کیا ایذا رسانی کے ذریعے اعتراف کرانا جائز ہے؟


mujahid mirza

مہاجر قومی موومنٹ کے رہنما جناب فاروق ستار کے کوآرڈینیٹر آفتاب کی تشدد کے سبب ( حرکت قلب بند ہو جانے کے باعث) ہوئی موت نے ایک بار پھر عیاں کر دیا ہے کہ نو آبادکارانہ طرز حکمرانی ختم ہونے کے 68 برس بعد بھی پاکستان میں طاقت سے وابستہ شہری و غیر شہری/ عسکری تفتیش کار تفتیش کرنے کا وہی طریق اختیار کیے ہوئے ہیں جو سمندر پار سے آئے غاصب حکمرانوں نے وضع کیا تھا۔

دلچسپ اور خوش آئند بات یہ ہے کہ نوآبادکار ملکوں میں اس طرز تفتیش سے تقریباً صدی پہلے نجات حاصل کر چکے ہیں۔ اب تک قانون شکن افراد سے اعتراف کرانے کے کئی نفسیاتی طریقے وضع کیے جا چکے ہیں جن میں سب سے موثر طریقہ پہلے ثبوت اکٹھے کیے جانا اور پھر باتوں کو بدل بدل کر استفسار کرنا ہے۔ یہی طریقہ عام ماہرین نفسیات بھی نفسیاتی امراض میں مبتلا افراد پر عارضے کے اسباب کی حقیقت اگلوانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس طریقے سے حاصل شدہ معلومات میں غلطی کا امکان دس فیصد سے زیادہ نہیں ہوتا۔

اس کے برعکس تشدد اور عقوبت کے تحت حاصل کردہ معلومات کی صحت 30 فیصد اور بعض اوقات پچاس فیصد کم ہوتی ہے۔ یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ کمزور شخص بسا اوقات مارے ڈر کے وہ الزامات بھی اپنے سر لے لیتا ہے جو اس پر صادق نہیں آتے۔

ہمارے جیسے ملکوں کے تفتیش کاروں کی تھرڈ ڈگری استعمال کرنے سے متعلق توجیہہ یہ ہوتی ہے کہ مجرم بہت ہی ہٹ دھرم ہوتے ہیں جو بغیر سختی کیے مان کر نہیں دیتے۔ اس موقف سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ کوئی بھی جرم “منوا لینا” ہی ہمارے ہاں کے تفتیش کاروں کا اصل مقصد ہوتا ہے جبکہ درحقیقت تفتیش کار کا کام جرم کے اسباب، اس کے پس پشت عوامل، جرم پر ابھارنے والے عوامل و افراد اور جرم کی دوسرے معاملات کے ساتھ جڑت سے متعلق جاننا ہوتا ہے۔ یہ وہ معلومات ہوتی ہیں جن کی بنیاد پر جرائم سے نمٹنے کے طریقے اور پالیسیاں وضع کی جاتی ہیں۔

ہمارے ملک میں کسی کو کچھ لوگوں کے سامنے ننگا کر دیا جانا ہی اس شخص کے ضمیر کو انتہائی ٹھیس پہنچانے کے لیے کافی ہوتا ہے کیونکہ ہمارے ہاں دوستوں کے ساتھ بھی عریاں ہونے کا چلن نہیں ہے جیسے مغربی ملکوں میں ننگے ساحلوں یا بھاپ کا غسل لینے کے حماموں میں دوست ایسا کرنے کو ایک عموم لیتے ہیں۔ ہمارے مذہب، ہماری معاشرت اور ہماری نفسیات کے حوالے سے یہ نہ صرف اخلاق سے گری ہوئی بلکہ انسانیت سوز حرکت ہے۔

تشدد کے وہ طریقے جو بالعموم آزمائے جاتے ہیں اب بہت سے ملکوں میں متروک ہو چکے ہیں اور ایسا کیا جانا تہذیب اور اخلاقیات کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ ناخن کھینچ کر نکال دینا، ہڈیوں میں کیلیں ٹھونکنا، درخت سے لٹکا کر کئی لوگوں کی موجودگی میں عریاں پشت پر روایتی “چھتر” مارنا، کرنٹ لگانا یہ سب ماسوائے اذیت پرستی کے اور کچھ نہیں کہلا سکتے ۔ قابو میں آیا اور قید کیا ہوا شخص تو ویسے ہی بے بس ہوتا ہے۔

تفتیش کے لیے اذیت دہی کے طریقے کیوں اختیار کیے جاتے ہیں؟ اس کی بڑی وجہ کام چوری ہے۔ ثبوت اکٹھے کرنے اور کراس کویسچننگ کرنے میں مشقت بھی کرنی پڑتی ہے اور محنت بھی، وقت بھی صرف ہوتا ہے اور مناسب تکنیک سے آگاہی ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔ کڑھے ہوئے مجرم اس سے بچنے کا ایک طریقہ اختیار کرتے ہیں یعنی “جارحیت سب سے بڑا دفاع ہوتا ہے” وہ پہلے ہی ہلے میں تفتیش کاروں اور معاونین پہ پل پڑتے ہیں۔ متاثرین اشتعال میں آ کر اسے اس قدر مارتے ہیں کہ مجرم بے ہوش ہو جاتا ہے، پھر اس سے پوچھ لو جو پوچھنا ہے۔

دوسری وجوہات میں نام بنانا (نمبر بنانا) افسران بالا کو اپنی جھوٹی کارکردگی سے خوش کرنا، جن جرائم کی تفتیش نہ کی جا سکی ہو ان کو بھی کسی کے کھاتے میں ڈال دینا، سخت افسر یا اہلکار مشہور ہونے کی خواہش تاکہ ایسے مقامات پر تعینات ہو سکیں جہاں جرائم زیادہ ہوتے ہوں تاکہ اوپر کی آمدنی زیادہ ہو۔

جس مثال سے اس مضمون کا آغاز کیا گیا ہے چونکہ اس طریق کے معمولات کی خلاف ورزی کو رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل موصوف تسلیم کر چکے ہیں تو بظاہر اس میں تشدد کرنے کی ایک ہی وجہ سمجھ آتی ہے یعنی تعصب، جی ہاں تعصب۔ الزام ہے کہ ایم کیو ایم کے ہندوستان کی خفیہ ایجنسی کے ساتھ روابط ہیں اور اس تنظیم کے کچھ رہنما اور اراکین اس خفیہ تنظیم کے ساتھ تعاون کرتے ہیں چنانچہ عسکری نیم عسکری حلقوں میں ان کے خلاف شدید تعصب کا ہونا قدرتی امر ہے۔ تعصب چونکہ جذباتی عنصر ہے چنانچہ جذباتی انداز یعنی اذیت دہی کا طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ اصولی طور پر ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے کیونکہ رینجرز کا نیم عسکری ادارہ ہنگامی طور پر آپریشن کے فرائض سنبھالے ہوئے ہے چنانچہ اسے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

ویسے تو تعزیرات پاکستان کے تحت ملزم پر تشدد کیا جانا بذات خود ایک جرم ہے لیکن یہ ہوتا ہے اور عام عدالتوں سے لے کر عدالت ہائے عالیہ بھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں۔ پاکستان میں چونکہ قانون کو کوئی بھی پر کاہ کی حیثیت نہیں دیتا اس لیے باقی غلط معاملات کی طرح اذیت دہی کا عمل بھی جاری ہے۔ تاہم یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے جس سے متعلق قانون گواہ ہے کہ اذیت، تشدد اور عقوبت برتے جانے سے حاصل کردہ اعتراف یکسر ناجائز ہوتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “کیا ایذا رسانی کے ذریعے اعتراف کرانا جائز ہے؟

  • 05-05-2016 at 1:55 pm
    Permalink

    صرف تعزیرات ہی نہی آئین کے مطابق بھی شواہد کے حصول کے لیے تشدد کی ممانعت ہے

Comments are closed.