گوادر پورٹ پر میٹرو بس ٹرمینل بنایا جائے


adnan-khan-kakar-mukalima-3

ہم بخوبی جانتے ہیں کہ جلد ہی پاک چائنا اکنامک کاریڈور بنے گا اور خنجراب سے لے کر گوادر تک انڈسٹری وجود میں آ جائے گی جس سے لوگ بہت خوشحال ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ مال چینی بنا بنا کر بیچا کریں گے، اور ہم ان کے مال پر محصول چونگی لگا کر بغیر ہاتھ پیر ہلائے امیر ہوتے رہا کریں گے اور پھر پاکستان میں صحت، تعلیم، تجارت، سوشل سیکیورٹی، سیاحت وغیرہ وغیرہ کے شعبوں میں انقلاب آ جائے گا اور ہم عربوں کی طرح کوئی محنت کیے بغیر بس کفالت کر کر کے اپنا گزارا کیا کریں گے۔ لیکن کفالت کی آمدنی ایسے ہی گھر بیٹھے مل رہی ہے تو پھر صحت، تعلیم، تجارت اور سوشل سیکیورٹی وغیرہ کی عوام کو کیا ضرورت ہے؟ اس لیے ان کو چھوڑ دیتے ہیں اور گوادر کے منصوبے پر بات کرتے ہیں۔

نہایت ہی زیادہ معتبر ذرائع، یعنی ایک انگریزی اخبار سے، یہ اطلاع ملی ہے کہ چین نہایت ہی خفا ہو گیا ہے کہ دو بلین ڈالر کے اس ٹھیکے پر کام کیوں نہیں ہو رہا ہے جو کہ گوادر پورٹ پر ایل این جی (لیکویفائیڈ نیچرل گیس) کے ٹرمینل اور پائپ لائن کی تعمیر کے لیے دیا جانا ہے۔ ایک چینی کمپنی نے کئی ماہ پہلے سے ٹھیکے کے لیے پروپوزل دی ہوئی ہے لیکن اس کے تقدس کو دیکھتے ہوئے ابھی حکومت پاکستان اسے الماری میں رکھ کر افسران کو اس کی زیارت ہی کروا رہی ہے۔ جب دلوں کو سکون اور آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچے گی تو اس لفافے کو کھول کر دیکھ بھی لیں گے کہ اندر کیا لکھا ہوا ہے۔ لیکن چینی کمیونسٹ لوگ ہیں۔ اور وہ ماؤ مت یا تاؤ مت وغیرہ نامی
کسی مذہب کے پیروکار ہیں جو کہ اولیا کو نہیں مانتے، ان کو بھلا کیا علم کہ تبرکات کی کیا اہمیت ہوتی ہے۔

gwadar-1

چینیوں نے پاکستانی حکومت کو کہا تھا کہ قرضے کے لیے اپلائی کر دو۔ اب وہ فیل مچا رہے ہیں کہ اتنے مہینے ہو گئے ہیں قرضہ کیوں نہیں لے رہے ہو؟ بھیا چینیو، ایک شریف آدمی کی محلے میں عزت ہوتی ہے، قرضہ لینے سے پہلے دس مرتبہ سوچتا ہے، اب پاکستانی ایسے تو ہیں نہیں کہ سوچے سمجھے بغیر کسی سے پیسے پکڑ لیں۔ پاکستانی ہمیشہ بہت سوچ سمجھ کر کسی کے پیسے پکڑتے ہیں۔ پاکستانی کہتے ہیں کہ پہلے ہم اس کا پی سی ون منظور کروائیں گے۔ اب پی سی ون کوئی بچوں کا کھیل تو ہے نہیں، چند ماہ یا سال تو لگ ہی سکتے ہیں۔ یہ نہیں کہ اس پر کام نہیں ہوا۔ پاک چائنا کاریڈور کی اہمیت سے پلاننگ ڈویژن خوب آگاہ ہے، اس نے  کافی غور و فکر کے بعد پی سی ون مسترد کر دیا ہے۔

پیٹرولیم منسٹری نے اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی کو سمری بھیجی تھی کہ کچھ جلدی کرو، اکنامک افئیر ڈویژن کو قرضہ لینے کا حکم دو۔ اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی نے کئی ماہ سوچ بچار کرنے کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ اس پراجیکٹ پر واقعی جلدی کی جانی چاہیے کیونکہ یہ ملک کی ترقی کے لیے بہت اہم ہے، اور اس نے قرضے کے لیے ریاستی گارنٹی فراہم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

gwadar-2

تجویز کردہ منصوبے کے تحت پچاسی فیصد پیسہ چین نے دینا ہے اور پندرہ فیصد پاکستان نے۔ ویسے تو چینی کاریڈور ہمارے ملک کی پہلی پرائرٹی ہے اور اس کی سیکیورٹی کے لیے ہم فوج کا ایک نیا ڈویژن بھی کھڑا کر رہے ہیں، اور پاکستان میں یہ خوشحالی کے نئے دروازے کھول دے گا اور اس میں تاخیر کو ہم کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، لیکن بیوروکریسی میں موجود چند لدھر محض حکومت کو بدنام کرنے کے لیے کہتے ہیں یہ پندرہ فیصد خزانے کے ’ایک وزیر‘ دینے سے انکاری ہیں اور ٹال مٹول کر رہے ہیں۔

اس سلسلے میں پچھلے دنوں چین سے متعلقہ کمپنی اور قرضہ دینے والے ایگزم بینک کا ایک ہائی لیول وفد پاکستان آیا تھا جس کی اکنامک افئیر ڈویژن کے چند لو لیول کلرکوں سے ملاقات کروا کر اسے واپس کر دیا گیا۔ اب وہ چینی شور مچا رہے ہیں کہ ہماری بے عزتی ہو گئی ہے۔ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، وہی کلچر کا فرق ہے جس کی وجہ سے چینی بدگمان ہو رہے ہیں۔ ان کو یہ نہیں پتہ کہ پاکستان میں سیکرٹری کی اتنی ویلیو نہیں ہے جتنی کہ کلرک کی ہے۔ کبھی آپ نے سنا ہے کہ کسی نے سیکرٹری کو بادشاہ کہا ہو؟ ہمیشہ کلرک کو ہی بادشاہ کہا جاتا ہے۔ ہم نے چینیوں کی اپنے بادشاہوں سے ملاقات کروائی ہے، اور وہ کہتے ہیں کہ عزت نہیں ملی۔ ناشکرے چینی۔

اطلاعات ہیں کہ وزارت خزانہ نے اپنے حصے کے پندرہ فیصد فنڈ حاصل کرنے کے لیے ملک میں گیس کے صارفین پر ٹیکس لگا کر کوئی 183 ارب روپے اکٹھے کر لیے تھے۔ اس کامیابی پر وزارت داد کی مستحق ہے، مگر یہ پی ٹی آئی والے تو فہم و دانش سے بالکل عاری ہیں۔ شور مچا رہے ہیں کہ وزارت خزانہ نے یہ سارے پیسے خرچ دیے ہیں اور اب اس کے پاس گوادر کے گیس ٹرمینل کے لیے ایک دھیلہ بھی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ الزام لگانے والے لدھر افسران یہ بات خود مان رہے ہیں کہ یہ پیسے کوئی وزیر اپنے گھر لے کر نہیں گیا ہے بلکہ یہ میٹرو بس پر خرچ ہوئے ہیں، یعنی ہم پر اور آپ پر۔ نہ تو اسحاق ڈار صاحب میٹرو بس میں سفر کرتے ہیں، اور نہی شریف خاندان والے۔ ہم ہی لوگوں نے روز میٹرو بس پر سفر کرنا ہوتا ہے، جبکہ ہم میں سے شاید ہی کوئی زندگی بھر گوادر جائے گا۔ اس صورت میں یہ ایک صائب فیصلہ ہے کہ گوادر کے گیس ٹرمینل کی بجائے یہ فنڈ میٹرو بس پر لگائے گئے ہیں۔

lahore-metro

دنیا میں مشہور ہے کہ چینی بہت سیانے ہیں۔ مگر ہمیں تو وہ احمق لگتے ہیں جو اتنا آسان کام نہِیں کرا سکتے ہیں کہ چند ارب روپے پاکستانی حکومت سے نکلوا لیں۔ اس 183 ارب روپے کی کیا حیثیت ہے، کام کروانا جاننے والے تو چار پانچ سو ارب روپے چند دنوں میں حکومت سے لے سکتے ہیں۔ یقین نہیں آتا تو سرکولر ڈیٹ ختم کروانے والی بجلی کی کمپنیوں سے پوچھ لیں۔ وہ غالباً دو مرتبہ یہ کام کروا چکے ہیں۔

اگر چینی چاہتے ہیں کہ یہ کام جلدی ہو، تو ہمارے مشورے پر چلیں۔ بلکہ ہمیں گوادر پراجیکٹ کا کنسلٹنٹ مقرر کر دیں۔ وہ ہمارا مشورہ مانیں تو انہیں چاہیے کہ وہ اس گوادر ایل این جی ٹرمینل منصوبے کو میٹرو بس گیس ٹرمینل کا نام دے دیں، پھر دیکھیں کہ چینی پچاسی فیصد کی بجائے صرف پندرہ فیصد دیں گے اور پاکستانی حکومت 85 فیصد سرمایہ دے گی، اور وہ بھی بلا کسی تاخیر کے جنگی بنیادوں پر۔ الحمدللہ عوامی منصوبوں مثلاً میٹرو وغیرہ پر حکومت نے کبھی کسی کنجوسی یا خست کا مظاہرہ نہیں کیا ہے بلکہ جہاں دو آنے سے کام چل سکتا ہو، وہاں چار روپے لگانے میں بھی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 324 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar