زیر حراست تشدد کی افسوسناک مثال


editپاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ایم کیوایم کے کارکن آفتاب احمدکی ہلاکت کی تحقیقات کروانے کا حکم دیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن کا رینجرز کی حراست میں انتقال ہو گیا تھا۔ اگرچہ رینجرز کا کہنا ہے کہ اشفاق احمد کی موت حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے ہوئی تھی، لیکن اس بات کے شواہد سامنے آئے ہیں کہ رینجرز نے انہیں شدید تشد کا نشانہ بنایا تھا۔ آرمی چیف کو اس انکوائری کے بعد زیر حراست افراد کے کے خلاف تشدد کے طریقہ کار کو ختم کرنے کے لئے اقدام کرنا ہوں گے۔

آفتاب احمد متحدہ قومی موومنٹ کے لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار کے رابطہ کار تھے اور رینجرز نے انہیں یکم کو مئی کو گرفتار کیا تھا۔ تاہم دوران حراست ایک روز بعد ہی انہیں جناح اسپتال داخل کروادیا گیا جہاں وہ انتقال کرگئے۔ رینجرز کی طرف سے اس دعویٰ کے باوجود کہ اشفاق احمد دل کا دورہ پڑنے سے رحلت کرگئے، سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی تصاویر سے ان پر کئے جانے والے شدید تشدد کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ رینجرز کراچی کی طرف سے اس معاملہ میں ملوث بعض اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے اور ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔ آج صبح پاک فوج کے دفتر تعلقات عامہ نے بتایا ہے کہ فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس فیصلہ سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ اب تحقیقات ذیادہ شفاف انداز میں ہوں گی اور اصل مجرموں کا تعین کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ مرحوم کارکن کے اہل خاندان کو بھی تفصیل سے بتایا جائے گا کہ ان کے عزیز کا انتقال کن حالات میں کن وجوہ کی بنا پر ہؤا تھا۔

سیکورٹی فورسز زیر حراست ملزمان کے ساتھ توہین آمیز تشدد کے طریقے اختیار کرتی ہیں۔ یہ ہتھکنڈے قرون وسطیٰ سے تعلق رکھتے ہیں اور موجودہ دور میں حرمت انسان کے اصول کو مانتے ہوئے اس قسم کے غیر انسانی تشدد اور ظلم کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جنرل راحیل شریف کے حکم کی روشنی میں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد فوج کے تمام اداروں میں گرفتار کئے گئے افراد کے ساتھ انسانی سلوک کی واضح ہدایات جاری کرنے کی ضرورت ہے۔ اب ملزموں سے پوچھ گچھ کرنے اور معلومات حاصل کرنے کے درجنوں جدید طریقے دریافت کئے جا چکے ہیں۔ تشدد فرسودہ، غیر انسانی اور ناکارہ طریقے کی حیثیت رکھتا ہے۔ غیر انسانی سلوک کے سبب بہت سے لوگ ان سب باتوں کا اعتراف تو کرلیتے ہیں جو سیکورٹی ادارے ان سے کہلوانا چاہتے ہیں لیکن یہ لوگ بعد میں عدالت میں ان باتوں سے منحرف ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے تشدد غیر انسانی ہونے کے علاوہ سود مند بھی ثابت نہیں ہوتا۔

پاک فوج ملک میں تشدد اور دہشت کے خاتمہ کے لئے سرگرم ہے۔ اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے صرف چند افراد یا گروہوں کا خاتمہ ہی کافی نہیں ہے بلکہ شدت پسندی کے مزاج کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ رینجرز یا دیگر سیکورٹی اداروں کی جانب سے زیر حراست لوگوں کے ساتھ غیر انسانی اور جسمانی تشدد بھی اسی مزاج کا آئینہ دار ہے جو معاشرے میں عام طور سے انتہا پسندی کے فروغ کا سبب بن رہا ہے۔ اس لئے اگر سماج سے انتہا پسندی کو ختم کرنا مطلوب ہے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اپنا رویہ اور طریقہ کار تبدیل کرنا ہوگا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali