی اسلام پر یقین رکھتی ہیں۔ ایردگان کی جماعت کا پاکستان میں کسی سیاسی جماعت سے اگر موازنہ ہوسکتا ہے تو وہ تحریک انصاف ہے یا پھر مسلم لیگ ہے۔ کیونکہ دونوں جماعتوں میں مذہبی رجحانات رکھنے والے قائدین اور کارکن موجود ہیں ،مگر دونوں جماعتوں کے کارکن شعوری یا غیر شعوری طور پر جمال الدین افغانی،سید مودودی اور سید قطب کے غلبہ اسلام والے سیاسی تصور پر یقین نہیں رکھتے۔

ایردگان کی طرح مسلم لیگ اور تحریک انصاف کی طرف جن اذہان نے ہجرت کی ہے ان میں بڑی تعداد ان کی رہی ہے جوکبھی “سیاسی اسلام” سے وابستہ تھے۔سوال یہ ہے کہ پاکستان میں اگر مسلم لیگ یا تحریک انصاف اقتدار میں آجاتی ہے تو کیا صلحائے پاکستان پازیب توڑ رقص کرتے ہوئے یہ کہہ پائیں گے کہ سیاسی اسلام جیت گیا؟نہ پہلے کبھی انہوں نے ایسا کچھ کہا نہ انشااللہ آئندہ کہیں گے۔ تو پھر یہ ایردگان کو سیاسی اسلام کا نمائندہ کہہ کر ترقی پسندوں پرطعن ارزاں کرنا چہ معنی دارد؟

صلحائے پاکستان کو اس بات کی خوشی ہے کہ سیکولر دھڑے ایردگان سے ہار گئے ہیں۔ حالانکہ انہیں غم یہ ہونا چاہیئے تھا کہ ایردگان نے اربکان کا نام ونشان مٹا کر رکھ دیا ہے۔وہ اربکان، جن کی جماعت سیاسی اسلام کی نمائندہ جماعت ہے۔ وہ جماعت جو ترکی کی جماعت اسلامی ہے۔ وہ جماعت اسلامی جو پاکستان میں ترکی کی سعادت پارٹی کی طرح سمٹتی چلی جارہی ہے۔ کس قدر قابل رحم صورت حال ہے کہ آپ ترکی میں ترکیوں کےلیے جو پسند کرتے ہیں وہ آپ یہاں اپنے لیے پسند کرنے سے یکسرمحروم ہیں۔ قسم ہے نئے زمانے کی!وقت کے قافلے گزرتے چلے جائیں گے اور تم تپتے صحرا میں برف کے مینار بناتے رہ جاؤ گے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں