حوا کی بیٹیاں پوچھتی ہیں۔۔۔


Aamir-Hazarviدو دن سے طبعیت میں عجیب طرح کی بےقراری ہے۔ کل رات تڑپتے گزری۔ آنکھیں کئی بار نم ناک ہوئیں۔ رات دھاڑیں مار کے بھی رویا۔ آنکھوں کی بدنصیبی پہ غصہ آیا۔ شعور اور آگہی عذاب لگی۔ اس دور کا انسان ہونے پہ شرمندگی محسوس ہوئی۔

آپ پوچھیں کیوں؟

جی اس لیے کہ کل ممتاز دانشور اور انسانی حقوق کے علمبردار میرے محسن ممتاز شاہ صاحب نے فون کیا ایک کیس کے سلسلے میں تھانے جانا ہے آپ بھی آئیں۔ بھاگتا بھاگتا دفترپہنچا تو اندر پریس کانفرنس جاری تھی میں پریس کانفرنس کو معمول کی پریس کانفرنس سمجھا لیکن یہ میرے لیے انوکھی پریس کانفرنس تھی۔ میں نے اس سے پہلے ایسی پریس کانفرنس نہیں دیکھی۔ ایک بوڑھا باپ اپنی جوان بیٹی کے ساتھ پریس کانفرنس کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ مجھے انصاف دو۔ میری بیٹی کے ساتھ ظالموں نے ظلم کیا ہے۔ بیٹی سے پوچھا کیا ہوا؟

بیٹی نے نقاب سرکایا تو اس کا ناک بھی کٹا ہوا تھا اور سر کا بال بھی کٹے ہوئے تھے۔ رب کی تخلیق کی یہ بے حرمتی آنکھوں سے دیکھ کر پریشان ہوگیا ۔ اتنی سفاکیت ؟اتنی جہالت ؟اور وہ بھی ہمارے شہر میں؟ حد ہوگئی پستی کی حدہوگئی جہالت کی۔ ۔

مجھے افسوس ہوا اپنے قلم پہ کہ اس قلم سے کیا فائدہ؟ جو قلم کسی بچی کے ساتھ زیادتی کے موقع پہ نہ اٹھے۔ اس زبان سے کیا فائدہ جو اس ظلم کے خلاف آواز نہ بلند کر سکے۔ ان فقیہوں کے مذہب سے کیا فائدہ جو عورت کے حقوق کی بات نہ کر سکیں۔ ان دانشوروں کی دانشوری سے کیا فائدہ جو غیرت کے نام یہ جہالت کی بنی سوچیں نہ بدل سکیں۔ ان قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کیا فائدہ جو ریاست کی مظلوم اور نہتی لڑکی کی حفاظت نہ کرسکیں۔ ان وکلاء سے کیا فائدہ جن کے دلائل ظالموں کے لیے وقف ہوں۔ ان ججوں سے انصاف کی کیا امید جو چند ٹکوں کے عوض بک جائیں۔ ان حکمرانوں کو حق حکمرانی کیوں دیا جائے جو کسی کے چہرہ کو داغدار کرنے والوں پہ ہاتھ نہ ڈال سکیں؟

کیوں نہ قلم کار قلم سے آزار بند ڈالنا شروع کر دیں۔ کیوں نہ فقیہ شہر کی دستار کے پیچ کھولے جائیں، کیوں نہ عدالت کو مع عملہ سڑکوں پہ گھسیٹا جائے. کیوں نہ وردیاں اتار لی جائیں۔ کیوں نہ دانشوروں کو الٹا لٹکا دیا جائے۔ بنت حوا جب سربازار لٹے اور بولنے والا کوئی نہ ہو تو اس معاشرے کو بے حس کیوں نہ کہا جائے۔ ؟

شبے کے الزام میں کسی کا ناک کاٹنا کہاں کا انصاف ہے ؟کس شریعت نے اجازت دی ہے؟

اور معاشرہ کی بے حسی دیکھیں مرد کے ناروا سلوک کے باوجود اسے ہیرو ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس ظالم مرد کو دوسری عورت بھی مل جاتی ہے جبکہ متاثرہ لڑکی سب کی نگاہوں میں گر جاتی ہے۔

میں انتہائی ادب کے ساتھ علما سے پوچھنا چاہوں گا کہ تشدد کے خلاف کیا کرنا چاہیے؟ تحفظ خواتین بل اسلام کے خلاف ہے،  معاشرے کے خلاف ہے، تسلیم۔ لیکن آپ اسلامی بل کب لا رہے ہیں؟ان ظالم شوہروں پہ تو کڑا نہیں ڈالنا چاہیے مان لیا۔ لیکن ان شوہروں سے کیا کرنا چاہیے جو بیوی کو طلاق بھی نہیں دیتے اور تین ماہ قید بھی رکھتے ہیں اور پھر ناک اور بال کاٹ دیتے ہیں۔

کیا ایسے لوگوں کو سزا نہیں ملنی چاہیے؟

کیا یہ شوہر کہلوانے کے حقدارہیں؟ کیا ان کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کیا جائے جو یہ نہتی عورتوں پہ کرتے ہیں؟ جواب دیں۔ کل حوا کی بیٹی نے مجھ سے پوچھا تھا ؟ حوا کی بیٹیاں کہنے لگی ہیں تم ہمارے مجرم ہو؟ تم برابر کے شریک ہو۔ تم مجرموں کی پشت پناہی کرتے ہو۔ اس تاثر کو کب زائل کرو گے؟

اور یہ تو معمولی کیس تھا اس سے بڑا کیس جسے آپ نے بھی پڑھا ہوگا کہ ایبٹ آباد میں تین روز قبل ایک غریب اور مزدور باپ کی بیٹی جو نویں کلاس کی طالبہ تھی جنسی زیادتی کے بعد کیری ڈبہ میں باندھ کے زندہ جلا دی گئی۔

باپ کراچی کام کرتا ہے مزدور ہے اور ایک مزدور کی بیٹی کے ساتھ یہ سلوک کرنا ہماری تباہی کے لیے کافی ہے۔ حیران ہوں آسمان کی مضبوطی پہ۔ حیران ہوں زمین کے سکون پہ.

تھرتھرانے کا یہ موقع تھا اور یہ آرام سے محو تماشا رہے۔ ہم سے وہ لوگ لاکھ درجہ اچھے تھے جو بیٹیاں زندہ دفن کرتے تھے۔  ہم جنس کی آگ بھی بجھاتے ہیں اور پھر جلا کے راکھ کردیتے ہیں۔

عورتوں پہ مظالم کب بند ہوں گے مجھے نہیں معلوم۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ ظلم حد سے بڑھ چکا ہے اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو مٹ جاتا ہے۔ قبل اس کے کہ عورتیں مردوں کا قتل شروع کر دیں۔ قبل اس کے کہ عورتیں دوپٹے اتار کے ہماری خانقاہوں مسجدوں مندروں حجروں عدالتوں اور سیاستدانوں کے گھروں کے باہر آکے انصاف مانگنے لگ جائیں ہمیں خود پہل کرنی چاہیے۔ ہمیں ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔ اللہ نہ کرے ایسا وقت آئے۔ خاکم بدہن خاکم بدہن۔ لیکن میں ایسا دیکھ رہا ہوں کہ اب عورتوں کے ہاتھوں دستاریں گریں گی غیرت کے نام پہ مرد قتل ہوں گے، عدالتوں اور میڈیا کو جوتے کی نوک پہ رکھا جائے گا یہی عورتیں وردی والوں سے بھی دست و گریبان ہوں گی اور پوچھیں گے کہ حساب دو اس خون کا جو بے گناہ بہایا گیا؟


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “حوا کی بیٹیاں پوچھتی ہیں۔۔۔

  • 04-05-2016 at 5:38 pm
    Permalink

    کیا فائدہ اس عالم جو حق جان کر بھی چپ رہے

Comments are closed.