سوال اٹھانا نری گمراہی ہے (PART 2)


lubns mirza 1

“امی آپ کو پتا ہے کہ امریکی لیجسلیچر میں ‌کتنی کم خواتین ہیں؟” میری بیٹی نے کہا۔ اسی لئیے تو میں ‌کہتی ہوں ‌کہ آپ سپریم کورٹ جسٹس بن جائیں! اس سے بحث میں ‌کوئی نہیں‌ جیت سکتا اور اس خوبی کو مفید طریقے سے استعمال کرنا چاہئیے۔ میرے خیال میں‌ وہ اگر قانون دان بنے گی تو کوئی کیس نہیں ‌ہارے گی۔ لیکن مجھے ڈاکٹر بننا ہے اس نے کہا۔ بیٹا دیسی والدین یہی چاہتے ہیں‌ کہ ان کے بچے ڈاکٹر بن جائیں۔ میرے خیال میں‌ صرف ان بچوں‌ کو ڈاکٹر بننا چاہئیے جن کو میڈیسن میں‌دلچسپی ہو۔ باقی شعبے بھی اہم ہیں۔ اس لئیے ہماری طرف سے کوئی ایسا دباؤ نہیں‌ ہے اس لئیے جو دل چاہے پڑھ لو . ایک امریکی بچے کے لئیے یہ دنیا کھلا آسمان ہے جس میں ‌وہ ترقی کر سکتے ہیں۔ ہمارے لئیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے پیروں ‌پر کھڑے ہوں ‌اور معاشرے کے مفید رکن بنیں۔

میرے بڑے ماموں‌ محمد حسیب صدیقی پہلے پاکستانی‌ ہیں‌ جنہوں ‌نے انگلش میں‌ پی ایچ ڈی کی تھی۔ جب ہم چھوٹے بچے تھے تو میں‌ نے ان سے سوال کیا کہ وہ پاکستان جا کر کیوں ‌نہیں ‌پڑھاتے تو انہوں‌نے مجھ سے کہا تھا کہ جس طرح‌ یہاں‌ یونیورسٹی میں‌ ڈسکشن اور پڑھائی ہوتی ہے ویسے آپ وہاں ‌نہیں‌ پڑھا سکتے۔ اس وقت مجھے ان کی یہ بات سمجھ میں‌ نہیں‌ آئی تھی۔

جن ٹیچرز کے پڑھانے کی وجہ سے ہم لوگ آج یہاں‌ تک پہنچ پائے ان کے تہ دل سے شکر گزار ہوں۔ اس پیپر کا مقصد استادوں‌ کی تذلیل نہیں‌ بلکہ تعمیری تنقید کے ساتھ سب کو اوپر اٹھانا ہے۔

تعلیم کا طریقہ جس طرح‌ سے مختلف ہے وہ مجھے خود ان دونوں‌ نظاموں‌ سے گذرنے کے بعد ہی معلوم ہوا۔ وہاں‌ پاکستان میں‌ ہم انسائکلوپیڈیا کی طرح‌ پڑھتے تھے وہ بھی پہلے سے کسی کا لکھا ہوا۔ ایک مرتبہ میں‌نے اردو کی تاریخ پر پوسٹر بنایا لیکن وہ ٹیچر نے ہٹا دیا کہ یہ آؤٹ آف کورس ہے۔ یہاں‌ پر ہم نے خود پوسٹر بنائے، کیس رپورٹ لکھیں، ریسرچ کرنا سیکھا، اسٹڈی پروٹوکول بنانا سیکھا ایسے سوالوں‌پر جن کے جواب اس سے پہلے کسی نے نہیں‌ معلوم کئیے تھے۔ جو سوال کرنے کی اور تحقیق کرنے کی اور کچھ نیا تخلیق کرنے کی صلاحیت ہے وہ ہی امریکہ کی مضبوطی ہے۔ خالی ہوا میں‌ سے چیزیں‌ کیسے بنائیں، ایسی جکہ سے راستہ نکال لیں‌ جہاں‌ سے نہ کوئی گذرا اور نہ وہ پہلے موجود تھا یہ میں‌ نے ہارورڈ میں‌ ٹریننگ سے سیکھا۔

حکیم محمد سعید ایک رسالہ نکالتے تھے جس کا نام تھا نونہال۔ اس میں‌ ایک قول چھپا تھا جو مجھے آج بھی یاد ہے۔ “وقت روئی کے گالوں کی طرح‌ ہے، علم و حکمت کے چرخے میں‌ کات کر اس کا قیمتی لباس بنا لو ورنہ جہالت کی آندھیاں‌اسے اٹھا کر کہیں‌ کا کہیں‌ پھینک دیں‌گی۔ “

2اکثر لوگ مجھ سے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ کیا ان کو اپنے بچوں کو پاکستان میڈیکل کالج پڑھنے کے لئیے بھیجنا چاہئیے؟

آج کا پیپر اس لئیے لکھا گیا ہے تاکہ اس موضوع کے بارے میں لوگوں کی سمجھ میں اضافہ ہو۔ یہ دھیان رہے کہ یہ معلومات ذاتی تجربے اور مشاہدے پر مبنی ہیں اور کچھ جواب دس سال پرانے بھی ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ یہ اصول تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ اس بلاگ میں دی گئی معلومات پر تکیہ کرنے کی بجائے آپ مزید تحقیق جاری رکھیں۔ یہ معلومات ملکوں کے تمام میڈیکل کالجوں، اسکولوں اور ہسپتالوں پر لاگو نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کا مقصد کسی کی ہمت کم کرنا ہے۔ریسرچ سے یہ بات سامنے آچکی ہے کہ انٹرنیشنل میڈیکل گریجوئیٹ ٹیسٹ میں اچھے سکور لیتے ہیں اور ان کے زیر علاج مریضوں کی صحت اور بہتری ان مریضوں سے زیادہ مختلف نہیں ہوتی جو ان ڈاکٹروں کے زیر علاج ہوں جنہوں نے امریکہ میں میڈیکل کالج سے پڑھائی کی

لیکن یہ یاد رہے کہ اس اسٹڈی میں صرف دل کی بیماری کے مریضوں کے ہسپتال کے علاج کے نتائج کا موازنہ کیا گیا ہے جن کے لئیے زیادہ تر ہسپتالوں میں اسٹینڈنگ آرڈر سیٹ ہوتے ہیں یعنی سب کو ایک ہی طریقے سے ٹریٹ کیا جاتا ہے۔

کہتے ہیں‌ کہ درخت میں‌ جتنا پھل ہو وہ اتنا ہی جھک جاتا ہے شائد یہی وجہ ہے کہ ہمارے مغربی استاد زیادہ تر اکڑو اور بدتمیز نہیں‌ تھے اور ان سے برابری کے لیول پر ڈسکشن ہوتی تھی۔ میری ایک دوست کراچی کے میڈیکل کالج سے پڑھی ہوئی تھی۔ اس کو سرجری میں‌ بہت دلچسپی تھی۔ کہنے لگی ایک مرتبہ ہم لوگ سرجری کی تیاری کررہے تھے تو میں‌ سنک پر ہاتھ دھونے گئی۔ میرے برابر ایک صاحب کھڑے تھے اور صابن ان کی طرف تھا۔ میں‌ نے ان سے کہا کہ صابن دے دیجئیے گا۔ یہ سن کر وہ میرے اوپر بری طرح‌ چلانے لگے۔ میں‌ پریشان ہوگئی کہ کہیں‌ یہ آدمی پاگل تو نہیں‌ ہے۔ پھر دوسرے لوگ لپک کر آگئے اور مجھے دور لے جا کر بتایا کہ یہ 16756757311_62d305b5d1_k_resizedکوئی بڑے سرجن ہیں۔

جب میں‌ لندن گئی تھی ہارورڈ کی کانفرنس میں‌ تو وہاں‌ ایسے پروفیسر تھے جن کے نام پر سٹسٹکس کے فارمولوں‌ کے نام ہیں یعنی کہ انہوں‌ نے وہ ایجاد کئیے۔ کمپیوٹرز کی مدد سے اتنے زیادہ نمبروں‌ کو کیلکولیٹ کیا جاسکتا ہے جو صرف پچیس سال پہلے تک کوئی نہیں‌ کرسکتا تھا۔ دنیا مستقل بدل رہی ہے۔ نئی طرح‌ کی جاب ہیں‌ جو پہلے ہوتی بھی نہیں‌ تھیں۔

بہرحال ایک پروفیسر اپنے ریسرچ پروٹوکول پر لیکچر دے رہے تھے جس میں‌ وہ لوگ بلڈ پریشر کی دواؤں‌ کا ایک دوسرے سے موازنہ کریں‌ گے۔ ایک دوا “رینن بلاکر” ہے۔ رینن ایک ہارمون ہوتا ہے جو گردوں‌سے نکلتا ہے اور ایڈرینل غدود پر اثر ڈالتا ہے جہاں سے الڈوسٹیرون بنتا ہے جو خون کی نالیوں‌ میں‌ بلڈ پریشر بڑھا دیتا ہے۔ کچھ لوگوں‌ میں‌ ایڈرینل غدود میں‌ ٹیومر بن جاتا ہے جس میں‌ سے مستقل الڈوسٹیرون بنتا رہتا ہے اور اس کے جواب میں‌ گردے رینن نہیں‌ بناتے۔ ڈاکٹر کیم فیلوشپ میں‌میرے مینٹور تھے جنہوں‌ نے پرائمری ہائپر الڈوسٹیرون میں‌ کافی ریسرچ کی ہوئی تھی اور انہوں‌ نے کیپٹو پرل ٹیسٹ اور سیلین انفیوژن ٹیسٹ بھی ایجاد کئیے تھے جو ساری دنیا میں‌ اس بیماری کو تشخیص کرنے کے لئیے گولڈ اسٹینڈرڈ سمجھے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر کیم کے مینٹور ڈاکٹر کان تھے جنہوں‌ نے کان سنڈروم بیان کیا تھا۔ وہ میڈیکل اسٹوڈنٹس کو معلوم ہوگا کہ کیا ہے۔

میں‌ نے ہاتھ کھڑا کیا اور ہارورڈ پروفیسر سے کہا کہ آپ لوگ پرائمری الڈوسٹیرون یا کان سنڈروم کے مریض‌اپنی سٹڈی سے نکال دیں‌ کیونکہ ان میں‌ رینن ہوگا ہی نہیں‌ bigstock-Medical-students-listening-sit-80149121تو دوا سے کچھ اثر نہیں‌ پڑے گا۔

وہ پروفیسر اتنے ہمبل تھے کہ بولے اوہ ہم آپ کی طرح‌ ہوشیار نہیں‌ تھے اور اس بارے میں‌ تو ہم نے سوچا ہی نہیں تھا۔ ڈین بھی اگلی قطار میں‌ بیٹھے سن رہے تھے۔ شام میں‌ رائل کالج آف فزیشن اور سرجن میں‌ گالا ڈنر تھا وہاں ہارورڈ کے ڈین نے اپنی تقریر میں‌ اس بات کا زکر کیا کہ آپ کی کلاس نے پرائمری ہائپر الڈوسٹیرون کے بارے میں‌ بات کی۔ یہ سن کر میری ٹیم کے ممبر ہنسنے لگے کیونکہ وہ ہماری ٹیم کی تعریف جو ہو گئی۔

اس واقعے کے بارے میں‌ بات کرنے سے یہ میں ‌بتانا چاہتی ہوں‌ کہ آپ دیکھئیے کہ جو لوگ نئی دریافتیں‌ کرتے ہیں‌ وہ ہر کسی کو بات کرنے کا اور مشورہ دینے کا موقع دیتے ہیں۔ اور اس فیڈ بیک سے وہ اپنی اسٹڈی کو اور بہتر بناتے ہیں۔ دنیا میں‌ کچھ بھی عظیم کرنے کے لئیے ہمارا جھکنا ضروری ہے۔ اکڑ کے خود کو ہی سب کچھ سمجھنے سے کچھ بننے والا نہیں ہے۔

کئی لوگوں میں یہ تصور عام ہے یہاں تک کہ کافی سارے ڈاکٹر خود بھی یہ سمجھتے ہیں کہ چائنا، پاکستان، انڈیا یا کریبین آئی لینڈ میڈیکل اسکولوں میں بھیجنے سے فائدہ ہوگا اور وہ اپنے بچوں کے لئیےبھی ایسا کریں۔اس طرح ٹائم بچے گا اور پیسے بھی بچیں گے۔ امریکہ میں ہائی اسکول 12 سال کا ہوتا ہے، اس کے بعد 4 سال کا انڈر گریجویٹ کالج اور پھر چار سال کا میڈیکل کالج اور اس کے بعد تین سال کی ریزیڈنسی جس میں تنخواہ ملنا شروع ہوجاتی ہے۔ پاکستان میں 10 سال کا ہائی اسکول ہوتا ہے، اس کے بعد دو سال کا پری میڈ اور پھر پانچ سال کا میڈیکل کالج اور اس کے بعد ایک سال کی ہاؤس جاب۔ ہاؤس جاب کئیے بغیر بھی آپ امریکہ میں ریذیڈنسی کرسکتے ہیں۔ میڈیکل اسکول ختم کرنے کے بعد 3 امتحان پاس کرکے سرٹیفیکٹ ملتا ہے جس کو جمع کرا کے آپ ریزیڈنسی کے لئیے اپلائی کرسکتے ہیں۔ ریزیڈنسی میڈیکل ڈاکٹرز کی سینئر ڈاکٹرز کی زیر نگرانی تربیت کو کہتے ہیں۔ یہ عموما” 3 سال کی ہوتی ہے۔ یہ تربیت تمام ڈاکٹروں کے لئیے لازمی ہے چاہے انہوں نے کہیں international-internships.-volunteer-abroad.-intern-abroad-Latin-America-Ecuador-137-Zofia-medical-internshipsسے بھی تعلیم حاصل کی ہو۔

اگر سیب کو سیب کے برابر تولا جائے اور سب کچھ پلان کے مطابق چلے تو امریکہ کے مقابلے میں پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر کے آپ 3 سال بچاسکتے ہیں۔ اور پیسے بھی یقینا” بچاسکتے ہوں گے کیونکہ یہاں پڑھائی کافی مہنگی ہے۔ لیکن یہ سب کچھ اتنا سادہ نہیں ہے جیسے باہر سے دکھائی دیتا ہے۔ یہ ضرور دیکھنا چاہئیے کہ یہ 3 سال بچا کر کیا کھویا جا رہا ہے اور یہ بھی کہ ان 3 سال کی لانگ ٹرم میں کیا قیمت ادا کی گئی ہے۔

امریکہ میں میڈیکل کی تعلیم نہایت مہنگی ہونے کی وجہ سے ہی یہاں کے ایک تہائی ڈاکٹر باہر کے ملکوں سے لئیے جاتے ہیں اور یہ ایک لمبا اور پیچیدہ پروسس ہے۔ اگر آپ انڈیا یا پاکستان کے شہری ہیں اور وہاں سے میڈیکل کیا ہے تو وہ دوسری بات ہے۔اگر کوئی بھی امریکی شہری نہیں ہے یا اس کے پاس گرین کارڈ نہیں ہے تو ان کو امریکہ کے میڈیکل کالج میں داخلہ ملنا نہایت مشکل بلکہ ناممکن کے قریب ہے۔

اگر آپ امریکہ میں ہیں اور آپ کے بچے پڑھائی میں اچھے ہیں اور وہ اسکالرشپ حاصل کرسکتے ہیں تو بہتر ہے کہ انہیں امریکہ میں ہی پڑھایا جائے۔ اگر پڑھائی افورڈ کرنے کا مسئلہ ہو تو ظاہر ہے کہ جہاں سے بھی تعلیم حاصل کرسکیں کرلیں لیکن اگر پیسے مسئلہ نہیں ہیں تو یہ سو درجے بہترہے کہ اپنے بچوں کو امریکہ میں پڑھائیں۔ یہ ہر بچے کے اپنے رجحان پر منحصر ہے کہ وہ کس شعبے میں مہارت حاصل کرسکتے ہیں۔ انسان کو وہی شعبہ اپنے لئیے چننا چاہئیے جس میں اس کی دلچسپی ہو اور جس میں وہ خوشی محسوس کرے۔

امریکہ کے ہائی اسکول اور پاکستان کے ہائی اسکول میں کافی فرق ہے۔ وہ تو مجھے اس وقت اندازہ ہوگیا تھا جب میری چھوٹی بہن نے کہا کہ ہوم ورک میں مدد کریں۔ وہ آٹھویں میں تھی اور میں میڈیکل کالج میں دوسرے سال میں۔ اگر میں نے فزیالوجی کی کتاب میں ڈی این اے کا اسٹرکچر نہ پڑھا ہوتا تو میں اپنی آٹھویں کی اسٹوڈنٹ بہن کی مدد نہیں کرسکتی تھی۔

people_students-in-lab-with-teacher_landscape.jpg__750x300_q85_crop_subsampling-2_upscaleمیرا بیٹا دسویں ‌کلاس میں ‌ہے۔ وہ ایڈوانس بائیولوجی کا ایک کورس کررہا ہے۔ مجھے اس کے ساتھ پڑھنا اچھا لگتا ہے کیونکہ بہت پرانی پڑھی ہوئی چیزیں دہرانے کا موقع ملتا ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ جینوم وائڈ اسوسی ایشن اسٹڈی اور ایوولیوشن کی پیچیدہ بائیولوجی یہ بچے اتنی جلدی پڑھ رہے ہیں۔ یہ لوگ خوش قسمت ہیں ‌کیونکہ ہمارے زمانے میں ‌یہ معلومات ابھی تک انسانوں ‌نے حاصل کی ہی نہیں‌ تھیں۔

انڈر گریڈ ایجوکیشن ٹائم کا زیاں نہیں ہے۔ بیچلر یا ماسٹرز کی ڈگری لینے کے لئیے تھیسس لکھنی ہوتی ہے ایک کامیاب تھیسس لکھ کر پروفیسرز کے سامنے اس کا دفاع کرتے ہیں اس کے بعد ہی ان کو پاس کیا جاتا ہے۔ تھیسس ایک ریسرچ پراجیکٹ ہے جو کہ خود ایک نہایت اہم تجربہ ہے۔ اس تجربے کی بنیاد پر ہی آگے چل کرآپ ذیادہ اہم اور بڑی ریسرچ کرنے کے لائق بنتے ہیں جس سے دنیا کو بدلا جاتاہے۔

جب پاکستان کے میڈیکل کالج میں اسٹوڈنٹس پہلے دو سال میں اناٹومی اور فزیالوجی پڑھ رہے ہوتے ہیں، امریکہ کے اسٹوڈنٹس تمام مضامین پڑھ کر ختم کرچکے ہوتے ہیں۔ اناٹومی پر انہوں نے صرف 3 مہینے صرف کئیے وہ اس لئیے کہ بنیادی انسانی اناٹومی اور فزیالوجی تو وہ چار سال کے انڈر گریڈ کالج میں پڑھ چکے ہیں جس کو کچھ لوگ غیر اہم سمجھ رہے ہیں۔ اگر آپ کلاس روم میں بیٹھیں تو بھی آپ کو فرق پتا چل جائے گا، ایک طرف انسائکلوپیڈیا کی طرح ساری ہڈیوں اور پٹھوں کے نام یاد کرائے جارہے ہیں تو دوسری طرف یہ سکھایا جاتا ہے کہ چوٹ سے کیا نقص پیدا ہوگیا، اس میں کون سے اسٹرکچر شامل تھے اور اس کو کیسے ٹھیک کیا جائے۔ اس کو اپلائڈ اناٹومی کہتے ہیں یعنی کہ معلومات کو اصلی زندگی پر کیسے لاگو کیا جائے۔ یہ فرق شائد چھوٹا سا معلوم ہو لیکن اگر ایک ٹیچر آپ کو گاڑی کے 6 ہزار پرزوں کے نام یاد کرا رہا ہے تو میرے خیال میں دوسرا ٹیچر چننا چاہئیے جو یہ بتائے کہ گاڑی کیسے چلتی ہے، اس کو روڈ کے اصولوں کے تحت درست طریقے سے کیسے چلایا جائےاور اگر اس میں خرابی ہو تو اس کو کیسے تلاش اور ٹھیک کریں۔ جب پاکستانی میڈیکل اسٹوڈنٹس پہلی کلاس میں پہنچتے ہیں تو ان کو میڈیکل کی زبان نہیں آتی، اس کو وہ آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ سیکھتے ہیں۔ جبکہ پری میڈ میں امریکہ میں ایک الگ سبجیکٹ ہے جس میں صرف میڈیکل کی زبان سکھائی جاتی ہے۔اس کو میڈیکل ٹرمینالوجی کہتے ہیں۔ جیسے کہ میا- ایم آئی اے، میا جس لفظ کے آخر میں آئے اس لفظ کا تعلق خون سے ہے جیسے کہ انیمیا یعنی کہ خون کی کمی اور پولی سائتھیمیا یعنی کہ خون کے سرخ جسیموں کی زیادتی۔ اوما، او ایم اے، اوما جس لفظ کے آخر میں آئے اس کا تعلق ٹیومر سے ہے جیسے کہ کارسینوما اور ٹیراٹوما وغیرہ۔

پل کے نیچے سے کافی پانی بہہ چکا ہے۔ ایک دن کیا ایک لمحہ بھی ہم پیچھے نہیں‌ لے جا سکتے ہیں۔ وقت کے ساتھ چلنا ضروری ہے۔ اس لئیے بت گرانے ہوں‌گے۔

نیوی گیشن سسٹم کو بھی وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل اور اپ ڈیٹ کرنا ہوتا ہے کیونکہ دنیا کا نقشہ تو بدلتا رہتا ہے اگر اس میں پرانا نقشہ لے کر چلیں گے تو آج کی دنیا میں کہیں پر پل بن گئے ہیں اور کہیں دیواریں۔ کہیں دیوار میں جا کر ٹکر لگے گی اور کہیں ہم بلاوجہ دریا تیر کر پار کر رہے ہوں گے۔

تبدیلی کی سطوحات 5 ہیں۔

پہلی سطح وہ ہے جہاں لوگوں کو یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ کوئی پرابلم موجود بھی ہے۔ دوسری سطح وہ ہوتی ہے جس میں ان کو معلوم تو ہوچکا ہوتا ہے کہ ایک مسئلہ موجود ہے لیکن انہوں نے ابھی اس پر کوئی عمل شروع نہیں کیا ہے۔ تیسری سطح وہ ہے جس میں تبدیلی کی تیاری کی جاتی ہے۔ چوتھی سطح تبدیلی لانے کی ہے اور پانچویں سطح اس بدلے ہوئے روئیے کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔ اگر سوچا جائے تو پہلی کی طرح پانچویں سطح بھی ایک مشکل کام ہے۔لیکن چینی کہاوت کے مطابق ایک ہزار میل کا سفر بھی ایک قدم سے ہی شروع ہوتا ہے۔

Group of doctors at the hospital and smiling

Stages of Change

Precontemplation

Contemplation

Preparation

Action

Maintenance

پاکستان میں میڈیکل کالج میں تیسرے سال سے پانچویں سال تک روزانہ تقریباً دو گھنٹے کی ہسپتال میں کلاس ہوتی ہے جس میں مریض کی ہسٹری اور اس کا طبی امتحان اور تشخیص اور علاج سکھایا جاتا ہے۔ وہاں پانچویں سال تک اسٹوڈنٹس میڈیسن، سرجری، گائنی اور پیڈیاٹرکس پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ امریکہ میں میڈیکل کالج کے دو سال میں یہ سب کچھ ختم کیا جاچکا ہے بلکہ اس سے زیادہ پڑھ لیا گیا ہے۔ ایسے سبجیکٹس بھی جو پاکستان میں سرے سے موجود ہی نہیں تھے آج سے دس پندرہ سال تک جیسے کہ بایو اسٹیٹ، ایپی ڈیمیالوجی، بنیادی میڈیکل ریسرچ جو کہ کلینیکل ریسرچ سے مختلف ہےاور جینیٹکس کی تعلیم جوکہ پاکستان میں بلکل بنیادی سطوحات پر ہے۔تیسرے اور چوتھے سال میں امریکی اسٹوڈنٹس میڈیکل کی مختلف فیلڈز میں کام کرتے ہیں۔ ہر روٹیشن 4 ہفتے کی ہوتی ہے۔ کچھ لازمی اور کچھ وہ اپنی پسند کی چن سکتے ہیں۔ ان چار ہفتوں میں یہ اسٹوڈنٹس دن میں دو گھنٹے نہیں بلکہ دن رات صرف کرتے ہیں۔ کم از کم 40 گھنٹے فی ہفتہ اور زیادہ سے زیادہ 80 گھنٹے فی ہفتہ۔ کچھ رات کی کالز بھی۔ جس دن یہ لوگ اپنی ریزیڈنسی شروع کرتے ہیں، اس وقت وہ گنتی زیرو سے نہیں بلکہ سو سے شروع کرتے ہیں۔ تمام طرح کے کلینک، ہسپتال، مشینیں، پروسیجر وہ سب دیکھ چکے ہوتے ہیں اور اب ان کی پریکٹس کرنے کا مرحلہ ہوتا ہے۔ جب وہ یو ایس ایم ایل ای کا امتحان دیتے ہیں تو پڑھائی 07ae6827d7c68a85b1d9e92c68fcb20eکے لئیے دو ہفتے ہی کافی ہوتے ہیں کیونکہ ان کی معلومات اتنی ہیں کہ امتحان زیادہ تر پہلی دفع میں پاس کرلیتے ہیں۔ کچھ انٹرنیشنل میڈیکل گریجوئیٹ کافی محنت کرکے جلدی جلدی اپنے امتحان دے دیتے ہیں لیکن عموماً زیادہ تر انٹرنیشنل میڈیکل گریجوئیٹ ایک ٹیسٹ لینے میں کم ازکم چھ مہینے کی تیاری کرتے ہیں کیونکہ وہ ان کے کالج کی پڑھائی سے نہ صرف مختلف طریقے کا ہوتا ہے، بلکہ کچھ مضامین تو انہوں نے پڑھے تک نہیں ہوتے۔ کافی ساری چیزیں ہیں جو انہوں نے سوالات کی پریکٹس سے یاد کی ہوتی ہیں اور ان کا مطلب یا ان کے پیچھے کا بیک گراؤنڈ وہ نہیں جانتے ہیں۔ بہت سارے لوگ یہ امتحان پاس نہیں کرپاتے۔ جن لوگوں کو بھی میں جانتی ہوں جو نہیں کرپائے وہ ہمیشہ اس بات کا افسوس کرتے ہیں اور یہ حسرت ہمیشہ ان کے دل میں ہوتی ہے کہ کاش اگر؟ اگر اے اور بی دونوں ایک ٹیسٹ پاس کربھی لیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ان دونوں کی نالج اور سمجھ ایک جیسی ہے۔ کافی سارے لوگ امتحان پاس کر کے ریزیڈنسی کے لئیے اپلائی تو کرتے ہیں لیکن مقابلہ اتنا سخت ہوگیا ہے کہ ہزار ایپلی کیشنوں میں سے ایک بندے کو انٹرویو کی کال ملتی ہے۔ ہمیں خود سیکریٹیریز نے بتایا کہ ہم ساری درخواستوں کو پڑھ تک نہیں سکتے وہ اتنی زیادہ ہیں۔ ہر کوئی 100 سے زیادہ جگہ اپلائی کرتا ہے اور مشکل سے کہیں سے انٹرویو کی کال آتی ہے۔ ایک انٹرنیشنل میڈیکل گریجویٹ جب اپنی ریزیڈنسی اسٹارٹ کرتا ہے تو وہ ایسے ہی ہے جیسے آپ ایک ریس میں ہوں اور جب سارے لوگ شروع کرچکے ہوں اور فنش لائن پر پہنچنے والے ہوں تو ہم بھاگنا شروع کریں۔ایسے شعبے جو زیادہ پاپولر ہوں جیسے کہ گائنی، ریڈیالوجی یا کارڈیالوجی تو ان شعبوں میں ریزیڈنسی ملنا ناممکن تو نہیں لیکن امریکی میڈیکل گریجوئیٹس کے نسبتاً مشکل ضرور ہے۔ تمام شعبوں کی تنخواہ مختلف ہے۔ کچھ کی سو ہزار تو کچھ کی ملین فی سال۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگلے 25 سے 35 سال کی پریکٹس میں کتنا فرق ہوگا۔

انٹرنیٹ کے زمانے میں‌ ڈاکٹر ہونا کافی مختلف ہے۔ ہم سے پہلی نسل کے امریکی ڈاکٹر زیادہ تر سفید فام لمبے آدمی ہوتے تھے جن کی گھر میں‌ رہنے والی بیویاں‌ہوتی تھیں جو ان کے بچے پالتی تھیں‌ اور ان کی چھٹیاں‌پلان کرتی تھیں۔ اب وقت کافی بدل گیا ہے۔ ہم اپنے مریضوں ‌سے ایسے بات نہیں‌ کرسکتے کہ جیسے خدا آسمان پر سے بیٹھ کر کہے کہ ایسے کرو اور اس لئیے کیونکہ میں‌ نے کہہ دیا۔ ہماری اب برابر کی گفتگو ہوتی ہے۔ ہمارے مریض ہر بیک گراؤنڈ کے ہوتے ہیں اور ان کو آسان کر کے انفارمیشن دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ ایک مشکل کام ہے کیونکہ اگر آپ کسی فیلڈ کے بارے میں‌ نہیں‌ جانتے تو اس کی پیچیدگی سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔ فائدہ یہ کہ ان کے مطالعے سے آپ کے علم میں‌ وہ چیزیں‌ بھی آسکتی ہیں‌ جو آپ کی نظر سے نہ گذری ہوں۔ ایک مرتبہ ایک خاتون نے آکر مجھے کہا کہ نائٹروگلسرین سے ہڈیوں‌ کے بھربھرے ہونے والی بیماری کا علاج ہوسکتا ہے۔ میں‌ نے پب میڈ میں‌ جا کر دیکھا تو واقعی اس موضوع پر ریسرچ ہوچکی تھی اور یہ ایک سچ بات تھی۔ ان کی وجہ سے مجھے خود نیا کچھ سیکھنے کا موقع مل گیا جس کے لئیے میں‌ نے ان کا شکریہ ادا کیا۔

99.34.21

پچھلے ہفتے ایک مریضہ آئیں۔ ان کو پیراتھائرائڈ کی بیماری کی وجہ سے بھیجا گیا تھا۔ انہوں‌نے مجھے بتایا کہ اس اپوائنٹمنٹ کا انتظار کرنے کے دوران انہوں‌ نے اس موضوع پر چار کتابیں‌ پڑھیں۔ اچھا مجھے بھی کچھ بتائیں‌کہ آپ نے کیا پڑھا۔ دو لائنوں‌ کے بعد مجھے پتا چل گیا کہ انہوں‌ نے صرف جملے یاد کئیے ہیں‌، ٹاپک کی گہرائی اور پیچیدگی کو نہیں‌ سمجھا ہے۔

کاش ہمارے بھی ایسے استاد ہوتے جنہوں‌نے یہ جاننے کی کوشش کی ہوتی کہ ہم نے صرف لائنیں‌ یاد کی ہیں‌یا موضوع کو سمجھا بھی ہے لیکن افسوس کہ ہمارے زیادہ تر ٹیچرز پاکستانی میڈیکل کالج میں ایسے نہیں‌تھے۔ معلوم نہیں‌ ایسا کیوں‌تھا حالانکہ ٹیچر ہونا ایک موقع ہے زندگی میں‌ جس سے فائدہ اٹھا کر آپ اپنی تعلیم اس مستقل بدلتی دنیا میں‌ وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ کرسکتے ہیں۔

 جو بچے امریکہ میں کالج جاتے ہیں، وہ امریکی لوگوں کو، یہاں کی تاریخ کو، معاشرے کو، ان کی نفسیات کو اور ان کے مسئلوں کو ان لوگو ں سے زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے اپنا وقت کہیں اور گزارا ہو۔ یہ مثال ہر جگہ کے لئیے برابر ہے، چاہے ہم انڈیا میں ہوں، چائنا میں، رشیا میں یا یورپ میں، جہاں بھی ہوں وہاں کی کامیابی کے لئیے اس جگہ اور اس کے لوگوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ کچھ لوگوں کے لئیے یہ زیادہ اہمیت کی بات نہ ہو کیونکہ وہ شائد یہی سوچتے ہوں کہ کام صرف اس بارے میں ہوتا ہے کہ آپ نوکری کریں، تنخواہ لیں اور گھر جا کر اپنی زندگی گزاریں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ ریزیڈنسی حاصل کرنے کے لئیے، ہسپتال کی نوکری یا اپنی جاب میں کامیابی کے لئیے ضروری ہے کہ جن لوگوں کے ساتھ اور جن کے لئیے آپ کام کررہے ہیں وہ آپ کو پسند کریں اور آپ کے مقابل دوسرے لوگوں پر آپ کو ترجیح دیں اور چنیں۔ جب درخواست یا انٹرویو کے بعد یہ جواب ملتا ہے کہ آپ کو نہیں چنا گیا تو یہ ایک تکلیف دہ لمحہ ہوتا ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی جگہ وقت گزارنے سے ہم آہستہ آہستہ وہاں کے لوگوں کے ساتھ ایک ماضی ڈیویلپ کرتے ہیں۔ جب کوئی مریض کہتا ہے کہ ہم ٹرنر فال میں تھے یا مجھے ہارٹ اٹیک ہوا جب اوکلاہوما سٹی میں بم دھماکہ ہوا تھا تو میں ان کی یہ یاد شئر کرسکتی ہوں کیونکہ ہم لوگ پچھلے 20 سال سے اوکلاہوما کے شہری ہیں۔

کسی بھی ملک میں‌ رہنے والوں‌کو اسی ملک کے سماج کے تانے بانے میں‌ سو فیصدی حصہ بٹانا ہوتا ہے ورنہ آپ سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی ڈھانچے میں‌ اجنبی کی حیثیت اختیار کریں ‌گے۔ میری ایک خاتون سے بات ہو رہی تھی جو خود کسی اور ملک کی ہیں‌ لیکن انہوں‌ نے افسوس سے کہا کہ عراق میں‌ فوجیوں‌ کو اتنے مہینوں‌سے تنخواہ نہیں‌ ملی ہے اور اپنے شہر میں‌ کیا ہورہا ہے وہ ان کو پتا نہیں۔

امریکہ میں پیدا ہوئے اور بڑے ہوئے بچوں کو بھی اکثر ان کے دیسی والدین ملک سے باہر بھیج دیتے ہیں پڑھنے کے لئیے۔ان میں سے کچھ والدین نے خود کبھی اسکول نہیں دیکھا اور کچھ خود ڈاکٹر بھی ہیں۔ کچھ بچے مکمل کرلیتے ہیں۔ ایک کو میں جانتی ہوں جس پر اس کے ماں باپ نے لاکھوں ڈالر خرچ کئے اور بچی وہاں نہ صرف سخت بیمار پڑ گئی بلکہ فیل بھی ہوئی، آخر وہ بیچ میں سے ہی واپس لے آئے اور وقت بچنے کے بجائے اور لمبا ہوگیا۔

ایک اور لڑکی تھی جس کے خوبصورت اور غیر ملکی ہونے کی وجہ سے وہ نمایاں ‌ہوگئی۔ اس کے پیچھے نہ صرف سارے کالج کے لڑکے یہاں تک کہ کالج کے پرنسپل تک اپنا رشتہ دینے کے لئیے تیار تھے، اس کو چوتھے سال میں چھوڑ کر آدھی رات میں ہاسٹل سے نکل کر ملک چھوڑنا پڑا کیونکہ کچھ تو دبئی تک جہاز میں اس کے پیچھے آتے تھے۔ اس نے معلوم نہیں ‌کہاں ‌سے میرا ای میل ڈھونڈا اور میسج کیا کہ پولیس سرٹیفکٹ چاہئیے۔ ان لوگوں‌ کا پاکستان میں‌ کوئی رہتا بھی نہیں ‌تھا۔ تو میں ‌نے اس کے لئیے اپنے روابط استعمال کر کے یہ سرٹیفکٹ منگوا دیا۔ وہ آج بھی کہتی ہے کہ میرا ڈاکٹر بننے کا خواب ادھورا رہ گیا۔ یعنی کسی کو پسند کرنے میں‌کوئی برائی نہیں لیکن لوگوں‌کو سمجھنا چاہئیے کہ آپ اس طرح اسٹوڈنٹس کو ہراساں ‌نہیں ‌کر سکتے۔ کیا اس طرح‌آپ دنیا کو ایک بہتر جگہ بنا رہے ہیں؟

بچوں‌ کو کہاں‌ پڑھنے بھیجیں‌ یہ فیصلہ تمام حقائق کو سامنے رکھ کر ہی کیا جائے تو بہتر ہے اور جواب انفرادی حالات پر مبنی ہے۔

میری کئی دوست ہیں‌ جنہوں‌ نے میڈیکل پڑھ کر نہ جاب کی اور نہ شادی۔ آپ لوگ مناسب رشتوں‌ کے انتظار میں‌ بیٹھے بیٹھے اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ ساری دنیا میں‌ خواتین کے لئیے کافی گرانٹس نکل آئی ہیں۔ امریکہ نکل جائیں‌، یورپ نکل جائیں۔ دنیا بہت بڑی ہے۔ وہ چار دیواروں‌ سے بہت آگے ہے۔ آپ ان گرانٹس کے لئیے اپلائی کریں‌، آگے پڑھیں اور اپنے پیروں‌ پر کھڑی ہوجائیں۔ اپنی زندگی اپنی مرضی سے خوشی سے جئیں۔

حکیم محمد سعید کے رسالے کی بات یاد رکھیں۔

“وقت روئی کے گالوں کی طرح ‌ہے، علم و حکمت کے چرخے میں‌ کات کر اس کا قیمتی لباس بنا لو ورنہ جہالت کی آندھیاں ‌اسے اٹھا کر کہیں‌ کا کہیں‌ پھینک دیں‌گی۔ “


Comments

FB Login Required - comments

7 thoughts on “سوال اٹھانا نری گمراہی ہے (PART 2)

  • 05-05-2016 at 5:54 am
    Permalink

    Very informative. Good post.

  • 05-05-2016 at 7:26 am
    Permalink

    If you can make this correction, It’s Habib Siddiqui (my mamoo). Haseeb Siddiqui was my nana. I may have miswrote. Thank you for publishing my papers and thank you for reading them. LM

  • 05-05-2016 at 8:01 am
    Permalink

    Very interesting and important i the sense that it contains the experience you have and you have obtained by thy self. I liked the part where you talked about the humbleness of doctors in west and the rude Beauvoir of majority of doctors in our region. I am seriously sad at their behavior with patients and other in society.

  • 05-05-2016 at 9:44 am
    Permalink

    “پل کے نیچے سے کافی پانی بہہ چکا ہے۔ ایک دن کیا ایک لمحہ بھی ہم پیچھے نہیں‌ لے جا سکتے ہیں۔ وقت کے ساتھ چلنا ضروری ہے۔ اس لئیے بت گرانے ہوں‌گے۔
    نیوی گیشن سسٹم کو بھی وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل اور اپ ڈیٹ کرنا ہوتا ہے کیونکہ دنیا کا نقشہ تو بدلتا رہتا ہے اگر اس میں پرانا نقشہ لے کر چلیں گے تو آج کی دنیا میں کہیں پر پل بن گئے ہیں اور کہیں دیواریں۔ کہیں دیوار میں جا کر ٹکر لگے گی اور کہیں ہم بلاوجہ دریا تیر کر پار کر رہے ہوں گے۔”

  • 05-05-2016 at 12:02 pm
    Permalink

    واہ ڈاکٹر صاحبہ کمال کی معلوماتی تحریر ہے۔۔بہت شکریہ

  • 05-05-2016 at 11:13 pm
    Permalink

    حکیم صاحب کا قول پڑھ کر یہ عربی مقولہ یاد آ گیا، رحم کرو اس شخص پر کہ جس کا سرمایہ برف کی مانند گھلا جا رہا ہے!

    واہ! کیا ہی عمدہ لکھا ڈاکٹر صاحبہ!
    ایسی تحاریر سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے، بہت نوازش!

  • 08-05-2016 at 9:51 pm
    Permalink

    بہت عمدہ ۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ڈاکٹر لبنیٰ کی ہر تحریر سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ۔ اس تحریر سے بھی کئی باتیں کلئیر ہوئیں اور خاصا کچھ سمجھنے ، سیکھنے کو ملا۔ بہت شکریہ ڈاکٹر صاحبہ۔ اللہ آپ کے لئے آسانیاں پیدا کرے۔ آمین۔

Comments are closed.