مہذب کسے کہتے ہیں ؟


wajahatاپنی کم علمی کا اعتراف کرنے میں کوئی ہرج نہیں ہوتا۔ ایک ایسا ملک جہاں ہر شخص جیب میں دنیا بھر کے مسائل کا حل لیے پھرتا ہو، جہاں ہر رکشے کے پیچھے ”دل کے مرض میں بائی پاس نہ کروائیں، ہمیں آزمائیں “ کا اشتہار لٹک رہا ہو، جہاں ہر استاد افلاطون ہو، ہر صحافی بادشاہ گر ہو، ہر جنرل نپولین ہو، ذات قبیلے کے نام پر ووٹ مانگنے والا ہر سیاست دان ڈیگال ہو،وہاں کوئی ایسا شہری بھی ہونا چاہیے جو سرعام اپنی ذہنی پراگندگی ، فکری الجھن اور تذبذب کا اعتراف کر سکے۔ انتظار حسین کے ناول ’بستی‘ میں ایک کردار 1971ءکی لڑائی کے بعد شکست کا بوجھ اٹھانے کا اعلان کرتا ہے۔ دوسرا کردار جواب میں طنز کرتا ہے کہ ”شکست کا بوجھ اٹھانے والے کو کم از کم جمال عبدالناصر ہونا چاہیے“۔ یہاں ایسا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ۔ یہ جنگ اور امن کا رزمیہ نہیں۔ ایک سادہ سا اعتراف ہے کہ جس ملک میں دو مختلف طرح کے کرداروں کو بیک وقت اچھا کہا جاتا ہو اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہو ، جہاں لوگوں کا خواب انقلاب ہو اور منزل جعلی کاغذات پہ یورپ میں سیاسی پناہ لینا، وہاں میرے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ مہذب کسے سمجھا جائے۔ نیکی کی تو ہمارے ملک میں کوئی کمی نہیں ہے۔ ہمارے ہاں ہر مرد نیکی کا مجسمہ ہے اور ہر عورت نیک پروین ہے۔ نیکی کے اس افراط زر سے مجھے اس لیے دلچسپی نہیں کہ بہت بچپن میں اساتذہ نے سمجھایا تھا کہ تہذیب کا کوئی تعلق لباس، اکل و شرب اور منصب یا دولت سے نہیں۔ ایک مہذب انسان وہ ہوتا ہے جسے اس کی عدم موجودگی میں ایک ذمہ دار شہری سمجھا جائے۔ مہذب انسان وہ ہے جس کا ذکر آنے پر دلوں میں خوشی پیدا ہوتی ہو اور جس شخص سے ملاقات کے امکان پر آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس میں الجھن یہ ہے کہ پاکستان میں تہذیب کے پیمانے گڈمڈ ہو گئے ہیںاور میرے جیسا سادہ ذہن یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ مہذب کسے سمجھا جائے۔ سو میں کچھ سوالات پڑھنے والوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔

مہذب وہ شہری ہے جو ٹریفک کا اشارہ سرخ ہونے پر گاڑی روک لے اور پیچھے کھڑی ہونے والی گاڑیوں کے کان پھاڑ دینے والے ہارن اور ڈرائیوروں کی گالیاں سنے یا وہ نوجوان مہذب ہے جو پرہجوم سڑک پر ایک پہیے پر موٹر سائیکل چلاکر اپنی مہارت اور زندہ دلی کی داد چاہتا ہے ، موٹر سائیکل کو دائیں بائیں اس انداز میں لہراتا ہے کہ دیکھنے والوں کے دل حلق میں آن اٹکتے ہیں۔ مہذب وہ استاد ہے جو بلاامتیاز نسل ، ثقافت ، صنف اور عقیدہ طالب علموں کو تعلیم دیتا ہے یا وہ شخص مہذب ہے جو ایک کم عمر بچے کی ذہنی تطہیر کر کے اسے استاد پر گولی چلانے کا مشن سونپتا ہے۔ مہذب وہ شخص ہے جو اپنی بہن اور بیٹی کو تعلیم دلاتا ہے ، ان کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آتا ہے اور انہیں وراثت میں حصہ دیتا ہے یا وہ دلاور شخص مہذب ہے جو اپنی بہن کو مرضی کی شادی کرنے پر گولی مار کر تھانے میں پہنچتا ہے اور سینہ تان کر اپنی غیرت کا اعلان کرتا ہے۔ مہذب وہ شخص ہے جو بچوں پر شفقت کرتا ہے اور ان کی دنیا میں آنے والے مہمانوں کی طرح تواضع کرتا ہے یا وہ شخص مہذب ہے جو گھر ، سکول اور مدرسے میں بچوں کے دلوں میں اپنی جلاد صفت وحشت سے خوف پیدا کرتا ہے۔ وہ شہری مہذب ہے جو ٹیکس ادا کرتا ہے ، گیس ، بجلی اورپانی کا بل دیتا ہے یا وہ شہری مہذب ہے جو ٹیکس چوری کر کے اپنی عبادات کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے۔ وہ سرکاری افسر مہذب ہے جو فائلوں پر اعتراض لگانے کی شہرت رکھتا ہے اور ہر حکومت میں منافع بخش عہدوں پر جا بیٹھتا ہے یا سیکرٹریٹ کا وہ افسر تہذیب یافتہ کہلائے گا جو قواعد و ضوابط کی پاسداری کرنے پر کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے۔ وہ شہری مہذب ہے جو اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرتا ہے اور دوسرے عقائد کے پیروکاروں کا احترام کرتا ہے یا وہ شخص مہذب ہے جو مخالف فرقے کی عبادت گاہوں کو بارود سے اڑانے کی کامیاب منصوبہ بندی کرتا ہے۔ وہ شخص مہذب ہے جو دو بچے پیدا کر کے انہیں تعلیم دلاتا ہے اور معاشرے کا مفید شہری بنانے میں ساری زندگی صرف کرتا ہے یا وہ شخص جو درجن بھر بچوں کی بٹالین پیدا کر کے توکل اور قناعت کی تلقین کرتا ہوا تبلیغی دورے پر نکل جاتا ہے۔

صحافت کو معاشرے میں بڑا رسوخ حاصل ہے اور اب تو ہم صحافت کے روکھے پھیکے لفظ کی بجائے میڈیا کی چکاچوند اصطلاح استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ صحافی مہذب ہے جو خبر کی صداقت اور تصدیق پر زور دیتا ہے یا وہ صحافی جو ڈیسک پر نت نئی کہانیاں گھڑ کر فخر سے قصے سناتا ہے کہ اس کے ایک اشارے پر حکومتیں بنتی اور بگڑتی ہیں۔ وہ صحافی مہذب ہے جو ہر آمریت کی شان میں نئے رنگ کا قصیدہ پیش کرتا ہے اور پرانے چیف کا وقت پورا ہونے کے بعد کسی نئے چیف کے پیچھے کھڑے ہو کے کسی تیسرے چیف کے حق میں ”بے شمار ، بے شمار“ کے نعرے بلند کرتا ہے یا وہ صحافی مہذب ہے جو خبر ڈھونڈنے کی دھن میں یہ بھی بھول جاتا ہے کہ اسے کتنے مہینوں سے تنخواہ نہیں ملی۔ وہ ادیب مہذب ہے جو برسوں کی عرق ریزی سے ایک کتاب لکھتا ہے یا وہ ادیب جو کتابو ں پر پابندی کے حق میں مضمون گھسیٹتا ہے۔ وہ شخص علم دوست ہے جو اپنی ذاتی کتابوں کا عطیہ دے کر یونیورسٹی لائبریری کا گوشہ سجاتا ہے یا وہ خدائی فوج دار مہذب ہے جو ناپسندیدہ کتابوں کو الاﺅ کی نذر کرنا چاہتا ہے۔ وہ سائنس دان مہذب ہے جو بیماریوں کے علاج میں دن رات ایک کرتا ہے یا وہ جانباز مہذب ہے جو صحت عامہ کے کارکنوں پر گولیاں چلاتا ہے۔ وہ مغنی مہذب ہے جو دکھی دلوں پر سروں کا مرہم رکھتا ہے یا وہ مصور مہذب ہے جو روشنی اور لکیروں کے تال میل سے روز مرہ کے سادہ مناظر کا حسن واضح کرتا ہے یا وہ شخص مہذب ہے جو نئے سال کی رات ڈنڈے اٹھا کر نکلتا ہے اور جہاں سُر سنائی دے، وہاں ہلہ بول دیتا ہے۔ اقبال حسین اور ڈیوڈ کولن کی تصویروں کی مفروضہ فحاشی کی مذمت میں کاغذ سیاہ کرتا ہے ۔وہ سیاست دان مہذب ہے جو لوگوں کے حقوق کے لیے پھانسی پر جھول جاتا ہے، قاتلوں کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر جمہور کی آواز بلند کرتا ہے ، اٹک اور لاہور کے قلعوں کی رونق بڑھاتا ہے یا وہ سیاست دان مہذب ہے جو ہر ڈکٹیٹر کا پہلو گرم کرتا ہے ،ذات برادری کے نام پر ووٹ مانگنے والا مہذب ہے یا کسی امتیاز کے بغیر انسانوں کی خدمت کرنے والا عبدالستار ایدھی مہذب ہے۔ اپنی محل سرا کے باہر آٹا تقسیم کر کے محتاجوں کے ہجوم سے اپنی طہارت کی تسکین پانے والا مہذب ہے یا ڈاکٹر امجد ثاقب جو ایک ادارہ قائم کر کے ہزاروں گھروں کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ لوگوں کے حقوق کی بات کرکے دشنام سہنے والا سوبھو گیان چندانی مہذب ہے یا جرگے میں بیٹھ کر مونچھوں پر تاﺅ دیتے ہوئے پیوستہ مفادات کی رکھوالی کرنے والا مہذب ہے۔ غریب ہندو بچیوں کے زبردستی مذہب تبدیل کرنے کے خلاف احتجاج کرنے والا مہذب شہری ہے یا ان مجبور بچیوں کے نکاح پڑھانے کی شہرت رکھنے والا مہذب ہے۔ بم دھماکوں میں معذور ہو جانے والوں کے لیے مصنوعی اعضا بنانے والا شہری مہذب ہے یا پریشر ککر ، واشنگ مشین اور موبائل فون کی مدد سے بم بنانے والا ذہن مہذب ہے۔ سوالات ہی سوالات ہیں ۔ ممکن ہے آپ کے لیے ان کے جوابات سادہ ہوں لیکن میرے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ مجھے اپنی کم علمی اور ذہنی پراگندگی کا اعتراف ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

14 thoughts on “مہذب کسے کہتے ہیں ؟

  • 04-05-2016 at 4:04 pm
    Permalink

    واہ۔۔۔
    ہمیشہ کی طرح خوبصورت انداز۔۔۔۔ پُرفکر۔۔۔

  • 04-05-2016 at 4:56 pm
    Permalink

    وجاھت صاحب اس حمام میں سارے ننگے ہیں…کیا دانشور کیا جرنیل کیا سیاستدان کیا افراد….کہیں عصبیت بولتا ہے تو کہیں نمک..مکمل سچ اس ریاست میں کوی نہ بول سکتا ہے نہ لکھ سکتا ہے…..

  • 04-05-2016 at 5:04 pm
    Permalink

    بہت خوب صورت ، سادہ الفاظ ، لاجواب اور بہترین تقابل

  • 04-05-2016 at 6:12 pm
    Permalink

    نیکی کے اس افراط زر ۔۔۔ سر کیا یہ اصطلاح ٹھیک ہے یا میں غلط سمجھ رہا ہوں ؟؟ براے مہربانی اس کم علم کی راہنمائی فرمائیے

  • 04-05-2016 at 8:04 pm
    Permalink

    میں ایسے بازار میں کھڑا ہوں جہاں کرنسی بدل چکی ہے

  • 04-05-2016 at 10:07 pm
    Permalink

    آپ نے ہمیشہ کی طرح‌ اچھا لکھا۔

    کئی اسٹڈیز سے پتا چلتا ہے کہ لوگ جتنے کم پڑھے اور کم پیسے والے ہوں‌ ان متشدد ہونے کی شرح‌زیادہ ہوتی ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی بات پر لڑنے جھگڑنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔

    دوسری وجہ مجھے ہماری قوم کے مسائل کہ یہ لگتی ہے کہ شروع سے بچوں‌کو جنس کی بنیاد پر تقسیم کردیا جاتا ہے جس سے وہ ایک نارمل معاشرہ نہیں‌ بنا سکتے۔ یعنی ایک سوئی پر ہی ان کا دماغ تمام عمر اٹکا رہ جاتا ہے۔

    دنیا میں‌ 100 ملین خواتین بدسلوکی کی وجہ سے غائب ہیں‌جن کی زیادہ تعداد چین، جنوبی ایشیا اور افریقہ میں‌ ہے۔

    خواتین کے ارد گرد ہونے سے مردوں‌ میں‌ ٹیسٹاسٹرون کا لیول کم ہوجاتا ہے اس لئیے وہ ٹھنڈے مزاج کے ہو جاتے ہیں۔ جن لوگوں‌ کی بیویاں‌ اور بیٹیاں‌ اور بہنیں‌ وغیرہ ہوں‌ وہ ان لوگوں‌ کی بنسبت زیادہ سخی پائے گئے جو دیگر مردوں‌ سے گھرے ہوئے تھے۔

    جیسے جیسے خواتین ہر میدان میں‌ اپنے قدم جمائیں گی ویسے ویسے ہی ہر جگہ ایک سدھار پیدا ہونے کے چانسز ہیں۔

    http://www.nytimes.com/2013/07/21/opinion/sunday/why-men-need-women.html?pagewanted=all&_r=1

    http://www.nytimes.com/1990/07/17/science/aggression-in-men-hormone-levels-are-a-key.html?pagewanted=all

  • 04-05-2016 at 10:12 pm
    Permalink

    محترم وجاہت مسعود صاحب۔۔۔۔۔۔ آپ کی تحریر شاندار ہے،یقینا ہم تہذیب کے کئی زایوں میں کمزوراور کئی ایک سے عاری ہیں۔۔
    آپ نے تحریر میں لکھا ہے کہ ’وہ شہری مہذب ہے جو ٹیکس ادا کرتا ہے، گیس ، بجلی اورپانی کا بل دیتا ہے یا وہ
    شہری مہذب ہے جو ٹیکس چوری کر کے اپنی عبادات کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے‘۔
    یقینا قانون کا پاسدارتہذیبی فوقیت رکھتا ہےجبکہ دوسرا یقینا غیر مہذب کہلائےگا۔
    ویسے ٹیکس نہ دینے والے وزرااور اراکان حکومت و اسٹیبلشمنٹ کا ذکر آپ نے نہ کیا وہ تو ٹیکس دیتے ہیں نہ ہی ملک کے وسائل کے وسائل کو بخشتے ہیں کہ وہ عام آدمی کے کام آجائے۔
    ساتھ ہی یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ وہ سیاستدان یا وزیر خزانہ کتنا مہذب ہے جو اپنی قوت اور استعداد کار کو عمل میں لاتا ہوں،ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنےکے بجائےعام آدمی پر ٹیکس کی بھاری بھرم شرح عائد کردے۔اب آپ ہی بتائیں 17فیصد سے 25فیصد ٹیکس کو دیتا ہے عام آدمی اور خواص کے ساتھ رویہ یہ ہے کہ ایک فیصد دو اور پاک و پاکیزہ ہوجائو۔۔۔ ان مہذب صورتوں پر آپ کی تحریر کا منتظر ہو۔

  • 04-05-2016 at 10:24 pm
    Permalink

    !—–Aik Makalma

    “Baba, Marney ke Ba’d Ye Log Kahan Jayengein ?”
    “Beta, Jannat main; Kiyon Ke Woh Shaheed Hein”
    “Aur Inn Ko Marney Waley”
    “Woh Bhi Jannat Main, Kiyon ke Woh Ma’soom Hein”

  • 05-05-2016 at 9:24 am
    Permalink

    وجاہت بھائی! ممکن ہے ان سوالات کا جوابات آپ کے لیے واقعی مشکل ہوں لیکن آپ نے یہ سوالات اٹھا کر سرِبازار ننگا کرتے ہوئے ہمیں بہت بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے۔

  • 05-05-2016 at 9:30 am
    Permalink

    سطور بالا میں لفظ ’’ہرج‘‘ بالکل صحیح استعمال کیا گیا ہے۔
    (ہائے ہوّز یعنی ہاتھی والی ہ سے)

    اس میں ’ر‘ ساکن ہے یعنی ہَرْج ۔ یہ مذکر ہے اوریہ عربی کا لفظ ہے

    اس کا مطلب ہے: شورش، ہنگامہ، دنگا، گڑبڑ، فتنہ، نقصان، خسارہ، خلل، ڈھیل، دیر وغیرہ۔ اردو میں ہرجانہ ، ہرجہ وغیرہ مستعمل ہیں۔ عدالتی زبان میں ہرجہ، خرچہ کہا جاتا ہے۔ دونوں کے معانی قریب قریب ہیں چنانچہ ایک کی جگہ دوسرے کے استعمال میں کوئی ہرج نہیں۔

    اس کےعلاوہ ایک اور لفظ ’’حرج‘‘ ہے۔ یہ بھی عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے: رکاوٹ، تنگی، سختی، نقصان، کمی، ضرر وغیرہ۔ اسی سے حارج ہے، مزاحمت کرنے والا۔

  • 05-05-2016 at 12:00 pm
    Permalink

    ویسے تو غیرمہذبوں کی عزت کرتے کرتے اس ملک کو اور ملک کے عوام کو عرصہ بیتا ھے ـ چالیس سال تو ان مہذبوں کی “عزت “کرتے لگ گئے جنہوں نے ھاتھ میں چھڑی لی اور عوام کے ریوڑ کو ھانکا ـ البرٹ کامو چاھے یہ کہتا اپنا سر مارتا پھوڑتا پھرے کہ ” زبردستی احترام کروانے سے بڑی برائی کوئی نہیں ” یہ “صوبیداری مہذب پنا” یا ڈنڈا بردار تہذیب ھماری رگوں میں رچ بس گئی ھے ـ اب تو قلم بھی رعونت اور دبدبے کا ھتھیار بن چکا ھے ـ نتیجتاً صحافی “ٹی وی والے ” بن کر رھ گئے ھیں ـ شیدے ٹلیوں اور م ـ لقمانوں میں بال برابر بھی فرق نہیں رھا ـ دونوں اپنے گند پر تشریحوں ـ وضاحتوں کی چادریں چڑھاتے ـ ھر روز اسکرین پر اور عوام کی گردن پر سوار ھونے سے نہیں گھبراتے. مہذب آوازوں کو چینلز کے شور نے کس کمال سے دبا رکھا ھے !
    ھم ایسے معاشرے میں اگئے ھیں ـ خاک آگئے ھیں! ایسا معاشرہ بنالیا ھے سمجھو ـ جس میں ھم تہذیب کی بات کرتے ڈرتے ھیں ـ کل ھی کسی فیس بوک فرینڈ نے ایک ایسی تصویر اپنی وال پر شیئر کی تھی جو ایسی تصویر میں اپنے ملک میں تو آئندہ بیس برسوں میں دیکھنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا ـ کیوں کہ میں نے جب سے ھوش سنبھالا ھے ایسی تصویر نہ کسی اخبار نہ مئگزین میں دیکھی ـ تصویر ھمارے دشمن ملک بھارت کے وزیر دفاع کے آفیس کی تھی ـ جس میں تینوں دفاعی چیفس وزیر دفاع کے چھوٹے سے آفس میں ـ اپنے منسٹر کے سامنے اس انداز میں بیٹھے ھیں جس پوزـسے ھی ظاھر ھوتا ھے کہ وہ نہ فقط وزیر دفاع کے ماتحت ھیں بلکہ اس سیکریٹری دفاع کے بھی ماتحت ھیں جو بڑے ارام سے ان کے ساتھ کرسی لگائے بیٹھا ھے ـ خیر! یہ دشمن ملکوں کی باتیں یہاں کیا شیئر کرنا ـ؟ جمہوریت کے اس ڈسپلین کی کیا باتیں کرنا جس میں سویلیں وزیر دفاع کے سامنے تینوں سورسز چیف سپاھیوں کی طرح بیٹھے ھوں ـ! قومیں دشمنوں سے سیکھتی ھیں. ھم دوستوں سے بھی نہیں سیکھ سکتے ـ جی! دوستوں سے بھی نہیں ـ
    مگر دوست ھیں کہاں؟ پڑوسیوں کو دشمن بنا کر سمندر پار دوست بنانا کو ئی ھم سے سیکھے ـ چھوڑو ان باتوں کو! چلو چلیں روڈ پر ـ کوئی سگنل توڑیں ـ وھیلنگ کرتے موٹر سائیکل سوار بچے کے ھنر و فن پر تالی بجائیں. اجکل بچوں کے انٹرمیڈیئٹ کے امتحانات ھو رھے ھیں ـ چلو امتحان سینٹر چلیں ـ پورے سال میں ایک مرتبہ بچے کے استاد سے احترام کا ڈرامہ کرلیں .. کیونکہ بچے کو کاپی کرنے کے لیے سہولت دلانی ھے. چلو اس طرح مزید مہذب بنیں.

  • 05-05-2016 at 1:15 pm
    Permalink

    ایک نہایت فکر انگیز تحریر۔

  • 06-05-2016 at 9:24 am
    Permalink

    آپ کی بات بجا ہے بلکہ باتیں بجا ہیں۔ لیکن لمبا عرصہ پہلے مہذب کی تعریف اور طرح پڑھی تھی مختصراً یہ کہ یورپی ممالک کے رپورٹرز جاپان گئے اور جائزہ کے بعد لکھا کہ جاپان مہذب ممالک میں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ پوچھنے پر بتایا کہ تعلیم عام نہیں ہے۔ بادشاہ نے تعلیم عام کر دی۔ بیس سال میں تعلیمی انقلاب کے بعد پھر یورپی ممالک کے رپورٹرز گئے اور کہا کہ یہ مہذب نہیں کیونکہ صنعت میں پیچھے ہے۔ پھر صنعتی انقلاب لایا گیا۔ لیکن رپورٹز نے پھر مہذب ممالک میں شمار نہ کیا۔ کرنا خدا کا جاپان اور روس کے درمیان جنگ چھڑ گئی اور جاپان نے روس کو شکست دی تو بغیر مزید جائزہ کے اعلان فرما دیا گیا کہ جاپان مہذب ممالک کی صفوں میں شمار کرنے کے لائق ہے۔ یہ خوبی آج بھی جتنی کسی ملک میں ہے اتنا مہذب شمار ہو گا۔ پاکستان کے عوام بڑی صلاحیّتوں کے حامل ہیں لیکن سسٹم ان سے فائدہ اٹھانے سے قاصرہے۔ سارے یک جان ہوں تو مہذب شمار ہوں گے۔ مگر ہوں کیسے۔
    بیوی کہتی ہے ہنری پانی لاؤ
    پانی کس میں لاؤں
    بالٹی میں
    بالٹی میں سوراخ ہے
    سوراخ بند کر لو
    بند کیسے کروں
    لکڑی کاٹ کر
    لکڑی کس سے کاٹوں
    لکڑی کلہاڑی سے کاٹو
    کلہاری کند ہے
    اس کو تیز کر لو
    اس کو تیز کرنے کے لئے پانی کی ضروت ہے
    تو پانی لے اؤ
    کس میں لاؤں
    بالٹی میں
    بالٹی میں تو سوراخ ہے
    اگرچہ یہ ایک گانا ہے مگریہ داستاں ہمارے سسٹم پر من و عن چسپاں ہوتی ہے

  • 07-05-2016 at 5:52 am
    Permalink

    جو شخص بلا تفریق انسانوں اور دیگر جانداروں کیلئے آسانیاں پیدا کرے اور کرتا رھے ـ اُسے ہم مُہذب کہہ سکتے ہیں ـ

Comments are closed.