تو غدار۔۔۔ تو کافر‎


انتخابات  کا موسم چل نکلا ہے ، ہر امیدوار اپنی انتخابی مہم  میں مشغول ہے اور بڑے بڑے دعوے کیے جارہے ہیں   کہ وہ منتخب ہوگئے تو عوام کی خدمت کریں گے۔ کسی کا دعویٰ ہے کہ وہ علاقے میں پینے کا پانی اور  کچرے سے پاک کردے گا تو کوئی کہتا ہے کہ وہ میٹرو بس اور سڑک بنا کر شہر کو پیرس بنا دے گا، کچھ کہتے ہیں کہ وہ نیا پاکستان بنائیں  گے(جب کہ نیا نہیں پاکستان کو بہتر اور ترقی یافتہ بنانا مقصد ہونا چاہیے)خیر اسے دعوے اور وعدے تو ہر  سیاست دان کرتا ہے لیکن اقتدار میں آکر سب وعدے دعوے بھول جاتے ہیں ۔  

انتخابی مہم چلانا اور اپنے لیے ووٹ مانگنا  ہر امیدوار کا حق ہے لیکن اس مہم میں لسانی  اور مذہبی کارڈ کو استعمال کر کے عوام کے ذہینوں میں نفرت کے بیچ بونا بہت بڑا ظلم ہے۔ قیام پاکستان سےاب تک ویسے ہی عوام کبھی سیاسی، کبھی مذہبی ، کبھی لسانی  تفریق کا شکار رہے ہیں اگر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا یے تو ایک پاکستانی بن کر سوچنا ہوگا۔

 ووٹ مانگنا امیدوار کا حق ہےتو عوام کو جواب دہ ہونا ان کا فرض بھی۔ عوام میں شعور آ چکا ہے کہ کون دعوے کرتا ہے اورکون باتیں۔ لیکن ایک عوامی عہدے پر رہنے والے کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ تقریر اور خطاب کرتے ہوٸے کن الفاظ کا چناٶ کر رہا ہے۔ حال ہی میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے جس طرح کراچی میں رہنے والوں کو پان کھانے پر طنز کا نشانہ بنایا اس سے اردو بولنے والوں کی  دل آزاری ہوئی   اور جواباً سماجی سائٹ پر  جو رد عمل سامنے آیا ہے اس نے مزید لسانیت پرستی  کو ہوا دی ہے  خیر سوشل میڈیا  پر آئے طوفان کو تو نہیں روکا جا سکتا کیونکہ   وہاں پر کچھ ایسے لوگوں کی بادشاہی ہے جن کا کام ہی  متضاد خبروں کو پھیلا کر نفر ت کی فضا بنانا ہوتا ہے لیکن شہباز شریف کا بطور  عوامی نمایندہ   ایسے بیان دینا بھی شرمناک ہے جس سے عوام کا دل دکھے اور ایک ثقافت کو نشانہ بنایا جائے۔

اردو ہماری قومی زبان ہے  اس کی عزت میں بطور قوم ہماری عزت ہے یہ زبان پاکستان میں عوامی رابطے کا ذریعہ ہے اس کا مذاق بنا کر کرانچی کہنا کسی طور درست نہیں ، اس طرح کے الفاظ ادا کرنے والے صرف اپنی عزت میں کمی اور  لسانی( مہاجر (اردو بولنے والے)پنجابی ، سندھی ، سرائیکی ،بلوچی، پختون وغیرہ ) فساد پھیلانے کے آلہ کار  بن جاتے ہیں۔

سیاست دانوں کو مخالفین پر تنقید کرتے ہوٸے بھی الفاظ کا چناٶ تحمل اور تہذیب کے داٸرے میں رہ کرکرنا چاہیے کیونکہ ایسےہی تو کارکنوں کی تربیت ہوتی ہے۔ اگر لیڈر ہی “اوٸے نواز شریف”، “چور” “ڈاکو” کہہ کر مخاطب کرے گا تو جناب کسی پر کیچڑ اچھالیں  گے تو صاحب چھینٹے اپنے دامن پر بھی آ ہی جا تی ہیں۔  ایسی ہی کچھ صورتحال کا سامنا عمران خان کو کرنا پڑ رہا ہے  جب سے انہوں نے بابا فرید کے دربار پر حاضری دیتے ہوئے چوکھٹ کو بوسہ دیا ہے تو سوشل میڈیا کے بے لگام گھوڑے عمران خان کے پیچھے پڑ گٸے ہیں۔

تنقید ضرور کریں لیکن تنقید کا مقصد اصلاح اور معاشرے کی ترقی ہو تو وہ تنقید اچھی ہے لیکن کسی کو کافر قرار دے دینا کسی طور درست نہیں۔ عمران خان کے چوکھٹ پر جھک کر بوسہ دینا غلط ہےکیونکہ   اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کسی کے آگے جھکنا  نہیں چاہیے لیکن اگر یہ بوسہ دینا صرف عقدت اور احترام تھا  تو  یہ شرک ہوا یا نہیں یہ خدا اور عمران خان کا معاملہ ہے، نیتوں کا حال اللہ جانتا ہے۔  اس پر ہم یا آپ کون ہوتے ہیں  کسی کو کافر یا بد عقیدہ کہنے والے؟

سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کرنے والے تو کچھ پوسٹ ڈال  کر اور اپنے دل کا غبار نکال کر آرام سے سو جائیں گے لیکن اس کا اثر معاشرے  اور خا ص طور پر جس کے کیخلاف بولا جاتا اس پر کیا ہوگا ؟ اس شخص کی جان کو  کس قدر کے خطرے میں ڈالا جاتاہے؟ پھر ممتاز قادری کی طرح کوئی جذبات کی رو میں بہہ کر اس  عوامی نمایندے  پر حملہ آور ہوتاہے پھر ایک نئی بحث شروع ہو جاتی ہے کہ کون ٹھیک کون غلط؟

ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہاں اس حد تک عدم برادشت کی فضا بن چکی ہے کہ ہم اپنے سامنے کسی دوسرے کی بات  نہ سننا چاہتے ہیں نہ  اختلاف رائے کا احترام کرتے ہیں  اگر کوئی ہمارے نظریات یا عقائد سے مختلف ہے تو اس کو غدار یا کافر ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ ہر شخص  کا اپنا نظریہ ہوتا ہے کسی کے لیے جمہورت اچھی تو کسی کے لیے بادشاہت۔ ہر کسی کو اپنی رائے رکھنے کا آئینی حق حاصل ہے اور اپنی راٸے کا اظہار ووٹ دے کر کریں، کسی کی کردار کشی اور نفرت انگیزی سے نہیں ۔ تاکہ جب آپ کا منتخب نمایندہ آٸے تو اس سے سوال کرنے کا آپ حق رکھتے ہوں اور جواب دینا اس کا فرض ہو۔  پڑھے لکھےاور باشعور لوگوں پر ذمہ داری عاٸد ہوتی ہے کہ لسانی ، مذہبی  اور سیاسی  بنیاد پر ایسے گھناؤنے پروپیگنڈو ں کا شکار نہ  ہوں۔ اگر با شعور عوام بھی نفرت انگیزی کا حصہ بنیں گے تو صرف نفرت کی کھیتی اُگے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

آفرین خلیق کی دیگر تحریریں
آفرین خلیق کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں