عجمان کی بسم اللہ جان


zafar kakarانشا جی نے کہا تھا ، ہم گھوم چکے بستی بن میں، اک آس کی پھانس لئے من میں۔ پھانس وہی ہے مگر قبول کرنے کا یارا نہیں۔ میں جس سماج کا باسی ہوں وہاں قدم قدم پر پاکی داماں کی گواہی لازم ہے۔ اپنے اپنے تقویٰ کا ایک بازار سجا ہے اور اس پر اجداد کی عظمت رفتہ کے گیت ہیں۔ پچھلے دنوں کسی نے باندی کے لباس کا ذکر چھیڑ دیا تھا، مانو قیامت آ گئی۔ ایسے میں ان بزرگوں کے نام کیسے لئے جائیں جو کوٹھے پر نوچیوں کے حسن سے آنکھیں خیرہ کرتے اور پھر ان کو ’رنڈی‘ لکھتے تھے۔ کہانی بہت پیچیدہ ہے۔ پہلے منٹو کی سن لیجیے، پھر رسوا کی ’بسم اللہ جان‘ کی بھی سناتے ہیں۔ ایک کہانی منٹو نے بھی کسی بسم اللہ جان کی لکھی جس کا نام نیتی تھا۔ ایک دن کمیٹی والوں نے نیتی کو بلایا اور اس کا لائسنس ضبط کر لیا۔ وجہ یہ بتائی کہ عورت ٹانگہ نہیں چلا سکتی۔ نیتی نے پوچھا، ”جناب عورت ٹانگہ کیوں نہیں چلا سکتی“؟ حضور آپ رحم کریں۔ محنت مزدوری سے کیوں روکتے ہیں مجھے؟ میں کیا کروں بتایئے نا مجھے“۔ افسر نے جواب دیا، جاﺅ بازار میں جا کر بیٹھو وہاں زیادہ کمائی ہے‘۔ منٹو نے تو کہانی لکھی ہے لیکن سچ کیا اس سے مختلف ہے؟

ہم عجمان کے ساحل پر ڈوبتے سورج کا نظارہ کرنے گئے تھے۔ پاس ہی کوئی آٹھ دس پاکستانی لڑکیاں آپس میں اٹھکیلیاں کر رہی تھیں۔ ساحل کی دیوار پر ایک عجمانی باشدہ بیٹھا ایک لڑکی سے اشاروں میں بات کر رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہ لڑکی قریب آئی اور اس باشندے سے اشاروں میں ہی کوئی بات کرنے لگی۔ تجسس کو فطری تو نہیں کہنا چاہیے لیکن میری توجہ اسی جانب تھی۔ اتنے میں اس لڑکی نے مجھے آواز دی۔ بھیا بات سنو! میں قریب گیا۔ اس نے پوچھا آپ کو انگریزی بولنی آتی ہے؟ میں نے کہا تھوڑی بہت آتی ہے۔ اس نے کہا یہ بڈھا مجھے ساتھ چلنے کو کہہ رہا ہے۔ اس سے کہو کہ میں اس سے صرف فون پر بات کر سکتی ہوں مجھے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ میں ایک عجیب کیفیت سے دوچار تھا کہ یہ کس معاملے میں پڑ گیا ہوں لیکن وقتی طور پر ذہن نے فرار کی کوئی صورت نہیں بتائی۔ میں نے اس بابے سے لڑکی کی بات انگریزی میں کہہ دی۔ بابا انگریزی بھی نہیں سمجھتا تھا۔ اس نے عربی میں ایک طویل کلام کیا جس کا مفہوم میں اتنا ہی سمجھ پایا کہ اس لڑکی کو کہو میرے ساتھ دوبئی جائے۔ اب معاملے کی نزاکت تھوڑی سی سمجھ آگئی تھی۔ یہاں پر کہانی کو تھوڑی دیر روک رہا ہوں کیونکہ اس میں کچھ نفسیاتی گتھیاں در آئی تھیں۔

جن لوگوں کو نفسیات کے مضمون سے شغف ہے ان کو معلوم ہے کہ نفسیات میں ’ادراکی تعصبات‘ (Cognitive Biases ) کی ایک لمبی فہرست ہے۔ ادراکی تعصبات، فکر کے وہ مخصوص رجحانات ہوتے ہیں جو کسی عقلی معیار یا مدلل رائے سے منظم انحراف کا باعث ہو تے ہیں یا ہوسکتے ہیں۔ ماہرین نے ایسے تعصبات کو تین درجوں میں بانٹا ہے۔ پہلا، قوت فیصلہ، یقین اور رویے کے تعصبات۔ دوسرا، سماجی تعصبات۔ تیسرا، یاداشت کی غلطی سے جنم لینے والے میلانات۔ ان تین درجوں میں سینکڑوں ذیلی تعصبات ہوتے ہیں۔ مثلا صرف پہلے درجے میں تعصبات کی سو کے قریب اقسام ہیں۔ دوسرے درجے میں تیس کے قریب عنوانات ہیں اور تیسرے درجے میں پچاس ذیلی شاخیں۔ ہم جس سماج میں رہتے ہیں وہاں پاکی ناپاکی کے مخصوص تصورات ہیں۔ وہاں اچھائی اور برائی کے مخصوص معیارات ہیں۔ وہاں جرم اور گناہ کے دو الگ الگ تصورات موجود ہیں۔ وہاں قوموں کے ثقافتی اقدار کو مختلف تعصبات میں بانٹا ہے۔ یہ ہمارے سماج کی ہی برکت ہے کہ اچھائی کے بھی درجے موجود ہیں۔ ایک آدمی اچھا ہوتا ہے۔ ایک تقوی دار ہوتا ہے۔ ایک شب زندہ دار ہوتا ہے۔ اسی طرح برائی کے بھی درجے موجود ہیں۔ ایک آدمی برا ہوتا ہے۔ ایک مجرم ہوتا ہے۔ ایک گہنگار ہوتا ہے۔ ایک منحرف ہوتا ہے۔ پھر زبان کی بنیاد پر برتر اور کم تر کے تصورات موجود ہیں۔ عقیدے کی بنیاد اعلی اور کم تر کے تصورات موجود ہیں۔ پیدائش کے حادثے کی بنیاد پر اعلی اور ادنی کا تصور موجود ہے۔ مثال کے طور پر ایک بچہ بغیر شادی کے جنم لیتا ہے تو ’حرامی‘ کہلاتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ بغیر شادی کے بچے پیدا کرنا اچھا کام ہے ۔ میں سماج کے اچھائی اور برائی کے نقطہ نظر کو تسلیم کرتے ہوئے اس کو برا ہی جانوں گا مگر میرا سوال یہ ہے کہ پیدائش کے اس حادثے میں جنم لینے والا بچہ حرامی کیوں کہلاتا ہے؟اس کا سماجی مقام وہ کیوں نہیں ہو سکتا ہے جو ایک عام بچے کا ہوتا ہے؟ایک عام بچہ جنسی عمل کے اس نتیجے میں پیدا ہوا ہے جس کے معاشرتی اعلان پر لوگ گواہ ہیں اور دوسرا بچہ اسی عمل کے نتیجے میں اسی خالق کی تخلیق ہے جس کو خلق کا اختیار ہے مگر فرق صرف یہ ہے کہ جس عمل کے نتیجے میں وہ پیدا ہوا ہے اس کے معاشرتی اعلان پر لوگ گواہ نہیں ہیں۔ اس میں ماں باپ کو مجرم تسلیم کیا جائے۔ ان کو گنہگار تسلیم کیا جائے مگر بچے کا کیا قصور ہے؟

نفسیات دان ان رویوں کو کسی معاشرتی ، سماجی یا الہامی پہلو سے نہیں دیکھتے بلکہ وہ ان کو ’ادراکی تعصبات‘ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ میں عجمان کے ساحل پر کھڑا غیر ارادی طور پر ایک بابا اور لڑکی کے اشارے دیکھ رہا ہوں۔ قریب جانے پر پتہ چلتا ہے کہ سماج کے تسلیم شدہ معیارات کے مطابق یہاں ایک غیر اخلاقی معاہدہ ہو رہا ہے جس میں میں ایک ترجمان کی حیثیت سے شامل ہو چکا ہوں۔ یہاں سے میرے ادراکی تعصبات نے جنم لیا۔ ذہن کے کسی گوشے میں پہلا سوال یہ تھا کہ کیا ایک غیر اخلاقی کام یا بطور مسلمان ایک گناہ میں ترجمان کا کردار ادا کرنا درست عمل ہے؟ ادراکی تعصبات میں میں اس وقت  (Conservatism ) کا شکار تھا جس میں قبول تصورات برخلاف انسان ایک نئی صورت حال سے دوچار ہوتا ہے۔ میں(Curse of knowledge )  کا بھی شکار تھا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ جو کام یہ کرنے جا رہے ہیں وہ غلط ہے مگر میں ان کو سمجھا نہیں سکتا تھا کیونکہ ان کا فہم اس معاملے میں کم تر تھا۔ میں (Declinism ) کا بھی شکار تھا کیونکہ مجھے اس میں سماج کے اخلاقی زوال کا پہلو نظر آ رہا تھا۔ میں (Empathy gap ) کا بھی شکار تھا کیونکہ میں ان کے محسوسات کو لائق اعتنا نہیں سمجھتا تھا۔ میں اس وقت (Moral luck) کا بھی شکارتھا کیونکہ میں اخلاقی تصورات میں خود کو اس لڑکی سے برتر تصور کر رہا تھا اور اس نے مجھے بھائی کہا تھا۔ لڑکی کی بجائے اگر میں یہاں لفظ طوائف لکھ دوں تو مفہوم آسان ہو جائے گا اور طوائف لکھتے ہوئے بھی میں اسی Moral luck کا شکار ہوں کیونکہ مجھے رنڈی لکھنا اپنے اخلاقی تصورات سے کم تر محسوس ہو رہا ہے) ۔ میں اس وقت (Third person effect ) کا بھی شکار تھا کیونکہ لوگ دیکھ رہے تھے کہ میں ایک غیر اخلاقی سرگرمی کا حصہ ہوں۔ ان تمام ادراکی میلانات کے ہوتے ہوئے اس وقت بھی میں وہاں کھڑا تھا اور بطور ترجمان کھڑا تھا۔ اگر لڑکی کا اگلا جملہ نہ آتا تو شاید میں وہاں سے بھاگ جاتا۔ اس لڑکی نے کہا کہ میں اس بابا سے کہوں کہ ہم صرف ڈانس کرتے ہیں کسی کے ساتھ جاتے نہیں۔ جانے کیوں مجھے یک گونہ تسلی ہوئی کہ چلو کم ازکم جسم تو نہیں بیچتی۔ یہ بھی وہی ادارکی تعصب ہے جو برائی یا گناہ کو کم یا زیادہ کے درجے میں قبول کرنا ہے۔ بابا کچھ بڑبڑاتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئے۔ اب مجھے ایک نئی صورت حال کا سامنا تھا۔ اس طوائف نے مجھ سے پوچھا میں کہاں سے ہوں؟ کب آیا ہوں؟ کیا کرتا ہوں؟ اس انٹرویو کے بعد لازم تھا کہ میں بھی اس سے کچھ پوچھوں۔ چونکہ میں اپنے اخلاقی معیارات کو بہت بلند تصور کرتا تھا اور میرے اندر اخلاق حسنہ کی تبلیغ کا جذبہ ابل ابل رہا تھا اس لئے میرا پہلا سوال یہ تھا کہ کیوں یہ کام کرتی ہو؟ کیونکہ میں Curse of knowledge کا شکار تھا اور میں نے طے کر لیا تھا کہ وہ جو بھی مجبوری بیان کرے گی میں اسے لاجواب کر دوں گا۔ میں اسے جتا دوں گا کہ دنیا میں زندہ رہنے کے لئے برائی کا دامن تھامنا ہی ضروری نہیں ہے۔

