مسئلہ پانامہ کا ساحل نہیں، گوادر کی بندرگاہ ہے


wisi 2 babaپٹھان کوٹ ہونا ایک حیران کن واقعہ تھا۔ تعلقات ٹھیک رخ پر جا رہے تھے۔ اس سے زیادہ حیرت کا باعث بھارت کا متوازن ردعمل تھا۔ افغانستان اس وقت طالبان کے بہاریہ حملے کی زد میں ہے۔ ہر طرح کے امن مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں۔ کابل سے اسلام اباد کو ٹارگٹ نہیں کیا جا رہا۔ امریکہ سے کوئی ایسا بیان آئے مدت ہو گئی جس سے اسلام آباد میں حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے۔

یادیو جاسوس پکڑا گیا۔ اسلام آباد سے آنچ مدہم ہی رکھی گئی۔ غیر ضروری طور پر معاملے کو اچھالنے سے گریز کیا گیا۔ بھارت سے  بھی پھر کوئی جارحانہ ردعمل نہیں آیا۔ وہاں سے بھی پاکستان کے ساتھ صورتحال نارمل  ہی رکھی گئی۔  عالمی بنکوں سے قرضوں کی سہولت آسانی سے میسر ہے۔ اگر غور کیا جائے تو ایک بات سمجھ آتی ہے۔

نوازشریف کی ہر جانب سے حمایت کی جا رہی ہے۔ یہ حمایت آؤٹ آف وے جا کر کی جا رہی ہے۔

یہ وہ حمایت  ہے جس کو ہر گز اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ جس کسی کو بھی ایسی غیر مشروط حمایت اتنی واضح طور پر دستیاب ہو۔ اداروں کا اس سے بدگمان ہونا بنتا ہے۔ زیادہ مشکل نہیں ہے، معلوم لوگ ہیں جو میڈیا پر اخبارات میں قومی مفاد بیان کیا کرتے ہیں۔ آج کل یہ سب لوگ نوازشریف کو دھونے میں جی جان سے مصروف ہیں۔ یہ ایک جاری کشمکش کی بڑی کھلی اور واضح نشانی ہے۔

بہت واضح نشانی دیکھ کر پہلا سوال یہی بنتا ہے۔ کیا پاکستانی فوج اپنے وزیراعظم کے ساتھ ایک ڈھکی چھپی محاذ آرائی میں مشغول ہے۔ اس کا دو لفظی جواب ہے کہ ہرگز نہیں۔ پھر بھی  سارے ہی سیاستدان اس وقت کدوکش پر بٹھائے جا چکے ہیں۔ ان کی رگڑائی ہو رہی ہے۔ اب اگلا سوال پوچھنا بنتا ہے کہ کیا سیاستدان بمقابلہ فوج اور ادارے آمنے سامنے آ چکے ہیں۔ جواب اس کا بھی یہی ہے کہ ایسا نہیں ہے۔

یہ سب ہمارے تضادات ہیں جنہیں استعمال کیا جا رہا ہے۔ مقصد تقسیم کو انتشار کی حد تک بڑھانا ہے۔ سیاستدان اور فوج دونوں اس ملک کے قیام سے لیکر اب تک آدھی آدھی مدت اقتدار میں رہ چکے ہیں۔ دونوں پر ماضی کی بداعمالیوں کا ایک بوجھ ہے۔ سیاستدانوں نے پرانی کشمکش کے دوران کسی کمزور لمحے پر ایک برا فیصلہ کیا تھا۔

فیصلہ یہ تھا کہ بھرپور مالی وسائل کے بغیر طاقت کا کھیل نہیں لڑا جا سکتا۔ مالی وسائل کے حصول نے انہیں طاقت تو دی لیکن اخلاقی کمزوری بھی بخش دی۔ یہ کمزوری بہت سی جگہوں پر قانون کے دائرے میں آتی ہے۔ متاثرین یعنی سیاستدان سزاوار ہو کر کھیل سے باہر ہو سکتے ہیں۔ سیاستدانوں کو یہ سب گوارا نہیں ہے۔

ایسا کرنا فوج کا بھی مقصد نہیں ہے۔ فوج پاکستان کا ایک بہترین ادارہ ہے۔ ایک تسلسل کے ساتھ یہ بیرونی مداخلت سے محفوظ رہا ہے۔ یہاں پر دوسرے پاکستانی اداروں والی بیماریاں اگر ہیں بھی تو دکھائی نہیں دیتیں۔ احتساب کا ایک سخت اندرونی نظام ہے۔ آرمی چیف کی ایک مشکل ہے انہیں فوجی دربار منعقد کرنا ہوتے ہیں۔ وہاں جونیر افسران کے سوالات کے جواب دینا ہوتے ہیں۔ یہ افسر سیاستدان نہیں ہیں۔ ملکی حالات سے یہ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ میڈیا ان کی بھی دسترس میں ہے۔

cpecآرمی چیف نے ایک بولڈ فیصلہ کیا کئی سینیر فوجی افسران کو کرپشن کے الزامات میں سزا سنا کر۔ ابھی کچھ مزید فیصلے اسی قسم کے آئیں گے۔ اس فیصلے کی ٹائیمنگ سے اپنی پاور بیس کو یہ سمجھانا مقصود تھا کہ مسائل ہماری طرف بھی ہیں۔ انہیں بھی ٹھیک کرنا ہے۔

میڈیا نے حسب معمول کدو کش ہوتے سیاستدانوں کو اسی فیصلے کی آڑ میں مزید پھرتی سے رگڑنا شروع کر دیا ہے۔

یہ سب جاری ہے ساتھ میں پانامہ پیپرز کا ایک شور بھی ہے۔ ایسے میں نوجوانوں کے بزرگ قائد کو یہ فیصلہ کن لمحات محسوس ہوئے ہیں۔ کپتان پھر اپنی ساری تباہ کن طاقت برگر بچے اور آنٹی لوگ لے کر میدان میں اتر گیا۔ کپتان کو کرپشن کے خلاف ایک بھرپور مدد ملی ہے لوگوں کی جانب سے۔ جبکہ یہ کھیل کرپشن کا ہے ہی نہیں۔

ایسے موقع پر جب سول ملٹری تعلقات کو مزید بہتر ہونا تھا۔ امریکیوں نے ایف سکسٹین جہازوں کے سودے میں کھنڈت ڈال دی ہے۔ یہ شرارت سول ملٹری تعلقات میں دراڑ گہری کرنے کو ہی کی گئی ہے۔ پاکستان میں طاقت کے کھیل سے متعلق سارے بڑے کھلاڑی سب سمجھ رہے ہیں۔

آصف علی زرداری اہم ترین ہیں اور مولانا فضل الرحمن بھی۔ زرداری صاحب پہنچے ہیں کپتان کی مدد کرنے صورتحال سنبھالنے۔ مولانا صاحب نوازشریف کے ساتھ بنوں میں عوامی اجتماع  سے خطاب کرتے دکھائی دئیے ہیں۔ مولانا حیران کن طور پر نوازشریف کی لگاتار حمایت کر رہے ہیں۔ دونوں ویسے ایک دوسرے کو اتنا پسند نہیں کرتے۔ مقصد کیا ہے، یہی کہ سب کی سیاسی طاقت بچائی جائے، محفوظ رکھی جائے، اس طاقت کا مناسب استعمال ہی کیا جائے۔ اسے ضائع ہونے سے بچایا جائے، کپتان کی طاقت کو بھی بچانا ہی مقصود ہے، اس کی طاقت کو ہی نہیں اس کی سپورٹ کو بھی۔

یہ ساری طاقتیں برقرار رہیں گی تو اگلی صف بندی میں کام آئیں گی۔ ابھی تو صرف لڑائی ٹالنا ہی مقصد ہے۔ سسٹم کو چلانا مشن ہے۔

پاکستانی سیاست میں ریاست کے تضادات کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ مقصد ٹریڈ روٹ میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔ اگر اس کو مکمل ہونے سے روکنا ممکن نہیں تو اسکی تکمیل آہستہ کرنا مقصد ہے۔ ایسا کرنے والے یہ نہیں جانتے کہ ٹریڈ روٹ کو پاکستان کی لائف لائین قرار دیا جا چکا ہے۔ اسے ہر قیمت پر بننا ہے۔ یہ فیصلہ سول یا ملٹری کا نہیں ہے۔ ریاست پاکستان کا ہے۔

 یہ ٹریڈ روٹ نہیں ہے۔ یہ اس سے بہت زیادہ ہے۔ راستوں کے بننے سے خوشحالی آئے گی ہم بس یہاں تک ہی واقف ہیں۔ یہ چین کا ون بیلٹ ون روڈ پراجیکٹ ہے۔ اسے  اصطلاح میں OBOR کہتے ہیں ۔ ساٹھ ملک اس کے ذریعے آپس میں لنک ہوں گے۔

پاکستان کی اہمیت اس میں یہ ہے کہ گوادر کی اہمیت اقتصادی تو ہو گی ہی۔ یہیں وہ نیول بیس بھی بنے گے جو بحری راستوں کی حفاظت کرے گا۔ آٹھ ایٹمی آبدوزیں پاکستان کو ملیں گی۔ چین کے ساتھ مل کر پاکستان نیوی جب بحری راستوں کی حفاظت کرے گی۔ ہمارا عالمی کردار اور پوزیشن دونوں بدل جائیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “مسئلہ پانامہ کا ساحل نہیں، گوادر کی بندرگاہ ہے

  • 04-05-2016 at 2:25 pm
    Permalink

    لیکن عمران خان کو یہ باتیں سعمجھائے گا کون ؛

  • 04-05-2016 at 2:37 pm
    Permalink

    اسے سمجھانے کے لئے ہی پی پی اس کے کنٹینر پر چڑھی ہے ، معاملات اب قابو ہی رہیں گے امید تو یہی رکھنی چاہئے

  • 05-05-2016 at 9:24 am
    Permalink

    اسی چکر میں چائینہ ہمارا سب کچھ سنبھال لیا تو کیا ہوگا۔ ویسے اس سی پیک پیچھے ان کی کرپشن چھپانا کوئی اچھی بات نہیں

  • 06-05-2016 at 2:00 am
    Permalink

    ایٹمی آبدوزیں نہیں بلکہ ڈیزل آبدوزوں کا معاہدہ ہوا ہے چائنا کے ساتھ۔۔

    • 06-05-2016 at 11:43 am
      Permalink

      موجودہ معاہدہ ڈیزل آبدوزوں کا ہی ہے ۔ یہیں ہم ایٹمی آبدوزوں کو بھی پارک دیکھیں گے مستقبل میں

Comments are closed.