کیکٹس کتھا۔۔۔ اک آبلہ پا وادی پرخار میں آوے


husnain jamal (3)جی ہاں، جیسے جیسے موسم بدلتا ہے، رت گدرائی جاتی ہے، ویسے ویسے ان پودوں کے اھل جنوں جوش میں آتے جاتے ہیں۔ سرد موسم میں صرف پودوں کو بچانے کی فکر ہوتی ہے جو بہار کے آتے آتے نئی گروتھ دیکھنے کی خواہش میں بدلنے لگتی ہے۔ پیچی پوڈیم، ایڈینیم یا دیگر پتوں والے پودوں میں چھوٹی چھوٹی کونپلیں نکلنا شروع ہوتی ہیں اور مالک شانت ہو جاتے ہیں کہ پودا بچ گیا اب کے سال بھی۔ جو پودے مئی جون تک بھی پتے نہیں نکالتے، انہیں ڈرتے ڈرتے گملے اوندھے کر کے نکالا جاتا ہے اور اکثر ایک گلی ہوئی جڑ شوقینوں کی منتظر ہوتی ہے۔ مئی جون ہی میں عموماً زیادہ سے زیادہ خریداری کی جاتی ہے کیوں کہ اس وقت ہر پودا اپنے پھولوں سمیت دعوت نظارہ دے رہا ہوتا ہے اور کیکٹس میں تو اکثر پودے کی پہچان ہی اس کے پھولوں سے کی جاتی ہے۔

جو لوگ پچھلے تیس چالیس برس سے کیکٹس جمع کر رہے تھے، آخر کچھ اکتا گئے، ایسے میں خیال آیا کہ ویری گیشن جمع کی جائے۔ ویری گیٹڈ پودے وہ ہوتے ہیں جن میں کسی قدرتی وجہ سے کلوروفل کم رھ جاتا ہے اور وہ سبز کے ساتھ ساتھ پیلے، سفید اور ہلکے سبز رنگوں کی دھاریاں لیے ہوتے ہیں۔ سرخ اور نارنجی کیکٹس بھی اسی وجہ سے پایا جاتا ہے، سرخی کی وجہ بتانے سے فقیر عاجز ہے کیوں کہ سائنس دانی کا دعوی c1بہرحال نہیں، سستا سا شوقین ہے۔ تو انہوں نے ویری گیشن جمع کرنی شروع کر دی۔ پھر چند نئے لوگ آئے تو انہوں نے ایک ہی دم نارمل اور صحت مند پودوں کو طاق پر رکھا اور صرف ویری گیٹڈ پودے جمع کرنے شروع ہو گئے۔ پودے چوں کہ زیادہ تر باہر سے آتے ہیں تو باہر والے بھی چوکنے ہو گئے۔ انہوں نے ویری گیشن کے بھاؤ بڑھا دئیے۔ اس پر بھی خرید کم نہ ہوئی تو وہ چوں کہ جدید طریقے سے کام کرتے ہیں اس لیے انہوں نے ویری گیشن کو مصنوعی طور پر کرنا شروع کر دیا۔ شروع میں قیمتی ویری گیٹڈ پودے ٹشو کلچر کے ذریعے بنائے گئے۔ سمجھ لیجیے جیسے کلوننگ کر کے ایک انسان جیسا دوسرا انسان بنایا جا سکتا ہے ویسے ہی ٹشو
کلچر سے قیمتی پودوں کی بہت سی کاپیاں بنائی گئیں۔ پھر وہ طریقہ بھی سست لگنے لگا تو تابکاری شعاعوں سے پودوں کو ویری گیٹڈ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔

کہاں کا انصاف ہے دوستو کہ ایک نارمل پودے کو تابکاری شعاعیں ڈال کر کمزور کیا جائے۔ اس کا کلوروفل اڑایا جائے، اور پھر اسے بیچا جائے۔ خیر، ہمیں اس سے مطلب نہیں، شوق کا مول کوئی نہیں، ملاوٹ پر روک کوئی نہیں، موضوع پر آئیے۔ تو اب یہ ویری گیٹڈ پودے بکنے شروع ہو گئے۔ ان کی احتیاط بھی زیادہ کرنی پڑتی ہے، ان کی گروتھ مزید آہستہ ہوتی ہے اور یہ مہنگے بھی ہوتے ہیں۔ بعض پودوں کی قیمت پندرہ بیس ہزار تک جانا بالکل عام سی بات ہے اور شوقین لوگ باقاعدہ ولایت پیسے بھیج کر ننھے سے پودے اتنے پیسوں میں منگواتے ہیں۔ مگر جب وہ پودے پھل پھول جاتے ہیں تو مالکان کے پیسے بھی پورے اور شوق بھی پورا۔ ان پودوں سے نکلے دوسرے پودے بیچ کر کام برابر ہو جاتا c2ہے۔

کیکٹس، اگاوے، سکیولنٹس اور دوسری اقسام بیج تو دے ہی دیتی ہیں لیکن ان کی تعداد بڑھنے کے اور بھی بہت مزے کے طریقے ہیں۔ انہیں شائقین کی زبان میں بچے دینا کہا جاتا ہے۔ کیکٹس باقاعدہ بچے دیتا ہے، ایک گول مول کانٹوں بھری گیند کے ساتھ اور چھوٹی چھوٹی گیندیں نکل آتی ہیں۔ انہیں الگ کر لیں یا بڑا ہونے دیں، دونوں صورتوں میں آپ کے پاس ایک کے دس پودے تیار ہو جائیں گے۔ ایسے ہی اکثر اگاوے پودے بھی یہی کرتے ہیں۔ ان کی جڑوں سے نئے پودے بننے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ ہر سال چھ ماہ بعد بے شمار چھوٹے چھوٹے بچے مدر پلانٹ کے نیچے سے جھانک رہے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی پودا بچے نہیں دیتا تو آپ زور زبردستی بھی کر سکتے ہیں۔ کیکٹس کو ایک طرف سے زرا سا تراش دیں۔ جب قدرتی طور پر اس کا زخم مندمل ہو گا تو وہاں چھوٹے چھوٹے مزید کیکٹس نکل آئیں گے۔ ایسے ہی اگاوے اگر بچے نہ دے تو اس کا کراؤن کاٹ دیں۔ اچھا رہنے دیں، یہ نازک کام ہے، ماہرین ہی کر سکتے ہیں، تفصیل سے بتا بھی دیا جائے تب بھی اس کام کا
رسک ہر بندہ نہیں لے سکتا، دل گردے والوں کا کام ہے، پودا ضائع بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح بعض دوسرے سکیولنٹس مثلاً سنسویریا کا ایک پتا بھی توڑ کر داب دیں تو نیا پودا نکل آئے گا۔ شوق مزیدار ہے لیکن خواری مانگتا ہے۔

ویری گیشن سے ذرا پہلے جو چیز فیشن میں آئی وہ کرسٹڈ پودے تھے۔ کیکٹس، سنیشیو، یوفوربیا یا کچھ دیگر زیروفائٹس جب چوٹ کھاتے ہیں یا کسی ناگہانی آفت سے گزرت ہیں تو وہ کرسٹیٹ کا روپ دھار جاتے ہیں۔ مثلا ایک سرس کیکٹس تیر کی طرح سیدھا اور ایک لمبے ڈنڈے کی طرح گول آسمان کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔ لیکن c3اگر وہی کیکٹس کسی وجہ سے کرسٹڈ ہونے پر آ جائے تو بجائے لمبائی میں بڑھنے کے، وہیں گول مول ہو کر تجریدی سی شکل نکال لیتا ہے، اور وہ شکل عموماً آدھے کھلے ہوئے چینی جاپانی دستی پنکھے کی سی ہوتی ہے۔ کرسٹ بننے سے روپے کا پودا پچاس روپے کا ہو جاتا ہے۔ اس کے ٹکڑے لے کر اسی کی نسل کے کسی اور جلدی بڑھنے والے پودے پر گرافٹ کیے جاتے ہیں اور اس کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ آپ خوش قسمت ہیں۔ اس وقت دنیا میں کرسٹڈ پودوں کی بہت سی اقسام دستیاب ہیں۔ ان میں سے کئی پاکستان میں بھی ہیں اور اب تو سستی بھی ہو گئی ہیں کہ یہ شوق بھی اب پرانا ہو چلا ہے۔

گرافٹنگ کے بارے میں یہ مضمون خاموش رہے گا۔ بھئی سیدھی سی بات ہے، اس کے ہزاروں ٹیوٹوریل نیٹ پر موجود ہیں، وہ دیکھ لیجیے، کیا کیکٹس کیا ایڈینیم کیا بوگن ویلیا سارے ہی گرافٹ ماسٹر وہاں بیٹھے ہیں، ہاں، پودا کوئی بھی گرافٹ کرنا ہو، کوشش کیجیے کہ نیچے والا حصہ یعنی وہ پودا کہ جس پر قیمتی پودا گرافٹ ہونا ہے یعنی روٹ سٹاک، اس روٹ سٹاک کو ہمیشہ دیسی رکھیے۔ یعنی وہ نسل جو آپ کے علاقے میں عام پائی جاتی ہو اور ہر طرح کے موسم اور کیڑوں کا سامنا کر سکے۔ روٹ سٹاک جتنا آپ کے موسم اور حالات کے مطابق ہو گا، گرافٹڈ پودا اتنا ہی تیزی سے بڑھے گا اور صحت مند رہے گا۔ پودوں کو تیز رفتاری سے بڑھانے، ان کی ایک سے زیادہ کاپیاں بنانے اور بعض حالات میں ان کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے گرافٹ کیا جاتا ہے۔

دو اقساط چل گئیں، ابھی موضوع گفتگو زیادہ تر کیکٹس ہی چل رہا ہے۔ باقی پودوں پر بھی آئیں گے۔ دراصل کیکٹس وہ ہے کہ جس پر فقیر سمیت تمام زیروفائٹس کے شوقین ہاتھ صاف کرتے ہیں۔ تو اسی کو مثال بنا کر آگے آنے والے پودوں کے مشکل معاملات بھی باآسانی بتائے جا سکتے ہیں۔

پہلی قسط ملاحظہ فرمائیے۔


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 145 posts and counting.See all posts by husnain

2 thoughts on “کیکٹس کتھا۔۔۔ اک آبلہ پا وادی پرخار میں آوے

  • 05-05-2016 at 12:36 am
    Permalink

    wow, indeed great information, Hasnain Jamal sahib, Stay blessed, keep writing.

  • 05-05-2016 at 10:14 pm
    Permalink

    سر، بہت دلچسپ پیرائے میں آپ نے ‘جہنم کے پودے’ کے بارے میں معلومات بیان کی ہیں، اگر دیسی پودوں اور درختوں کے بارے میں بھی کچھ لکھیں گے تو مجھ جیسے بہت سے نوآموزوں کا بھلا اور رہنمائی ہو جائے گی۔

Comments are closed.