سیاسی اخلاقیات کا دنگل، نواز شریف بمقابلہ عمران خان


arshad سیاست میں جب تجارتی اور کاروباری افراد در آتے ہیں تو سیاسی اخلاقیات بدل جاتی ہیں اور سیاست ایک کاروبار بن جاتی ہے۔ وطن پاک میں آج سیاست سرمایے کے بل بوتے پر ہی چل رہی ہے۔ سیاسی پارٹیوں میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرح سرمایہ لگایا جاتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف ایک مثال ہے جس میں کوئی تنظیم، نظریہ اور سیاسی تربیت کا پہلو نہیں ہے، مگر سرمایے پر کامیابی سے چل رہی ہے۔ رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے سائیکل مارچ کیا تاکہ سیاسی پارٹی تشکیل دینے کے لئے عوامی حمایت حاصل کی جائے۔ موصوف کارکن ساتھیوں سے کسی نظریے یا سیاسی نظام بات کرنے کی بجائے یہ کہتے رہے ہیں کہ سیاسی پارٹی بنانے کے لئے کم ازکم دو ارب روپے کی ضرورت ہے۔

بھارت میں عام آدمی پارٹی کی مقبولیت سے متاثر ہوکر راقم نے 2014 میں عام آدمی پارٹی پاکستان کے نام سے کام کا آغاز کیا۔ لوگ آتے، ملتے، صحافی بھی رابطہ کرتے جب وہ یہ دیکھتے کہ پارٹی کی بنیاد رکھنے والا ایک عام آدمی ہے تو وہ بغیر یہ پوچھے کہ پارٹی کی سیاسی اخلاقیات کیا ہوں گی، نظریہ اور سیاسی نظام کیا ہوگا واپس پلٹ جاتے۔ کیوںکہ انہیں اس امر پر مکمل یقین تھا کہ سرمایے کے بغیر پارٹی نہیں بنائی جا سکتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں میاں نواز شریف وہ پہلے سیاستدان ہیں جو سیاست، سیاسی پارٹیوں، انتخابات اور پارلیمان میں سرمایہ کاری کی روایت لے کر آئے اور سیاست کو ایک کاروبار کی شکل دی۔ عوامی رائے کے ووٹ سے لے کر پارلیمان میں اعتماد کے ووٹ تک میاں نواز شریف نے ریٹس مقرر کر دیے اور ایک ایسی سیاسی منڈی کی بنیاد رکھی جس میں سرمایہ کاروں کے لئے دلچسپی کے سامان پیدا ہوئے اور سیاست میں سرمایہ لگایا جانے لگا۔ جہانگیر ترین اور علیم خان مکمل اعتماد کے ساتھ تحریک انصاف میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ ریٹرن سرپلس میں ہوگا۔

کاروباری لوگ سرمایہ سوچ سمجھ کر لگاتے ہیں۔ ماضی اور حال اس امر کا گواہ ہے کہ سیاسی اسٹاک ایکسچینج میں مندی بھی ہو تو سرمایہ ڈوبتا نہیں ہے۔ سرمایہ دار خوب سمجھتے ہیں۔ فطرت میں سب ایک ہیں خاکی ہوں یا نوری ہوں۔ تمام تر پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ نہ بھی لیا جائے تو اطمینان سے کہا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف اور عمران خان ہی میاں نوازشریف کے نقش قدم پر حقیقی طور عمل پیرا ہیں۔ جہاں تک سخت مخالفت کی بات ہے تو وہ کاروباری رقابت ہے۔ تجارت اور کاروبار میں رقابت فطری عمل ہے۔ دوسرا عمران خان کا حق بھی بنتا ہے کہ وہ اب میاں نوازشریف کی ٹکر کے کاروباری سیاست دان ہیں۔ اگر نواز شریف کے پاس دس صنعت کار ہیں تو عمران خان کے پاس بھی کم نہیں ہیں۔ بڑے بڑے پراپرٹی ڈیلرز، رسہ گیر اور قبضہ مافیا اب تحریک انصاف کا بھی قیمتی اثاثہ ہیں۔ پرویز مشرف کی کاری گری کے شاہکار صرف نواز شریف کے ہی حصے نہیں آئے ہیں۔ عمران خان کے ہاتھ بھی بہت کچھ لگا ہے۔ مسلم لیگ ن کے جلسوں میں وہ دلکشی کہاں جو پی ٹی آئی کے دھرنوں اور جلسوں کا خاصا بن گئی ہے۔

