یاسر پیرزادہ کے نام ایک خط


Rizwan Saleemiسلام عرض ہے یاسر بھائی،اور آپ کی خیریت نیک مطلوب ہے، میں کافی عرصہ سے آپ کے کالم پڑھ رہا ہوں، اور جب بھی آپ کی ٹویٹر ٹائم لائن پر نظر پڑی ہے خوشی ہی ہوئی ہے، لیکن آپ کا حالیہ کالم پڑھا اور میرے ذہن میں بنا آپ کا امیج تھوڑا اپنے آپ کو بدلنے کی تگ و دو میں لگ گیا۔

آپ کے کالم کا نام ہے “گندی بات: کیا ہوتی ہے اور کیا نہیں” سب سے پہلے آپ نے اس کالم میں دہلی اور لاہور کی یونیورسٹیوں میں خواتین کی طرف سے ہونے والے پیریڈ شیمنگ احتجاج پر اوریائی انداز میں تنقید کی کہ یہ احتجاج کا طریقہ غلط، بہت ہی غلط ہے، غلط کیوں ہے اس کی آپ نے صرف ایک ہی وجہ بیان کی کہ جن خواتین نے یہ احتجاج کا طریقہ اختیار کیا وہ مغربی تہذیب سے متاثر تھیں شاید، اور اسی بات سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا دہلی یونیورسٹی کی خواتین نے کسی مغربی ادارے میں ایسا ہوتا ہوا دیکھا سنا تھا یا نہیں؟ آپ کے پاس مغرب میں ایسے کسی واقعہ کی کوئی مثال ہے یا نہیں، چلیں مان لیا کہ مغرب کا مادر پدر آزاد معاشرہ اس طرح کے احتجاج کی کھل کر اجازت دیتا ہوگا، لیکن ایک لمحہ کے لیے ہم فرض کر لیں کہ مغرب میں کبھی ایسا نہ ہوتا اور ایسے کسی بھی احتجاج کی جڑیں اپنی مشرقی تہذیب میں ہی ہوتیں تو تب بھی آپ اس حرکت کو اتنا ہے گندہ تصور کرتے؟

اور آگے آپ نے عرض کیا کہ یہ تو اس حد تک روشن خیال تصور ہے کہ آپ کی آنکھیں ہی چندھیا گئیں، اس بات کی بھی ذرا وضاحت کر دیں تو آپ کی مہربانی ہوگی۔ کیوںکہ کچھ اصحاب کی آنکھیں تو کو ایجوکیشن سے لے کر عورت کے گھر سے باہر نکلنے پر ہی چندھیا جاتی ہیں، لیکن آپ مناسب انسان ہیں اور امید ہے کہ ایسے کوئی ابہام آپ کے ذھن میں نہیں ہیں۔

پھر آپ کہتے ہیں کہ آپ نے آج تک نہیں دیکھا کہ کسی نے کسی عورت پر اس کے خاص ایام کی وجہ سے آوازیں کسی ہوں یا اسے تشدد کا نشانہ بنایا ہو۔ آپ کی اس بات سے تو یہ لگتا ہے کہ آپ کو احتجاج کی بنیادی وجہ ہی سمجھ نہیں آ رہی، احتجاج کا مقصد اگر یہ تھا کہ عورتوں کے خاص ایام  کو بجائے ایک بیماری کی طرح پیش کرنے کے اسے نارملایز کیا جائے اور کبھی مرد عورتوں کے درمیان اس بارے میں بات سے بات نکلے تو لوگ آنکھیں نہ چراتے پھریں اور اگر کوئی عورت اس بارے میں کھل کر اظہار کرے تو اسے بےشرم نہ سمجھا جائے۔ بتائیے کہ اس میں کیا قباحت ہے؟

اور ذرا اس بات کی بھی وضاحت کریں کہ خاکی لفافوں میں پیڈ ڈال کے دینے کا متبادل نام لے کر آوازیں لگا لگا کر اور چیخ چیخ کر اعلان کرنا کیسے ہو گیا؟ اور اگر فرض کر لیں کہ دکاندار ایسا کرنا شروع بھی کر دیں تو دکانداروں کو کیسے پتہ بھائی کہ کس کو کیا سوٹ کرے گا۔ اور اب ہر بڑے اور درمیانے ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں یہ پیڈ سامنے پڑے ہوتے ہیں اور خواتین کسی بھی ہچکچاہٹ کے بنا آسانی سے سلیکٹ کر سکتی ہیں۔

اور آپ کی حاضری لگانے والی مثال پڑھ کہ تو بہت ہی دکھ ہوا، چلیں فرض کر لیں کہ جب کسی خاتون کا نام پکارا گیا اور ان خاتون کی سہیلیوں نے بھی کھل کر غیر حاضری کی وجہ خاص ایام بتا دی، تو وہاں بیٹھے مرد حضرت اتنے ہی واہیات ہوں گے کہ وہ ایک ڈائری میں اپنی کلاس فیلوز کے خاص ایام کا ریکارڈ رکھ رہے ہوں گے؟ اور صرف یہی نہیں کہ ریکارڈ رکھ رہے ہیں بلکہ تاریخ میں کسی بھی رد و بدل کی صورت میں ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا بھی اصرار کریں گے؟ صاحب یہ بات آپ نے کیسے سوچی میں ابھی تک نہیں سمجھ پا رہا۔

اب آ جائیں ذرا پیدائش کے عمل پر اور اس سے جڑی شرم پر۔ صحیح کہا آپ نے کہ یہ ایک قدرتی عمل ہے اور اس پر انسان کا کوئی کنٹرول نہیں تو بھائی پھر اس میں شرم کا پہلو کہاں سے آ ٹپکا ؟ ۔ چلیں میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں کہ اگر کوئی بھی انسان اپنے دوستوں کو باتوں باتوں میں یہ بتا دے کہ اس کی پیدایش نارمل نہیں بلکہ سی سیکشن سے ہوئی تھی تو کیا بتانے والا بے عزت ہو جائے گا یا سننے والا مارے شرم کے زمین میں گڑ جائے گا ؟

آپ نے بھی اوریہ مقبول جان کی طرح وہی بات کی کہ آزادی اظہار رائے اصل میں مغرب ہم پر مسلط کر رہا ہے؟ مغرب نے حال ہی میں کب ایسی کوئی سکیم شروع کی ہے کہ او یار پاکستانیوں کو اظہار آزادی سکھاتے ہیں؟ مغرب اپنی ثقافت، فنون لطیفہ اور رہن سہن سے اپنی سوچ کو ساری دنیا میں پہنچاتا ہے، لیکن آپ نے یہ بات کر کہ آج کے پاکستانی نوجوان میں پائی جانے والی مغربی تہذیب سے نفرت کو ہوا دی ہے۔ اور یاد رہے کہ صرف جینز پہن لینا اور ایپل کے سمارٹ فون استمال کرنا ہی مغربی تہذیب کے گرویدہ ہونے کی نشانی نہیں ہیں۔ امریکہ جانے کے لیے لائن میں لگے پاکستانی سے بھی آپ پوچھیں گے کہ بھائی آپ کا مغرب کی تہذیب کے بارے میں کیا خیال ہے؟ تو جواب میں پہلی بات یہ سننے کو ملے گی کہ وہ ہیں تو غیر تہذیب یافتہ لیکن اصولوں کے بہت پکّے ہیں، اس لیے آپ نے بھی بات کو گھما پھرا کر مغربی تہذیب کی خرابیوں سے جوڑ دیا۔

رہی بات ٹینس میں خواتین کے لباس کی تو شاید آپ نے ماریا شراپووا کے پرائیویٹ فوٹوشوٹ نہیں دیکھے؟ جو کہ ماریا نے اپنی مرضی اور خوشی سے کیے ہیں، نہ کہ ان کی کن پٹی پر کسی نے بندوق رکھی تھی۔ سکرٹ پہننا اگر چوائس کا ہی معاملہ ہے تو اس پر بھی آپ کا اعتراض سوائے دیگر کالم نگاروں کے مغرب سے نفرت کا درس دیتے کالموں سی لی گئی ایک لائن کے سوا کچھ نہیں۔

پھر آپ نے دیپیکا پڈوکون کی مثال دی، اور اس میں آپ نے بلکل صاف الفاظ میں فریڈم آف چوائس کی نفی کر دی۔ میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں اور آپ کی مثال کے مقابلے میں مجھے بھی ایک بھونڈی مثال ہی دینی پڑے گی۔۔ سنی لیونی کے نام سے تو آپ واقف ہوں گے ہی، فرض کریں سنی لیونی کے باتھ روم میں کوئی خبیث کیمرے نصب کر کے ان کی تصویریں لے لے تو آپ کیا کمینٹ کریں گے اس پر کہ ان خاتون نے جو ماضی میں کیا ہے وہ تو صرف برہنہ ہونے سے کئی گنا اوپن ہے؟ اس لیے دیپیکا کا اعتراض کسی حد تک نہیں بلکہ بلکل درست تھا، دیپیکا کا کام اس کی چوائس ہے اور ٹائمز آف انڈیا نے جو کیا وہ ایک گھٹیا حرکت۔

نہ میں لکھاری ہوں، نہ ہی دانشور، سیدھا سا انسان ہوں۔ چیزوں کو منطق کی بنیاد پر پرکھتا ہوں، ہو سکے تو جواب دینے کی زحمت ضرور کیجئے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

10 thoughts on “یاسر پیرزادہ کے نام ایک خط

  • 04-05-2016 at 3:29 pm
    Permalink

    Impressive

  • 04-05-2016 at 5:34 pm
    Permalink

    I did not see anything wrong in Yasir Peerzada’s coloumn. Perhaps there is a difference of opinion regarding conservative and liberal outlook.

  • 04-05-2016 at 5:49 pm
    Permalink

    good one,, Yasir most of the times write good columns. but sometimes he comeup with a shit..

  • 05-05-2016 at 9:43 am
    Permalink

    ………….. Valid points dear Rizwan

  • 05-05-2016 at 12:14 pm
    Permalink

    محترم رضوان سلیمی آپ کی تحریر نے متاثر کیا۔ حالات کا تجزیہ جس انداز میں آپ نے کیا خوب کیا۔ ہمارے معاشرے میں یہ وصف بہ درجہ اتم پایا جاتا ہے کہ ہم کچھ ایسا نہ سوچیں نہ کہیں جو معمولات سے ہٹ کر ہو اور تحریک تو اس سے بھی بڑی بات ہے۔ میں اپ کے ایک ایک حرف پر آمین کہنے کا حاجت مند ہوں۔ محترم یاسر پیرزادہ کی قلمی اہلیت اور اہمیت سے ہرگز کوئی بیر نہیں لیکن شائد انہیں صنف نازک سے تھوڑا تھوڑا بیر ضرور ہے کیوں ہے اسکا جواب بھی انہیں دینا چاہیئے، اپکی اور ہم سب کی وساطت سے صرف ایک سوال پوچھنا چاہوں گا موصوف سے اور وہ یہ کہ کیا انسان کو کسی ایسے عمل پر بھی شرم سار ہونا چاہیئے جو اسکی دسترس اور قدرت سے بڑا ہو؟ محترم یاسر پیرزادہ صاحب رضوان سلیمی کے ہمراہ مجھے بھی اس جسارت کا جواب دیں تو مقام تشکر ہو گا

  • 05-05-2016 at 2:09 pm
    Permalink

    Thanks raja mehtab saheb ??

  • 05-05-2016 at 7:28 pm
    Permalink

    خواتین کے لیے کیا اچھا ہے اور کیا برا، شرمناک کیا ہے اور قابل فخر کیا یہ طے کرنے کا حق صرف انہی کا ہے یاسر یا سعد یا بکر کا نہیں

  • 06-05-2016 at 1:45 pm
    Permalink

    سوائے انداز بیاں میں چبھن کے، یاسر کے مضمون میں کوئی ایسی بات نہیں جس پر اعتراض بنے۔ دیپیکا والی بات کو بھی آپ نے غلط لیا ہے، اور آپ کی سنی لیون والی مثال بھی غلط ہے اس تناظر میں۔ اسکا مطلب صرف یہ تھا کہ جو عورت اپنا فگر پبلک کرتی ہے ایک پیشے کے طور پر، اسکو “کسٹمر فیڈ بیک” پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ اپنے اس مضمون پر میرے کمنٹ پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے کہ آپ کا اس مضمون کو لکھنا اس بات کی اجازت ہے کہ لوگ اسکو پڑھ کر اپنی رائے دیں۔

    • 06-05-2016 at 2:33 pm
      Permalink

      i agree with u mr mahmood fayaz

  • 07-05-2016 at 10:52 am
    Permalink

    Fayaz saheb, aap ko shayad deepika pudukoon vs times of india story puri tarah pata nahin hai, kindly read about that and try to understand it in ita context.

Comments are closed.