زہر آلود انسانی فطرت کا شاہکار


salarخدا تعالیٰ کی بنائی ہوئی اس حسین دنیا کے حسن کو برقرار رکھنے میں انسانی فطرت کا بہت زیادہ کردار رہا ہے۔ اگرچہ ماضی کے دریچوں میں دیکھتے ہوئے زیادہ نہیں بلکہ آج سے بیس پچیس برس پہلے کی دنیا کا بھی جائزہ لیا جائے تو آج کے بہ نسبت پہلے والا ماحول زیادہ پرسکون اور افراتفریح سے پاک ملے گا کیونکہ ان دنوں انسانی قلب ایک دوسرے کے لئے بے انتہا محبت جیسے جذبات سے سرشار ہوا کرتے تھے۔ محبت کے عظیم شاہکار جو کہ شاید اب بالکل ہی نایاب ہو چکے ہیں۔ قدیم ادوار میں انسان کے دل کے اندر ایک دوسرے کے لئے پیار، محبت، بھائی چارہ اور عزت جیسے مقدس جذبات بغیر کسی لالچ کے موجود ہوا کرتے تھے۔ سورج ڈھلتے ہی بیٹھکیں سج جاتی تھیں جہاں بزرگ آپس میں اپنے ہم عمر لوگوں کے ساتھ گھل مل جاتے تھے۔ تو ان دنوں معصوم ذہنوں کے اندر نفرتوں کے بیج بونے کی روایت کا تو کوئی تصور بھی نہیں ہوا کرتا تھا جس کے باعث ہر انسان ایک دوسرے کے لئے اس طرح مددگار ہوا کرتا تھا کہ جیسے یہ معاشرہ اپنے باسیوں کا ایک ہی خاندان ہو۔

بیتے ہوئے زمانے میں وہ کتنا خوبصورت وقت ہوا کرتا تھا کہ جب الفاظ کے ہتھکنڈوں سے دلوں کے شکار کا کوئی تصور بھی نہیں ہوا کرتا تھا بلکہ ہر طرف محبتوں کی روحانی مساجد و مندر پیار کی عبادت و پوجا کرنے والے افراد سے آباد ہوا کرتی تھیں۔ ایسے دلفریب ماحول کو شاید کسی کی نظر لگ گئی جن کے طفیل وقت ماضی کی وہ تمام حسین روایات اپنے ساتھ بہا کے لے گیا جس کے باعث انسانی فطرت کی کایا پلٹ کے رہ گئی کہ نہ جانے کس طرح اس کے اندر زہر بھرنا شروع ہو گیا، انسان انسان کے ہی خون کا پیاسا بن گیا، بچپن کے معصوم ذہنوں پر جو نانی اور دادی کی دیو مالائی کہانیاں راج کیا کرتی تھیں وہ بھی دم توڑنے لگ گئیں اور ایسے طوفان کی زد میں آکر انسانی فطرت اس معاشرے کے اصولوں کے اوپر حاوی ہونے میں کامیاب ہو گئی۔

آج، دنیا بھی وہی ہے، انسان بھی نہیں بدلا لیکن اگر کچھ تبدیل ہوا ہے تو وہ وقت اور حالات ہیں جن کے کروٹ بدلنے سے اب انسان اس حقیقت کا منکر ہو گیا ہے کہ یہ جیون اس کو پہلی اور آخری مرتبہ ہی ملا ہے، چنانچہ جنت وہ اپنے بہتر کردار کے طفیل اس دھرتی پر بھی بنا سکتا ہے۔ مگر حالیہ دور کا انسان اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو چکا ہے جس کے باعث منفی سوچ اس کی عادت بن چکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ انسان کے دل و دماغ کے مابین ایک عجیب و غریب تناؤ ہر وقت چلتا رہتا ہےجس کے باعث یہ دنیا اب ایک افراتفریح کے عالم کے نذر ہو کے رہ گئی ہے اور اس منظر کو نفسیات کے شعبے سے وابسطہ لوگ مزید بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہونگے۔ آج کا انسان، خواہ وہ کتنا بھی باشعور کیوں نہ ہو لیکن اس کے اندر کہیں نہ  کہیں  “شیزوفرینیا” کے اثرات موجود  ہوتے ہیں اور یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے جس کے بعد وہ  چاہتے ہوئے بھی صحیح و غلط کا تعین نہیں کر پاتا۔ جس طرح کسی پاگل خانے میں بستے ہوئے امراضِ نفسیات کے مریضوں کی الگ دنیا قائم ہوتے ہے، ٹھیک اسی طرح یہ دنیا بھی “شیزوفرینک” مریضوں کی ایک اجتماعی کیمپ کے مانند دکھائی دیتی ہے کہ جہاں کے باسی اس دنیا کے لیے اور یہ دنیا ان کے لئے بالکل ہی اجنبی لگتی ہے کیونکہ یہاں ہر انسان انا کی جنگ کا مارا ہوا ہے۔ جس کے لیے کوئی اور انسان کسی بھی حیثیت کا حامل نہیں ہوتا۔

انسانی فطرت میں محبت سمائی ہوتی ہے، نفرت انسان کی اپنی پیداوار ہےاس لیے وہ لوگ جن کے احساس مر چکے ہوتے ہیں، وہی نفرت کو جنم دیتے ہیں اور ہمارےمعاشرے میں ایسے افراد کی قلت نہیں ہے جو ہر وقت نفرت آلود  جذبات کی فروغ کو “صدقہِ جاریہ” سمجھتے ہوئے اس کے لئے کوشاں ہوتے ہیں۔ جو اس حقیقت سے بالکل ہی ناآشنا ہوتے ہیں کہ ایسا کرنے سے ان کی اپنی زندگی کس قدر عذاب میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ ہمارا معاشرہ ایسے لوگوں کی جھوٹی ذہانت کے باعث بھی سکوں حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے جو دوسروں کو تو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا کرتے ہیں لیکن ان کا اپنا باطن برداشت و صبر جیسے جذبات سے خالی ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے ارد گرد ماحول کا جائزہ لیں گے تو یہ بھی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی کہ ہمارا معاشرہ ایسے لوگوں کے سے بھرا ہوا ہے جو آسمانی جنت کی حصول کے لئے تو کوشاں رہتے ہیں لیکن اگر وہ تھوڑی ہی کوشش اس معاشرے کے اصولوں کو زندہ رکھنے کے لئے کریں تو شاید اس زمیں پر ہی جنت قائم ہو جائے۔

مولانا جلال الدین رومی نے کہا ہے کہ “انسان کی اصل ہستی اس کی سوچ ہے، باقی تو محض خالی ہڈیاں اور گوشت ہے” لیکن افسوس کہ آج کا انسان ایسی باتوں کو اپنے لئے توہین کا باعث سمجھتا ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ اچھائی کی بات کرنے والوں کو ہمیشہ حقارت کی نگاہ سے ہی دیکھا جاتا ہے۔ جس کے باعث اس دنیا کا یہ دستور بن چکا ہے کہ دل کے صاف و سیدھے لوگ اکثر و بیشتر تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ اپنے اندر میں نفرت جیسے ناپاک جذبات کو پالنے والے لوگ اس دنیا کے پسندیدہ لوگ ہوا کرتے ہیں۔ اگر اس دنیا میں بسنے والے لوگ اپنے درمیاں موجود عجیب و غریب نوعیت کی بے چینی سے نجات حاصل کرنے کے لئے فقط اوروں سے سنی ہوئی بات پر یقین کرنا چھوڑ دیں اور اپنے اندر برداشت، درگذر، رواداری اور عاجزی کو جگہ دیں تو انسان اپنی زندگی مکمل طور پر پرسکوں بنا سکتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ انا کی بے مقصد جنگ کو خیرباد کرتے ہوئے اپنی زندگی کو دوسروں کے لئے بامقصد بنانے کی کوشش کرے جو انسانیت کا ایک بنیادی نقطہ بھی ہے۔ سچ کہنے اور سننے کی قوت ہونی چاہیے خواہ وہ اپنی ذات سے منسلک ہو یا کسی اور کی لیک  جھوٹ اور فریب کا ساتھ چھوڑنا ہی پرامن زندگی کا ضامن ہے۔ انسان کو اس بادل کی مانند زندگی بسر کرنی چاہیے جو نہ صرف پھولوں پر بلکہ اسی طرح بنا کسی فرق کے کانٹوں پر بھی برستا ہے کیونکہ محبت ہی زندگی کا عظیم درس ہے،  چنانچہ جس نے یہ درس سیکھا اور سکھایا، اسی نے جینے کا حقیقی حق ادا کیا۔


Comments

FB Login Required - comments