بدمست ہاتھی کے نشانے پر پاکستان


mujahid aliپاکستان اور امریکہ کے درمیان ایف 16 طیاروں کی خریداری کا معاملہ شدید تناﺅ اور تنازعہ کا سبب بنا ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ امریکہ پاکستان کو آٹھ ایف 16 فراہم کرنے کے معاہدے پر تو قائم ہے لیکن اصل معاہدے کے مطابق وہ ان فائٹر طیاروں کی قیمت کا بیشتر حصہ ادا کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ کانگریس امور خارجہ کی کمیٹی نے حال ہی میں اس معاملہ پر غور کرتے ہوئے پاکستان کو ناقابل اعتبار حلیف قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسے ملک کے لئے امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم صرف نہیں کی جا سکتی جو امریکی مفادات کے برعکس مصروف عمل ہو۔ امور خارجہ کمیٹی کے سربراہ باب کارکر کی ہدایت پر اوباما حکومت نے ایف 16 طیاروں کی خریداری کے لئے 430 ملین ڈالر فراہم کرنے سے معذوری ظاہر کر دی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کو یہ طیارے خریدنے کے لئے 700 ملین ڈالر کی کل رقم اپنے وسائل سے صرف کرنا ہو گی۔ پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے ملک کے لئے اتنی خطیر رقم کا انتظام کرنا آسان نہیں ہے۔ اس لئے کوئی حل نہ نکلنے کی صورت میں پاکستان متبادل طیارے خریدنے پر غور کرے گا۔

اب خبر آئی ہے کہ پاکستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے حال ہی میں اسلام آباد کے دفتر خارجہ میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل DAVID HALE سے ملاقات کی۔ اس میٹنگ میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار ، مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز ، پاک فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل سہیل امان اور وزیراعظم کے خصوصی معاون طارق فاطمی نے شرکت کی۔ ملاقات کے دوران امریکی سفیر پر واضح کیا گییا ہے کہ اگر اصل معاہدے کے مطابق امریکہ نے غیر ملکی ملٹری فنڈنگ FMF کے ذریعے ان طیاروں کی قیمت ادا کرنے میں معاونت نہ کی تو پاکستان متبادل طیارے خریدنے پر غور کرے گا۔ اس دوران امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ایک مطلق العنان ملک ہے۔ اسے اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لئے فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اگر وہ ایف 16 طیاروں کی بجائے کسی دوسرے ملک سے طیارے خریدنا چاہتا ہے تو وہ اس میں پوری طرح آزاد ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اوباما ایڈمنسٹریشن سرکاری فنڈز صرف کرنے کے لئے کانگریس کی منظوری کی محتاج ہے۔ اس کی منظوری کے بغیر وہ کسی قسم کی ادائیگی سے قاصر ہے۔ تاہم اسلام آباد میں یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ صدر اوباما کانگریس کو اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ لیکن موجودہ صورتحال میں وہ اس قسم کا اثر و رسوخ استعمال کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ معاملہ صرف ایف 16 طیاروں کی فروخت سے متعلق نہیں ہے بلکہ موجودہ تنازعہ متعدد شعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے سامنے آیا ہے۔ واضح رہے کہ سینیٹر باب کارکر جو اس وقت پاکستان کو طیاروں کی فروخت میں فوری رکاوٹ بنے ہیں، مارچ میں انہوں نے پاکستان کو ایف 16 فروخت کرنے کی تجویز کی حمایت کی تھی۔ اس وقت کانگریس کی منظوری کے بعد پاکستان نے امریکی حکومت سے جو معاہدہ کیا تھا، اس میں یہ شرط شامل کروائی گئی تھی کہ ان 8 طیاروں کی کل قیمت 700 ملین ڈالر میں سے پاکستان 270 ملین ڈالر ادا کرے گا جبکہ امریکہ باقی ماندہ 430 ملین ڈالر غیر ملکی ملٹری فنڈ FMF سے ادا کرے گا۔ اسی مد میں پاکستان کو 720 ملین ڈالر ملنے ہیں۔ تاہم اب ایف 16 کی قیمت کی ادائیگی کی وجہ سے اس پوری امداد کی فراہمی تنازعہ کا سبب بنی ہوئی ہے۔ امریکی کانگریس کو اس سال ستمبر تک اس بارے میں حتمی فیصلہ کرنا ہو گا ورنہ یہ فنڈ ضائع ہو جائے گا۔ اسی لئے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان مارچ میں معاہدہ کرتے ہوئے اگر فارن ملٹری فنانسنگ FMF سے رقم کی ادائیگی کی شق شامل نہ کرواتا تو وہ آسانی سے طیارے بھی حاصل کر سکتا تھا اور شاید 720 ملین ڈالر کی رقم کی فراہمی بھی آسان ہوجاتی۔

اس رائے کا پس منظر یہ ہے کہ واشنگٹن میں بھارتی لابی پاکستان کو ایف 16 امریکی فائٹر جیٹ فروخت کرنے کی شدید مخالفت کرتی رہی ہے اور اس نے امریکی کانگریس کے ارکان کو اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ یہ طیارے دراصل بھارت کے خلاف پاکستان کی جنگی تیاریوں کا حصہ ہیں۔ جبکہ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اسے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے لئے ان طیاروں کی ضرورت ہے۔ اگرچہ امریکہ کی حکومت اور قانون ساز بھی یہ بات جانتے تھے کہ پاکستان اپنی فضائیہ کی قوت میں اضافہ کے ذریعے بھارت کے مقابلے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنا چاہتا ہے لیکن افغان جنگ میں پاکستانی تعاون حاصل کرنے کے نقطہ نظر سے اس پہلو کو سامنے لائے بغیر 8 ایف سولہ فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا۔ اس دوران پاکستان حسب توقع طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ دو ہفتے قبل کابل میں دہشت گرد حملہ میں 70 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ افغان اور امریکی ذرائع کا خیال ہے کہ یہ حملہ پاکستانی علاقوں سے سرگرم حقانی نیٹ ورک نے کیا ہے۔ آج افغان انٹیلی جنس نے کابل میں حقانی نیٹ ورک کے 3 افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو شہر کے مرکز میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اس حملہ کے بعد واشنگٹن میں بھارتی لابی کو امریکی اراکین کانگریس کو یہ باور کروانے میں آسانی ہو گئی تھی کہ پاکستان اگرچہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا دعویٰ کرتا ہے لیکن وہ درپردہ حقانی نیٹ ورک کی مسلسل اعانت کر رہا ہے۔ یہ قیاس کرنا غیر حقیقی نہیں ہے کہ 19 اپریل کو کابل میں ہونے والے حملہ نے امریکی اراکین کانگریس کی رائے کو متاثر کیا ہے۔ اسی حملہ کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے بھی یہ اعلان کیا تھا کہ پاکستان سے افغان طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کی توقع کرنا عبث ہے۔

ایک طرف اس سانحہ کے بعد واشنگٹن میں بھارتی لابی اور پاکستان دشمن عناصر پاکستان کے خلاف کام کرنے میں مصروف تھے تو پاکستان میں وزیراعظم نواز شریف کی حکومت پاناما پیپرز کے انکشافات کے بعد الزامات کی زد میں تھی اور سیاسی بقا کے لئے ہاتھ پاﺅں مار رہی تھی۔ بدقسمتی سے ملک کا کوئی وزیر خارجہ بھی نہیں ہے، جس کی وجہ سے وزارت خارجہ بھی پاکستان کے مفادات کے تحفظ کے لئے یکسوئی سے کسی ایک نکاتی ایجنڈے پر کام کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ افغان مذاکرات اور حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے امریکہ میں پاکستان کے خلاف ناراضگی اور پریشانی بڑھ رہی تھی لیکن واشنگٹن میں پاکستانی موقف سامنے لانے کے لئے کوئی کام نہ ہو سکا۔ اختلاف کی اس خلیج میں اضافہ کرنے کے لئے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی گرفتاری اور قید کے معاملہ کو بھی خوب اچھالا گیا۔ امریکی کانگریس مسلسل اس بات پر بے چینی کا اظہار کرتی رہی ہے کہ پاکستان نے ایک ایسے شخص کو طویل قید کی سزا دی ہے جو دنیا کے سب سے خطرناک دہشت گرد کو پکڑوانے کا سبب بنا تھا۔ پاکستان اس کیس کو اندرونی معاملہ قرار دے کر یہ کہتا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی دہشت گردوں کی مدد میں ملوث تھا۔ انہی الزامات میں اسے 33 برس کی سزا بھی دی گئی ہے۔ لیکن یہ الزامات اور مقدمہ کی کارروائی مشکوک حالات میں مکمل کی گئی ہے۔ پاکستان 3 مئی 2011 کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی اور ہلاکت کے معاملہ پر کسی بھی دوسرے ذمہ دار کا تعین تو نہیں کر سکا لیکن ایک شخص کو گرفتار اور قید کر کے امریکہ کے ساتھ براہ راست تصادم کی کیفیت پیدا کرنے پر بضد ہے۔

ان حالات میں پاکستان کے لئے بہترین حل تو یہ ہے کہ وہ ایف 16 طیاروں کی خریداری کے معاہدے کو خطرے میں نہ ڈالے اور ان کی ادائیگی کے سوال پر ہنگامہ کرنے کی بجائے بقایا رقم کا انتظام کرنے کی کوشش کرے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ایف ایم ایف FMF کی مد میں زیر التوا 720 ملین ڈالر کی رقم حاصل کرنے کے لئے سفارتی کوششوں کا آغاز کرے۔ اس کے برعکس پاکستانی حکام کا خیال ہے کہ وہ امریکہ کی طرف سے معاہدہ کی خلاف ورزی کا ڈھنڈورا پیٹ کر شاید امریکی کانگریس کو اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کر دں گے۔ یہ اندازہ بالآخر غلط ثابت ہو گا اور تصادم کی اس حکمت عملی کا کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکے گا۔ مسئلہ حل کرنے کے لئے بیان بازی کرنے اور قیمت کی ادائیگی کو وجہ نزاع بنانے کی بجائے امریکی امداد کی بحالی کے لئے کام کرنے اور متنازعہ امور پر ابھرنے والی رائے کو بدلنے کی کوشش کرنا ضروری ہو گا۔

یہ بات درست ہے کہ پاکستان مطلق العنان ملک کے طور پر کہیں سے بھی جنگی طیارے خریدنے میں آزاد ہے۔ لیکن بہرحال یہ سمجھنا ضروری ہو گا کہ کسی بھی ملک سے اعلیٰ صلاحیت کے طیارے مفت حاصل کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ پاکستانی فضائیہ امریکی اسلحہ استعمال کرنے کی عادی ہے اور اس کا پورا ڈھانچہ امریکی ساز و سامان سے استوار کیا گیا ہے۔ اس لئے امریکی ایف 16 پاک فضائیہ کی صلاحیت میں اضافے اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے نہایت سود مند ہوں گے۔ یہ طیارے 1978 سے مارکیٹ میں موجود ہیں اور اپنی اعلیٰ تکنیکی اور جنگی صلاحیتوں کے سبب اب تک مقبول فائٹر طیاروں میں شامل ہیں۔ اگرچہ امریکی فضائیہ نے ایف 16 کا استعمال ترک کر کے ایف 35 اور ایف 22 قسم کے جدید طیاروں کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے لیکن نیٹو ممالک کے علاوہ دیگر ملکوں میں بھی ایف 16 طیاروں کی بے حد مانگ ہے۔ ان طیاروں کے متبادل روسی طیارہ اس یو 35 نسبتاً سستا ہے لیکن پاکستانی فضائیہ کے گراﺅنڈ اسٹرکچر میں ان کی کارکردگی ایف 16 سے کمتر ہو گی۔ اسی طرح فرانسیسی متبادل ڈیسال رافال DASSAULT RAFALE ایف سولہ سے دوگنی قیمت میں دستیاب ہو گا۔ دنیا کے دس بہترین جیٹ فائٹرز میں سے اکثر کی قیمت ایک سو ملین ڈالر فی طیارہ یا اس سے کافی زیادہ ہے۔ جبکہ موجودہ معاہدہ کے تحت پاکستان امریکی ایف سولہ 88 ملین ڈالر فی طیارہ کے حساب سے حاصل کر سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی پاکستان کو اس تنازعہ سے سبق سیکھتے ہوئے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات اور امریکی اسلحہ پر انحصار کی پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے دور رس پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے۔ اب یہ بات واضح ہے کہ معاملہ صرف چند طیاروں کی قیمت کا نہیں بلکہ تہہ در تہہ سفارتی و سیاسی پیچیدگیوں سے متعلق ہے۔ ان مشکلات کو سمجھے بغیر نہ امریکہ کے ساتھ معاملات درست ہوں گے اور نہ پاکستان کی شہرت پر لگا داغ دھل سکتا ہے۔ امریکہ اس وقت بدمست ہاتھی کی طرح پاکستان کو نشانے پر لے رہا ہے۔ اس کے وار سے بچنے کے لئے دانشمندی اور سفارتی چابکدستی کی ضرورت ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 416 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali