2018ء کے انتخابات کے نتائج


ammar masoodیہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ہو کیا رہا ہے۔ بحران ہے تو کیوں ہے؟ احتجاج ہے تو کیوں ہے؟ جھگڑا کس بات کا ہے۔ ؟لڑائی کی وجہ کیا ہے؟ وجہ اختلاف کون اور کیوں ہے؟ کیا اختلاف کی وجہ کرپشن ہے؟ کیا ہنگامے کا سبب بیڈ گورننس ہے؟ کیا عوام اب حکومت سے اور اس کی کارکردگی سے تنگ آ گئے ہیں؟کیا عام آدمی کے پاس اب حکومت سے نفرت کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا؟ کیا پورا پاکستان اب سڑکوں پر نکلا آیا ہے؟ کیا اب راج کرے گی خلق خدا؟ کیا تخت گرائے جائیں گے؟ کیا وہ وقت آ گیا ہے جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی؟

یاد رکھئے مسئلہ عمران خان نہیں۔ مسئلہ نواز شریف حکومت کی بیڈ گررننس بھی نہیں؟ مسئلہ وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ نہیں۔ مسئلہ عمران خان کا وزیر اعظم بننے کا خوب نہیں۔ مسئلہ اپوزیشن کا اشتراک نہیں۔ مسئلہ صوبائی حکومتوں کی ناقص کارکردگی نہیں۔ مسئلہ لوڈ شیڈنگ بھی نہیں۔ بد قسمتی سے مسئلہ بھوک، غربت اور افلاس بھی نہیں۔ عوام کی خود کشیاں بھی مسئلہ نہیں۔ صاف پانی کا حصول، بہتر تعلیمی سہولیات اور عوامی صحت کے منصوبہ جات کا فقدان بھی مسئلہ نہیں۔ مسئلہ ٹی وی پر ہر رات ہونے والی ماتم گزاری بھی نہیں۔ مسئلہ احتجاج کے لفظوں سے بھرے اخبار بھی نہیں۔ مسئلہ حکومت مخالف شعلہ بیان مقرر بھی نہیں۔ مسئلہ سچ اور جھوٹ کی پرکھ بھی نہیں۔ یقین مانئے مسئلہ عوامی فلاح بھی نہیں۔ مسئلہ صرف اور صرف تسلسل کا ہے۔ آئیے اس مبہم سی بات کوسمجھنے کے لیئے ذرا ماضی کے اوراق چھانتے ہیں۔

1977 میں اگر ذوالفقار علی بھٹو انتخابات دوبارہ جیت جاتے تو اس ملک کی قسمت بہت مختلف ہوتی۔ ان انتخابات میں دھاندلی کی شکایات پر ملک گیر احتجاج ہوا تھا۔ تاریخ دان بتاتے ہیں کہ ان انتخابات میں کوئی باضابطہ دھاندلی نہیں ہوئی تھی۔ چند ایک واقعات ضرور ہوئے تھے۔ یہ بھی تاریخ بتاتی ہے کہ اگر چند سیٹوں پر یہ بے ضابطگی نہ بھی ہوتی بھٹو جیسے مقبول لیڈر نے بڑی سہولت سے انتخاب جیت لینا تھا۔ لیکن ہوا کیا کہ اس بے ضابطگی کو مسئلہ بنا کر احتجاج کرنے والوں نے پورے ملک میں طوفان برپا کر دیا تھا۔ لوگ گرفتار ہوئے۔ لاٹھی چارج ہوا۔ جس سے تشدد کو مزید ہوا ملی۔ لوگ مارے گئے۔ اپوزیشن جماعتوں کا اکٹھ ہو گیا۔ مخالف جماعتوں کے مشترکہ اعلامیے جاری ہونے لگے۔ لاقانونیت پورے ملک میں پھیل گئی۔ استعفی سے پھانسی تک کے مطالبات سامنے آنے لگے۔ نظام حکومت درہم برہم ہو گیا۔ اور پھر کیا ہوا یہ سب کے علم میں ہے۔ بدامنی کو روکنے کے لیئے بوجوہ فوج نے اقتدار سنبھال لیا۔ اس ملک کا سب سے مقبول لیڈر پھانسی پر جھول گیا۔ جمہوریت قتل ہوئی۔ ووٹوں کا جنازہ نکل گیا۔ آئین کی دستاویز کو پیروں تلے روند دیا گیا۔ قانون کی دھجیاں اڑا دی گئیں اور گیارہ برس کے لئے اس ملک میں آمریت حکمران ہو گئی۔

ضیاءالحق کے دور پر آشوب کے بعد بے نظیر بھٹو کا پہلا دور آپ سب کو یاد ہو گا۔ سب کچھ برا نہیں تھا۔ ایک دہائی کے بعد لوگوں کے ووٹ کو عزت ملی تھی۔ آزادی اظہار کی قوت نصیب ہوئی تھی۔ بہت عرصے کے بعد آزادی ملے۔ آزادی کے حدود قیود کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔ دوسرے کے حق کو پہچاننے میں کچھ دقت ہوتی ہے۔ اس دور میں کرپشن کے سکینڈل زبان زد عام ہوئے۔ اپوزیشن کا احتجاج زور پکڑنے لگا۔ بد امنی پہلے سے زیادہ بڑھنے لگی۔ ایک دہائی جمہوریت کے لئے جدوجہد کرنے والے سیاستدان دنوں میں بے توقیر ہونے لگے۔ دوطرفہ الزامات کا وہ سلسلہ شروع ہوا کہ الامان الحفیظ۔! اس دور میں اسحاق خان کو کرپشن کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ایوان وزیر اعظم اور ایوان صدر میں اختلاف اس حد تک بڑھے کہ اسحاق خان کو بوجوہ اسمبلیاں توڑنی پڑیں۔ نگران حکومت کے زیرا ہتمام نئے الیکشن کروانے پڑے۔ انتخابات ہوئے تو نواز شریف برسر اقتدار آ گئے۔ چہرے بدل گئے مگر منظر نامہ نہیں بدلا۔ وہی کرپشن کے سکینڈل، سیاستانوان کی حرکتوں کی وجہ سے جمہوریت کی بے توقیری۔ اسمبلیوں میں احتجاج۔ تحریک عدم اعتماد۔ سٹرکوں پر دھرنے اور جلسہ جلوس ہی روایت رہے۔ بمشکل دو سال گزرے تھے کہ اسحاق خان کو ایک دفعہ پھر بوجوہ اسمبلیاں توڑنی پڑیں۔ پھر وہی کھیل کھیلا گیا۔ نئے انتخابات، نئی عبوری حکومت، نئے الزمات سے بھرپور جلسے جلوس۔ بے نظیر بھٹو کا دوسرا دور حکومت پہلے سے مختلف نہ تھا۔ وہی ہوا جو ریت بن گئی تھی فرق صرف اتنا پڑا کہ اس دفعہ اسحاق خان کا کردار بوجوہ فاروق لغاری نے نبھایا۔ اسمبلیاں پھر ٹوٹیں پھر نگران وزیر اعظم درآمد ہوئے۔ الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہوا اور نواز شریف پھر حکومت میں آ گئے۔ امکان یہ تھا کہ اس بار اسمبلیاں مدت پوری کریں گی۔ دو تہائی اکثریت کام دکھائے گی۔ جمہوریت کو کچھ قرار ملے گا۔ ووٹ کی قدر ہو گی۔ آئین کی بالادستی ہوگی مگر یہ سلسلہ زیادہ دراز نہ ہو سکا۔ جنرل مشرف نے نواز شریف پر طیارہ ہائی جیکنگ کا الزام لگایا اور خود بوجوہ مسند افتدار سنبھال لی۔ نو طویل برسوں کے بعد بے نظیر بھٹو کی شہادت ہوئی اور عوامی دباو کے سامنے جھک کر جنرل صاحب نے یونیفارم اتارا اور گھر کو سدھار گئے۔ پیپلز پارٹی کا گزشتہ دور حکومت بے نظیر دور کے دور حکومت سے مختلف نہیں تھا۔ کرپشن، بدعنوانی اپنے عروج پر رہی۔ لوٹ مار کی حد ہی ہو گئی۔ اس دور ابتلا میں اگر کچھ اچھا ہوا تو وہ صرف یہ تھا کہ جمہوریت کی گاڑی چلتی رہی۔ وزراعطم معطل ہوتے رہے مگر لوگوں کے ووٹوں پر شب خون نہیں مارا گیا۔ پانچ سال مکمل ہوئے۔ الیکشن ہوئے اور نواز شریف برسر اقتدار آگئے۔ اس دور حکومت میں بھی سب چیزیں مثالی نہیں ہیں۔ بہتری کی بہت گنجائش ہے۔ لیکن بہرحال یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ دور زرداری دور سے بہت بہتر ہے۔

اس تمہید کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اس وقت مسئلہ وہ نہیں جو نظر آ رہا ہے۔ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات ہیں۔ عام خیال کے مطابق اگر نواز شریف یہ الیکشن بھی جیت جاتے ہیں تو اس ملک میں جمہوریت اور جمہوری روایات کو پنپنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بوجوہ کی گنجائش نہیں نکلے گی۔ اور یہ بہت سی نادیدہ قوتوں کو قبول نہیں ہے۔ جن کا مقصد اس ملک کے عوام کو سیاسی چپقلشوں میں الجھائے رکھنا ہے وہ کیسے جمہوری عمل کے تسلسل کو برداشت کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا بنیادی نقطہ جس پر سب نادیدہ قوتیں اٹکی ہوئی ہیں۔ استعفے کا مطالبہ کرنے والوں کو قطعی علم نہیں کہ اس مطالبے کے پیچھے غائت کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ احتجاج کرنے والوں کو بھی نہیں پتہ وہ کیوں احتجاج کر رہے ہیں۔ کس کے ایماء پر یہ بدامنی ہو رہی ہے۔ کیسے یہ جلسے اور جلوس ہو رہے ہیں۔ اب دو ہی راستے باقی ہیں۔ ایک تو پرانا حربہ ہے کہ اپوزیشن کے طرف سے دباو اتنا بڑھ جائے کہ نواز شریف استعفی دے دیں اور دوسرا پی ایم ایل ن کی حکومت کو اتنا بے توقیر کر دیا جائے کہ وہ دوہزار اٹھارہ کا الیکشن نہ جیت پائے۔ ان دونوں باتوں کا فی الحال تو مکان کم نظر آتا ہے۔ لیکن اس ملک میں کچھ بھی بعید نہیں ہے۔ رہا قصہ ہمارے ماتم کناں دانشوروں کا تو عرض یہ ہے کہ ہر دور میں ایسے دانشور خود رو جڑی بوٹیوں کی طرح پیدا ہوتے ہیں اور موسم کے بدلتے ہی یہ جڑی بوٹیاں خود بخود تلف ہو جاتی ہیں۔ تو ان سے درخواست ہے کہ بس اتنی سی بات ذہن نشین کر لیجئے۔

یاد رکھئے مسئلہ عمران خان نہیں۔ مسئلہ نواز شریف حکومت کی بیڈ گورننس بھی نہیں؟ مسئلہ وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ نہیں۔ مسئلہ عمران خان کا وزیر اعظم بننے کا خواب نہیں۔ مسئلہ اپوزیشن کا اشتراک نہیں۔ مسئلہ صوبائی حکومتوں کی ناقص کارکردگی نہیں۔ مسئلہ لوڈ شیڈنگ بھی نہیں۔ بد قسمتی سے مسئلہ بھوک، غربت اور افلاس بھی نہیں۔ عوام کی خود کشیاں بھی مسئلہ نہیں۔ صاف پانی کا حصول، بہتر تعلیمی سہولیات اور عوامی صحت کے منصوبہ جات کا فقدان بھی نہیں۔ مسئلہ ٹی وی پر ہر رات ہونے والی شب ماتم بھی نہیں۔ مسئلہ احتجاج کے لفظوں سے بھرے اخبارات بھی نہیں۔ مسئلہ حکومت مخالف شعلہ بیان مقررین کرام بھی نہیں۔ مسئلہ سچ اور جھوٹ کی پہچان بھی نہیں۔ یقین مانییے مسئلہ عوامی فلاح بھی نہیں۔

 مسئلہ صرف اور صرف جمہوریت کے تسلسل کا ہے۔ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات کا ہے اور ان انتخابات کے متوقع نتائج کا مسئلہ ہیں۔ اور حالات بتا رہے ہیں کہ یہ متوقع نتائج نادیدہ قوتوں کو قبول نہیں۔

 


Comments

FB Login Required - comments

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 42 posts and counting.See all posts by ammar