ایبٹ آباد میں سترہ سالہ لڑکی کو جرگے کے حکم پر جلایا گیا، ملزم گرفتار


\"abbotabad-1\"

ایبٹ آباد کے نواحی علاقہ مکول میں گاڑی میں زندہ جلائی جانے والی لڑکی عنبرین کے قتل میں ملوث دس ملزمان کو پولیس نے گرفتار کر لیا، عنبرین کو جرگہ نے زندہ جلانے کا حکم دیا تھا، سات روز بعد پولیس اندھے قتل کا سراغ لگانے میں کامیاب ہو گئی۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختو نخواہ پرویز خٹک اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی جانب سے لئے جانے والے نوٹسز کام آ گئے۔ وزیر اعظم نے بھی خبر پہ سخت نوٹس لیا تھا۔ سات روز بعد پولیس نے دس ملزمان کو گرفتار کر لیا، گرفتار ملزمان میں جرگہ کے عمائدین بھی شامل ہیں، کچھ ماہ قبل صائمہ نامی لڑکی کو جو عنبرین کی سہیلی تھی ایک لڑکے سے محبت کے الزام میں بھی قتل کیا گیا تھا، صائمہ کی لڑکے سے محبت کی معاونت کا الزام عنبرین پر ڈالا گیا، چند روز قبل مکول میں ہی جرگہ منعقد ہوا جس نے لڑکی کو زندہ جلانے کا حکم دیا تھا، جس پر سات روز قبل عمل در آمد کر دیا گیا، پندرہ سالہ عنبرین کو کیری سوزوکی میں سیٹ کے ساتھ باندہ کر زندہ جلا دیا گیا تھا، اور ملزمان نے جرم چھپانے کیلئے دوسری دو گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا تھا، ذرائع کے مطابق اس قتل میں مزید پانچ ملزمان ملوث ہیں جن کی گرفتاری کیلئے بھی چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “ایبٹ آباد میں سترہ سالہ لڑکی کو جرگے کے حکم پر جلایا گیا، ملزم گرفتار

  • 07-05-2016 at 12:36 pm
    Permalink

    کافی دکھ کی خبر ہے یہ، مجھے بہت افسوس ہوا اس خبر سے خدا اس جہالت اور ظلم کا خاتمہ فرماۓ آمین

Comments are closed.