آمریت کا نیا حربہ: معاشی ترقی کا فریب


zeeshan hashimجب پاکستان میں ایوب مارشل لا مسلط تھا اس وقت آمریت کے خدمت گزار دانشور آمریت کے لئے جس جواز کو بار بار تراش خراش کر عوام کے سامنے پیش کرتے تھے وہ تھا کہ جناب جمہوریت مغربی تصور ہے یہ ایشیا سے میل ہی نہیں کھاتا۔۔۔ ایشیا کی اپنی اقدار ہیں، اور ہمارا سیاسی بندوبست انہی اقدار کے مطابق ہونا چاہئے۔۔۔ یہ اس ملک میں ہو رہا تھا جو مسلم لیگ کی جمہوریت پسند اور پرامن سیاسی تحریک کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا۔۔۔ جب ضیا الحق نے مارشل لاء لگایا تو آمریت کے خدمت گزار آمر کے قدموں میں یوں جا گرے جیسے یہی ان کی منتہائے مقصود ہو اور درخواست کی کہ حضور جب تک کرپشن کا خاتمہ نہ ہو جائے اس وقت تک اقتدار نہ چھوڑیں، چلو جمہوریت کا مقدمہ مان لیتے ہیں مگر جمہوریت اس وقت تک یہاں کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک سیاست کو کرپشن سے پاک نہیں کر لیا جاتا۔ ضیاء الحق گیارہ سال اقتدار میں رہا، طیارہ حادثہ میں ہلاک ہوا، اور اپنے پیچھے جو سیاسی سماجی معاشی اور مذہبی ثقافت چھوڑ کر گیا وہ کرپشن میں بری طرح لتھڑی ہوئی تھی۔ کرپشن مکاؤ تحریک کا انجام کرپشن ہی کیوں؟ اس سوال پر ہمارے ہاں کم ہی سوچا گیا ہے۔ جنرل مشرف بھی “پہلے کرپشن مکاؤ پھر جمہوریت لاؤ ” تحریک کا مائی باپ بن کر اس ملک پر مسلط ہوا، نو سال نیب مشرف کی کاسہ لیسی کرتی رہی اور کرپشن نام کا دیو خوب پھلتا پھولتا رہا۔ وہ کہتے ہیں ناں محافظوں کو متاثرین کی ہمیشہ ضرورت ہوتی ہے –

اب پاکستان سمیت پوری دنیا بالخصوص افریقہ و لاطینی امریکہ میں آمریت ایک نئے بیانیہ کی سرپرستی کر رہی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے معاشی ترقی کر لی جائے پھر آہستہ آہستہ جمہوریت و سول آزدیوں کی طرف رجوع کر لیا جائے گا۔ اس کے لئے مشرقی ایشیائی ممالک جیسے چین، سنگاپور اور جنوبی کوریا کی مثال دی جا رہی ہے۔ کچھ حلقوں کے حلق سے یہ آوازیں بھی آ رہی ہیں کہ مغربی تصور مارکیٹ اس وقت تک ناکام ہے جب تک ریاست اپنی جابرانہ معاشی پالیسیوں کے نتیجہ میں تمام شہریوں کے لئے معاشی خوشحالی کا بندوبست نہ کر لے۔ جب سب معاشی خوشحالی حاصل کر لیں گے تو پھر مارکیٹ کا نظام بھی کام کرنے کے قابل ہو گا، یہ ایک انتہائی مضحکہ خیز دلیل ہے۔ اگر آمرانہ معاشی بندوبست سے معاشی ترقی ممکن ہوتی تو تمام سوشلسٹ ممالک کی نیا کیوں ڈوبتی؟ اگر بغیر سرمایہ دارانہ نظام کے معاشی ترقی اور سیاسی، سماجی اور شخصی آزادیاں حاصل ہو سکتیں تو ان دو تین صدیوں میں کوئی ایک کامیاب معیشت سیاست ثقافت یا شخصی آزادیوں کی جنت قائم نہ کی جا چکی ہوتی۔ وہم و خیال یا خیالی جنتوں کی پرستش و پیروی سوشل سائنس نہیں کہلاتی۔ سوشل سائنس کا موضوع ہی یہ ہے کہ مادی فلاح کے لئے کون کون سے مادی اور قابل عمل متبادل ہمیں حاصل ہیں اور کس کا انتخاب کرنا عقل و فہم اور تجزیاتی سائنس کی رو سے زیادہ بہتر ہے ۔

امرتیا سین نوبل انعام یافتہ معیشت دان فلسفی ہیں، انہوں نے اپنی مشہور ترین کتاب Development as freedom میں مشرقی ایشیائی معاشی ترقی اور مطلق العنانیت کے باہمی تعلق کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ آئیے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں

” کیا مطلق العنانیت واقعی بہتر کام کرتی ہے؟ یہ درست ہے کہ کچھ زیادہ مطلق العنان ریاستیں (جیسا کہ جنوبی کوریا، لی کا سنگا پور، اور بعد از اصلاحات کا چین) کم مطلق العنان ریاستوں ( جیسا کہ انڈیا، کوسٹاریکا، اور جمیکا ) سے زیادہ معاشی شرح نمو رکھتی ہیں – لیکن ” لی نظریہ” درحقیقت کم معلومات اور ان میں بھی من پسند معلومات پر مبنی ہے، حالانکہ جتنے مفصل اعدادوشمار اور ان کی شماریاتی جانچ پڑتال ہمیں حاصل ہے ” لی نظریہ” سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔ ہم ایشیا میں چین یا جنوبی کوریا کی تیز رفتار معاشی ترقی کو ایک باقاعدہ ثبوت کے طور پر تسلیم نہیں کر سکتے کہ آمریت معاشی ترقی فراہم کرنے میں زیادہ بہتر ہے – اسی طرح اس سے متضاد نتیجہ بھی اہم اس بنیاد پر نہیں اخذ کر سکتے کہ افریقہ کی تیزی سے نمو پاتی معشیت  بوٹسوانا (Botswana) دنیا کی بھی تیز رفتار معشیتتوں میں ایک ہے اور مشکلات میں گھرے افریقہ میں محض جمہوریت کا نخلستان ہے-

درحقیقت بہت ہی کم ایسے ثبوت موجود ہیں جو ہمیں بتاتے ہیں کہ آمرانہ طرز حکمرانی اور سیاسی و سماجی جبر معاشی ترقی کی حوصلہ افزائی کے لئے ضروری ہے۔ شماریاتی حقیقت بہت پیچیدہ ہے- منظم تجزیاتی مطالعہ ایسے کسی دعوی کو سپورٹ نہیں کرتا کہ سیاسی آزادی (یعنی جمہوریت ) اور معاشی ترقی کے درمیان کوئی تنازعہ موجود ہے-

اس سیاق و سباق میں یہ اہم ہے کہ زیادہ بنیادی تحقیقاتی طریقہ کار کا مسئلہ اٹھایا جائے – ہم نہ صرف شماریات کی مدد سے کسی باہمی تعلق کا سراغ لگانے کی کوشش کریں بلکہ اسباب کے طریقوں کا بھی جائزہ لیں اور ان کی جانچ پڑتال کریں کہ آیا وہ کون کون سے عناصر ہیں جو معاشی نمو اور ترقی کا سبب ہیں- وہ معاشی منصوبہ بندیاں اور ماحول جو مشرقی ایشیائی معشیتتوں کی ترقی کی وجہ بنے ہم اب ان کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔ حالانکہ مختلف اسباب کی بنیادی اہمیت پر اتفاق نہیں مگر اس کے باوجود معاشی ترقی کے لئے مدد گار منصوبہ بندیوں کی اس لسٹ (درج ذیل ) پر تقریبا سب کا اتفاق موجود ہے –

_ مقابلہ کے لئے کھلا میدان

_ بین الاقوامی مارکیٹ کا استعمال

_ خواندگی اور اسکول کی تعلیم کی بہت زیادہ شرح

_ کامیاب زرعی اصلاحات

_ سرمایہ کاری کے لئے عوام کو ترغیبات و سہولیات

_ صنعت کاری اور ایکسپورٹ

ان میں سے کوئی بھی ایسی منصوبہ بندی نہیں جو بلند تر جمہوریت سے متضاد ہو، اور ان پر عمل کرنے کے لئے کسی آمرانہ نظام حکومت کی ضرورت ہو جو جنوبی کوریا سنگاپور یا چین میں عمل میں لایا گیا ” (Development as freedom by Amartya Sen)

حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشی مسائل کی وجہ بھی یہی آمریت ہے۔ تقسیم پاکستان (جس میں مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہوا) کی بنیادی وجہ ایوب خان کی معاشی پالیسیاں تھیں، آج پاکستانی معیشت پر جن کاروباری سیٹھوں کا قبضہ ہے ان کا جنم معیشت پر ریاستی اجارہ داری کے تحت اسی ایوب دور میں ہوا تھا۔ بھٹو اور ضیاء معاشی پالیسیوں نے کرپشن کی معیشت کی ثقافت کو پروان چڑھایا، ضیا کی پاکستانی معیشت میں جو وراثتیں ہیں ان میں قرض، مالی امداد (فارن ایڈ) اور بجٹ خسارہ کی معاشی پالیسیوں کا غلبہ ہے اس کے پھندے میں ہم پھنس چکے ہیں جس سے نکلنا لازم ہے ۔

مشرق ایشیا کا معاشی ماڈل یہاں اگر نافذ کیا گیا تو ہمارا تنوع بکھر جائے گا۔ مشرقی ایشیائی ممالک میں نہ زبان کی بنیاد پر اختلاف ہے نہ نسل پر، نہ تاریخ پر، اور نہ ہی ثقافت پر۔ ایک ہی جیسی شناخت پر آمریت آسان ہے، ہمارے مختلف خطوں کی مختلف شناختیں ہیں، یہ تنوع یہاں کی خوبصورتی بھی ہے اور یہاں کا سب سے بڑا چیلنج بھی۔ مشرقی پاکستان کے لوگ اپنی بنگالی شناخت پر فخر نہیں کرتے تھے اور کیا بنگالی شناخت کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہم نے نہیں دیکھا؟ بلوچستان میں بلوچ کے ریاست سے جھگڑے میں بلوچ شناخت کا کردار نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟ جمہوریت میں تمام شناختوں کو نمائندگی دی جاتی ہے جبکہ آمریت کسی ایک منظور نظر شناخت یا اس میں بھی چند افراد کی مدد سے پورے سماج پر اپنی اجارہ داری نافذ کرتی ہے، یوں کمزور شناختوں میں احساس کمتری پیدا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں سماج کے تانے بانے بکھر جاتے ہیں، اتحاد و قومیت ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے، تہذیب بدحال ہو جاتی ہے اور ریاست کا استحکام ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہ باتیں ہماری تاریخ کے لئے نئی نہیں، ہم ان تجربات سے گزر چکے ہیں اور گزر رہے ہیں۔ کیا ضیاء الحق کی بھٹو صاحب کو دی جانے والی پھانسی سندھی قوم پرستی کے تناظر میں نہیں دیکھی گئی؟

سیاسی سماجی اور معاشی آزادی جس کی بنیاد شخصی آزادیوں پر ہو ہمارے لئے ناگزیر ہے، ہمیں اسے مضبوط کرنا ہے اور ترقی کے امکانات اسی در سے ہی وا ہوتے ہیں اور ہوں گے۔ اس کے علاوہ موجود تمام متبادلات میں خسارہ اور تباہی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

3 thoughts on “آمریت کا نیا حربہ: معاشی ترقی کا فریب

  • 04-05-2016 at 11:15 pm
    Permalink

    Another neoliberal!

  • 05-05-2016 at 11:52 am
    Permalink

    یہاں پر اک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی جمہوریت سے ہم ترقی کے ثمرات حاصل کرسکتے ہیں؟کم از کم پاکستان کی حد تک تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ہم نے آصف علی زرداری کی جمہوریت کو بھی بھگتا اور حقیقت تو یہ ہے کہ اس دور کو اگر میں اپنی مختصر سی زندگی کا سب سے خوفناک دور کہوں تو غلط نہیں ہوگا۔ہمیں کسی طرف سے بھی کوئی اچھی خبر نہیں ملی۔اس دور میں چن چن کر بدعنوان لوگ اہم عہدوں پر تعنیات کیے گئے اور ہر چور اچکے کی بھرپور حوصلہ افزائی کی گئی۔نوازشریف کا دور بھی کچھ بہتر نہیں کہا جاسکتا۔دو ماہ قبل میری یونیورسٹی میں مقامی ایم پی اے نے وائس چانسلر پر حملہ کردیا۔حقیقت اس کی یہ تھی کہ موصوف یونیورسٹی میں کچھ مالی چپڑاسی رکھوانا چاہتے تھے اور وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ وہ سفارش پر بھرتی نہیں کریں گے(ایم پی اے صاحب نے ان لوگوں سے پیسے پکڑ رکھے تھے اور ان میں کئی دوسرے محکموں سے برخواست شدہ بھی تھے)۔اس وقت اگر پی پی ، ن لیگ، ایم کیو ایم، اے این پی اور جمعیت علمائے اسلام پر مالی بدعنوانی اور لوٹ مار کے انتہائی خوفناک قسم کے الزامات ہیں جن میں ٹھیکوں میں فراڈ سے لیکر زمینوں پر قبضے سٹریٹ کرائم اور ٹارگٹ کلنگ تک سب شامل ہیں اور سب بڑی بات یہ ہے کہ ان جماعتوں کی قیادت خود ان معاملات میں ملوث ہے۔کیا ان بندروں کے ہاتھ میں قانون سازی کا استرا دیا جاسکتا ہے۔ان خوفناک انکشاف جو چند دن پہلے رؤف کلاسرہ نے کیا کہ میاں صاحب نے اپنے پہلے دور میں ایک قانون منظور کرایا جس کے تحت کوئی بھی شخص کسی بھی بنک میں فارن کرنسی اکاؤنٹ کھلوا سکتا ہے اور ملک سے باہر جاکر اسے نکلوا سکتا ہے۔یہ منی لانڈرنگ کی ایک قانونی شکل ہے۔
    ہم عام پاکستانیوں کے لئے تو جمہوریت اور آمریت ایک جیسی ہیں۔اس مسئلے کا حل کیا ہے۔جب سیاست دانوں پر احتساب کا گھیرا تنگ ہونے لگتا ہے تو جمہوریت خطرے میں ہے کا غل مچا دیا جاتا ہے پھر عاصمہ جہانگیر جیسے میدان میں اتر آتے ہیں جو کہتے ہیں کہ عوام کا خون چوسنے والوں کو جمہوریت کے نام پر لوٹ مار کرنے دی جائے جبکہ سیاست دان خود کو درست کرنے پر بالکل بھی آمادہ نہیں۔

  • 06-05-2016 at 11:49 am
    Permalink

    ہمارے محترم ذیشان صاحب جو معاشیات ، سیاسیات اور علمیات کی ہر زیر و زبر پہ ملکہ رکھتے ہیں صرف یہ بتا دیں کہ انہوں نے Dictatorship کا ترجمہ آمریت کیا ہے یا authoritarianism کا مجھے تو انہیں پڑھ کے یہ اندازہ ہونے لگ گیا ہے کہ اصطلاحات کے مفہوم تک ہی رسائی نہیں رکھتے اور بالا وجہ میں نہ مانوں کی رٹ لگائے رکھتے ہیں ۔ انہوں نے ایوبی آمریت کا ایک حوالہ دیا اور کہا کہ پاکستان میں لوگوں نے آمریت کو جائز کرنے کیلیئے معاشی دلیلیں گھڑی- بھائی صاحب اس وقت کے لبرل نظریہ دان ہٹھنگٹن صاحب کا مضموں political order in changing socitiesپڑھ لیں اور امریکہ کی طرف سے بنیادی جمہوریتوں پر برسائے جانے والے ڈونگرے اگر دیکھ لیں تو اندازہ ہو جائے گا کہ لبرل دوست اس وقت آمریت کے ساتھ تھے یہی ہمیں مشرف دور میں نظر آیا ہمیشہ بائیں بازو نے ہی پاکستان میں جمہوریت کے لپیٹے جانے کے خلاف لکھا اور احتجاج کیا ہے۔ آپ اپنی تاریخ ، جغرافیہ اور سمجھ زرا درست کر لیں پھر لکھیں تو اچھا ہو گا آپ میں اور اوریہ مقبول جان میں کوئی فرق نظر نہی آتا۔

Comments are closed.