مارچ 1947ء کے راول پنڈی کا ایک باب


ہندی لفظ تمس کا مطلب ہے، ظلمت، اندھیرا۔ تقسیم کے فسادات پر بھیشم ساہنی کے ہندی ناول “تمس” سے ایک اقتباس۔ بھیشم ساہنی 1915 میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم پائی۔  1947میں ہجرت کر کے دہلی چلے گئے۔ یہ ناول 1974ء میں لکھا گیا، اسے تقسیم ہند کی عظیم ادبی دستاویزات میں شمار کیا جاتا ہے۔

bhishamدن کے اجالے میں شہر ادھ مرا سا پڑا تھا، گویا اسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ منڈی ابھی تک جل رہی تھی، میونسپلٹی کے فائر بریگیڈ نے شعلوں سے لڑنا کب کا چھوڑ دیا تھا۔ منڈی میں اٹھنے والے دھویں سے آسمان پر سیاہی پھیل رہی تھی حالانکہ رات بھر آسمان لال رہا تھا۔ سترہ دکانیں جل کر راکھ ہو چکی تھیں۔

دکانیں بند تھیں۔ دودھ دہی کی دکانیں کہیں کہیں کھلی تھیں اور ان کے قریب دو دو چار چار آدمی کھڑے رات کے واقعات کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ مار کاٹ کے بارے میں افواہیں زیادہ تھیں۔ گوال منڈی والے کہتے، رتّے میں دنگا ہوا ہے۔ رتّے والے کہتے، کمیٹی محلے میں دنگا ہوا ہے۔ نیا محلہ کے چوک میں ایک گھوڑا مرا ہوا پایا گیا تھا۔ گاﺅں کو جانے والی سڑک پر ایک ادھیڑ عمر لاش ملی تھی۔ کالج روڈ پر جوتوں کی دکان اور ساتھ میں درزی کی دکان لوٹ لی گئی تھی۔ ایک اور لاش شہر کے سرے پر قبرستان میں ملی تھی۔ لاش کسی ادھیڑ عمر ہندو کی تھی اوراس کی جیب سے کچھ ریزگاری اور جہیز کے کپڑوں کی فہرست بھی ملی تھی۔

محلوں کے درمیان لکیریں سی کھنچ گئی تھیں۔ ہندوﺅں کے محلے میں مسلمان کو جانے کی ہمت نہیں تھی اور مسلمانوں کے محلے میں اب ہندو سکھ نہیں آ جا سکتے تھے۔ آنکھوں میں شک اور خوف نے گھر کر لیا تھا۔ گلیوں کے سرے پر اور سڑکوں پر جگہ جگہ کچھ لوگ ہاتھوں میں لاٹھیاں اور بھالے لیے اور ڈھاٹے باندھے چھپے بیٹھے تھے۔ جہاں کہیں ہندو اور مسلمان پڑوسی ایک دوسرے کے پاس کھڑے ہوتے تھے، ایک ہی جملہ دہراتے تھے، ”بہت بُرا ہوا ہے۔ بہت بُرا ہوا ہے“۔ اس سے آگے بات چیت بڑھ ہی نہیں پاتی تھی۔ ماحول میں مُردنی سی آ گئی تھی۔ دل ہی دل میں سب جانتے تھے کہ یہ حادثہ یہیں پر ختم ہونے والا نہیں ہے لیکن آگے کیا ہو گا، کسی کو معلوم نہیں تھا۔

ti_725_89288236377341گھر وں کے دروازے بند تھے۔ شہر کا کاروبار، اسکول، کالج، دفتر سب ٹھپ ہو گئے تھے۔ سڑک پر چلتے آدمی کو ہر وقت احساس رہتا تھا کہ کھڑکیوں کے پیچھے، مکانوں کی اندھیری ڈیوڑھیوں، دراڑوں اور سوراخوں میں اس پر آنکھیں لگی ہیں اور اس کا پیچھا کیے جا رہی ہیں۔ لوگ اپنے اپنے محلے میں بند ہو گئے تھے۔ صرف افواہوں کے زور پر ایک دوسرے سے رابطہ ہو رہا تھا۔ کھاتے پیتے لوگ اپنے اپنے بچاﺅ کی فکر میں الجھ گئے تھے۔ روزمرہ کے کام ٹھپ تھے۔ کانگریس کی پربھات پھیری اور تعمیری کام سب ہی ایک دن میں ختم ہو گئے۔ پھر بھی حسب معمول جرنیل صبح سویرے جیسے تیسے سڑکیں طے کرتا کانگریس دفتر کے سامنے پہنچ گیا۔ وہاں تالا لگا دیکھ کر وہ پو پھٹنے تک ساتھیوں کا انتظار کرتا رہا لیکن جب وہ نہیں آئے تو نالی کے اوپر بنے چبوترے پر کھڑے ہو کر اس نے مختصر سی تقریر کی۔ ”صاحبان! چونکہ آج سب ہی بزدل لوگ چوہوں کی طرح گھروں میں گھسے بیٹھے ہیں، اس لیے مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج پربھات پھیری نہیں ہو گی۔ میں آپ سب سے معافی چاہتا ہوں اور درخواست کرتا ہوں کہ شہر میں امن برقرار رکھیں۔ یہ شرارت انگریز کی ہے جو بھائی بھائی کو آپس میں لڑاتا ہے۔ جے ہند!“ اور وہ چبوترے سے اتر کر لیفٹ رائٹ کرتا اندھیرے میں کھو گیا۔

ادھر رن ویر رات کو گھر واپس نہیں آیا تھا لیکن ماسٹر دیوورت نے کسی طرح اس کی سلامتی کی خبر لالہ لکشمی نرائن کو بھجوا دی تھی۔ لالہ جی ابھی دبدھا ہی میں تھے کہ کیا کریں۔ اتنی دیر میں شاہ نواز خود ہی ان کے پاس پہنچ گیا۔ دراز قد، بارعب شاہ نواز اپنی گہرے نیلے رنگ کی بیوک گاڑی لے کر آیا تھا۔ شاہ نواز کے ساتھ لالہ جی کی جان پہچان تو ضرور تھی لیکن بے تکلفی نہیں تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے لالہ جی، ان کی بیوی اور بیٹی موٹر میں بیٹھ کر محلے سے نکل گئے۔ اکیلا نانکو مکان کی حفاظت کے لیے پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ ”نانکو! مستعدی سے چوکیداری کرنا۔ سوئے نہیں رہنا۔ ہم سارا گھر تم پر چھوڑ کر جا رہے ہیں“

c. 1883 - Street Scene, ‎Rawalpindi نیلی بیوک گاڑی سنسان سڑکوں پر لہراتی جا رہی تھی۔ سب دیکھ رہے تھے کہ اگلی سیٹ پر طرے دار پگڑی پہنے شاہ نواز بیٹھا ہے۔ دوستوں کا دوست، صاف دمکتا گورا چہرہ۔ اس کی بغل میں لالہ لکشمی نرائن ہیں اور پیچھے زنانی سواریاں بیٹھی ہیں۔ یوں نکل کر جانا بڑی ہمت کا کام تھا۔ جہاں کہیں سڑک پر لوگ نظر آتے، لالہ جی دوسری طرف دیکھنے لگتے، پچھلی سیٹ پر بیٹھی لالہ جی کی بیوی شاہ نواز کو دعائیں دے رہی تھیں۔ ایسے لوگوں کے دل میں بھگوان بستا ہے جو مصیبت میں دوسروں کا ہاتھ تھامتے ہیں۔

ذرا دیر بعد بیوک گاڑی لالہ جی اور ان کے خاندان کو صدر بازارمیں ان کے کسی رشتہ دار کے گھر چھوڑ نے کے بعد پھرشہر کی سڑکوں پر بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ اب شاہ نواز سیدھا اپنے جگری دوست رگھوناتھ کے ڈیرے پر جا رہا تھا۔ اسے اپنے بچاﺅکی کوئی فکر نہیں تھی۔ اس کی بیوک موٹر ہر جگہ جا سکتی تھی۔

جامع مسجد کے سامنے سے گزر تی ہوئی بیوک مائی ستو کے تالاب کی طرف جا رہی تھی۔ سڑک کے دونوں طرف چھوٹے چھوٹے مکان تھے۔ چھوٹی چھوٹی دکانوں کے آگے بانس کے سہارے کھڑے سائبان کھنڈر سے لگ رہے تھے۔ یہ مسلمانوں کا علاقہ تھا۔ ادھ ٹوٹا پل پار کرنے کے بعد موٹر سیدوں کے محلے کی طرف بڑھی۔ دائیں بائیں کے مکانات اونچے ہونے لگے۔ چھجوں والے دو منزلہ، تین منزلہ گھر، نیچے آگے بڑھے چبوترے، کواڑوں کھڑکیوں میں رنگین شیشے۔ یہاں ہندو وکیل اور ٹھیکیدار رہتے تھے۔ ایک آدھ کو چھوڑ کر سب ہی ہندو تھے۔ شاہ نواز کا بعض کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا، بے تکلفی اور دوستی یاری تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اس وقت جھروکوں میں لگی آنکھیں اسے دیکھے جا رہی ہیں۔ لیکن اسے یہ بھی اعتماد تھا کہ سب آنکھیں اسے پہچانتی ہیں۔ پھربھی اس نے موٹر کی رفتار تیز کر دی۔

c. 1973 - Bank Road - ‎Rawalpindi

مائی ستو کے تالاب کے پاس پہنچ کر وہ دائیں طرف مڑ گیا۔ اس ملے جلے علاقے میں سب ہی طرح کے لوگ رہتے تھے۔ دکانوں کی ایک لمبی قطار جوتے بنانے والوں کی تھی۔ یہ لوگ ہوشیار پور سے آئے ہوئے سکھ تھے۔ آج سب دکانیں بند تھیں۔ آگے چل کر چند کچے مکان تھے جن کی دیواروں پر گوبر کے اُپلے لگے تھے۔ بھنگیوں کی یہ بستی بھی سنسان پڑی تھی۔ شاہ نواز کی موٹر پھر دھیمی ہو گئی۔ بجلی کے کھمبے کے پاس دو بچے ایک دوسرے کو پکڑنے کی کوشش کررہے تھے۔ نزدیک ہی بچوں کی ایک اور ٹولی کھیل رہی تھی۔ یہاں سے گزرتے ہوئے شاہ نواز نے غور سے ان کی طرف دیکھا۔ اس علاقے میں ابھی تناﺅ پیدا نہیں ہوا تھا۔ اگر تھا تو نظر نہیں آتا تھا۔

شاہ نواز کے چہرے سے معلوم نہیں ہوتا تھا کہ اس کے دل میں بھی کبھی اوچھے یا برے خیالات اٹھتے ہوں گے۔ بارعب جوان، چھاتی تنی رہتی، طرہ لہراتا رہتا، بوٹ چمچماتے رہتے۔ ہمیشہ دھوبی کے دھوئے کلف لگے کپڑے پہنتا۔ ”ایمان سے، یہ کسی لڑکی کی طر ف دیکھ کر مسکرا ے تو وہ مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتی“، لوگ اس کے بارے میں کہتے تھے۔ لیکن یہ برسوں پہلے کی بات تھی۔ اب وہ سنجیدہ اور دنیا دار آدمی تھا، دو پٹرول پمپوں کا مالک۔ اس کی موٹر لاریاں چلتی تھیں۔ پھر بھی ملنسار اور دوست نواز آدمی تھا۔ پہلے کی طرح اب بھی ہنس مکھ اور تیز طرار تھا۔ دوست نوازی اس کا ایمان تھی۔ جب شہر میں گڑ بڑ شروع ہوئی اور وہ رگھوناتھ کی خیریت معلوم کرنے گیا تو اس نے رگھوناتھ کی بغل میں بیٹھنے والے نانبائی سے کہا تھا، ”دیکھ فقیرے! دونوں کان کھول کر سن لے۔ اگر میرے یار کے گھر کو کسی نے بری نظر سے دیکھا تو میں تجھے پکڑوں گا۔ کوئی اس گھر کے پاس نہ آنے پائے“۔

Church in Westridge #Rawalpindi. Circa, 1906موٹر اب بڑی سڑک پر آ گئی تھی۔ یہ علاقہ کشادہ تھا اور آس پاس کے گھر سڑک سے کافی دور تھے۔ مسلمانوں کے اس علاقے میں موٹر دھیمی رفتار سے جا رہی تھی۔ بھابھڑ خاں جانے والی سڑک کے سرے پر مولا داد کھڑا تھا۔ پیچھے ایک دکان کے چبوترے پر پانچ سات آدمی ڈھاٹے باندھے اور لاٹھیاں ہاتھ میں لیے بیٹھے تھے۔ مولا داد آج بھی اپنی نرالی پوشاک میں تھا، خاکی رنگ کی بِرجس، گلے میں ہرے رنگ کا ریشمی رومال۔ شاہ نواز کی موٹر کو آگے دیکھ کر آگے بڑھ آیا۔

”کیا خبر ہے؟“ شاہ نوازنے موٹر روکتے ہوئے پوچھا۔ ”خبر کیا ہے خان جی، ادھر پیچھے والے محلے میں کافروں نے ایک غریب مسلمان مار ڈالا ہے،“ یہ کہتے ہوئے مولا داد کی آنکھوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی، جیسے وہ کہہ رہا ہو، ”تم کافروں سے بغل گیر ہوتے ہو خان جی، ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہو، جبکہ مسلمان مر رہے ہیں۔ “ لیکن مولا داد کچھ نہیں بولا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی پہنچ شاہ نواز تک نہیں ہو سکتی۔ شاہ نواز کا اٹھنا بیٹھنا ڈپٹی کمشنر کے ساتھ بھی تھا اور شہر کے رئیسوں کے ساتھ بھی۔ جب کہ مولا داد برسوں سے کمیٹی کے آس پاس ہی چکر کاٹ رہا تھا

”پانچ کافر ہم نے بھی کاٹے ہیں۔ ان کی ماں کی….“

شاہ نواز نے اس کی بات سنی اَن سنی کرکے موٹر آگے بڑھا دی۔ تھوڑی دور گیا ہو گا کہ دائیں طرف کی گلی سے اچانک بہت سے لوگ نمودار ہوئے۔ خاموشی سے چلتے ہوئے یہ لوگ سڑک پار کرنے لگے۔ کوئی جنازہ تھا۔ آگے آگے حیات بخش چلا جا رہا تھا۔ سر پر کلاہ، سفید قمیص اورشلوار۔ لوگوں کے پیروں کی دھیمی دھیمی آہٹ ہوا کو جیسے تھپکیاں دیتی جا رہی تھی۔ شاہ نواز سجھ گیا کہ وہ اسی مسلمان کی میت ہو گی۔ جنازے کے پیچھے دو چھوٹے چھوٹے لڑکے بھی جا رہے تھے شاید مرنے والے کے بیٹے ہوں گے۔ تھوڑی دیر میں سڑک صاف ہو گئی اور شاہ نواز نے گاڑی پھر چلا دی۔

G.T Road leading from #Rawalpindi to #Lahore in 1899پھاٹک طے کر کے اس نے موٹر ایک درخت کے نیچے کھڑی کر دی اور چابی ہلاتا ہوا بنگلے کی طرف بڑھنے لگا۔ کھڑکی کے پردے کے پیچھے کھڑی رگھوناتھ کی بیوی نے اسے سب سے پہلے دیکھا اور پہچانتے ہی اسے دلی مسرت ہوئی۔ ”او کراڑ! کھول دروازہ!“ شاہ نواز نے باہر سے آواز لگائی۔ رگھوناتھ کی بیوی لپک کر باتھ روم کی طرف گئی۔ ”شاہنواز تم سے ملنے آیا ہے“، اس نے دروازے کے باہر سے شوہر کو پکارتے ہوئے کہا۔ ”میں اسے بٹھاتی ہوں۔ تم آﺅ“لیکن دروازہ کھلنے سے پہلے ہی شاہ نواز پھر سے بولنے لگا، ”اوئے بابو ! بنگلے میں رہنے لگا ہے تو دروازہ ہی نہیں کھولتا۔ “ پھر بھابھی کو سامنے کھڑا دیکھ کر جھینپ سا گیا۔ ”بھابی سلام ! کدھر ہے میرا یار؟ “ اس نے کہا اور نشست گاہ میں داخل ہو گیا۔

رگھوناتھ کی بیوی نے بتایا کہ رگھوناتھ باتھ روم میں ہے اور شاہنواز کے قریب کرسی پر بیٹھ گئی۔ ”یہاں کیا حال ہے بھابی؟ کوئی تکلیف تو نہیں ؟ اچھا کیا وہاں سے نکل آئے“۔

”اچھا ہے، لیکن اپنا گھر تو اپنا گھر ہی ہوتا ہے۔ اب نہ جانے اس میں جانا ہو گا یا نہیں،“ یہ کہتے کہتے رگھوناتھ کی بیوی کی آنکھیں بھر آئیں۔ شاہ نواز بھی جذباتی سا ہو گیا۔ ”روﺅ نہیں بھابی۔ اگرمیں زندہ رہا تو تم لوگ ضرور پھر اپنے گھر میں جاﺅ گے۔ بے فکر رہو“۔ رگھوناتھ کی بیوی شاہ نواز سے پردہ نہیں کرتی تھی۔ شوہر کے دوستوں میں سے یہی ایک مسلمان دوست تھا جس کے سامنے وہ بے جھجک آ جاتی تھی۔ رگھوناتھ اس بات پر فخر کرتا تھا کہ اس کا سب سے قریبی دوست ایک مسلمان ہے۔

”فاطمہ کو نہیں لائے؟ جب آتے ہو، اکیلے چلے آتے ہو“۔

”شہر میں گڑبڑ ہے بھابی۔ تم کیا سمجھتی ہو، میں سیر کو نکلا ہوں؟“

”تم آ سکتے ہو تو وہ کیوں نہیں آ سکتی؟موٹر میں تو وہ بھی بیٹھ سکتی تھی“۔ اسی وقت رگھوناتھ آ گیا۔

”اوبابو، تجھے یہاں بھی ٹٹیاں لگی ہیں؟ اُدھر سے بھاگ کے آیا ہے کافر اور یہاں بھی ٹٹیاں کرنے لگا ہے“۔

Glimpse of The Mall Rd., Rawalpindi from 1890sاور دونوں بغل گیر ہو گئے۔ شاہ نواز کا دل پھر جذبات میں ڈوب گیا۔ ”میرے اس یار پر تو میری جان بھی قربان ہے۔ اسے کوئی ہاتھ لگا کر تو دیکھے، اس کی چمڑی ادھیڑ دوں“۔

بھابی باہر جانے کے لیے کھڑی ہوئی تو شاہ نواز نے اسے روک دیا۔ ”کہاں جا رہی ہو بھابی؟ میں کھانا وانا نہیں کھاﺅں گا؟“ کیوں ؟ کھانا کیوں نہیں کھاﺅ گے؟“ ”یہ تو بولتا ہی رہے گا جانکی، تم کھانا تیار کرو“ رگھوناتھ بولا۔ ”جا جا! بھنڈی کھلائے گا۔ میں بھنڈی نہیں کھاتا۔ بھابی، میرے لیے کچھ نہیں بنانا“۔ لیکن جانکی جا چکی تھی۔ شاہنواز نے پیچھے سے آواز دی، ”خدا کی قسم بھابی، میں کچھ نہیں کھاﺅں گا۔ مجھے جلدی جانا ہے۔ بس دو منٹ کے لیے آیا ہوں۔ “

’کھانا نہیں کھاﺅ گے، چائے تو پیو گے؟“ بھابی کمرے کی دہلیز پر لوٹ آئی۔ ”یہ تو میں پہلے سے جانتا تھا کہ تم کھانا نہیں کھلاﺅ گی۔ اچھا تم چائے ہی پلا دو۔ “ دونوں دوست بیٹھ گئے۔ رگھوناتھ نے سنجیدہ لہجے میں کہا، ”بہت گڑبڑ ہے، دل کو بڑا دکھ ہوتا ہے۔ بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے“

لیکن اچانک ایسا لگا کہ اس جملے سے دونوں کے درمیان دوری سی پیدا ہو گئی ہے۔ ان کے آپس کے رشتے کی بات اور تھی، ہندو مسلمان کے رشتے کی بات دوسری تھی۔ اس جملے سے گویا رگھوناتھ نے آپسی رشتے کے ساتھ فرقہ وارانہ رشتہ جوڑنے کی کوشش کی تھی جس کے بارے میں دونوں کے خیالات جدا جدا تھے۔ ”سنا ہے دیہات میں بھی فسادات شروع ہو گئے ہیں،“ رگھو ناتھ نے کہا۔ لیکن اس معاملے پر زیادہ بات چیت کی گنجائش نہیں تھی۔ دونوں عجیب سی کیفیت محسوس کرنے لگے۔ یہ معاملہ ان کی دلی گفتگو پرکہرے کی چادر کی طرح بچھ گیا تھا۔

”چھوڑ یارباﺅ، تو اپنی بات کر، “شاہ نواز نے گفتگو کا موضوع بدلتے ہوئے کہا۔ ”جانتا ہے، کل میری کس سے ملاقات ہو گئی؟ بھیم سے، ”شاہ نواز نے چہک کر کہا۔

Murree_road_rawalp_galleryfull”کون سا بھیم؟“ رگھو ناتھ نے پوچھا اور پھر دونوں قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔ بھیم ان کا بچپن کے زمانے میں کلاس فیلو رہا تھا، اور کسی چھوٹے سے ڈپٹی اسسٹنٹ سٹی پوسٹ ماسٹر کا بیٹا تھا، اور اسی نام سے اپنا تعارف کراتا تھا۔ اسی وجہ سے سب ہی دوست اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ ”یہیں ہوتا ہے کافر، دو سال سے۔ پہلے کبھی ملا ہی نہیں،“ شاہ نواز نے ہنس کر کہا۔ ”میں نے دور ہی سے اسے پہچان کر زور سے کہا : ڈپٹی اسسٹنٹ سٹی پوسٹ ماسٹر صاحب! کمبخت کھڑا ہو گیا لیکن ملا بڑے پیار سے“

بھابی چائے لے آئی تھی، میز پر رکھتے ہوئے بولی، ”مجھے آپ سے ایک کام ہے خان جی“۔ بھابی کے آنے سے دونوں کو اطمینان سا ہوا۔ فسادات کے بارے میں بات کرتے وقت دونوں عجیب سی کیفیت محسوس کر رہے تھے۔ دو آدمی مل بیٹھیں اور اس خوفناک صورت حال کے بارے میں بات چیت نہ کریں، یہ بھی عجیب سا لگتا تھا۔ بچپن کے ہنسی مذاق اس پس منظر میں کچھ کھوکھلے لگنے لگے تھے۔

”کہو نا بھابی“

”اگرتکلیف نہ ہو تب ہی“

”تم کہو بھی“

”میرے او رمیری جیٹھانی کے زیوروں کا ایک ڈبا گھر میں پڑا ہے۔ وہ نکلوانا ہے۔ جب آئے تھے تو تھوڑا سا سامان لے کر چلے آئے۔ میں کچھ بھی ساتھ نہیں لائی۔ “”اس میں کیا مشکل ہے بھابی۔ چھوٹا سا کام ہے۔ کہاں رکھے ہیں؟“ ”ادھ چھتی والی کوٹھڑی میں۔ “ شاہ نواز ان کے گھر کے کونے کونے سے واقف تھا۔ دوستوں میں Rawalpindi Railway Station in 1919یہی ایک دوست گھرکے اندر آ جا سکتا تھا۔

”اس پر تو تالا چڑھا ہو گا،اتنا بڑا سکے کا تالا۔ “

”میں چابیاں دیتی ہوں۔ جگہ بھی سمجھا دوں گی“

”نکال لاﺅں گا۔ آج ہی نکال لاﺅں گا“

”ملکھی وہاں پر ہو گا، وہ تالا کھول دے گا“

”ملکھی وہیں پر ہے۔ میں صبح اس طرف چکر لگا کر آیا ہوں۔ اسے خبردار کرتا رہتا ہوں“

”کھانا وانا کہاں کھاتا ہے؟“

”سارا گھر اس کے پاس ہے۔ وہیں رسوئی میں کھانا بنا لیتا ہو گا، اور کیا؟“ رگھو ناتھ بولا۔ ”رسد تو اتنی ہے کہ چھ مہینے کھائے تو ختم نہیں ہو گی،“ رگھوناتھ کی بیوی نے کہا۔ پھر شاہ نواز کی طرف دیکھ کر بولی،“ پھر لاﺅں چابیاں؟“ شاہ نواز پھر جذباتی ہو گیا۔ اسے فخرکا احساس ہوا۔ ہزاروں کے زیورات کی چابیاں بھابی میرے ہاتھ میں دے رہی ہے۔ مجھے اپنا سمجھتی ہے تب ہی تو۔

بھابی چابیاں کھنکاتی واپس آئی۔ ”اور جو میں تمہارا زیور ہضم کر جاﺅں بھابی؟“ ”تم سے زیور اچھا ہے خان جی؟ تم اسے پھینک بھی آﺅ تو میں سی نہیں کروں گی۔ میں کہوں گی تمہاری بلا سے۔ “

hqdefaultاور پھر گچھے میں سے چابیاں دکھانے اور سمجھانے لگی۔ تھوڑی دیر بعد شاہ نواز اٹھ کھڑاہوا۔ دونوں دوست باہر آئے اور چپ چاپ چلتے ہوئے موٹر تک پہنچے۔ ”کس منھ سے تمہارا شکریہ ادا کروں شاہ نواز۔ تم نے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے،“ رگھو ناتھ کے دل سے اپنے آپ جیسے احسان مندی کے الفاظ نکل آئے۔ ”او، چپ اوئے، کراڑ!“ شاہ نواز نے کہا۔ ”جا گھر جا کر بیٹھ ٹٹی کر،“اس نے کہا اور موٹر کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گیا۔ لیکن رگھوناتھ ٹھٹکا کھڑا رہا۔

”جا، جا نا، ادھر میرا مغز کیوں چاٹ رہا ہے؟“

رگھوناتھ پھر بھی کھڑا رہا۔ اس نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔

”اب جا بھی۔ میرا ہاتھ گندا مت کر۔ جا کسی واقف کار سے بات کر۔ تیرے جیسے بہت دیکھے ہیں۔“ اور پھر شاہ نواز نے موٹر اسٹارٹ کر دی۔

دوپہر ڈھل چکی تھی جب زیورات کا ڈبا لینے کے لیے شاہ نواز رگھو ناتھ کے آبائی مکان پر پہنچا۔

ملکھی نے دروازے دیر سے کھولا۔ ”کون ہے جی؟“

”کھولو دروازہ۔ میں ہوں شاہ نواز“

”کون جی؟“

”کھولو، کھولو۔ میں شاہ نواز ہوں“

”جی آیا جی۔ اندر سے تالا لگا ہے جی۔ ابھی لاتا ہوں چابی، انگیٹھی پر رکھی ہے۔ “سڑک کے پار فیروز کھال والے کا گودام تھا۔ فیروز اپنے گودام کے چبوترے پر کھڑا تھا۔ شاہ نواز نے اسکی طرف رخ کیا تو وہ بت کی طرح شاہ نواز کی طرف دیکھے جا رہا تھا۔ شاہ نواز نے منھ پھیر لیا لیکن وہ اب بھی فیروز کی نفرت بھری نظریں محسوس کر رہا تھا۔ ہے جیسے وہ دل ہی دل میں کہہ رہا ہو۔ ”آج بھی ہندوﺅں کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہو۔ “

ایک تانگا قریب سے گذرا۔ شاہ نواز نے گھوم کر دیکھا۔ چودھری مولا داد اپنی انوکھی پوشاک پہنے، بِرجس اور گلے میں ہرے رنگ کا ریشمی رومال، کھلے تانگے میں مسلم علاقے کا دورہ کر رہا تھا۔ شاہ نواز کو دیکھ کر وہ ہنس دیا، اور ہاتھ ضرور سے زیادہ اونچا اٹھا کر ”سلام علیکم“ کہا۔ شاہ نواز جھینپ سا گیا۔ اسے نوکر پر غصہ آیا۔ وہ کیوں دروازہ کھولنے میں دیر لگا رہا ہے؟ پھر اندر سے تالا کھلنے کی آواز آئی۔ ملکھی نے دروازے کا ایک پٹ آہستہ سے تھوڑا سا سرکایا اور شاہ نواز کو دیکھ کرہنسنے لگا۔ شاہ نواز نے پیر کی ٹھوکر سے دروازہ کھول دیا اور اندر چلا گیا۔

Madan Pura; An Old settlement of #Rawalpindi in Gowalmandi area established before Partition.”بند کر دو دروازہ“

”جی خان جی“

گھر کا تاریک برآمدہ طے کرتے ہوئے اسے اپنے پن کااحساس ہوا۔ اس تاریک برآمدے میں وہ بہت دن بعد آیا تھا۔ گھر کی جانی پہچان مہک اسے اچھی لگی۔ برسوں پہلے جب وہ رگھو ناتھ کے ساتھ برآمدہ طے کرکے اندر آیا کرتا تھا تو رگھو ناتھ کی چھوٹی بیٹی منھ میں انگلی دبائے دیر تک اس کی طرف تکتی رہتی تھی۔ پھر دونوں بانہیں اٹھا دیتی تھی کہ مجھے گود میں اٹھا لو۔ جب کبھی وہ آتا تو بچی بھاگتی ہوئی برآمدے کے سرے پر آ جاتی تھی اور دونوں بانہیں اٹھا کر ہنسنے لگتی تھی۔ اس برآمدے کو طے کرتے وقت گھر کی جوان عورتیں دروازے کی اوٹ سے اندر بھاگ جایا کرتی تھیں۔ یہ بھی برسوں پہلے کی بات تھی، جب رگھوناتھ نے اسے گھر کے اندر لانا شروع کیا تھا۔ ان ہنستی عورتوں میں سے کسی کی نظر شاہ نواز پر پڑ جاتی تو وہ بھاگنا چھوڑ کر رک جاتی۔

”ہائے آپ ہیں! میں نے سوچا نہ جانے کون ہے“

شاہ نواز کا دل بھر آیا۔ اس گھر میں اس نے رگھوناتھ اوراس کے خاندان کے ساتھ بڑی اچھی شامیں گذاری تھیں۔ اس کے وہاں پہنچتے ہی رگھو ناتھ کے چھوٹے بھائی کی بیوی اس کے لیے انڈوں کا آملیٹ بنانے چلی جاتی تھی۔ گھر کے سب ہی لوگ جانتے تھے کہ شاہ نوازکو آملیٹ پسند ہے۔ اور آہستہ آہستہ گھر کے سب ہی لوگ آنگن میں آ کر بیٹھنے لگتے تھے۔

”خان جی، گھر کے سب لوگ سُکھ سے ہیں نا جی؟“ ملکھی نے ہاتھ جوڑکر پوچھا۔ تب ہی خان کا دھیان ملکھی کی طرف گیا۔ ملکھی ہاتھ جوڑے گھگھیاتا ہوا اس کے سامنے کھڑا تھا۔ ملکھی کی گدلی آنکھیں اور باتیں کرنے کا گڑگڑاہٹ بھرا انداز اور پچکا ہوا جسم اسے کبھی بھی پسند نہیں آیا تھا۔ اس وقت بھی ملکھی کی آنکھیں گدلی تھیں۔ کبھی کبھی گھر کے سب لوگ مل کر ملکھی سے مذاق کرتے تو وہ شرما کر بانہوں سے اپنا منہ چھپا لیتا تھا، بالکل عورتوں کی طرح، اور سب کھلکھلا کر ہنس پڑتے تھے۔ تب وہ شاہ نواز کو بُرا نہیں لگتا تھا لیکن عام طور پر وہ اسے لسلسی چھپکلی جیسا لگتا تھا۔ نہ جانے ملکھی کہاں سے آیا تھا۔ نہ پنجابی تھا، نہ گڑھوالی۔ اپنے گھسے ہوئے چھوٹے چھوٹے دانتوں کے بیچ میں سے وہ کسی کھچڑی زبان کے لفظ پیس پیس کر نکالتا رہتا تھا۔

Screen Shot 2015-08-07صحن کے بیچوں بیچ تین اینٹیں رکھ کر ملکھی نے اپنا چولھا بنا لیا تھا۔ اس کی راکھ آنگن میں جگہ جگہ بکھری پڑی تھی۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ بیڑیوں کے ٹکڑے جگہ جگہ پڑے تھے۔ ”تو رسوئی کے اندر ہی اپنی ہانڈی کیوں نہیں پکاتا؟“ شاہ نواز نے پوچھا اور ملکھی سر ٹیڑھا کر کے مسکرا دیا۔ ”اکیلا ہوں صاحب جی۔ یہیں پر اپنی دال چڑھا لیتا ہوں۔ “

”رسد کافی ہے نا؟ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟“ ”بہت ہے، خان جی۔ ساتھ والا نانبائی ہے نا، وہ بھی روز پوچھ لیتا ہے۔ آپ ہی اسے بول کر گئے تھے“۔ ”کون سا نانبائی؟“ صاحب، وہ جو نالے کے پاس بیٹھتا ہے۔ میرے لیے بیڑی کے پیکٹ بھی پھینک دیتا ہے۔ بہت بھلا آدمی ہے۔ “ اور وہ کھی کھی کر نے لگا۔

صحن میں، عین رسوئی کی بغل میں سے سیڑھیاں اوپر کو چلی گئی تھیں۔ شاہ نواز نے سیڑھیوں پر قدم رکھتے ہوئے صحن کی طرف دیکھا۔ بڑے کمرے کا صحن میں کھلنے والا دروازہ بند پڑا تھا۔ شاہنواز کمرے کے اندرکی ایک ایک چیز کو جانتا تھا۔ آتش دان پر رگھوناتھ کی ماں کا فوٹو رکھا ہے۔ کمرے میں ایک اونچا پلنگ اور دو کھاٹیں بچھی ہیں۔ اسے بند دروازہ بڑا سونا سونا لگا۔ دروازے کے باہر دہلیز کے ساتھ ملکھی کی چلم الٹی پڑی تھی۔ پاس ہی ایک میلا سا چیتھڑا پڑا تھا۔ ”تو یہاں بیٹھا کیا کرتا رہتا ہے؟ فرش پر جھاڑو بھی نہیں لگاتا۔ “ ”اب کیا جھاڑو لگانا صاحب جی! اب تو وہ چلے گئے،“ ملکھی نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔ شاہ نواز کو ایسا لگا کہ جب وہ دونوں باتیں کرتے ہیں تو جیسے گنبد میں سے آواز آتی ہے، اور جب وہ بولنا بند کر دیتے ہیں تو چاروں طرف سناٹا چھا جاتا ہے۔ ”سامان والی کوٹھڑی بیچ والی چھت پر ہے نا؟“ ”جی اُدھر، سیڑھیوں کے سامنے، جہاں بڑے ٹرنک رکھے ہیں۔ “ اور ملکھی شاہ نواز کے پیچھے پیچھے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔

tamasچابیوں کے گچھے میں کچھ نہیں تو پندرہ چابیاںہوں گی۔ چند ایک چھوٹی چھوٹی پیتل کی چابیاں تھیں۔ بھابی نے پہلے بڑے تالے کی چابی الگ کر کے دکھائی تھی۔ پھر الماری کے تالے کی چھوٹی سی پیتل کی چابی دکھائی دی۔ ”یہ چابی ہے خان جی، بھولنا نہیں“ لیکن شاہ نواز کو اب وہ چابی ڈھونڈنے میں دقت ہو رہی تھی۔ ”اس بڑے تالے کی کون سی چابی ہے، تمہیں کچھ معلوم ہے؟“

”ہاں صاحب جی، میں بتاتا ہوں“

ملکھی چابی کے گچھے پرجھک کر یوں ڈھونڈنے لگا جیسے کوئی منیم بہی کھاتے پر جھک کراعداد و شمار پڑھتا ہے۔ ملکھی کا قد شاہ نواز کی کہنی سے بمشکل کچھ
اوپر تھا۔ شاہ نواز کو پگڑی کے نیچے ملکھی کی چٹیا جھانکتی نظر آئی، بائیں کان کے اوپر کنکھجورے کی طرح نکلی ہوئی۔ شاہ نواز کو جھرجھری سی محسوس ہوئی۔

ملکھی نے تالا کھول دیا۔ کوٹھری کے اندر گھٹن اور اندھیرا تھا۔ ملکھی نے آگے بڑھ کر کوٹھری کی کھڑکی کھول دی، جو گھر کے پچھواڑے کی طرف کھلتی تھی اور جہاں سے مسجد کا پورا صحن دکھائی دیتا تھا۔ کھڑکی کھل جانے سے کوٹھری کے اندر کی سب چیزیں صاف نظر آنے لگیں۔ کوٹھری میں گھٹن تھی لیکن اس سے کہیں زیادہ عورتوں کے کپڑوں کی مہک تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ تینوں بھائیوں کی بیویاں گھر چھوڑنے سے پہلے اپنے کپڑے جیسے تیسے لپیٹ کر کوٹھری میں ٹرنکوں کے اوپر پھینک گئی تھیں۔ کوٹھری صندوقوں اور ٹرنکوں سے ٹھا ٹھس بھری تھی۔ ٹرنکوں کے بیچ میں سے راستہ بناتا ہوا شاہنواز اس الماری تک پہنچا جس میں زیوروں کا ڈبا رکھا تھا۔ اسی لمحے اس کی نظر کھلی ہوئی کھڑکی میں سے مسجد کے صحن پر پڑی۔ وضو کے حوض کے پاس بہت سے آدمی بیٹھے تھے۔ لگتا تھا کہ ان کے درمیان کسی آدمی کی لاش رکھی ہے۔ اس کی آنکھوں میں اس جنازے کا منظر بھی گھوم گیا جب وہ موٹر میں رگھو ناتھ کے گھر جا رہا تھا۔ وہ دیر تک کھڑکی میں سے مسجد کی طرف آنکھیں لگائے دیکھتا رہا۔

ڈبا نکالنے میں دیر نہیں لگی۔ شاہنواز نے نیلی مخمل سے بنا سنگھار بکس بڑی احتیاط سے نکال کر الماری کو تالا لگا دیا۔ باہر آنے پر دونوں سیڑھیاں اترنے لگے۔ ملکھی کے ہاتھوں میں چابیوں کا گچھا تھا اور وہ آگے آگے اتر رہا تھا۔ ڈبے کو دونوں ہاتھوں سے اٹھائے شاہ نواز اس کے پیچھے پیچھے چلا آ رہا تھا۔ سب ہی اچانک اس کے اندر بھبھوکا سا اٹھا۔ نہ جانے ایسا کیوں ہوا۔ ملکھی کی چُٹیا پر نظر پڑنے کی وجہ سے، مسجد کے صحن میں لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر یا اس لیے کہ پچھلے تین دن سے اس نے جو کچھ دیکھا یا سنا تھا، وہ زہرکی طرح اس کے اندر گھلتا رہا تھا۔ شاہ نواز نے اچانک بڑھ کر ملکھی کی پیٹھ پر زور سے لات جمائی۔ ملکھی لڑھکتا ہوا گرا اور سیڑھیوں کے موڑ پر سیدھا دیوار سے جاٹکرایا۔ جب وہ نیچے گرا تو اس کا ماتھا پھوٹا ہوا تھا اور پیٹھ ٹوٹ چکی تھی کیونکہ وہ جہاں گرا وہاں سے اٹھ نہیں پایا۔ شاہ نواز اس کے پاس سے نکل کر آیا۔ ملکھی کا سر نیچے کی طرف لٹک رہا تھا اور ٹانگیں آخری سیڑھیوں سے لٹک رہی تھیں۔ شاہ نواز کا غصہ، جس کی وجہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا، برابر بڑھتا جا رہا تھا۔ پاس سے گذرتے ہوئے اس کا دل چاہا کہ پیر اٹھا کر ملکھی کے سر پر دے مارے، کیڑے کو کچل ڈالے، لیکن سیڑھیوں کے موڑ پر اس کو اپنا توازن کھو بیٹھنے کا ڈر تھا۔

نیچے صحن میں پہنچ کر اس نے ایک بار ملکھی کی طرف دیکھا۔ ملکھی کی آنکھیں کھلی تھیں اور شاہ نواز کے چہرے پر ایسے لگی تھیں جیسے یہ بات اس کی سمجھ میں نہ آ رہی ہو کہ اس کی کون سی غلطی پر خفا ہو کر خان جی نے اسے مارا تھا۔ ملکھی کے منھ سے گرتے وقت گھٹی گھٹی سی آواز نکلی تھی لیکن اب وہ چپ تھا۔ شاید
ڈر ہی سے دم توڑ گیا تھا یا بے ہوش پڑا تھا یا پھر گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ شاہ نواز نے اسے وہیں چھوڑا، زیورات کا ڈبا بغل میں دبا کر باہر نکل آیا اور بڑا تالا جو پہلے ملکھی نے اندرلگا رکھا تھا، گھر کے باہر لگا دیا۔

اُس رات بھابی کے ہاتھ میں زیورات کا ڈبا دیتے ہوئے شاہ نواز نے کسی قسم کا تذبذب محسوس نہیں کیا، لیکن ڈبا ہاتھ میں لیتے وقت بھابی کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ بھابی کا رُواں رُواں احسان مندی سے بھرا ہوا تھا۔ رگھوناتھ دل ہی دل میں اس کے اعلیٰ کردار اور بلند خیالی کی تعریف کر رہا تھا۔ آج کے زمانے میں، جب چاروں طرف شعلے mohan-joshi-hazir-ho-04-788720اٹھ رہے تھے، ایک مسلمان دوست اس کے لیے ایک مثال بن گیا تھا۔

”لیکن ایک بُری خبر بھی لایا ہوں بھابی!“

”کیوں، کیا چوری ہو گئی ہے؟“ ”نہیں۔ ملکھی سیڑھیوں پر سے بری طرح گر پڑا ہے اور شاید اس کی کوئی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔ پہلے سوچا کسی ڈاکٹر واکٹر کو بلاﺅں لیکن آج کل ڈاکٹر ملتے کہاں ہیں۔ کل کوئی انتظام کروں گا۔ “ ”بے چارہ!“بھابھی کے منہ سے نکلا۔ ”کہو تو اسے یہاں ڈال جاﺅں۔ وہاں اکیلا کہاں پڑا رہے گا؟ میں اپنا کوئی آدمی رکھوالی کے لیے چھوڑ آﺅں گا۔ “ لیکن بھابی اور رگھوناتھ دونوں ہی اس خیال سے ہچکچائے۔ وہ خود نئے علاقے میں ابھی اجنبی تھے۔ ان سے ایک مریض کی دیکھ بھال کہاں ہو گی۔ اگر شاہ نواز کے لیے ڈاکٹر کو تلاش کرنا مشکل ہو رہا تھا تو ان کے لیے کہاں ممکن ہو گا۔ ”میں انتظام کر دوں گا،“ شاہ نواز نے سر ہلا کر کہا۔ ”کوئی نہ کوئی انتظام ہو جائے گا۔ ایسی مشکل بھی کیا ہے!“

بھابی اس پر بھی شاہ نواز کی احسان مند تھی جس کا کشادہ اور روشن چہرہ دیکھتے ہوئے اسے لگ رہا تھا جیسے کسی دیوتا کو دیکھ رہی ہو۔

(ہندی سے ترجمہ: شہلا نقوی)


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “مارچ 1947ء کے راول پنڈی کا ایک باب

  • 04-05-2016 at 12:52 am
    Permalink

    بے وفا سہی، پنڈی میری محبوبہ ہے. یہ ناول تو پڑھنا ہوگا.

  • 04-05-2016 at 6:45 pm
    Permalink

    تعصب تعصب ہوتا ہے آخر میں رائتر کا ہندو پنا سامنے آ ہی گیا وہ زیورات تو لاکر دے دیتا ہے اتنے کشیدہ حالات میں بھی دوست کی خاطر گیری کرتا ہے مگر آخر میں ایک انسان کو صرف اسکے عقیدے کی وجہ سے قتل بھی کر لیتا ہے ۔۔۔
    کیا ہے صاحب کچھ جوڑ نہین کھایا شاہنواز کی پہلی سطروں میں بنائی ہوئی شخصیت کا آخری سطروں میں تراشیدہ خونی کے ساتھ۔۔

    • 06-05-2016 at 9:00 am
      Permalink

      Ayyan I’ve read the whole Novel, don’t be judgmental reading just one piece. It is Published by ‘Aaj’ Karachi by its publishing wing “City Press Book” Moreover, one of my teacher in Punjab University Law College, who has been in India for teaching law shared an experience with me. He told that he had very cordial relationship with some Indian Hindu, but when that man dropped him on the border, and made a last handshake, a very strong emotion of distrust and hate overwhelmed my teacher and he felt that the same negativity was reflecting in the eyes of the Indian. So it happens dear, biases may overtake us even momentarily because of environment or an impulse.

  • 06-05-2016 at 3:53 am
    Permalink

    ہاں یہی تو. مصنف کو چاہیے تھا، شاہ نواز کو ہندو کے ہاتھوں قتل کروا دیتا، یوں ہندو کی احسان فراموشی عیاں ہوتی. اور یہ تعصب بھی نہ کہلاتا.

  • 06-05-2016 at 3:32 pm
    Permalink

    بہت ا علٰی، اس کہانی کو پڑھنے کے بعد میں ۱۹۸۷ میں دور درشن ٹی وی پر نشر ہونیوالی سیریل “تمس” دیکھنے پر مجبور ہوگیا۔ یو ٹیوب پر تمام اقساط موجودہیں جو اس ناول کی بہترین ڈرامائی تشکیل ہے۔

Comments are closed.