عمران خان ویسے ہی نوازشریف سے بہت آگے نکل گئے ہیں۔ عمران خان نے ثابت کیا ہے کہ سیاست کی کوئی اخلاقیات نہیں ہوتی ہیں۔ منزل اقتدار کا حصول ہونا چاہیے، منزل حاصل کرنی ہے۔ راستہ کوئی بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ اصل لڑائی تو نواز شریف اور عمران خان کی ہے۔ پاناما لیکس کے معاملے کو دیکھ لیں۔ نواز شریف ڈٹ گئے ہیں۔ بانگ دہل کہہ رہے ہیں۔ کون سی اخلاقیات، کون سا الزام، کون سی شرم اور کون سی حیا، جب پاناما پیپرز میں براہ راست ان کا نام ہی نہیں ہے تو وہ کیوں شرم محسوس کریں۔ بچے ہیں، اگر وہ آف شور کمپنیاں بنانے کے لئے سرمایہ لگاتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے۔ بندہ ساری عمر بال بچوں کی خوشی کے لئے کماتا ہے۔

عمران خان کو مسئلہ اس لئے ہے کہ نواز شریف وزیراعظم ہے۔ ہم ترقی کی راہ پر چلتے رہیں گے۔ عمران خان کو زیادہ مسئلہ ہے تو وہ بھی سلمان اور قاسم خان کے نام پر آف شور کمپنیاں بنا لے اس کو کس نے روکا ہے۔ خوامخواہ پیچھے پڑا ہوا ہے۔ نواز شریف کبھی جھکنے والا نہیں ہے۔ پہلے بھی سامنا کیا ہے۔ اب بھی کرے گا۔ پاکستان سے نکال کر پرویز مشرف نے کیا بگاڑ لیا۔ اب جدہ، استنبول اور لندن میں اثاثے ہیں۔ پہلے صرف پاکستان میں ہی تھے۔ نوازشریف نے کچھ نہیں کیا ہے، ضمیر صاف ہے۔ عمران خان بدکلامی چھوڑ دیں، سیدھی سیدھی سیاست کریں۔ محنت سے کمایا ہے۔ عمران خان بھی محنت کریں۔ لوگوں کا سرمایہ لوگوں کا ہی ہوتا ہے۔ آج جو سرمایہ دار تحریک انصاف میں ہیں وہ کبھی مسلم لیگ ن کا بھی حصہ رہے ہیں۔ زیادہ باتیں نہ کریں۔ ہم بھی بات کرنا جانتے ہیں۔ جیسے تمہارے پاس پارٹی ورکرز ہیں ہمارے پاس بھی ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “سیاسی اخلاقیات کا دنگل، نواز شریف بمقابلہ عمران خان

  • 06-05-2016 at 8:50 am
    Permalink

    آپ بھی بھولے ہیں۔ پچاس سال قبل ایک نہایت محدود سطح پر آپ کی طرح ایک اتحاد کا آغاز کرنا چاہا تھا تو ایک عزیز سے مشورہ کیا جس نے پہلا سوال یہ کیا کہ انویسٹ منٹ کتنی کر سکے ہو جو چند سو سے زیادہ ممکن نہ تھی۔ اس پر ان کی نصیحت کے مطابق شوق کو ٹھپ کر دیا۔ ہمارے ملکوں کی بلکہ دنیا بھر میں سیاست میں جو چیز کام کرتی ہے وہ یہ کہ ” اس کے پیچھے کون یا کیا ہے” اور یہ بات ہے بھی درست

Comments are closed.