اس نے کہا میں اس محلے میں پیدا ہوئی جہاں ہم جیسے بچے پیدا ہوتے ہیں یعنی حرام کے۔ بڑی ہوئی تو ماں نے ناچنا سکھا دیا۔ ماں بہت اچھی تھی اس لئے جب جسم کے تقاضے آنے لگے تو ماں نے میری شادی محلے میں ہی کر دی۔ دو سال خوشی سے گزرے اور میری دو بیٹیاں ہوئیں لیکن ہمارے مرد کام نہیں کرتے۔ لوگ ناچ سے زیادہ جسم میں دلچسپی رکھتے تھے۔ میں نے ناچنا شروع کیا تو نورجہاں اور لتا کے گانے بجتے تھے اب نصیبو لال کے گانے پر جسم کے مخصوص حصوں کو لہرا کر تماش بینوں کے ذوق کا سامان کرنا پڑتا تھا۔ کاروبار مندا تھا اس لئے شوہر نے کہا جسم بیچنا شروع کر دوں۔ میں نے انکار کیا تو اس نے طلاق دے دی۔ دو سال ماں کے گھر رہی۔ پھر ایک آنٹی دوبئی لے آئیں۔ یہاں کی کہانی یوں ہے کہ آنے سے پہلے دو لاکھ روپے نقد ملے۔ اب ڈانس بار میں ہم نے ناچنا ہوتا ہے۔ تماش بینوں کو جو لڑکی پسند آئے جائے وہ اپنی مرضی کے مطابق کوئی گانا چلوا دیتے ہیں اور لڑکی اس پر ناچتی ہے۔ تماش بین کو ناچتی ہوئی لڑکی کو کم ازکم ایک مالا پہنانا ہوتا ہے۔ ایک مالے کی قیمت پچاس درہم ہے۔ زیادہ تماش بین کی مرضی ہوتی ہے۔ تین ماہ کا ویزا ہے۔ ان تین ماہ میں ہمیں کوئی چھٹی نہیں ملتی۔ ہمیں روز چھ گھنٹے ناچنا ہوتا ہے۔ کلب والی آنٹی کو ہم تین ماہ میں سات سو مالے دینے ہوتے ہیں۔ یعنی قریبا دس لاکھ روپے۔ اس سے اوپر اگر کوئی لڑکی جاتی ہے تو وہ پیسے اس کے ہوتے ہیں۔ ہمیں دن کے کم از کم دس مالے کمانے ہوتے ہیں۔ جو کہ اکثر اوقات نہیں کما پاتے۔ اس پورے کھیل میں ہمیں کیا کیا سہنا پڑتا ہے نا پوچھیں۔ شراب کے نشے میں دھت تماش بینوں کے سامنے روز چھ گھنٹے ناچنا بہت مشکل کام ہے صاحب۔ پھر ہمیں تماش بینوں سے گھنٹوں فون پر بات بھی کرنی ہوتی ہے۔ ایسا اس لئے کرتے ہیں کہ ان میں سے جو عاشق ہوتے ہیں یا عاشقی کا ڈھونگ کرتے ہیں ان کو کلب میں دوسروں سے زیادہ توجہ دینی ہوتی ہے تاکہ مالے زیادہ ملیں۔ جس لڑکی کے سب سے زیادہ عاشق ہوتے ہیں وہ فائدے میں رہتی ہے کیونکہ بسا اوقات عاشقوں میں ٹھن جاتی ہے اور ایک ہی گانے پر ایک عاشق اگر تین مالے دے دے تو دوسرا اس سے خار کھا کر پانچ دے دیتا ہے۔ بس یہی زندگی ہے اور اتنی سی کہانی ہے۔

کہنے کو تو یہ ایک عام سی کہانی ہے مگر میرے سارے اخلاقی تصورات ڈھے گئے۔ یا شاید نفسیات کی زبان میں میں (Blind spot bias) ہو گیا تھا جس میں آدمی خود کو دوسروں سے کم متعصب تصور کرتا ہے۔ کہانی بس اتنی ہی تھی۔ میں چل پڑا۔ اس نے پیچھے سے آواز دی، بھائی! آپ نے عزت دی اللہ آپ کو عزت دے۔ میں نے اپنے اندر کا جائزہ لیا تو کوئی فرق نہیں پڑا تھا سوائے اس کے کہ اس بار اس کا بھائی کہنا مجھے اچھا لگا۔ میں ایک مبلغ سے ایک انسان بن چکا تھا۔ میں نے کہا اللہ آپ کو بھی عزت دے۔ وہ خاموش رہی مگر اس کی آنکھوں کے کٹورے پانی سے بھر آئے تھے۔ شاید میں بھی تھوڑا رویا ہوں گا لیکن میں یہ قبول نہیں کروں گا کیونکہ میں ایک معزز سماج کا معزز شہری ہوں۔ نیتی نے کہا تھا،’ حضور آپ رحم کریں۔ محنت مزدوری سے کیوں روکتے ہیں مجھے؟ میں کیا کروں بتایئے نا مجھے‘۔ افسر نے جواب دیا،’ جاﺅ بازار میں جا کر بیٹھو وہاں زیادہ کمائی ہے‘۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 82 posts and counting.See all posts by zafarullah

8 thoughts on “عجمان کی بسم اللہ جان

  • 03-05-2016 at 8:17 pm
    Permalink

    بہت خوب، آپ نے نفسیات کو کچھ آسان کر دیا ہے اور جذبات کو کچھ مشکل، اوور آل تحریر نے دل کو چھولیا۔ خوش رہیں۔

    • 04-05-2016 at 2:34 pm
      Permalink

      محمود صاحب۔ چیزیں آسان اور مشکل قاری کا ذوق ہوتا ہے۔

  • 03-05-2016 at 9:25 pm
    Permalink

    دل ناداں کا دل جلتا ہے … ظفر ﷲ خان آباد رہو ….. درد کی دولت عام کرتے رہو یہی دوا ہے کسی کی دعا ہے

    • 04-05-2016 at 2:35 pm
      Permalink

      دل نادان
      خوش رہو میرے بھائی

  • 03-05-2016 at 9:53 pm
    Permalink

    بہت اچھا لکھا ھے بھائ..عام سی کہانی ھے لیکن آج تک کبھی اس تناظر میں دیکھا نہی تھا .ھم ہی تو ھیں جو ان جیسے لڑکیوں کو ایسا کرنے پر مجبور کرتے ھیں پر خود کو ان سے بر تر بھی سمجھتے ھیں

    • 04-05-2016 at 2:36 pm
      Permalink

      لیکن ہم مانیں گے نہیں اس بات کو

  • 04-05-2016 at 8:19 am
    Permalink

    بہت خوب ظفراللہ خان صاحب۔ درد جتنا ہے اتنے آنسو نہیں۔ بعض اوقات ساری نفسیات، سارا علم انسانی جذبات و آلام کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے۔
    ؎ آدمی شدتِ تحیر سے / بعض اوقات رو نہیں سکتا

    • 04-05-2016 at 2:38 pm
      Permalink

      نصیر صاحب۔
      آپ جیسے اساتذہ کو تحریر پسند آجائے تو لکھنے والے کو یک گونہ سکون ملتا ہے کہ بات پہنچ رہی ہے

Comments are closed.