بڑا چودھری بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے


چودھری نثار علی خان صاحب نے نہ تو مسلم لیگ نون کے ٹکٹ کے لئے اپلائی کیا اور نہ ہی تحریک انصاف نے ان سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر آمادگی ظاہر کی۔ بلکہ نواز شریف کے حکم پر ان کے مقابل نون لیگی امیدوار کا نام دے دیا گیا۔ یہ امیدوار قمر الاسلام راجہ تھے اور ان کو حلقہ این اے 59 کا ٹکٹ دیتے ہی نیب نے ان کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ نیب کے مطابق ملزم انجینئر راجہ قمر الاسلام پر 84 واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کا ٹھیکہ غیر قانونی طور پر مہنگے داموں دینے کا الزام ہے۔

قمر الاسلام راجہ صاف پانی کمپنی کے ڈائریکٹر اور اس کی پروکیورمنٹ کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ اس کمپنی کے کوئی درجن بھر مزید ڈائریکٹر بھی ہیں۔ بندہ بس پریشان ہی ہو سکتا ہے کہ صرف اس کے چیف ایگزیکٹو اور ایک ڈائریکٹر کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے اور باقی درجن بھر ڈائریکٹرز کو کیوں بخش دیا گیا ہے؟ کوئی بورڈ ریزولوشن اکیلا ڈائریکٹر پاس نہیں کر سکتا، ڈائریکٹرز کی اکثریت اس کے حق میں ووٹ دے تو پھر ہی پاس ہو سکتی ہے۔

دلچسپ  بات یہ ہے کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہوئے قمر الاسلام راجہ نے نیب کا ایک خط بھی جمع کرایا تھا کہ ”اس شخص کو نیب نے سزا نہیں دی یا پلی بارگین کر کے نہیں چھوڑا“۔ ایسے میں نون لیگ کا امیدوار بنتے ہی یوں قمر پر آسمان گر پڑنا دلچسپ ہے۔ لیکن خیر یہ قانون داؤ پیچ تو قمر الاسلام راجہ جانیں اور نیب والے جانیں۔ ہمیں تو فکر ہے چکری چودھری نثار علی خان کی۔

اب معاملہ یہ ہوا ہے کہ قمر الاسلام تو پنجرے میں بند کر دیے گئے ہیں۔ ان کے کاغذات نامزدگی ان کے بارہ سالہ بیٹے سالار اسلام راجہ نے جمع کرائے ہیں اور اب بارہ برس کا سالار قمر اور اس کی کوئی پندرہ برس کی آپا اسوہ قمر مل کر اپنے والد کی مہم چلانے لگے ہیں۔ یعنی چودھری نثار شدید پریشانی کا شکار ہونے والے ہیں۔ ان بچوں سے ہار گئے تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں گے، ان سے جیت گئے تو لوگ کہیں گے کہ بچوں سے جیت کر چودھری بنا پھرتا ہے۔

پھر ان بچوں کو گلی گلی کمپین کرتے دیکھ کر قمر الاسلام کے حق میں عوامی ہمدردی کی لہر بھی اٹھے گی۔ نیب کے اس اقدام کو چودھری نثار کے کھاتے میں ہی ڈالا جائے گا کہ ان کو جتانے کے لئے قمر الاسلام کی گرفتاری ہوئی ہے۔ یوں قمر الاسلام راجہ کے حق میں مزید ووٹ پڑ سکتے ہیں۔

لیکن جو خیال ہمیں حقیقتاً دہلا رہا ہے وہ یہ ہے کہ اگر ان دونوں بچوں نے اپنی انتخابی کمپین کا مرکزی ترانہ منتخب کرنے میں شرپسندی دکھا دی تو چودھری صاحب کا کیا ہو گا۔ اب اگر انہوں نے فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کا مقبول عام نغمہ ”بڑا دشمن بنا پھرتا ہے بچوں سے لڑتا ہے“ ہر جلسے اور ریلی میں مستقل گانا بجانا شروع کر دیا تو چودھری صاحب کی بارات نکل جائے گی۔

ہماری مانیں تو چودھری صاحب اپنا بے مثال اثر و رسوخ استعمال کر کے قمر الاسلام راجہ کی ضمانت کروا دیں ورنہ یہ ترانہ مستقل طور پر چودھری صاحب پر چسپاں ہو جائے گا۔ اس موقعے پر قمر الاسلام کو پکڑنے والا نواز شریف کا دوست اور چودھری نثار کا دشمن ہی ہو سکتا ہے۔

صاف پانی کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی اگست 2015 میں ہونے والی ایک میٹنگ
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1057 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar