دُنیائے موسیقی کا پرنس…. رُخصت ہوا


khurram suhailوہ موسیقی جس کی مقبولیت کا سفر کئی دہائیوں پر مبنی ہو، جس سے کئی نسلیں متاثر رہی ہوں، وہ عظیم موسیقی کہلاتی ہے۔ مغرب میں تخلیق ہونے والی پوپ موسیقی میں بھی ایسے کئی گوہرنایاب پیدا ہوئے، جنہوں نے زندگی کے ترنم سے بھرپورموسیقی ترتیب دی، جس کو سماعت کرکے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگیں، رونگٹے کھڑے ہوجائیں، دھڑکنوں کی رفتار تیز تراور جذبات کے والہانہ انداز کی پیشکش بن جائے، ایسی شاندار موسیقی تخلیق کرنے والے انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں، ان میں سرفہرست مائیکل جیکسن، میڈونااورروجرزنیلسن جیسے گلوکاررہے ہیں، جن کے فن کی ایک دنیا معترف ہے۔ ان دنوں پوپ موسیقی کے عالمی منظر نامے پر اداسی طاری ہے، جس کی وجہ امریکی گلوکار” روجرزنیلسن “عرف” پرنس“ کے بچھڑ نے کاغم ہے۔

پرنس کا شمار ایسے فنکاروں میں ہوتا ہے، جو پیدا ہی اپنے فن کو پیش کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ 1978 کو 18 برس کی عمر میں پرنس اپنی پہلی البم”فوریو“ریلیز کرچکا تھا، پھر یکے بعددیگرے نت نئے گیت تخلیق کیے، البم ریلیز کیں، ان کے ویڈیوز بنائے اوردیکھتے ہی دیکھتے وہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گیا۔ اپنی آواز کی توانائی سے خود کو دنیا کے ہر کونے تک پہنچا دیا۔ موسیقی میں نت نئے تجربات نے اسے مزید کامیابیوں سے نوازا، اس نے خود کو کسی ایک میڈیم تک محدود نہ رکھا، کبھی وہ اپنے گیت خود لکھتا، ان کی دھنیں بناتا، تو کبھی ان کی ریکارڈنگز کے نت نئے طریقے نکالتا، پھر بھی اس کی تشفی نہ ہوتی، تو وہ فلم بنانے نکل کھڑا ہوتا، اداکاری کرتا اور یہی نہیں، ان سب سے مشکل راہ، وہ محبت کی کٹھن راہوں پر جا نکلتا۔

pپرنس کی زندگی ایک متحرک سرگرمی بن کر بسر ہوئی، وہ ایک بھی لمحے کے لیے تھما نہیں، موسموں اورسانسوں کی طرح ایک سے دوسرے میڈیم میں آتا جاتا رہا۔ زندگی کی بے قراری ہی اس کے فن کی عکاس بنی۔ یہی وجہ تھی، کسی گمنام منزل کی تلاش اوربے نام درد کو مٹانے کی خاطر تسکین پہنچانے والی دوائیوں کے زیراثربھی آ گیا، مغربی میڈیا کا خیال ہے، وہی سکون بخش دوائیں جان لیوا ثابت ہوئیں اوروہ موت کے منہ میں چلا گیا۔ پوپ موسیقی کے مداحوں کے لیے اس کا جانا ایک ناقابل یقین واقعہ ہے، کیونکہ وہ اپنے ہونے کا احساس دلائے رہتا تھا، اتنے دنوں سے خاموشی ہے، گٹارکی کسی دھن پروہ آواز نہیں گونجی، کوئی اس خاموشی کو
تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، مگریہ اٹل حقیقت ہے، پرنس کا  گٹار اب خاموش ہو گیا ہے ہمیشہ کے لیے ۔

پرنس نے 70 اور 80 کی دہائی میں دنیا پر راج پر کیا۔ میوزک کیرئیر میں تقریباً 40 اسٹوڈیو البم کے علاوہ فلموں اورٹیلی وژن کے لیے بھی موسیقی تخلیق کی اوراپنی آواز کا جادو جگایا۔ اس کے جتنے بھی گیتوں نے مقبولیت کی بلندیوں کوچھویا، وہ زیادہ تر اس کے اپنے لکھے اور گائے ہوئے تھے، جن میں ”پرپل رین“اور”وین ڈووز“ سرفہرست ہیں، کیونکہ ان کی وجہ سے اس کو عالمگیر شہرت ملی۔ عالمی موسیقی کی دنیا میں ایک مرتبہ بھی گریمی ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکارخود کوخوش نصیب سمجھتے ہیں، مگر اس خوش قسمتی نے پرنس کے 7مرتبہ قدم چومے۔ اس کے گیت اورفلم”پرپل رین“کوبہترین کوشش کا آسکرایوارڈ بھی دیا گیا۔ پرنس کا شمار پوپ موسیقی کے ان گلوکاروں میں ہوتا ہے، جن کے مختلف البم فروخت ہونے کی تعداد 10کروڑ سے بھی زیادہ ہے۔ 2015 کودسمبر کے مہینے میں اس کاآخری البم”ہٹ اینڈ رن، فیزٹو“ریلیز ہوا، جس کے لیے وہ دنیا بھر کے دورے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

d

اس کے خیالات میں بے قراری اوررومان تھا، جس کااظہار اس کے لکھے ہوئے گیتوں کی شاعری میں ہوتاہے۔ اس کی میوزک البم کے عنوانات کو بین السطورمیں اس کی زندگی کا پیش نامہ کہاجاسکتاہے۔ وہ اپنے احساسات کسی کے سپرد کرنے کی کیفیت میں جب پہلی البم تخلیق کرتاہے، تواس کاعنوان”تمہارے لیے“رکھتاہے، اس کے بعد وہ اپنی ذات کی تلاش اورخوابوں کے تعاقب میں جاتاہے، تواپنی دوسری البم کانام”پرنس “رکھتاہے۔ اس کے بعدوہ کیفیات کی رومیں بہہ نکلتاہے، کہیں اس کی تخلیق ”گندے ذہن “سے ”تنازعہ“تک آجاتی ہے، توکہیں وہ ”جامنی بارش“میں نہاتاہے۔

پرنس انہی کیفیات میں سے ہوتا ہوا کبھی دنیا گھوما، کبھی خوش ہوا، کبھی اداس اور کبھی فخر کے احساس میں شرابور ہوا۔ محبت، شہوت، دیوانگی، حرمت، سچائی، آزادی اوردیگر محسوسات کو اپنی تخلیقات میں ڈھالتا رہا۔ اپنے ہم عصروں میں مائیکل جیکسن اور میڈونا سے پیشہ ورانہ مقابلہ ہونے کے باوجود ایک قربت تھی، پرنس نے سب سے زیادہ جو دولت کمائی، وہ محبت کی تھی۔ وہ چلا گیا، اس کی یاد میں امریکی وائٹ ہاﺅس کی عمارت اورمشہور زمانہ نیاگرا آبشار، پیرس کے ایفل ٹاورسمیت 13115508_10153394534286268_1755680988_nکئی معروف عمارتوں کو جامنی رنگ میں رنگا گیا، اس کوخراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ۔

دنیا میں جب بھی محبت کرنے والے ”پرپل رین“کی دھن پر می رقصم کی کیفیت میں مدہوش ہوا کریں گے، تودل کے جذبات کا رنگ بھی پرپل ہوجایا کرے گا، یہ ایک اورطرح کی کیفیت کو پیش کرنے والا رنگ بن جائے گا، جس کا حوالہ پرنس بنے گا۔ ایسے فنکار بہت عظیم ہوتے ہیں، جن کی تخلیق دلوں کے دھڑکنے کا سبب بنے، جن کے بجائے ہوئے ساز سماعتوں کوسیراب کریں اورجن کی شاعری خاموش جذبوں کو زباں دے۔ پرنس اپنے عہد کا ایک ہی شہزادہ تھا، جس نے دنیائے پورپ پر اپنی شاندار موسیقی سے راج کیا، اس کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “دُنیائے موسیقی کا پرنس…. رُخصت ہوا

  • 05-05-2016 at 9:38 am
    Permalink

    Good piece

Comments are closed.