گلشنِ شاعری کا کاروبار


ghafferایک زمانہ تھا جب بیوروکریسی اور شاعری کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا تھا۔ ضلعی سطح پر مشاعرے منعقد ہوتے تھے اور بڑے شہروں میں مقیم بڑے بڑے شعرا کو بلایا جاتا تھا۔ ضلعی سطح پر ہونے والے ان مشاعروں میں رات گئے تک لوگ بیٹھے شعر سنتے اور سر دُھنتے تھے۔ یہ بیوروکریٹ مقابلے کا امتحان پاس کرنے کے بعد جن دنوں اکیڈیمی میں زیر تربیت ہوتے، یہ” بڑے شاعر“ اس دوران ہی ان کے سروں پر اپنا دستِ لطیف رکھتے۔ اکیڈیمی کے مشاعرے میں یہ گرگِ جہاں دیدہ ان کی طرف توجہ مبذول کر کے ان کے ساتھ ایک ذاتی تعلق کی داغ بیل ڈال دیتے اور پھر ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کے یہ ہونہار افسران جہاں بھی تعینات ہوتے، ان” بڑے شعرا“ کے ساتھ رابطے میں رہتے۔ سال میں ایک مشاعرہ تو کم از کم ان کے کھاتے میں ضرور نکل آتا۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا کہ ضلعی سطح پر شعروادب کی ترسیل ہوتی، کئی نوجوان شعروادب کی جانب راغب ہوتے اور غیر ارادی اور غیر شعوری طور پر ان ”بڑے شعرا“ سے ایک احسن کام فی سبیل اللہ سرزد ہو جاتا۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہوتا کہ شعرا اور حکمرانوں کے درمیان تعلق کی ایک رہداری قائم ہو جاتی۔ شعرا کو کبھی عدم تحفظ کا احساس نہ ہوتا۔ ان کو ایک اعتماد ہوتا کہ اگر ان پر کوئی افتاد آن پڑی تو اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر صاحب ان کی مدد کو آن پہنچیں گے اور واقعی ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ جب کوئی شاعر بے چارہ ایسے کسی مسئلے میں پھنس جاتا تو ضلعی سطح کی انتظامیہ اس کی مدد کو آن پہنچتی۔ شعروادب کی ستائش کرنے والے اس معاشرے کے خدوخال آج سے تیس برس پہلے تک دکھائی دیتے ہیں۔ بڑے شہروں سے شعرا کے قافلے ضلع در ضلع چلتے اورمشاعرے پڑھتے۔ ایک جانب صادق آباد تک یہ سفر طے ہوتا تو دوسری جانب جھنگ تک، تیسری جانب اسلام آباد اور راولپنڈی تک اورچوتھی جانب سیالکوٹ نارووال تک شعرا کے قافلے چلتے تھے۔ شعرا مختلف شہروں میں رُکتے، مشاعرے پڑھتے اور ضلعی انتظامیہ کی مہمان نوازی اور میزبانی کا لطف اٹھاتے تھے۔ شعرا کی چھٹی اور ساتویں دھائی میں پروان چڑھنے والی سینئر نسل کے ابتدائی برسوں میں ان مشاعروں سے جڑی بہت سی یادیں ہیں۔ ان کو سناتے ہوئے یہ لوگ ایک احساسِ تفاخر میں ڈوب جاتے ہیں، ان کی آنکھوں میں اپنے معتبر اور معزز ہونے کا تاثر ابھرتا ہے۔ مشاعروں کا یہ سلسلہ تو صوبے کے اندر یوں چلتا تھا مگر جب یہی بیوروکریٹ دوسرے صوبے میں چلے جاتے تو تعلقات کا یہ سلسلہ پھیل کر بین الصوبائی سطح کاہو جاتا۔ کسے معلوم نہیں کہ لوگ کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاور میں ہونے والے سالانہ مشاعروں میں کس اہتمام سے بلائے جاتے تھے۔

سالانہ مشاعروں کے اس تسلسل نے ایک غیر اعلانیہ ادارے کی حیثیت اختیار کر لی تھی۔ مشاعرے کا یہ غیر سرکاری ادارہ کئی دہائیوں تک غیر تحریر شدہ قوانین و ضوابط اور اپنے طے کردہ اخلاقی معیاروں کے مطابق پروان چڑھتا رہا۔ 1980 ء کے بعد مشاعروں کا یہ سلسلہ ملک کی حدود سے باہر نکل کر دوسرے ملکوں تک پھیل گیا جہاں پاکستانی اور شعروادب سے جڑے لوگ روزگار کے سلسلوں میں رہائش پذیر ہوئے تھے۔ سب سے پہلے ہندوستان سے راجندر ملہوترا پاکستان آئے اور اپنے ہمراہ پاکستانی شعرا کی ایک کھیپ لے کر ہندوستان گئے۔ ہر بڑے شاعر کا ہندوستان میں مشاعرہ پڑھنا ایک جنون بن گیا۔ انہی برسوں میں خلیج کے ممالک میں بھی شعروادب سے دلچسپی رکھنے والوں میں پاکستان اور ہندوستان سے شعرا کو بلانے کا سلسلہ شروع کیا۔ اب تو ایک دوڑ لگ گئی۔ اس دوڑ میں اخبارات کے ادبی صفحات کے انچارج صاحبان سب سے آگے رہے۔ بیرونِ ملک منعقد ہونے والے مشاعروں کی خبریں اور تصویریں اخبارات کے ادبی صفحات پر شائع ہوتیں، سفر کی داستانوں کو مرچ مسالہ لگا کر اورمہمان نوازی کے بُھرتے میں بھر کر پیش کیا جاتا، اس لئے کہ اگلے برس پھر دعوت مل سکے۔ دو دہائیوں تک تویہ کاروباری سلسلہ خوب چلا۔ ملک میں بھی کئی تبدیلیاں آئیں اور ضلعی سطحوں کے مشاعروں کا سلسلہ عالمی مشاعروں کی صورت اختیا ر کر گیا۔ خلیجی ممالک کی دیکھا دیکھی انگلینڈ اور پھر امریکہ میں بھی ایسی ادبی تنظیمیں وجود میں آ گئیں کہ جو شعرا کو ہندوستان اور پاکستان دعوت نامے بھیجتیں۔ ان ادبی تنظیموں کے درمیان سبقت لے جانے کی ایک الگ دوڑ نے مشاعرے کے مختلف طرح کے کلچر کو فروغ دیا۔ اصل خرابی یہیں سے شروع ہوئی۔

 ان ادبی تنظیموں کا مقصد شعرا کو پاکستان اور ہندوستان سے بلا کر مشاعرے منعقد کروانا تھا۔ مگر اس کے ساتھ ان تنظیموں کے عہدیداروں کے اندر شاعر بننے کا جنون پیدا ہو گیا۔ اس جنون نے رات ہی رات میں بہت سے نئے شاعر پیدا کئے اوراس کاروبار میں بہت سے شعرا کو روپے کمانے کا خوب موقع ملا۔ فی غزل سے لے کر فی شعری مجموعے تک کا ریٹ طے ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے بہت سے لوگ اپنی بغلوں میں دیوان لے کر پاکستان کے بڑے شہروں میں اپنی شاعرانہ حیثیت منوانے کے لئے ڈالر، ریال اور پاﺅنڈ کے بریف کیس بھر کر آن وارد ہوئے۔ اب جو لوگ ان کے ملکوں میں مشاعرے پڑھ کر آئے تھے، کھانے کھا کر آئے تھے، ان پر واجب ہوا کہ وہ ان متشاعروں کی کتابوں کی تقریبات کروائیں، انہیں ہوٹلوں میں کھانے کھلائیں۔ اس کے لئے تو وہ تیار تھے مگر ان کھانوں میں مہمانوں کا مطالبہ ہوتا کہ وہ مقامی شعرا سے بھی ملنا چاہتے ہیں، یہ مطالبہ ان کی اپنی بقا کے لئے خطرناک تھا۔ اس مطالبے نے ایک نئے کلچر کو تشکیل دیا۔ جو لوگ مقامی سطح پر اچھے شاعر تھے ان کو ان تقریبات میں مدعو کرنے کے پیچھے یہ خطرات تھے کہ اگلی بار کہیں ان کو نہ بلا لیا جائے۔ اب یہاں ان بڑے شعرا نے اپنا بیوروکریٹک مزاج استعمال کیا اور ایسے دو اور تین نمبر لوگوں کو شاعر بنا کر پیش کیا جانے لگا کہ جو ان” بڑے شعرا“ کے زیرِ اثر بھی رہیں اور ان کے ”بڑے شاعر“ ہونے کی ڈگڈگی بھی بجاتے رہیں، ان کے آگے پیچھے دم بھی ہلاتے رہیں۔

 بیرونِ ملک سے آئے پاکستانی نژاد متشاعروں کی ملاقاتیں یہاں کے تیسرے درجے کے کمزور شاعروں سے کروائی گئیں۔ اس میل ملاقات نے تیسرے درجے کے شعرا کی ایک بڑی نسل تیار کر دی جو اس وقت شعروادب کی دنیا پر چھائی ہوئی ہے۔ یہ صاحبِ حیثیت لوگ ہیں، ہر مشاعرے میں اگلی نشستوں پر کوٹ پینٹ پہنے، ٹائی لگائے یوں بیٹھے ہوتے ہیں کہ جیسے آج کے احمد ندیم قاسمی، شہزاد احمد، منیر نیازی اور احمد فراز ہیں۔ ہمارے ملک کے ”بڑے شعرا“ نے اپنی قربت میں ایسے ہی دو اور تین نمبر شعرا کو جگہ دے رکھی ہے، جو ان کی خدمت بجا لاتے ہیں اور ان میں ایسی شعری صلاحیتیں نہیں ہیں کہ جن سے ان کے” بڑے شاعر“ ہونے کو کوئی خطرہ ہو۔ ہر مقامی مشاعرے میں ان کی سنگت میں چند ایک بے ضرر اصل شعرا کو بھی موقع دیا جاتا ہے صرف یہ کہنے کے لئے کہ وہ سب کو باری باری مواقع مہیا کر رہے ہیں مگر ان دو نمبر شعرا کو ہر مشاعرے میں مدعو کیا جاتا ہے۔ شعروادب کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنے مقاصد حاصل کئے جاتے ہیں۔ شعرا نے یہ رنگ ڈھنگ بیوروکریسی سے سیکھے ہیں جو اپنے دفتروں میں اہم پوسٹوں پر ہمیشہ اپنے سے کم تر ذہنی صلاحیتیں رکھنے والوں کو تعینات کرتے ہیں تا کہ ان کی برتری قائم رہ سکے۔ اسی لئے بیوروکریسی اور شعروادب دونوں ہی تنزلی کا شکار ہیں۔ دونوں پر ایسے لوگ قابض ہیں جن کو ہر وقت یہ خطرہ رہتا ہے کہ اگر ان سے بہتر افسر یا شاعر سامنے آ گیا تو اس کی برتری ختم ہو جائے گی ،ان کی جہالت، ان کی غیر تخلیقی شخصیت سب پر آشکار ہو جائے گی اور اس کاروبار سے جڑے ان کے مقاصد کا حصول بند ہو جائے گا۔ شہر میں ہر شخص نے ایسی ایک تنظیم بنا رکھی ہے جس کے نام پر یہ تقریبات کروائی جاتی ہیں اوراخبارات میں شائع کروائی جاتی ہیں۔ ان منتظمین کے بیچ میں کچھ لوگ پبلشرز بن گئے ہیں، کتابیں چھاپنے کے منہ مانگے پیسے وصول کرتے ہیں ۔ فل پیکیج میں تقریبِ رونمائی، فلیپ ، دیباچہ ،صدارت اور مضامین نگاروں تک کی قیمت وصول کی جاتی ہے۔ کون کس کو بیچ رہا ہے؟ اور کون کس سے کیا منفعت حاصل کر رہا ہے؟ ان کے پاس تو اتنا وقت بھی نہیں کہ سوچ سکیں۔ صرف ایک جنون ہے کہ کسی طرح ہم شاعر بن جائیں۔ شہر میں ایسے فن کار بھی ہیں جو شاعری، شعری مجموعہ کی اشاعت، فلیپ اور دیباچہ نگاری، کتاب کی تقریبِ رونمائی،صدارت، پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں تشہیر، فلیکس و بینر کا ڈیزائن و تیاری،و دیگر ہر قسم کی خدمات کے لئے ایک پیکیج ڈیل کرتے ہیں ۔ ہے کوئی جو شاعر بننے کا خواہاں ہے؟


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “گلشنِ شاعری کا کاروبار

  • 04-05-2016 at 12:12 am
    Permalink

    you broke the pen ghafir bhai

  • 04-05-2016 at 7:41 am
    Permalink

    بہت خوب اور صحیح لکھا ہے غافر۔ شاعری اب ختم ہو گئی ہے، کاروبار رہ گیا ہے۔ صورتِ حال بیان کردہ سے کہیں زیادہ افسوسناک ہے۔ یہ کاروبارِ شعر و ادب اداروں، یونیورسٹیوں تک پھیل گیا ہے۔ جو لوگ کانفرنسوں، سیمیناروں، مشاعروں اور یونیورسٹیوں میں بلائے جاتے ہیں ذرا ان کے اسمائے گرامی پر نظر ڈالیے اور “دیوارِ قہقہہ” پر چڑھ جائیے ۔۔۔ 🙂 🙂

  • 04-05-2016 at 7:19 pm
    Permalink

    ڈاکٹر غافر شہزاد صاحب ! بہت اعلی تحریرنے بہت کچھ سیکھنےاور دیکھنے کا موقع فراہم کیا ہے ۔آپ نے لکھاکہ ۔”ہمارے ملک کے ”بڑے شعرا“ نے اپنی قربت میں ایسے ہی دو اور تین نمبر شعرا کو جگہ دے رکھی ہے، جو ان کی خدمت بجا لاتے ہیں اور ان میں ایسی شعری صلاحیتیں نہیں ہیں” ۔
    آپ نے بجا فرمایا! شاعری تو خدا کی ” عطا ” ہے جو کسی سینئر شاعر کی قربت کے باعث ” نوخیز ” شاعر کے لیے بھی نعمت ثابت ہوسکتی ہے ۔
    جبکہ حقیقت تویہ ہے کہ آج کا بڑااور متعبر شاعر، ادیب سب کچھ برداشت کرکے ریٹائرڈ زندگی گذار رہا ہے ۔ اس رویے سے ثابت ہوتاہے کہ حبیب جالب کی تذلیل کرنے والے حکمران ظالم نہیں تھے بلکہ شاعرعوام حبیب جالب سچ بولتے تھے۔بالکل اُسی طرح کہ جنرل ضیاء الحق ایک ظالم ڈکٹیٹر نہیں تھابلکہ اُس عہد کے کوڑے کھانے والے حضرات سچ بولتے تھے۔آج ریاست پرقابض کئی حکمران ماضی کی نسبت زیادہ بدکرداراورسنگدل لیکن اُن کو للکارنے والے لکھاریی ، ادیب ،شاعرایمانداراوربہادرنہیں ہیں۔

Comments are closed.